میں ۳۲ سال کا ہوں اور میرے ساتھ، ہمارے پانچ سال سے زیادہ کا رشتہ تھا۔ بیرونی طور پر کچھ خاص نہیں تھا۔ روزمرہ کی عادتیں، مشترکہ دوست، مہینوں پہلے سے منصوبے بنانا، مستقبل کے بارے میں بات کرنا، جیسے ہر چیز ایک قدرتی اگلے قدم کی طرح ہو۔ یہ سب مضبوط محسوس ہوتا تھا۔ آرام دہ۔ شاید کچھ حد تک بورنگ بھی، لیکن اس طرح کی بورنگ جس میں ایک طرح کی حفاظت اور سکون بھی ہوتا ہے۔
تقریباً دو سال پہلے، وہ مجھے بتانے آئی کہ اس نے دھوکہ دیا تھا۔ نہ کہ میں نے پکڑ لیا، بلکہ وہ خود مجھے بتانا چاہتی تھی۔ ایک رات، شراب کے نشے میں، فوراً پچھتانے کے ساتھ، آنسو بھری آواز میں، اس نے کہا کہ وہ خود سے نفرت کرتی ہے۔ میں نے سوچا کہ کم از کم اس کی ایمانداری اہم ہے۔ کم از کم یہ وہ لمحہ تھا جس میں میں نے سوچا کہ میں نے آگے بڑھنے کے لیے کچھ سچائی کو پکڑ لیا۔
میں نے فوراً اسے معاف نہیں کیا۔ کئی ہفتے گزرے، باتیں ہوئیں، الگ سے سونا پڑا، بار بار وہی سوالات دہرائے گئے۔ اس نے وہ شخص سے رابطہ ختم کر دیا، تھراپی شروع کی، اور مجھے ہر چیز تک رسائی دے دی، بغیر میں پوچھے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں رہوں گا۔ جزوی طور پر اس لیے کہ میں اس سے محبت کرتا تھا، اور جزوی طور پر اس لیے کہ چھوڑنا ایسا محسوس ہوتا جیسے میں سالوں کی تعمیر کردہ چیز کو ترک کر دوں۔ لوگ کہتے رہے کہ میں اسے "بالغانہ طریقے سے سنبھال رہا ہوں"۔ میں نے اس بات کو اپنے لیے ایک طرح کی چھتری سمجھ لیا، شاید ضرورت سے زیادہ۔
شروع میں، یہ محسوس ہوتا تھا کہ ہم چیزوں کو ٹھیک کر رہے ہیں۔ یا کم از کم ایمانداری سے کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ، مجھ میں کچھ بدل گیا۔ غصہ نہیں تھا۔ میں اس سے آگے بڑھ چکا تھا۔ یہ کچھ زیادہ خاموش تبدیلی تھی۔ میں نے چھوٹی باتیں بانٹنا بند کر دیا۔ بے مقصد خیالات، چھوٹے مذاق، جو پہلے آسانی سے نکل جاتے تھے، اب رک گئے۔ جب وہ دوستوں کے ساتھ باہر جاتی، میں کہتا کہ میں اعتماد کرتا ہوں، اور میں واقعی کرتا ہوں، منطقی طور پر۔ لیکن جسم میرا دماغ سے پہلے ردعمل دیتا۔ رات کے کسی نوٹیفیکیشن، فون کی روشنی، اور میں بس ایک تنگی محسوس کرتا، نہ کہ خوف۔ بس ایک مسلسل کم سطح کی چوکسیت۔
جو چیز میرے دماغ کو سب سے زیادہ الجھا دیتی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ واقعی اس کے بعد سب کچھ درست کر رہی تھی۔ وہ چیک کرتی، جب میں دوری اختیار کرتا تو مجھے جگہ دیتی، بغیر دباؤ کے یقین دلاتی۔ جو مجھے بدتر محسوس کراتا تھا۔ کیونکہ اب میں وہ دوری والا ہوں۔ میں چیخ یا الزام نہیں لگاتا۔ بس… خاموش ہوں۔ موجود ہوں، لیکن پوری طرح نہیں۔ کبھی کبھی میں اس وقت کے اپنے آپ کو یاد کرتا ہوں، جو میں پہلے تھا، اس سے زیادہ کہ پچھلے رشتے کو یاد کرتا ہوں۔ میں نرم، زیادہ کھلا، اور زیادہ اعتماد والا تھا۔ اب میں محافظ ہوں، بغیر کہ یہ میری مرضی سے ہو، یہ بس ہو گیا۔
