Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

"اپنی طاقت اور خود اعتمادی کے لیے اٹھایا ہر قدم"

 میں ۱۹ سال کی ہوں اور میرا بھائی، عتیق، ۲۷ سال کا ہے۔ ہم دونوں کے درمیان کبھی کوئی خاص تعلق نہیں رہا۔ بچپن سے ہی ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہمیشہ اجنبی سا رہا ہے، ہم بات نہیں کرتے، اور جب بھی بات کرنے کی کوشش ہوتی، وہ ہمیشہ عجیب سا لگتا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک عام ناشتہ کی شام بھی میری زندگی کا ایسا لمحہ بن سکتی ہے جس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔

ایک صبح، ہم سب والدین کے ساتھ ناشتے کی میز پر بیٹھے تھے۔ میں والدین سے بات کر رہی تھی، کچھ شکایات کر رہی تھی کہ کس طرح ہمیں روزمرہ میں نسل پرستی کے چھوٹے چھوٹے رویوں اور مائیکرو ایگریشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں اپنی بات کو صاف اور سنجیدگی سے بیان کر رہی تھی، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید والدین میری بات سمجھیں گے۔

اچانک، عتیق نے اپنی آواز بلند کی۔ وہ چیخ رہا تھا، مجھے دھمکیاں دے رہا تھا، اور کہہ رہا تھا، "خاموش ہو جا، یہ سب بکواس ہے، اور تمہارے 'بدصورت چہرے' کی کوئی پرواہ نہیں کرتا!" میں ایک لمحے کے لیے حیران رہ گئی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں نے کیا کہا یا کیا کیا جس سے اس نے اتنی شدت سے ردعمل دیا۔ میں نے پرسکون رہنے کی کوشش کی اور کہا، "میں تو تم سے بات بھی نہیں کر رہی تھی۔" میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ عتیق کے ساتھ ٹکراؤ نہ ہو، اور اپنی بات میں نرمی اور تحمل رکھوں۔

یہ واقعہ مجھے بہت پریشان کر گیا۔ میں جانتی تھی کہ عتیق نے بچپن میں بھی مجھے وزن کے بارے میں بار بار تضحیک کا نشانہ بنایا، اور وہ میرے اعتماد اور شخصیت پر بہت برا اثر ڈال چکا ہے۔ والدہ نے ہمیشہ کوشش کی کہ اس کی روایتی سختیوں اور دھمکیوں کو روکیں، لیکن والد ہمیشہ خاموش رہے۔ وہ کبھی بھی میرے بھائی یا میرے والدہ کے ساتھ تنازع میں مداخلت نہیں کرتے، کیونکہ ان کے اپنے رشتوں اور انا کی وجہ سے وہ بیچ میں نہیں آنا چاہتے تھے۔

جب بھی عتیق غصے میں ہوتا ہے، وہ میری شکل اور شخصیت پر حملہ کرتا ہے۔ یہ حملے صرف لفظی نہیں بلکہ جذباتی زہر بھی لے کر آتے ہیں۔ مجھے یاد ہے بچپن میں وہ میرے وزن پر مذاق کرتا اور میں اکثر روتی، اپنی مرضی اور اعتماد کے بارے میں سوال کرتی۔ اب بھی وہی رویہ جاری ہے، اور میں اب بھی اس کا سامنا کرنے پر مجبور ہوں۔

میں نے محسوس کیا کہ عتیق کو لوگوں کے جذبات سمجھنے کی صلاحیت محدود ہے۔ وہ انتھائی انٹروورٹڈ ہے، بہت کم لوگوں سے بات کرتا ہے، اور لوگوں کے رویے اور سماجی اشاروں کو سمجھنے میں ناواقف ہے۔ لیکن میں اور والدہ خواتین ہونے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے اشارے اور جذباتی لہجے کو بہتر سمجھ سکتی ہیں۔ یہی فرق اکثر اس کے اور میرے درمیان ٹکراؤ پیدا کرتا ہے۔

اس دن بھی، والد نے صرف کہا کہ "شانت ہو جا" اور اپنی خوراک میں مصروف ہو گئے۔ عتیق نے نہ معافی مانگی، نہ کسی قسم کا احساس جرم ظاہر کیا، اور میں صرف اس شخص کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوں جو مجھے کبھی احترام نہیں دے گا۔ یہ احساس مجھے اندر سے بہت دکھی کرتا ہے۔

