Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

فاصلوں کے بیچ رشتے

 میں ستائیس سال کی ہوں۔ یہ بات لکھتے ہوئے بھی مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا چاہتی ہوں—مشورہ، تسلی، یا بس کوئی ایسا کونا جہاں میں اپنے دل کا بوجھ رکھ سکوں۔ میری زندگی میں بہت کچھ ایسا ہے جسے چند جملوں میں سمیٹنا ممکن نہیں، مگر پھر بھی میں کوشش کروں گی کہ بات واضح رہے۔ یہ کہانی صرف میرے اور میرے والدین کی نہیں، بلکہ ان فیصلوں کی ہے جو انسان دوسروں کو خوش رکھنے کے لیے کرتا ہے اور پھر انہی فیصلوں کے نیچے دب جاتا ہے۔

میرے والدین کی شادی عام شادیوں جیسی نہیں تھی۔ میں جب سات سال کی تھی تو انہوں نے ایک مختلف طرزِ زندگی اختیار کیا۔ اس وقت میں بہت چھوٹی تھی، زیادہ سوال نہیں کیے، بس یہ دیکھا کہ ہمارے گھر میں لوگ آتے جاتے رہتے تھے۔ وقت کے ساتھ مجھے عادت ہو گئی۔ کچھ لوگ اچھے تھے، کچھ بس آتے اور چلے جاتے۔ میں نے کبھی اپنے والدین کے فیصلوں پر اعتراض نہیں کیا، کیونکہ میں نے ہمیشہ یہی سیکھا تھا کہ اگر وہ خوش ہیں تو مجھے بھی خوش رہنا چاہیے۔

مگر چند سال پہلے، سب کچھ بدل گیا۔ میرے والدین کی زندگی میں ایک اور جوڑا آیا، جن کے نام میں یہاں بدل دیتی ہوں۔ ابتدا میں میں نے انہیں قبول کرنے کی کوشش کی، جیسے پہلے کیا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرے والدین بدل رہے ہیں۔ ان کا لہجہ، ان کے فیصلے، ان کی ترجیحات—سب کچھ۔ وہ اب صرف اپنے نہیں رہے تھے۔ وہ ہمیں کم اور ان لوگوں کو زیادہ اہمیت دینے لگے تھے۔

میری بہن اور اس کا خاندان کچھ عرصہ ہمارے والدین کے گھر کے تہہ خانے میں رہ رہے تھے۔ میری بھانجی اس وقت صرف دو ماہ کی تھی۔ اچانک میرے والدین نے انہیں وہاں سے ہٹا کر اوپر ایک چھوٹے سے کمرے میں منتقل کر دیا، صرف اس لیے کہ وہ دوسرے جوڑے کو وہ جگہ دینا چاہتے تھے۔ میں نے اپنی بہن کی آنکھوں میں وہ بے بسی دیکھی جو شاید کبھی نہیں بھول پاؤں گی۔ تب پہلی بار میرے دل میں یہ خیال آیا کہ شاید ہم اب ان کی پہلی ترجیح نہیں رہے۔

وقت گزرتا گیا اور حالات بدتر ہوتے گئے۔ وہ لوگ خود کو میرے والدین کے برابر سمجھنے لگے۔ میرے بچے اور میری بھانجی کو اپنا نواسہ، نواسی کہنے لگے۔ میں نے کئی بار کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں، میں انہیں اتنا نہیں جانتی، مگر میری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ہر بار یہی کہا جاتا کہ ہمیں سب کو ایک بڑا خوشحال خاندان بن کر رہنا چاہیے۔ مگر خوشی زبردستی نہیں ہوتی۔

ایک واقعہ ایسا تھا جس نے میرے دل میں ایک مستقل دراڑ ڈال دی۔ میری بہن کو ہنگامی طور پر کہیں جانا پڑا، موسم خراب تھا، بارش اور برف۔ اس نے ہماری ماں سے کہا کہ وہ کچھ دیر کے لیے بچے کو سنبھال لیں۔ جواب آیا کہ وہ مصروف ہیں، کھیل کھیلنے کا منصوبہ ہے، اور انہیں خلل نہیں چاہیے۔ میں نے اس دن محسوس کیا کہ ہمارے لیے اب جگہ بہت کم رہ گئی ہے۔

جب میں حاملہ تھی، میں نے اپنے والدین کو یہ خبر دی۔ میں نے سوچا تھا شاید وہ خوش ہوں گے، شاید کوئی جذباتی لمحہ ہوگا۔ مگر میرے والد کا پہلا سوال یہ تھا کہ کیا وہ دوسرے لوگوں کو بھی یہ خبر دے سکتے ہیں۔ میں نے انکار کیا۔ یہ میرا لمحہ تھا، میری حد تھی۔ مگر میرے انکار کی بھی کوئی اہمیت نہ رہی۔