میں سمجھ نہیں پا رہا کہ کیا یہ معمول کی بات ہے۔ کیا کسی کو معاف کرنا اور پھر بھی اپنے کچھ حصے کھونا، واقعی معمول ہے؟ کیا رہنا اور آہستہ آہستہ بند ہونا، چھوڑنے سے بہتر ہے، یا میں نے بہت جلد معاف کر دیا اور نقصان کو طویل مدت میں کھینچ دیا؟ میں اب غصے میں نہیں ہوں۔ بس میں یہ نہیں جانتا کہ میں اس رشتے میں اب کون ہوں، اور یہ مجھے دھوکہ دینے سے زیادہ ڈراتا ہے۔
یہ سب چیزیں مجھے روزانہ یاد آتی ہیں۔ وہ وقت جب ہم ہنس رہے تھے، چھوٹی چھوٹی باتیں بانٹ رہے تھے، اور وہ ایک اچانک لمحہ جب سب کچھ بدل گیا۔ میں نے خود سے یہ سوال کیا کہ کیا یہ رشتہ اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا، یا میں خود کو بدل چکا ہوں؟ میں نے محسوس کیا کہ میں اپنے جذبات اور سوچوں کو سنبھالنے کے لیے اپنے آپ کو محدود کر چکا ہوں۔
میں اکثر رات کو بیٹھ کر سوچتا ہوں، کب میں نے خود کو اتنی دوری میں ڈھال لیا۔ کبھی کبھی میں خود کو وہ لطیف، نرم اور کھلا شخص یاد کرتا ہوں جو چھوٹی باتوں میں خوش ہوتا تھا، جو بے مقصد مذاق سے دن گزار دیتا تھا، اور جو چھوٹی چیزوں میں خوشی تلاش کر لیتا تھا۔ اب، یہ سب چیزیں محض یادیں ہیں۔ میں نے ایک نئے، محفوظ، مگر محدود خود کی تخلیق کر لی ہے۔
میں نے اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے پہلوؤں کو دوبارہ دریافت کرنا شروع کیا۔ میں نے اپنے شوق، چھوٹے دلچسپ کام، اور خود کے لیے وقت نکالنا شروع کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ نیا طریقہ شاید مجھے بچاتا ہے، شاید مجھے تحفظ دیتا ہے، لیکن یہ میرے اندر کی وہ softness ختم کر دیتا ہے جو پہلے میرے رشتے میں تھی۔
میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ میرے دوست اور لوگ جو باہر سے دیکھتے تھے، وہ کہتے، "تم بڑے بالغ ہو کر اس سب کو سنبھال رہے ہو۔" میں نے اس بات کو اپنی تعریف سمجھا، لیکن اندر سے، مجھے یہ تسلی نہیں ملتی تھی۔ میں نے خود سے کہا، شاید میں نے معافی جلد کر دی، شاید میں نے اپنی حفاظت کے لیے اپنے جذبات کو دبا دیا، اور اب میں خود کو کھو رہا ہوں۔
میں نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا کہ کیا یہ حقیقت میں رشتہ کی ناکامی ہے، یا میری اپنی خود شناسی اور حفاظت کا نتیجہ؟ شاید دونوں۔ شاید یہ رشتہ اب بھی موجود ہے، لیکن میں اس میں وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ اور شاید یہ سب کچھ وقت کے ساتھ، میرے اپنے فیصلے اور ردعمل کی وجہ سے ہوا۔
میں نے یہ بھی سیکھا کہ رشتے صرف اعتماد اور وفاداری کے بارے میں نہیں ہوتے۔ وہ ہماری اندرونی خودی، ہمارے جذبات، اور ہماری کھلی طبیعت کے بارے میں بھی ہوتے ہیں۔ اور جب کوئی دھوکہ دیتا ہے، چاہے وہ بعد میں درست کرے، ہم کبھی بھی پہلے جیسے نہیں رہتے۔
