Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

خاموش ذمہ داری

 



میں بائیس سالہ لڑکی ہوں۔ یہ باتیں میں کسی الزام یا شکوے کے طور پر نہیں لکھ رہی، بلکہ اس بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے جو کئی دنوں سے میرے دل پر رکھا ہے۔ میں نے جولائی میں ایک ویٹرنری ہسپتال میں ویٹرنری اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ اسکول میں میں نے جو کچھ سیکھا تھا وہ میرے اپنے صوبے کے قوانین اور طریقۂ کار کے مطابق تھا، مگر جس صوبے میں میں اب کام کر رہی ہوں وہاں بہت سی چیزیں مختلف تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سب کچھ نئے سرے سے سیکھنا پڑ رہا ہو۔ ہسپتال کے اپنے اصول، سسٹمز، روزمرہ کے معمولات، اور سب سے بڑھ کر ہر ڈاکٹر کی اپنی پسند اور ناپسند—سب کچھ۔ کسی ڈاکٹر کو ایک انداز پسند تھا تو دوسرے کو بالکل مختلف۔ کبھی کوئی سینئر مجھے یوں سکھاتا، کبھی کوئی اور بالکل الٹ طریقہ بتاتا۔ اس دوران ایک نئی منیجر بھی آئیں جنہوں نے بہتری کے لیے ہر مہینے نئے اصول متعارف کرائے۔ میں نے دل سے سیکھنے کی کوشش کی، غلطیوں کی ذمہ داری لی، اور کبھی یہ نہیں کہا کہ میں سب جانتی ہوں۔

اس سب کے باوجود ایک دن ایسا آیا جس نے مجھے اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ وہ دن عام دنوں جیسا ہی تھا۔ فون کالز، اپائنٹمنٹس، شور، جانوروں کی آوازیں، اور مسلسل بھاگ دوڑ۔ ایک خاتون نے کال کی اور بتایا کہ ان کے تین کتے ہیں جن میں سے دو بہت زیادہ ڈاگ ری ایکٹو ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گھر کے دوسرے کتوں کے ساتھ تو ٹھیک رہتے ہیں مگر باہر کے کتوں پر شدید ردعمل دیتے ہیں۔ ان کا ٹیک اپائنٹمنٹ تھا۔ میں نے انہیں ہسپتال کے پروٹوکول کے مطابق مختلف آپشنز بتائے۔ بات طے ہوئی کہ میں دروازے پر جا کر کتوں کو ایک ایک کر کے اندر لاؤں گی، وزن کروں گی اور پھر کمرے میں لے جاؤں گی۔ میں نے کال کی تفصیل ایک پروفائل میں نوٹ بھی کی اور فرنٹ ڈیسک پر موجود ریسیپشنسٹ کو بھی آگاہ کیا۔

میں باہر گئی تو وہ خاتون گاڑی سے نکل رہی تھیں۔ میں نے تصدیق کی اور پوچھا کہ کون سے کتے زیادہ جارحانہ ہیں۔ انہوں نے دو بڑے کتوں کی طرف اشارہ کیا جن کے نام میں یہاں بدل دیتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تیسرا، چھوٹا کتا ایسا نہیں ہے۔ میں نے انہیں واضح طور پر بتایا کہ میں ایک ایک کتا اندر لے جاؤں گی، وزن کروں گی اور کمرے میں رکھوں گی، پھر وہ آخری کتے کے بعد میرے پیچھے آئیں۔ انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔

میں پہلے بڑے کتے کو لے کر اندر آئی۔ جیسے ہی وہ اسکیل پر چڑھا، اچانک مالک اپنے باقی دونوں کتوں کے ساتھ اندر آ گئیں۔ اسی لمحے ایک اور کلائنٹ اپنے دو چھوٹے کتوں کے ساتھ کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔ جیسے ہی بڑے کتوں نے انہیں دیکھا، وہ بھڑک اٹھے۔ زور زور سے بھونکنا، پٹوں کو کھینچنا، آگے بڑھنے کی کوشش—سب کچھ ایک دم ہو گیا۔ میں نے فوراً مالک سے کہا کہ وہ کتوں کو باہر لے جائیں تاکہ دوسرا کلائنٹ نکل سکے، مگر اسی وقت ریسیپشنسٹ نے دوسرے کلائنٹ کو واپس کمرے میں جانے کا کہا۔ میں نے مالک سے کئی بار کہا کہ کم از کم دو کتوں کو گاڑی میں واپس لے جائیں، میں بعد میں انہیں لے آؤں گی، مگر وہ صرف معذرت کرتی رہیں اور میری بات پر عمل نہ کیا۔

