Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

خاموش الجھنیں


 میں نے یہ سب لکھنے کے لیے ایک الگ اکاؤنٹ بنایا تھا، کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو آدمی اپنے نام کے ساتھ کہنا نہیں چاہتا۔ میری عمر پندرہ سال ہے، اور میں ایک ایسی الجھن میں پھنس گیا ہوں جس کا کوئی صاف، سیدھا جواب مجھے خود بھی نظر نہیں آتا۔

میرا سب سے اچھا دوست، جسے میں یہاں عارف کہوں گا، میرے ساتھ بچپن سے ہے۔ ہمارے گھر والے ایک دوسرے کو جانتے ہیں، ہمارے ہفتے اکٹھے گزرتے ہیں، اور ہماری دوستی کبھی سوال کے دائرے میں نہیں آئی۔ ہم بس دوست تھے، عام سے دوست، ہنسی مذاق، اسکول، کھیل، سب کچھ معمول کے مطابق۔

پھر ایک وقت آیا جب میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر کچھ بدل رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کیا تھا، بس اتنا جانتا ہوں کہ میں خود کو پہلے جیسا نہیں پا رہا تھا۔ عارف کے ساتھ رہتے ہوئے مجھے عجیب سی الجھن ہونے لگی، ایسی الجھن جسے میں نہ نام دے سکتا تھا نہ سمجھا سکتا تھا۔ میں کسی رومانوی کہانی کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا، نہ کسی لیبل کی تلاش میں تھا۔ بس میرے اندر سوال تھے، اور سوالوں کے ساتھ بے چینی۔

عارف کی زندگی میں ایک اور حقیقت بھی تھی۔ اس کی دوست، زویا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش تھے، اور یہ خوشی بناوٹ نہیں لگتی تھی۔ شروع میں مجھے یہ دیکھ کر عجیب سا لگا، شاید دل میں کہیں ہلکی سی اداسی بھی آئی، مگر وقت کے ساتھ میں نے مان لیا کہ یہ ان کی زندگی ہے، اور مجھے اس میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔

میرے والدین مجھے تھراپی کے لیے بھیجتے ہیں، کسی مسئلے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ ان کا ماننا ہے کہ بات کرنا، سوچ کو سمجھنا، ضروری ہے۔ وہیں میں نے پہلی بار یہ مانا کہ میں کنفیوز ہوں۔ میں نے اپنی تھراپسٹ سے کہا کہ مجھے لیبلز سے مسئلہ نہیں، مگر میں انہیں اپنی پہچان بھی نہیں بنانا چاہتا۔ میں بس خود کو سمجھنا چاہتا تھا۔

انہوں نے مجھے لکھنے کا مشورہ دیا۔ ایک ڈائری، چند صفحات، بے ترتیب خیالات۔ مگر میرے اندر جو کچھ تھا وہ چند صفحات میں نہیں سما سکا۔ میں نے لکھنا شروع کیا، اور لکھتے لکھتے ایک لمبی کہانی بن گئی۔ یہ کہانی کسی عمل کی نہیں تھی، بلکہ احساسات کی تھی۔ دوستی، الجھن، حدیں، شرمندگی، اور وہ سوال جو میں خود سے پوچھتا رہا کہ کیا صرف سوچنا بھی غلط ہو سکتا ہے؟

میں نے وہ سب لکھ دیا جو میں کسی سے کہہ نہیں سکتا تھا۔ یہ لکھائی میرے لیے علاج جیسی تھی، ایک ایسی جگہ جہاں میں کسی کو نقصان پہنچائے بغیر اپنے خیالات رکھ سکتا تھا۔ مجھے نہیں لگا کہ میں کوئی غلط کام کر رہا ہوں، کیونکہ میں نے کسی حد کو عبور نہیں کیا تھا، نہ حقیقت میں اور نہ تحریر میں۔

پھر ایک دن میرے والد نے وہ سب پڑھ لیا۔

مجھے غصہ آیا، شدید غصہ۔ میری نجی سوچیں، میری الجھنیں، کسی اور کے سامنے تھیں۔ مگر ان کا ردِعمل وہ نہیں تھا جس کا مجھے ڈر تھا۔ انہوں نے مجھے ڈانٹا نہیں، شرمندہ نہیں کیا، بلکہ کہا کہ میں نے جو لکھا ہے وہ ایماندار ہے، اور ایمانداری میں طاقت ہوتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر میں چاہوں تو اسے شائع کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہوں۔