میں نے اپنے آپ کو سیکھنے اور بڑھنے کا موقع دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ میری خاموشی، میری محافظت، اور میری محدودیت میرے اندر کی حفاظت کا ایک حصہ ہیں۔ اور شاید یہ ضروری تھا، تاکہ میں دوبارہ خود کو گنوا نہ دوں۔ میں نے اپنی طاقت اور خود اعتمادی کو پہچانا، لیکن ایک نرمی، ایک softness جو پہلے تھا، وہ واپس نہیں آئی۔
اب، میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں، سمجھتا ہوں، اور قبول کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ رشتہ اب بھی موجود ہے، لیکن یہ وہی نہیں جو پہلے تھا۔ میں نے معاف کر دیا، لیکن میں بدل گیا ہوں۔ اور شاید یہی زندگی ہے، کہ ہم سب کو اپنے تجربات سے، چاہے وہ محبت کے ہوں یا دھوکے کے، کچھ نہ کچھ سیکھنا پڑتا ہے۔
میں نے جان لیا کہ خود اعتمادی، اپنی حدود قائم رکھنا، اور اپنے لیے کھڑا ہونا سب سے بڑی طاقت ہے۔ میں نے جان لیا کہ کسی بھی رشتے میں، چاہے وہ پرانا، لمبا، یا پیارا کیوں نہ ہو، ہماری اصل شخصیت، ہماری نرمیاں اور ہماری کھلی طبیعت کبھی بھی وہیں واپس نہیں آتی۔ اور شاید یہی سب سے بڑی حقیقت ہے جو ہمیں قبول کرنی پڑتی ہے۔
میں نے محسوس کیا کہ معافی اور آگے بڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے۔ میں نے اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں میں تبدیلی محسوس کی۔ کبھی کبھی میں اپنی مرضی سے باتیں بانٹتا، لیکن اکثر میں خاموش رہتا۔ میں نے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو اپنی زندگی میں جگہ دینا شروع کیا، لیکن وہ خوشیاں جو پہلے رشتے میں قدرتی طور پر آتی تھیں، اب خود پیدا کرنی پڑتی تھیں۔
میں نے اپنے آپ سے سوال کیا، کیا یہ رشتہ واقعی صحیح ہے، یا میں صرف خوف اور عادت کی بنیاد پر اس میں ہوں؟ میں نے سوچا کہ شاید میں نے معاف کر دیا، لیکن اندر سے میں وہی شخص نہیں رہا جو پہلے تھا۔ میں نے اپنی نرمیاں اور کھلے پن کو کھو دیا، اور یہ احساس مجھے ہر دن یاد دلاتا۔ میں نے محسوس کیا کہ معافی دینے کے بعد بھی، ہمیں خود کے کچھ حصے کھو بیٹھتے ہیں۔
میں نے خود سے وعدہ کیا کہ میں اپنی زندگی کے فیصلے اپنی مرضی سے کروں گا۔ چاہے رشتہ کیسے بھی ہو، میں اپنے آپ کو کبھی کمزور یا محدود محسوس نہیں کروں گا۔ میں نے چھوٹی چھوٹی عادات، جیسے ورزش کرنا، مطالعہ کرنا، اور اپنے شوق پورے کرنا، اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ یہ سب میرے اندر کی طاقت کا حصہ بن گئے۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ شاید یہ سب وقت کا کھیل ہے۔ رشتہ، محبت، اور اعتماد، سب چیزیں بدلتی ہیں۔ اور کبھی کبھی، ہمیں اپنے اندر کی حفاظت کے لیے خود کو محدود کرنا پڑتا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ محدودیت مجھے دوسروں کے رویے سے بچاتی ہے، لیکن اس کے بدلے میں میں نے اپنی کھلی طبیعت کو کھو دیا۔