آخر ایک ساتھی آئی۔ میں نے اسے پورا منصوبہ بتایا اور یہ بھی کہ اصل میں کیا ہوا۔ اس نے کہا کہ وہ ایک کتے کو لے جا سکتی ہے اور میں باقی دو کا وزن کر لوں۔ ہسپتال میں بڑے کمروں کی تعداد محدود تھی۔ ایک کمرہ قرنطینہ کے لیے مخصوص تھا، دوسرا سب سے بڑا کمرہ پہلے ہی استعمال میں تھا، اور تیسرا نسبتاً چھوٹا مگر پھر بھی بڑا کمرہ خالی تھا۔ اس وقت لابی بھی خالی ہو چکی تھی، اس لیے وہ کمرہ مناسب لگا۔

میں نے باقی دو کتوں کا وزن کیا اور انہیں اس کمرے میں لے گئی۔ وہ بظاہر ایک دوسرے کے ساتھ پرسکون تھے۔ مالک بھی مطمئن لگ رہی تھیں۔ میں نے کہا کہ میں ٹیکنیشن کو بلا لاتی ہوں۔ پیچھے جا کر ٹیکنیشن کو بتایا مگر وہ مصروف تھا، اس نے کہا کہ میں خود ہی ویکسین لگا دوں۔ چونکہ معاملہ سادہ ویکسینز کا تھا، میں نے رضامندی ظاہر کی۔

میں سامان لے کر کمرے میں واپس آئی، اپنا تعارف کیا، بات شروع ہی کی تھی کہ اچانک کمرے میں قیامت آ گئی۔ دو کتے ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے۔ چیخ و پکار، بھونکنا، دانت، خون—سب کچھ ایک لمحے میں۔ مالک اور میں دونوں نے فوراً انہیں الگ کرنے کی کوشش کی۔ شکر تھا کہ شدید زخم نہیں آئے مگر کاٹنے کے نشان اور خون موجود تھا۔ میں سکتے میں آ گئی۔ مالک بھی ہکا بکا تھیں کیونکہ وہ بار بار کہہ چکی تھیں کہ ان کے کتے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے ہیں۔

میں نے فوراً اپائنٹمنٹ روک دی اور کہا کہ ڈاکٹر کو بلانا ضروری ہے۔ میں دوڑی ہوئی پیچھے گئی جہاں چار ڈاکٹر بیٹھے تھے۔ میں نے پورا واقعہ بتایا اور پوچھا کون دستیاب ہے۔ جس ڈاکٹر کے ساتھ میں عام طور پر کام کرتی تھی، انہوں نے کہا کہ وہ فوراً آتی ہیں۔ میں واپس جا کر مالک کو بتایا۔ ڈاکٹر آئیں، کتوں کا معائنہ کیا، ہدایات دیں، ویکسین لگائیں اور مجھے وہیں رہنے کو کہا۔ کچھ دیر بعد ایک اور ساتھی آئی، میں نے مختصراً صورتحال بتائی۔ اس کے بعد اس نے معاملات سنبھال لیے اور میں نے اس کی ہدایات پر عمل کیا۔ ہم نے تفصیلی نوٹس بھی درج کیے۔

اگلے دن منیجر نے مجھے آفس میں بلایا۔ ابتدا میں عام باتیں ہوئیں، بہتری کے نکات، سیکھنے کے مواقع۔ پھر اچانک بات اس واقعے پر آ گئی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ فائنل رِٹن وارننگ ہے کیونکہ ہسپتال کو جسمانی اور قانونی خطرے میں ڈالا گیا۔ کہا گیا کہ میں نے مناسب دستاویزات نہیں چھوڑیں، مالک کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے پیش نہیں آئی، اور کتوں کو تنگ کمرے میں رکھا۔ میں سکتے میں تھی۔ میرے چند سینئرز اور مینٹورز نے کہا تھا کہ میں نے اپنی بساط کے مطابق سب کچھ ٹھیک کیا، بروقت ڈاکٹر کو بلایا، اور حالات قابو میں رکھے۔ مگر منیجر کے الفاظ میرے دل میں تیر بن کر لگے۔

انہوں نے کہا کہ تین اسٹرائکس کے بعد نوکری خطرے میں ہوتی ہے، مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ ایک اور غلطی پر فوراً نکالا نہیں جائے گا۔ یہ تضاد مجھے مزید الجھا گیا۔ میں نے کاغذ پر دستخط کر دیے مگر اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔ مجھے لگا جیسے میں واقعی ایک ناکام انسان ہوں، جیسے میری محنت، نیت اور کوشش کی کوئی قیمت نہیں۔ میں نے سیکھا، میں نے پوچھا، میں نے اعتراف کیا، پھر بھی ایک لمحے کی بے ترتیبی نے مجھے اس مقام پر لا کھڑا کیا۔