میں نے خود سے کہا کہ میں صرف اپنے آپ کے لیے، اپنی ذہنی سکون اور اپنی خود اعتمادی کے لیے کچھ کر سکتی ہوں۔ میں نے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانا شروع کیے۔ میں نے اپنے دن کا آغاز مثبت سوچ سے کیا، اپنی محنت اور مستقل مزاجی سے اپنے اندر طاقت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ میں نے محسوس کیا کہ میں نے اپنے بھائی کی منفی رویے کو اپنی زندگی پر اثر انداز ہونے نہیں دینا ہے۔

میں نے اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان کرنے اور لکھنے کی عادت اپنائی، تاکہ میں اپنے اندر کے غصے، دکھ اور مایوسی کو سمجھ سکوں۔ اس سے میرا دل ہلکا ہوا، اور میں نے اپنے اندر ایک نئی ہمت محسوس کی۔ میں جان گئی کہ زندگی میں کچھ لوگ ہمیشہ ہماری حمایت نہیں کریں گے، لیکن ہم اپنے فیصلے اور محنت سے اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

اس دن کے بعد، میں نے محسوس کیا کہ گھر میں رہنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔ عتیق کی ہر بات، ہر نظر، ہر چھوٹی سی تنقید مجھے اندر سے جکڑ دیتی۔ میں نے اپنی والدہ سے بات کی، اور اس نے کہا، "بیٹا، یہ سب کچھ صبر اور حکمت سے نمٹانا پڑے گا۔" لیکن میں جانتی تھی کہ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ میں خود کو نقصان پہنچانے دوں یا اپنی عزت کو نظر انداز کروں۔

میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی حدود مقرر کروں گی۔ میں نے عتیق کو واضح کیا کہ اگر وہ میرے ساتھ اس طرح بات کرے گا یا مجھے دھمکائے گا، تو میں جواب دوں گی اور اپنی جگہ برقرار رکھوں گی۔ یہ آسان نہیں تھا۔ میں جانتی تھی کہ وہ جذباتی طور پر جارحانہ ہے اور کبھی کبھی جسمانی دھمکی بھی دیتا ہے، لیکن اب میں اپنے خوف پر قابو پا رہی تھی۔

میں نے اپنی خود اعتمادی بڑھانے کے لیے چھوٹے چھوٹے اقدامات کیے۔ میں نے اپنی دلچسپیوں اور ہابیوں پر زیادہ توجہ دینا شروع کی۔ میں نے کتابیں پڑھنا شروع کیں، اپنے تحریری خیالات کو مرتب کیا، اور خود کو اس قابل بنایا کہ میں اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکوں۔ ہر چھوٹا قدم، ہر چھوٹی کامیابی، میرے اندر طاقت پیدا کرتی۔

ایک دن، عتیق نے دوبارہ میری طرف ناخوشگوار نظروں سے دیکھا اور کچھ کہنے لگا، لیکن میں نے اس کے بجائے اپنی سوچ اور کام پر دھیان دیا۔ میں نے سیکھا کہ بعض اوقات جواب دینا یا بحث کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ اپنی توانائی اور وقت کو ضائع کیے بغیر، میں نے اپنی زندگی کے مثبت پہلوؤں پر فوکس کیا۔

والدہ نے بھی میرا حوصلہ بڑھایا۔ وہ کہتی، "بیٹی، تم نے خود کو پہچانا ہے اور اپنے لیے کھڑی ہو رہی ہو، یہ سب سے بڑی طاقت ہے۔" میں نے محسوس کیا کہ والدہ کے تعاون اور محبت نے مجھے وہ ہمت دی جو میں نے پہلے محسوس نہیں کی تھی۔ وہ ہمیشہ میرے جذبات کو سمجھتی ہیں اور میرے ساتھ کھڑی رہتی ہیں۔