میں نے یہ بھی سیکھا کہ رشتے میں صرف دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا کافی نہیں ہوتا۔ ہمیں خود کے جذبات، خود اعتمادی، اور اپنی زندگی کی خوشیوں کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں میں خوشی تلاش کرنا شروع کیا، چاہے وہ کتاب کے صفحات ہوں، یا شام کے وقت کی چائے کی خوشبو۔ یہ سب چیزیں مجھے یاد دلاتی ہیں کہ میری زندگی کی اہمیت صرف رشتے میں نہیں، بلکہ میری اپنی ذات میں بھی ہے۔
میں نے عتیق کے رویے اور پچھلے دھوکے کو اپنی زندگی کے سبق کے طور پر قبول کیا۔ میں نے سیکھا کہ کبھی کبھار معافی دینا صرف دوسروں کے لیے نہیں، بلکہ اپنے آپ کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے۔ لیکن معافی دینے کے بعد بھی، ہمیں اپنی زندگی کے کچھ حصے خود دوبارہ تعمیر کرنے پڑتے ہیں۔
میں نے اپنی اندرونی دنیا میں سکون تلاش کرنا شروع کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ زندگی میں سب سے بڑی طاقت خود اعتمادی اور اپنی حدود قائم رکھنا ہے۔ میں نے اپنے آپ کو دوبارہ پہچانا، اپنی خوشیوں کو اہمیت دی، اور رشتے میں اپنی جگہ کا فیصلہ خود کیا۔
اب، میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں، اور جانتا ہوں کہ میں وہ شخص ہوں جو اپنے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ میں نے سیکھا کہ رشتہ اہم ہے، لیکن اپنی ذات کی حفاظت اور خود اعتمادی سب سے زیادہ اہم ہیں۔ میں نے جان لیا کہ زندگی کے ہر لمحے میں ہمیں اپنے آپ کو اہمیت دینی چاہیے، اور یہ کہ کسی کی غلطی یا دھوکہ ہمیں اپنی خود اعتمادی سے دور نہیں لے جا سکتا۔
وقت گزرتا گیا اور میں نے محسوس کیا کہ زندگی میں سب سے اہم چیز خود اعتمادی اور اپنی ذات کی حفاظت ہے۔ عتیق کی ماضی کی غلطیاں، دھوکہ، اور میرے اندر پیدا شدہ حفاظتی رویے، سب چیزیں میرے لیے سبق بن گئی تھیں۔ میں نے جان لیا کہ معافی دینے کے بعد بھی، ہم وہی نہیں رہتے جو پہلے تھے، اور یہ ٹھیک ہے۔ یہ زندگی کا حصہ ہے۔
میں نے ہر دن اپنے اندر یہ یقین پیدا کیا کہ اپنے آپ کے لیے کھڑا ہونا اور اپنی خوشی کی حفاظت کرنا سب سے بڑی طاقت ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ رشتہ صرف دوسروں کے لیے نہیں بلکہ خود کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں میں خوشی تلاش کرنا شروع کی۔ ایک صبح کی چائے، ایک کتاب کے صفحات، ورزش کی خاموش خوشبو، یہ سب چیزیں میرے لیے آزادی اور سکون کی علامت بن گئی تھیں۔