یہ بات مجھے اور الجھا گئی۔ میں نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ یہ سب دنیا دیکھے۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر کسی نے پہچان لیا تو لوگ کیا سوچیں گے۔ کیا وہ مجھے عجیب سمجھیں گے؟ کیا وہ میری بات کو غلط معنی پہنائیں گے؟ میں خود بھی تو ابھی سیکھ رہا تھا، تو دوسروں کے فیصلوں کا بوجھ کیسے اٹھاتا؟

میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا لکھنا غلط تھا؟ یا غلط یہ ہوتا اگر میں ان احساسات کو کسی اور پر مسلط کرتا؟ میں نے کسی کی حد نہیں توڑی تھی، میں نے بس خود کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔

آہستہ آہستہ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ہر خیال کو عوامی بنانا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ تحریریں شائع ہونے کے لیے نہیں، بلکہ سنبھال کر رکھنے کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ میرے سفر کا حصہ تھیں، کسی اور کی تفریح نہیں۔

میں نے اپنے والد سے بات کی۔ میں نے کہا کہ شاید ابھی نہیں، شاید کبھی نہیں۔ انہوں نے میری بات مانی۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ بڑا ہونا صرف فیصلے کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ جاننے کا نام بھی ہے کہ کون سا فیصلہ ابھی نہیں کرنا چاہیے۔

میں اب بھی عارف کا دوست ہوں۔ ہماری دوستی ویسی ہی ہے، سادہ، محفوظ۔ اور میں اب بھی لکھتا ہوں، مگر اس نیت سے نہیں کہ دنیا پڑھے، بلکہ اس لیے کہ میں خود کو سمجھتا رہوں۔

شاید میں ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوں، مگر اب میں اتنا جانتا ہوں کہ سوال ہونا غلط نہیں، اور انہیں سمجھنے کے لیے وقت لینا کمزوری نہیں۔
اور یہی اس کہانی کا سب سے سچا انجام ہے۔

وقت گزرتا گیا اور میں نے اپنے احساسات کو لکھائی کے ذریعے سنبھالنا سیکھ لیا۔ اب جب بھی الجھن یا بے چینی محسوس ہوتی، میں قلم اٹھاتا اور اپنے خیالات کو کاغذ پر اترنے دیتا۔ یہ صرف ڈائری نہیں رہی تھی، بلکہ ایک طرح کا آئینہ بن گئی تھی، جس میں میں خود کو بغیر خوف یا شرمندگی کے دیکھ سکتا تھا۔ میں نے سیکھا کہ جذبات کو دبانے سے بہتر ہے کہ انہیں سمجھا جائے، اور یہ سمجھنے کا عمل کبھی بھی ایک دن میں مکمل نہیں ہوتا۔

عارف کے ساتھ میری دوستی بھی نئی شکل اختیار کر گئی تھی۔ ہم وہی کھیل، ہنسنا، مذاق اور اسکول کے معمولات جاری رکھتے، مگر اب میں زیادہ محتاط اور سمجھدار ہو گیا تھا۔ میں جان گیا تھا کہ جذبات کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خیال کو عملی شکل دی جائے۔ میں نے اپنی خواہشات اور حقیقت کے درمیان ایک حد کھینچنا سیکھ لیا، اور یہ حد میرے لیے آزادی کا باعث بنی۔

میرے والد بھی میری اس تبدیلی کو محسوس کرنے لگے۔ وہ اکثر مجھ سے بات کرتے، میرے خیالات جاننا چاہتے، اور کبھی کبھی صرف سننا چاہتے، بغیر کوئی حل تجویز کیے۔ اس سننے کی عادت نے مجھے اور زیادہ محفوظ محسوس کرایا۔ میں نے محسوس کیا کہ والدین کا اعتماد اور سمجھداری ہی وہ بنیاد ہے جس پر نوجوان اپنی سوچوں کو واضح کر سکتا ہے، بغیر خوف کے۔