میں نے یہ بھی سیکھا کہ عتیق کی خامیاں یا رویہ میری قدر کو کم نہیں کر سکتے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا، "میں اپنی خوشی اور عزت کے لیے اپنی حدود قائم کروں گی، اور کسی کے رویے سے اپنی زندگی کا رخ نہیں بدلنے دوں گی۔" یہ لمحہ میری زندگی کا ایک موڑ تھا۔ میں نے اپنی داخلی طاقت اور خود اعتمادی کو پہچانا۔

اب میں گھر میں بھی اپنی جگہ محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ میں نے یہ سیکھا کہ ہم سب کے درمیان اختلافات ہوسکتے ہیں، لیکن اپنی عزت اور وقار کے لیے کھڑا ہونا ضروری ہے۔ میں نے اپنے اندر یہ عزم پیدا کیا کہ کسی کے رویے سے میری خوشی یا سکون متاثر نہیں ہوگا۔

میں نے محسوس کیا کہ زندگی میں سب کچھ قابو میں نہیں ہوتا، لیکن ہم اپنے ردعمل پر قابو پاسکتے ہیں۔ عتیق کی منفی رویہ مجھے کبھی بھی نیچا نہیں دکھا سکتی۔ میں نے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے شروع کیے، اپنی خود اعتمادی بڑھائی، اور اپنی خوشی کو اولیت دی۔

یہ کہانی صرف ایک بہن اور بھائی کے جھگڑے کے بارے میں نہیں، بلکہ یہ اس بارے میں ہے کہ ہم اپنی زندگی میں خود کیسے مضبوط اور آزاد ہو سکتے ہیں۔ میں نے سیکھا کہ اپنی حدود قائم کرنا، اپنی قدر جاننا، اور اپنے لیے کھڑا ہونا سب سے بڑی طاقت ہے۔

اب، میں اپنی زندگی میں ہر دن کو اس اصول کے مطابق گزارتی ہوں۔ عتیق کی منفی باتیں، ماضی کی تنقید، اور گھر کے جھگڑے، سب میرے اندر کی طاقت اور خود اعتمادی کے سامنے کمزور ہیں۔ میں نے جان لیا کہ اپنی خوشی، عزت، اور ذہنی سکون کے لیے اٹھایا گیا ہر قدم سب سے قیمتی ہے، چاہے وہ اکیلے کیوں نہ ہو۔

ایک عام صبح، جب ہم سب ناشتے کی میز پر بیٹھے تھے، میں نے والدین کے ساتھ بات چیت شروع کی۔ میں والدہ سے کہہ رہی تھی کہ ہمیں روزمرہ زندگی میں نسل پرستی کے چھوٹے چھوٹے رویوں اور مائیکرو ایگریشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں چاہتی تھی کہ والدین میری بات کو سمجھیں اور میرے جذبات کی قدر کریں، کیونکہ میں اکثر محسوس کرتی ہوں کہ یہ چھوٹے چھوٹے رویے ہماری ذہنی صحت اور اعتماد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اچانک، عتیق نے اپنی آواز بلند کی۔ وہ چیخ رہا تھا، مجھے دھمکیاں دے رہا تھا، اور کہہ رہا تھا، "خاموش ہو جا، یہ سب بکواس ہے، اور تمہارے 'بدصورت چہرے' کی کوئی پرواہ نہیں کرتا!" میں اس لمحے مکمل طور پر چونک گئی۔ میری باتیں صرف والدین کے لیے تھیں، اور میں نے کبھی اس سے براہ راست بات نہیں کی تھی۔ میں نے پرسکون رہنے کی کوشش کی اور کہا، "میں تو تم سے بات بھی نہیں کر رہی تھی۔"

یہ واقعہ مجھے اندر سے ہلا کر رکھ گیا۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ عتیق کے ساتھ ٹکراؤ نہ ہو، اور اپنی بات میں نرمی اور تحمل رکھوں۔ لیکن اس دن میں نے محسوس کیا کہ میرے بھائی کا رویہ میری زندگی کے ہر لمحے پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ وہ بچپن میں بھی میری وزن کے بارے میں مذاق کرتا تھا، اور یہ مجھے اندر سے توڑ دیتا تھا۔ والدہ نے ہمیشہ کوشش کی کہ وہ اپنی سختیوں پر قابو پائے، لیکن والد ہمیشہ خاموش رہتے۔ وہ کبھی بھی عتیق یا خاندان کے جھگڑوں میں مداخلت نہیں کرتے، کیونکہ وہ اپنی انا اور رشتوں کے تحفظ کے بارے میں فکر مند رہتے۔