اب میں خود سے یہی سوال کرتی ہوں: کیا میں واقعی غلط تھی؟ یا یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں سیکھنے والوں کے لیے جگہ کم اور غلطی کی سزا بہت بڑی ہے؟ میں اب بھی جانوروں سے محبت کرتی ہوں، میں اب بھی یہ کام دل سے کرنا چاہتی ہوں، مگر اس دن کے بعد میرے اندر ایک خوف بیٹھ گیا ہے۔ ہر قدم پر یہ ڈر کہ کہیں پھر کچھ غلط نہ ہو جائے۔ شاید وقت کے ساتھ یہ احساس مدھم پڑ جائے، مگر فی الحال یہ کہانی میرے دل پر نقش ہے، ایک خاموش دن، ایک اچانک حادثہ، اور ایک ایسی سزا جس نے مجھے خود پر شک کرنے پر مجبور کر دیا۔

اس واقعے کے بعد میرے دن بدل گئے۔ وہ ہسپتال جہاں میں پہلے سیکھنے کی جگہ دیکھتی تھی، اب مجھے ایک امتحان گاہ لگنے لگا۔ ہر دروازہ، ہر کمرہ، ہر بھونکنے کی آواز مجھے اس دن کی یاد دلاتی۔ میں کام تو ویسے ہی کرتی رہی مگر دل میں ایک مستقل دباؤ رہنے لگا۔ ہاتھ لرزنے لگتے، فیصلے کرتے وقت دماغ بار بار پیچھے کی طرف بھاگتا کہ کہیں پھر کوئی غلطی نہ ہو جائے۔

کچھ دن بعد میں نے خود کو آئینے میں دیکھا۔ آنکھوں کے نیچے حلقے، چہرے پر وہ مسکراہٹ نہیں جو پہلے جانوروں کو دیکھ کر آ جاتی تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا، بلکہ وہ طریقہ تھا جس میں مجھے قصوروار ٹھہرایا گیا۔ جیسے ساری ذمہ داری ایک نوآموز اسسٹنٹ کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہو، اور نظام کی خامیاں نظر انداز کر دی گئی ہوں۔

میں نے خود سے سوال کیا کہ اگر ایک مالک واضح ہدایات کے باوجود عمل نہ کرے، اگر لابی میں بیک وقت کئی چیزیں ہو جائیں، اگر سینیئر اسٹاف مختلف سمتوں میں فیصلے دے—تو کیا واقعی سارا الزام مجھ پر آتا ہے؟ میں نے وہ سب کیا جو میرے اختیار میں تھا۔ میں نے پلان بنایا، بتایا، روکا، آواز اٹھائی، مدد مانگی، اور آخرکار ڈاکٹر کو فوراً شامل کیا۔ پھر بھی لفظ “فائنل وارننگ” میرے لیے ایک مہر بن گیا۔

کچھ ساتھی خاموشی سے میرے پاس آئے۔ کسی نے کہا، “تم نے غلط نہیں کیا، بس تم اکیلی تھیں۔” کسی نے آہستہ سے کہا، “یہ جگہ نئے لوگوں کے لیے سخت ہے، خاص طور پر جب چیزیں غلط ہو جائیں۔” ان کی باتوں سے وقتی تسلی تو ملی مگر اندر کا خوف ختم نہ ہوا۔

میں نے نوٹس کرنا شروع کیا کہ یہاں غلطی کا پیمانہ سب کے لیے ایک جیسا نہیں تھا۔ کچھ لوگ بار بار چوک جاتے، مگر ان کے لیے الفاظ نرم ہوتے۔ کچھ سے توقع ہی نہیں کی جاتی تھی، اور کچھ سے کمال کی۔ میں شاید اسی دوسری قسم میں آ گئی تھی جہاں سیکھنے کی گنجائش کم اور دباؤ زیادہ تھا۔

رات کو میں اکثر جاگ جاتی۔ ذہن میں وہ لمحہ چلتا جب کمرے میں اچانک لڑائی شروع ہوئی تھی۔ آوازیں، حرکتیں، اور میرا بے بس سا احساس۔ میں سوچتی اگر میں نے ایک لمحہ پہلے کچھ اور کیا ہوتا تو؟ اگر میں مزید سخت لہجے میں مالک کو روکتی؟ اگر میں اس اپائنٹمنٹ کو کسی اور کو دے دیتی؟ مگر یہ سب “اگر” میرے کسی کام کے نہیں تھے۔ حقیقت یہی تھی کہ میں نے نیت کے ساتھ کام کیا تھا۔