میرا بیٹا پیدا ہوا۔ آٹھ ہفتے کا تھا جب میں مختصر سی ملاقات کے لیے ان کے گھر گئی۔ جیسے ہی میں پہنچی، میرے والد نے فوراً پیغام بھیج دیا۔ چند لمحوں بعد وہ لوگ اوپر آ گئے۔ میری ماں میرے بیٹے کو گود میں لیے بیٹھی تھیں۔ بغیر مجھ سے پوچھے، انہوں نے میرا بچہ ایک اجنبی کے ہاتھوں میں دے دیا۔ میرا دل جیسے وہیں رک گیا۔ یہ غصے کی بات نہیں تھی، یہ اعتماد کے ٹوٹنے کی بات تھی۔ کوئی بھی ماں چاہے گی کہ اس کے بچے کو کوئی بھی ہاتھ لگانے سے پہلے اس سے اجازت لے۔

اس کے بعد ایک مذہبی تقریب تھی، بہت ذاتی، بہت مقدس۔ ہم نے صرف قریبی خاندان اور دوستوں کو بلایا تھا۔ میں نے اپنے والدین کو دعوت دی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ دوسرے لوگوں کو بھی لا سکتے ہیں۔ میں نے نرمی سے مگر واضح انداز میں انکار کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے آنے سے ہی انکار کر دیا۔ میرے بچے کی تقریب ان کے لیے اس شرط سے کم اہم تھی۔

اسی دن میں نے فیصلہ کیا۔ میں نے کہا کہ اب بس۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں ان سے نفرت نہیں کرتی، میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ وہ کسی کو چھوڑیں۔ مگر میں اب مزید درد برداشت نہیں کر سکتی۔ میں نے کہا کہ مجھے وقت چاہیے، فاصلے کی ضرورت ہے۔ اپریل 2024 کے بعد سے میں نے ان سے کوئی رابطہ نہیں رکھا۔

یہ نو ماہ میرے لیے عجیب مگر سکون بھرے تھے۔ پہلی بار مجھے ایسا لگا کہ میں سانس لے رہی ہوں۔ نہ کسی بحث کا ڈر، نہ کسی حد کے ٹوٹنے کا خوف۔ میں تھراپی میں تھی، خود کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ میں نے سیکھا کہ خود کو بچانا خودغرضی نہیں ہوتی۔

پھر کل ایک پیغام آیا۔ میری ماں کا۔ میرے والد کو دل کی بیماری تشخیص ہوئی تھی۔ دل کمزور ہو رہا تھا۔ وہ الفاظ پڑھ کر میرے ہاتھ کانپنے لگے۔ ایک طرف غصہ تھا، پرانا، جمع ہوا ہوا۔ دوسری طرف خوف اور غم۔ وہ میرے والد ہیں۔ وہی جنہوں نے مجھے سائیکل چلانا سکھایا تھا، کہانیاں سنائی تھیں، اور جن کی آواز کبھی میرے لیے تحفظ تھی۔

اب میں ایک ایسی جگہ کھڑی ہوں جہاں کوئی فیصلہ آسان نہیں۔ اگر میں واپس جاتی ہوں تو کیا میری حدوں کی عزت ہوگی؟ یا سب کچھ ویسا ہی ہوگا جیسے پہلے تھا؟ اور اگر میں نہیں جاتی تو کیا میں ساری زندگی اس بوجھ کے ساتھ جی سکوں گی کہ میں نے آخری وقت میں پیٹھ موڑ لی؟

میرے دل کا ایک حصہ اب بھی ایک بہتر رشتے کی امید رکھتا ہے۔ ایسا رشتہ جہاں میں صرف بیٹی ہوں، نہ کہ کسی نظریے کی رکاوٹ۔ مگر دوسرا حصہ اس سکون کو نہیں کھونا چاہتا جو میں نے بڑی مشکل سے حاصل کیا ہے۔

میں جانتی ہوں کہ محبت کا مطلب خود کو بار بار زخمی ہونے دینا نہیں ہوتا۔ اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ موت کا خیال انسان کو نرم کر دیتا ہے۔ شاید سچ یہی ہے کہ کچھ رشتے فاصلے کے ساتھ ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔ شاید میں اپنے والد کے لیے دعا کر سکتی ہوں، ان کے لیے دل میں جگہ رکھ سکتی ہوں، بغیر خود کو دوبارہ اسی دائرے میں ڈالے۔

یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ مجھے نہیں معلوم میں کیا فیصلہ کروں گی۔ مگر اتنا جانتی ہوں کہ جو بھی کروں گی، وہ خوف سے نہیں بلکہ اپنے اور اپنے بچے کے تحفظ کے لیے ہوگا۔ اور شاید یہی کافی ہے۔

Post a Comment for "فاصلوں کے بیچ رشتے"