اس دن کے بعد، میں نے محسوس کیا کہ گھر میں رہنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔ عتیق کی ہر بات، ہر نظر، ہر چھوٹی سی تنقید مجھے اندر سے جکڑ دیتی۔ میں نے والدہ سے بات کی، اور اس نے کہا، "بیٹی، یہ سب کچھ صبر اور حکمت سے نمٹانا پڑے گا۔" لیکن میں جانتی تھی کہ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ میں خود کو نقصان پہنچاؤں یا اپنی عزت کو نظر انداز کروں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی حدود مقرر کروں گی۔

میں نے اپنے آپ کے لیے چھوٹے چھوٹے اقدامات شروع کیے۔ میں نے اپنی دلچسپیوں اور ہابیوں پر زیادہ توجہ دینا شروع کی۔ میں نے کتابیں پڑھنا شروع کیں، اپنے تحریری خیالات کو مرتب کیا، اور خود کو اس قابل بنایا کہ میں اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکوں۔ ہر چھوٹا قدم، ہر چھوٹی کامیابی، میرے اندر طاقت پیدا کرتی۔

ایک دن، عتیق نے دوبارہ میری طرف ناخوشگوار نظروں سے دیکھا اور کچھ کہنے لگا، لیکن میں نے اس کے بجائے اپنی سوچ اور کام پر دھیان دیا۔ میں نے سیکھا کہ بعض اوقات جواب دینا یا بحث کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ اپنی توانائی اور وقت کو ضائع کیے بغیر، میں نے اپنی زندگی کے مثبت پہلوؤں پر فوکس کیا۔

میری والدہ بھی میرے ساتھ تھیں۔ وہ کہتی، "بیٹی، تم نے خود کو پہچانا ہے اور اپنے لیے کھڑی ہو رہی ہو، یہ سب سے بڑی طاقت ہے۔" ان کی محبت اور حوصلہ افزائی نے مجھے اندر سے مضبوط بنایا۔ میں نے محسوس کیا کہ والدہ کا اعتماد اور حوصلہ میری زندگی کا سب سے اہم ستون ہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں چھوٹے چھوٹے اہداف مقرر کیے۔ صبح کی ورزش، صحتمند کھانے، اور اپنی تعلیم پر توجہ، سب میری زندگی کا حصہ بن گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ عتیق کی منفی رویے یا ماضی کی تنقید میری قدر کو کم نہیں کر سکتی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا، "میں اپنی خوشی اور عزت کے لیے اپنی حدود قائم کروں گی، اور کسی کے رویے سے اپنی زندگی کا رخ نہیں بدلنے دوں گی۔" یہ لمحہ میری زندگی کا ایک موڑ تھا۔ میں نے اپنی داخلی طاقت اور خود اعتمادی کو پہچانا۔

اب میں گھر میں بھی اپنی جگہ محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ میں نے یہ سیکھا کہ ہم سب کے درمیان اختلافات ہوسکتے ہیں، لیکن اپنی عزت اور وقار کے لیے کھڑا ہونا ضروری ہے۔ میں نے اپنے اندر یہ عزم پیدا کیا کہ کسی کے رویے سے میری خوشی یا سکون متاثر نہیں ہوگا۔

میں نے محسوس کیا کہ زندگی میں سب کچھ قابو میں نہیں ہوتا، لیکن ہم اپنے ردعمل پر قابو پاسکتے ہیں۔ عتیق کی منفی رویہ مجھے کبھی بھی نیچا نہیں دکھا سکتی۔ میں نے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے شروع کیے، اپنی خود اعتمادی بڑھائی، اور اپنی خوشی کو اولیت دی۔

اب، میں روزانہ جم جاتی ہوں، اپنی صحت بہتر بناتی ہوں، اور اپنی تعلیم اور دلچسپیوں پر توجہ دیتی ہوں۔ عتیق کے رویے کے باوجود، میں نے اپنی زندگی کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔ میں جانتی ہوں کہ خوشی اور سکون دوسروں کی رائے یا رویے کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہماری اپنی محنت، استقلال اور خود اعتمادی سے پیدا ہوتا ہے۔