وقت کے ساتھ ایک اور احساس بھی ابھرا—میں خود کو کھوتی جا رہی تھی۔ وہ لڑکی جو سیکھنے کے شوق میں یہاں آئی تھی، اب خود سے ڈرتی تھی۔ میں نے تب سمجھا کہ مسئلہ صرف اس دن کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ میں خود کو کس نظر سے دیکھنے لگی ہوں۔ کیا میں واقعی ایک ناکام انسان ہوں؟ یا میں ایک ایسے ماحول میں ہوں جہاں غلطی کو سیکھنے نہیں بلکہ سزا بنانے کا رواج ہے؟

ایک دن میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ میں خود کو صرف ایک واقعے سے متعین نہیں ہونے دوں گی۔ میں نے اپنی نوٹس بک نکالی اور ہر وہ چیز لکھی جو میں نے سیکھ لی تھی، ہر وہ موقع جہاں میں نے جانوروں کی مدد کی تھی، ہر وہ لمحہ جہاں کسی کی آنکھوں میں شکرگزاری دیکھی تھی۔ یہ سب حقیقت تھی، اور ایک وارننگ لیٹر اسے مٹا نہیں سکتا تھا۔

میں ابھی بھی اسی ہسپتال میں ہوں، مگر اب میں زیادہ باشعور ہوں۔ میں سوال پوچھتی ہوں، تحریری ہدایات مانگتی ہوں، اور جہاں ضرورت ہو وہاں پیچھے ہٹنے سے نہیں ڈرتی۔ مجھے نہیں معلوم مستقبل کیا لائے گا، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ میں اپنی قدر صرف ایک فیصلے یا ایک کاغذ سے نہیں ناپوں گی۔ یہ کہانی شاید مکمل نہیں، مگر یہیں سے میری اصل سمجھداری کی شروعات ہوئی ہے۔

دن گزرتے گئے، مگر وہ واقعہ میرے ساتھ ہی چلتا رہا۔ میں ہسپتال میں داخل ہوتی تو یوں لگتا جیسے ہر نگاہ میرا وزن تول رہی ہو، جیسے ہر حرکت پر کوئی ان دیکھے نمبر لگ رہے ہوں۔ میں نے خود کو زیادہ محتاط، زیادہ خاموش اور زیادہ اکیلا پایا۔ پہلے میں بے جھجھک مدد مانگ لیتی تھی، اب سوال کرنے سے پہلے بھی دس بار سوچتی۔ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ مجھے اب تک سمجھ نہیں آئی، یا میں ابھی تک کمزور ہوں۔

نئے قوانین آتے رہے، نئی ہدایات لکھی جاتیں، پرانی باتیں بدلتی رہیں۔ بعض اوقات وہی چیز جس پر کل شاباش ملی تھی، آج اس پر تنبیہ ہو جاتی۔ میں نے محسوس کیا کہ مسئلہ صرف تربیت کا نہیں بلکہ واضح ذمہ داریوں کا بھی ہے۔ یہاں ہر کوئی جلدی میں تھا، ہر کوئی دباؤ میں، اور اس دباؤ کا سب سے آسان بوجھ وہ لوگ بنتے تھے جو ابھی خود کو ثابت کرنے کی کوشش میں تھے۔

ایک دن ایک اور اپائنٹمنٹ آئی، کچھ ملتی جلتی سی صورتحال تھی۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ ہاتھوں میں وہی پرانا لرزہ واپس آ گیا۔ اس بار میں نے سب کچھ تحریری طور پر کنفرم کیا، مالک سے صاف الفاظ میں بات کی، اور پہلے ہی ایک سینیئر کو شامل کر لیا۔ اپائنٹمنٹ بغیر کسی مسئلے کے مکمل ہو گئی۔ کسی نے خاص تعریف نہیں کی، مگر اندر کہیں ایک چھوٹی سی جیت محسوس ہوئی۔

میں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھا کہ ہر جگہ محنت کا صلہ فوری نہیں ملتا۔ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ انسان خود کو ٹوٹنے سے بچا لے۔ میں نے اپنی ذات کو صرف اس ہسپتال تک محدود نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے دوسرے کلینکس کے بارے میں پڑھنا شروع کیا، اپنے کورس کے نوٹس دوبارہ نکالے، اور یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ میں بطور ویٹرنری اسسٹنٹ کون ہوں، نہ کہ یہ جگہ مجھے کیا سمجھتی ہے۔