میں نے اپنی زندگی میں یہ بھی سیکھا کہ کبھی کبھار معافی دینا صرف دوسروں کے لیے نہیں، بلکہ اپنے اندر سکون پیدا کرنے کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اس معافی کے بعد بھی، ہمیں اپنے کچھ حصے خود دوبارہ تعمیر کرنے پڑتے ہیں۔ میں نے یہ تعمیر صبر، وقت، اور چھوٹے چھوٹے اقدامات سے کی۔ میں نے اپنے جذبات، اپنے شوق، اور اپنی دلچسپیوں کو دوبارہ اہمیت دی۔
میں نے محسوس کیا کہ رشتہ اب بھی موجود ہے، لیکن وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ عتیق کی محنت اور درست رویہ، اس کی کوششیں، سب کچھ اب بھی موجود تھے، لیکن میں نے جان لیا کہ میرا اندرونی سکون صرف اس کی طرف منحصر نہیں ہے۔ میں نے اپنی زندگی کی خوشیوں، اپنی خود اعتمادی، اور اپنی طاقت کو سب سے پہلے رکھا۔
میں نے یہ سبق سیکھا کہ کبھی بھی کسی کے دھوکے یا ماضی کی غلطیوں سے اپنی شخصیت اور نرمیاں ضائع نہ ہونے دیں۔ ہم سب بدلتے ہیں، اور کبھی کبھی رشتے بھی بدل جاتے ہیں۔ لیکن اپنی ذات کی حفاظت اور خود اعتمادی ہمیشہ برقرار رہنی چاہیے۔
میں نے اپنے آپ کو دوبارہ پہچانا۔ میں نے جان لیا کہ رشتہ اہم ہے، لیکن میری اپنی زندگی، میری خوشی، اور میری آزادی سب سے زیادہ اہم ہیں۔ میں نے اپنے اندر سکون، طاقت، اور خود اعتمادی پیدا کی، اور میں جانتا ہوں کہ اب میں وہ شخص ہوں جو اپنے لیے کھڑا ہوتا ہے، بغیر کسی خوف کے، بغیر کسی تحفظ کے۔
میں نے سیکھا کہ زندگی میں سب سے بڑی جیت اپنی ذات کی حفاظت کرنا، اپنی خوشیوں کو اہمیت دینا، اور اپنے جذبات کی قدر کرنا ہے۔ میں نے جان لیا کہ رشتہ اہم ہے، لیکن اپنی خود اعتمادی اور اپنی زندگی کے فیصلے سب سے زیادہ اہم ہیں۔
اب، میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں، اور جانتا ہوں کہ میں مضبوط ہوں، خود اعتماد ہوں، اور اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اپنی طاقت اور سکون کے مطابق جیتا ہوں۔ میں نے جان لیا کہ زندگی میں سب سے اہم سبق یہ ہے: اپنی قدر جانو، اپنی حدود قائم کرو، اور اپنی خوشی اور سکون کے لیے ہمیشہ کھڑے رہو۔
عتیق کے ساتھ رشتہ اب بھی موجود ہے، لیکن اب میں وہ نہیں ہوں جو پہلے تھا۔ میں نے اپنے اندر نرمیاں اور کھلے پن کو کھو دیا، لیکن میں نے اپنی طاقت اور خود اعتمادی حاصل کی۔ اور یہ سب سے بڑا سبق ہے جو میں نے اپنی زندگی میں سیکھا۔
میں نے جان لیا کہ رشتہ، محبت، اور اعتماد اہم ہیں، لیکن سب سے زیادہ اہم ہم خود ہیں۔ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں، ہمیں اپنی خود اعتمادی، اپنی خوشی، اور اپنے جذبات کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اور یہی حقیقت ہے جو مجھے ہر دن یاد دلاتی ہے کہ میں اپنی زندگی میں مضبوط اور خود اعتماد ہوں، اور کسی بھی ماضی یا کسی دوسرے شخص کے رویے سے میں اپنی طاقت نہیں کھو سکتا۔

Post a Comment for ""معافی کے بعد بھی کھوئی ہوئی خودی:"