بچپن کے وہ لمحات، جب عتیق مجھے وزن کے بارے میں بار بار مذاق کا نشانہ بناتا، ہمیشہ میرے ذہن میں آ جاتے تھے۔ میں چھوٹی سی عمر میں خود سے یہ سوال کرتی، "کیا میں کبھی اچھا محسوس کروں گی؟ کیا میں کبھی اپنی شکل اور شخصیت پر فخر کر سکوں گی؟" وہ دن، جب وہ میری تصویر کے بارے میں طنز کرتا، یا میرے دوستوں کے سامنے مجھے ہنسنے کا موقع دیتا، آج بھی یاد آتے ہیں۔ والدہ ہمیشہ میری حفاظت کرنے کی کوشش کرتی، لیکن والد اکثر خاموش رہتے، جیسے سب کچھ دیکھنا اور کچھ نہ کہنا ان کی ذمہ داری نہیں تھی۔

اب جب میں اس وقت کے لمحات یاد کرتی ہوں، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ان سب تجربات نے میری شخصیت کو مضبوط بھی بنایا ہے۔ میں نے سیکھا کہ انسان کی طاقت صرف اس کی جسمانی حالت میں نہیں بلکہ اس کے صبر، خود اعتمادی، اور ثابت قدمی میں بھی ہوتی ہے۔

اب بھی، ہر صبح جب میں ناشتے کی میز پر بیٹھتی، عتیق کی نظریں میری طرف ہوتی، اور کبھی کبھار اس کے منفی تبصرے کانوں میں گھومتے، میں نے سیکھا کہ اپنا سکون برقرار رکھنا میری ذمہ داری ہے۔ میں نے والدین کے ساتھ بات چیت کرنے کا طریقہ بدل دیا۔ میں زیادہ پرسکون اور تحمل سے اپنی بات پیش کرتی، اور ہر لفظ کے بعد خود سے یہ کہتی، "یہ صرف میرا تجربہ ہے، اور میں حق رکھتی ہوں کہ اسے بیان کروں۔"

ایک دن، والدہ نے کہا، "بیٹی، تم نے خود کو پہچان لیا ہے، اور تم اپنی زندگی کے فیصلے خود کر رہی ہو، یہ سب سے بڑی طاقت ہے۔" یہ بات میرے دل میں اتری اور میں نے محسوس کیا کہ والدہ کی حمایت کے بغیر شاید میں یہ راستہ اتنی ہمت اور مستقل مزاجی سے نہ چل سکتی۔

میں نے اپنی زندگی میں چھوٹے چھوٹے اہداف مقرر کیے۔ صبح کی ورزش، صحتمند غذا، تعلیم میں توجہ، اور اپنے ہابیوں پر وقت دینا میری روزمرہ کی عادت بن گئی۔ ہر کامیابی، چاہے وہ چھوٹی ہو، مجھے اندر سے مضبوط اور خود اعتمادی سے بھر دیتی۔

علی، ہمارا پڑوسی اور دوست، بھی میری حوصلہ افزائی کرتا۔ وہ اکثر کہتا، "تم نے بہت کچھ سیکھا اور سمجھا ہے، اپنی طاقت کو پہچانو اور کبھی کسی کی منفی بات سے متاثر مت ہو۔" علی کے الفاظ میرے لیے ایک روشنی کی مانند تھے، جو مجھے یاد دلاتے کہ میں تنہا نہیں ہوں، اور میں اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہوں۔

ماضی کی یادیں، جھگڑے، اور عتیق کی تنقید اب میری زندگی کے تجربات بن چکے تھے۔ میں نے سیکھا کہ ہمیں ہر شخص کے رویے پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے فیصلے اور محنت پر یقین رکھنا چاہیے۔ میں نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں اپنی خوشی اور سکون کو اولین ترجیح دے دی۔