کبھی کبھار کسی جانور کی آنکھوں میں سکون دیکھ کر دل بھر آتا۔ تب مجھے یاد آتا کہ میں نے یہ شعبہ کیوں چنا تھا۔ نہ کہ وارننگ لیٹرز کے لیے، نہ کہ خوف کے لیے، بلکہ اس خاموش خدمت کے لیے جو لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ وہ جانور جو بول نہیں سکتے، مگر تکلیف اور سکون دونوں کو محسوس کر لیتے ہیں۔

میں اب بھی غلطی سے ڈرتی ہوں، یہ سچ ہے۔ مگر اب میں خود کو صرف اپنی غلطیوں سے نہیں پہچانتی۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ بعض اوقات قصور ایک انسان کا نہیں، پورے نظام کا ہوتا ہے۔ اور ایسے میں سب سے اہم کام یہ ہے کہ انسان اپنی انسانیت نہ کھوئے۔

یہ کہانی شاید ابھی ختم نہ ہو، شاید آنے والے دنوں میں اور امتحان ہوں، اور شاید مزید فیصلے بھی۔ مگر اب میں جانتی ہوں کہ میں صرف ایک واقعہ نہیں ہوں۔ میں وہ تمام دن ہوں جب میں نے سیکھا، سنبھالا، روکا، اور پھر بھی کھڑی رہی۔ اور شاید یہی کھڑا رہنا ہی میری اصل طاقت ہے۔

ایک شام، جب ہسپتال معمول سے کچھ زیادہ خاموش تھا، میں علاج کے کمرے میں اکیلی بیٹھی ایک فائل بند کر رہی تھی۔ باہر بارش ہو رہی تھی، اور شیشوں پر پڑتی بوندوں کی آواز مجھے اپنے اندر کی خاموشی سے ملتی جلتی محسوس ہوئی۔ اسی لمحے مجھے اچانک احساس ہوا کہ میں اب وہ لڑکی نہیں رہی جو یہاں پہلے دن آئی تھی۔ میں اب بھی سیکھ رہی تھی، مگر اب میں خود کو کمتر ثابت کرنے کی جنگ میں نہیں تھی۔

میں نے اس دن کے بارے میں سوچا جس نے مجھے توڑنے کی کوشش کی تھی۔ وہ واقعہ، وہ کمرہ، وہ شور۔ اگرچہ اس نے مجھے زخمی کیا تھا، مگر اس نے مجھے جگایا بھی تھا۔ مجھے یہ سکھایا کہ ہر الزام سچ نہیں ہوتا، اور ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی صرف اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ انسان خود کو سن رہا ہے۔

کچھ دن بعد منیجر نے مجھے دوبارہ بلایا۔ اس بار لہجہ مختلف تھا، زیادہ رسمی، کم سخت۔ بات کام تک محدود رہی۔ کوئی معافی نہیں تھی، کوئی واپسی نہیں، مگر میں نے محسوس کیا کہ اب مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ میں نے دل ہی دل میں طے کر لیا تھا کہ میری قدر کا فیصلہ کوئی ایک کاغذ یا کوئی ایک شخص نہیں کرے گا۔

میں نے اپنے لیے ایک راستہ چن لیا۔ اگر یہاں رہنا سیکھنے میں مدد دیتا ہے تو میں رہوں گی، اور اگر یہ جگہ میرے خوف کو بڑھاتی ہے تو میں چلی جاؤں گی۔ میں نے جان لیا تھا کہ خود کو بچانا بھی ایک مہارت ہے، اور شاید سب سے ضروری۔

ایک دن ایک بیمار بلی کو میں نے آہستہ سے تھاما۔ وہ خوف زدہ تھی، مگر میری انگلیوں کی گرمی نے اسے پرسکون کر دیا۔ اس لمحے مجھے یقین ہو گیا کہ میں ابھی بھی اسی جگہ ہوں جہاں مجھے ہونا چاہیے تھا—جانوروں کے قریب، ان کے لیے۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، مگر ایک بات یہاں واضح ہو جاتی ہے۔ میں اب خود کو ایک غلطی کے ذریعے نہیں پہچانتی۔ میں اپنے سفر، اپنی نیت اور اپنی ثابت قدمی سے پہچانی جاتی ہوں۔ اور شاید یہی اصل انجام ہے—یہ سمجھ لینا کہ انسان ٹوٹ کر بھی مکمل رہ سکتا ہے۔

Post a Comment for "خاموش ذمہ داری"