ایک کھلونے کی کہانی
"امی؟" سیڑھیوں پر قدموں کی دھمک تیز ہوتی جا رہی تھی۔ "ابو؟" دروازے بند ہونے کی آوازیں، الماریوں کے کھلنے …
"امی؟" سیڑھیوں پر قدموں کی دھمک تیز ہوتی جا رہی تھی۔ "ابو؟" دروازے بند ہونے کی آوازیں، الماریوں کے کھلنے …
سپاہی ایک ایک کر کے خیمہ گاہ کے بڑے خیمے میں داخل ہوئے۔ لمبی بینچوں پر جگہ بناتے، کمزور روشنی میں ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھ …
جنگل کی گھنی سبز چھاؤں کے نیچے، جہاں سورج کی دھوپ شاخوں کے درمیان سے کھیلتی تھی اور ہر طرف خوشبوئیں بکھری ہوئی تھیں، ایک چھوٹی…
میں بھیڑ کی طرف دیکھ رہا تھا اور اپنی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ بول رہا تھا۔ "احمد حیدر میری زندگی کا سب سے شاندار آدمی ت…
خلائی جہاز کے پچھلے حصے میں ایک بچی بیٹھی ہے، مگر وہ میری نہیں۔ ہاں، وہ بالکل میری بچی جیسی لگتی ہے، لیکن میری بیٹی کبھی نہیں …
زید نے اپنے گھوڑے کی لگام مضبوطی سے تھامی تاکہ وہ قابو میں رہے اور نیچے مٹی کے ابھاروں پر قدم نہ رکھے۔ وہ چار چھوٹی قبریں تھیں…
احمد نے کبھی ارادہ نہیں کیا تھا کہ کسی عورت کو خوابوں کی دیوی بنا دے، یا کسی مسکراہٹ کے نیچے دنیا چھپا لے۔ مگر وہ تھی ہی کچھ ا…
ہاسٹل کی دیوار پر ایک اکیلا پوسٹر چپکا تھا: “انٹرکلچرل بک کلب۔ ہمارے ساتھ شامل ہوں! ہر اتوار شام چھ بجے۔” میں نے حال ہی میں ی…
پہلی بار جب انوشہ کی سلیم سے ملاقات ہوئی، وہ ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ تھامے کھڑی تھی، اور وہ دلہن کو منڈپ تک لے جا رہا تھا۔…
Our website uses cookies to improve your experience. Learn more
Ok