ہر دن، جب میں جم جاتی، اپنے ہابیوں پر کام کرتی، یا اپنی تعلیم میں توجہ دیتی، میں خود کو مضبوط محسوس کرتی۔ عتیق کی منفی رویہ یا ماضی کی تنقید اب میری زندگی کے راستے میں رکاوٹ نہیں تھی۔ میں نے جان لیا کہ اپنی خوشی، عزت، اور ذہنی سکون کے لیے اٹھایا گیا ہر قدم سب سے قیمتی ہے، چاہے وہ اکیلے کیوں نہ ہو۔

ہمارا تعلق بچپن سے ہی عجیب اور فاصلے بھرا رہا ہے۔ ہم بات نہیں کرتے، اور اکثر ایک دوسرے کے موجودگی میں خاموش رہنا بہتر سمجھتے ہیں۔ میرے والدین ہمیشہ ہمیں ایک ہی گھر میں رکھتے، لیکن کبھی کبھی گھر کا ماحول ایسا محسوس ہوتا جیسے میں اور عتیق دو الگ الگ دنیا کے لوگ ہوں۔

ایک عام صبح، جب ہم سب ناشتے کی میز پر بیٹھے تھے، میں نے والدین سے بات شروع کی۔ میں نے اپنی شکایات بیان کیں کہ کس طرح ہمیں روزمرہ زندگی میں نسل پرستی کے چھوٹے چھوٹے رویوں اور مائیکرو ایگریشنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں چاہتی تھی کہ والدین میری بات کو سمجھیں اور میرے جذبات کی قدر کریں، کیونکہ یہ چھوٹے چھوٹے تجربات میری ذہنی صحت پر اثر ڈال رہے تھے۔

اچانک، عتیق نے اپنی آواز بلند کی۔ وہ چیخا، دھمکیاں دیں، اور کہا، "خاموش ہو جا، یہ سب بکواس ہے، اور تمہارے 'بدصورت چہرے' کی کوئی پرواہ نہیں کرتا!" میں اس لمحے مکمل طور پر حیران رہ گئی۔ میری باتیں صرف والدین کے لیے تھیں، اور میں نے کبھی اس سے براہ راست بات نہیں کی تھی۔ میں نے پرسکون رہنے کی کوشش کی اور کہا، "میں تو تم سے بات بھی نہیں کر رہی تھی۔"

یہ واقعہ مجھے اندر سے ہلا کر رکھ گیا۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ عتیق کے ساتھ ٹکراؤ نہ ہو، لیکن یہ ممکن نہیں رہا۔ وہ بچپن میں بھی مجھے وزن کے بارے میں مذاق کا نشانہ بناتا تھا، اور والدہ ہمیشہ میری حفاظت کرنے کی کوشش کرتی، لیکن والد اکثر خاموش رہتے، جیسے سب کچھ دیکھنا اور کچھ نہ کہنا ان کی ذمہ داری نہیں تھی۔

وقت گزرتا گیا اور میں نے محسوس کیا کہ گھر میں رہنا ایک مسلسل چیلنج بن گیا ہے۔ عتیق کی ہر نظر، ہر تنقید، اور ہر ناخوشگوار بات مجھے اندر سے جکڑ دیتی۔ میں نے والدہ سے بات کی، اور اس نے کہا، "بیٹی، یہ سب کچھ صبر اور حکمت سے نمٹانا پڑے گا۔" لیکن میں جانتی تھی کہ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ میں خود کو نقصان پہنچاؤں یا اپنی عزت کو نظر انداز کروں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی حدود مقرر کروں گی۔

میں نے اپنی دلچسپیوں اور ہابیوں پر زیادہ توجہ دینا شروع کی۔ میں نے کتابیں پڑھنا شروع کیں، اپنے خیالات کو لکھنا شروع کیا، اور خود کو اس قابل بنایا کہ میں اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکوں۔ ہر چھوٹا قدم، ہر چھوٹی کامیابی، میرے اندر طاقت پیدا کرتی۔

ایک دن، عتیق نے دوبارہ میری طرف ناخوشگوار نظروں سے دیکھا، لیکن میں نے اس کے بجائے اپنی سوچ اور کام پر دھیان دیا۔ میں نے سیکھا کہ بعض اوقات جواب دینا یا بحث کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ اپنی توانائی اور وقت کو ضائع کیے بغیر، میں نے اپنی زندگی کے مثبت پہلوؤں پر فوکس کیا۔

والدہ بھی ہمیشہ میرے ساتھ تھیں۔ وہ کہتی، "بیٹی، تم نے خود کو پہچان لیا ہے اور اپنے لیے کھڑی ہو رہی ہو، یہ سب سے بڑی طاقت ہے۔" ان کے الفاظ میرے دل میں اتریں اور میں نے محسوس کیا کہ والدہ کی حمایت کے بغیر شاید میں یہ راستہ اتنی ہمت اور مستقل مزاجی سے نہ چل سکتی۔

میں نے اپنی زندگی میں چھوٹے چھوٹے اہداف مقرر کیے۔ صبح کی ورزش، صحتمند غذا، تعلیم میں توجہ، اور اپنے ہابیوں پر وقت دینا میری روزمرہ کی عادت بن گئی۔ ہر کامیابی، چاہے وہ چھوٹی ہو، مجھے اندر سے مضبوط اور خود اعتمادی سے بھر دیتی۔

ماضی کی یادیں، جھگڑے، اور عتیق کی تنقید اب میرے تجربات بن چکے تھے۔ میں نے سیکھا کہ ہمیں ہر شخص کے رویے پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے فیصلے اور محنت پر یقین رکھنا چاہیے۔ میں نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں اپنی خوشی اور سکون کو اولین ترجیح دے دی۔

ہر دن، جب میں جم جاتی، اپنی صحت بہتر بناتی، یا اپنی تعلیم میں توجہ دیتی، میں خود کو مضبوط محسوس کرتی۔ عتیق کی منفی رویہ یا ماضی کی تنقید اب میری زندگی کے راستے میں رکاوٹ نہیں تھی۔ میں نے جان لیا کہ اپنی خوشی، عزت، اور ذہنی سکون کے لیے اٹھایا گیا ہر قدم سب سے قیمتی ہے، چاہے وہ اکیلے کیوں نہ ہو۔

گھر کے ماحول نے بھی ایک نیا رخ لیا۔ والدہ اب اکثر میرے ساتھ کھڑی رہتی اور عتیق کے رویے کے بارے میں بات کرتی، جبکہ والد اپنی خاموشی میں مصروف رہتے۔ میں نے محسوس کیا کہ والد کی خاموشی اکثر ہمیں مایوسی دیتی، لیکن میں نے سیکھا کہ اپنی خوشی اور سکون کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈالنی چاہیے۔

میں نے ہر دن اپنے اندر یہ عزم پیدا کیا کہ میں کبھی بھی کسی کے رویے سے اپنی زندگی کا رخ نہیں بدلنے دوں گی۔ میں نے اپنی خود اعتمادی کو مضبوط کیا، اور ہر چھوٹا قدم مجھے اپنے اندر طاقت اور سکون دیتا رہا۔ میں نے جان لیا کہ زندگی میں ہر شخص کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری نہیں، لیکن اپنی خوشی اور عزت کے لیے کھڑا ہونا سب سے اہم ہے۔

میں نے محسوس کیا کہ ماضی کے زخم، عتیق کی تنقید، اور والدین کی خاموشی، سب کچھ میرے اندر ایک مضبوط شخصیت بنانے کا حصہ ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ہر دن کو اس اصول کے مطابق گزارنا شروع کیا کہ اپنی خوشی اور سکون کے لیے اٹھایا گیا ہر قدم سب سے قیمتی ہے۔

اب، میری زندگی میں ہر چھوٹا عمل—چاہے وہ ورزش ہو، تعلیم میں محنت، یا ہابیوں پر وقت دینا—میرے لیے آزادی، خود اعتمادی، اور خوشی کی علامت بن گیا ہے۔ میں نے جان لیا کہ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا، اپنی عزت قائم رکھنا، اور اپنی خوشی کو اولیت دینا ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔

میں نے یہ سبق سیکھا کہ کوئی بھی منفی رویہ یا ماضی کے زخم ہمیں نیچا نہیں دکھا سکتے۔ ہماری زندگی میں سب سے اہم چیز ہمارا خود اعتمادی، استقلال، اور اپنی خوشی کے لیے اٹھایا گیا ہر قدم ہے۔ اور یہی سبق میں ہر عورت اور ہر شخص کے ساتھ بانٹنا چاہتی ہوں، کہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی طاقت سب میں موجود ہے، اور کوئی بھی ہمیں محدود نہیں کر سکتا۔

وقت گزرتا گیا اور میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ سیکھ لیا۔ عتیق کی منفی باتیں، ماضی کے زخم، اور گھر کے تلخ لمحات اب مجھے خوفزدہ یا مایوس نہیں کرتے تھے۔ میں جان گئی تھی کہ خوشی، عزت، اور سکون کسی اور کے رویے کا محتاج نہیں ہوتے۔ یہ سب کچھ ہماری اپنی محنت، مستقل مزاجی، اور خود اعتمادی سے حاصل ہوتا ہے۔

میں نے اپنے دن کو مثبت انداز میں گزارنا شروع کیا۔ صبح اٹھ کر ورزش، تعلیم پر توجہ، اور اپنی دلچسپیوں پر وقت دینا میری روزمرہ کی عادت بن گیا۔ ہر چھوٹا قدم، چاہے وہ صحتمند کھانا ہو، کتاب پڑھنا، یا کسی ہابی پر کام کرنا، مجھے اندر سے مضبوط کرتا اور میری خود اعتمادی کو بڑھاتا۔

ایک دن، جب عتیق نے دوبارہ ناخوشگوار رویہ اپنانے کی کوشش کی، میں نے صرف پرسکون انداز میں اپنی بات جاری رکھی اور اس کی منفی توانائی کو اپنے اندر داخل ہونے نہ دیا۔ میں جانتی تھی کہ میری زندگی کے فیصلے میرے ہاتھ میں ہیں، اور کسی کی دھمکی یا تنقید میرے راستے کو نہیں روک سکتی۔

والدہ نے میرے حوصلے کو سراہا اور کہا، "بیٹی، تم نے جو طاقت پیدا کی ہے، وہ سب سے بڑی جیت ہے۔" میں نے محسوس کیا کہ والدہ کی محبت اور حمایت میری زندگی کا سب سے اہم ستون ہے۔ انہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا اور مجھے خود پر اعتماد کرنا سکھایا۔

اب میں نہ صرف اپنے اندر مضبوط ہوں بلکہ میں نے یہ سبق بھی سیکھا کہ زندگی میں ہر شخص کی اپنی ترجیحات اور رویے ہوتے ہیں۔ ہم سب کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن اپنی عزت، خوشی، اور سکون کے لیے کھڑا ہونا سب سے ضروری ہے۔ میں نے جان لیا کہ اپنے لیے اٹھایا گیا ہر قدم قیمتی ہے، اور کوئی بھی شخص، چاہے وہ بھائی ہو یا کوئی اور، ہمیں اپنی زندگی میں محدود نہیں کر سکتا۔

میں نے اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اس اصول کے مطابق گزارنا شروع کیا کہ خود اعتمادی، استقلال، اور اپنی خوشی کی حفاظت سب سے بڑی طاقت ہے۔ عتیق کے رویے نے مجھے توڑنے کی کوشش کی، لیکن اس نے مجھے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے اور اپنے آپ کو مضبوط بنانے کی ترغیب دی۔

اب، جب میں اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتی ہوں، میں اپنی طاقت، اعتماد، اور خود اعتمادی کی جھلک دیکھتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ میں اپنی خوشی، عزت، اور سکون کے لیے خود ذمہ دار ہوں، اور کسی کی منفی رویے یا ماضی کے زخم مجھے نیچا نہیں دکھا سکتے۔

میری زندگی میں یہ سبق ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا: اپنی قدر جانو، اپنی حدود قائم کرو، اور اپنی خوشی اور سکون کے لیے ہمیشہ کھڑے رہو۔ یہ کہانی صرف ایک بہن اور بھائی کے جھگڑے کے بارے میں نہیں، بلکہ ہر شخص کے لیے سبق ہے کہ اپنے اندر کی طاقت کو پہچانو، اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرو۔

Post a Comment for ""اپنی طاقت اور خود اعتمادی کے لیے اٹھایا ہر قدم""