کبھی کبھار میں عارف کو دیکھ کر اپنے دل میں آنے والے احساسات یاد کر لیتا، مگر اب یہ یادیں تکلیف نہیں دیتیں، بلکہ یہ مجھے اپنے سفر کی یاد دلاتی ہیں۔ میں نے جان لیا کہ انسانی ذہن میں خواہشات آتی ہیں، مگر ان کے ساتھ کیسے رہنا ہے، یہ سیکھنا زیادہ اہم ہے۔ میں نے یہ بھی سمجھا کہ کسی کی خوشی میں مداخلت نہ کرنا اور دوست کی زندگی کا احترام کرنا اصل سچائی ہے۔

میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اپنی لکھائی کو اب اپنی پہچان بنانے کے لیے استعمال نہیں کروں گا، بلکہ یہ میرے اپنے اندر کے سکون کا ذریعہ رہے گا۔ میں نے اسے صرف اپنی سوچوں کی رہنمائی کے طور پر رکھا، اور اسی کے ذریعے میں نے اپنی الجھنوں کو قابو میں رکھنا سیکھا۔

اب میں رات کو سو کر جاگتا ہوں، دن کے لمحات میں دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارتا ہوں، اور اپنی لکھائی میں خود کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میری کہانی اب کسی کے سامنے پیش کرنے کی نہیں، بلکہ اپنے آپ کو سمجھنے اور سنبھالنے کی ہے۔ میں نے یہ سیکھ لیا کہ انسان صرف دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے بھی زندگی جیتا ہے، اور اپنے احساسات کو سمجھنا، بغیر انہیں نقصان پہنچائے، سب سے بڑی طاقت ہے

وقت نے اپنی رفتار سے سب کچھ بدل دیا۔ میں اب زیادہ پختہ اور خود آگاہ ہو گیا تھا۔ اپنی لکھائی کی مدد سے میں نے نہ صرف اپنی الجھنوں کو سمجھا بلکہ یہ بھی جان لیا کہ احساسات کی شدت کو قابو میں رکھنا اور حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ضروری ہے۔ اب میرے اندر وہ گھبراہٹ اور اضطراب نہیں رہ گیا جو پہلے ہر عارف کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا۔ میں نے سیکھ لیا کہ جذبات آنا اور جانا انسان کی فطرت ہے، مگر ہمیں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

عارف کی زندگی اپنی رفتار سے چل رہی تھی، زویا کے ساتھ اس کی خوشی میں کوئی کمی نہیں تھی، اور میں اس حقیقت کو قبول کرنے کے قابل ہو گیا تھا کہ ہر کسی کی زندگی میں اپنی راہیں ہیں۔ دوست کی خوشی دیکھنا اب میرے لیے پریشانی نہیں بلکہ ایک طرح کی تسکین بن گئی تھی۔ میں نے جان لیا کہ رشتوں میں احترام اور حدود کی پاسداری سب سے بڑی قوت ہے، اور یہ طاقت مجھے خود سے اور دوسروں سے بہتر تعلق بنانے میں مدد دیتی ہے۔

میری لکھائی اب صرف خود کو سمجھنے کا ذریعہ رہی۔ میں نے اسے کبھی دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنے اندر کے سکون کے لیے استعمال کیا۔ ہر رات جب میں کاغذ پر اپنے خیالات لکھتا، تو یہ مجھے اپنے آپ سے رابطے میں رکھتا، میرے دل و دماغ کو واضح کرتا، اور میری ذہنی صحت کو مضبوط کرتا۔ میں نے یہ سمجھ لیا کہ اپنے جذبات کو سمجھنا، ان پر غور کرنا اور انہیں قابو میں رکھنا، نوجوان ہونے کا حصہ ہے اور یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔

میرے والدین کا اعتماد اور سننے کا رویہ اب بھی میرے ساتھ تھا۔ انہوں نے کبھی مجھے دبا کر نہیں رکھا، اور نہ ہی میری باتوں کا مذاق اڑایا۔ اس کی وجہ سے میں نے یہ سیکھا کہ بات کرنے، سوال کرنے اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا حق ہر انسان کو حاصل ہے۔ یہی سیکھنا اور سننا ہی نوجوانی کے سب سے بڑے سبق ہیں۔

اب میں دن کے لمحات میں اپنے دوستوں، خاندان اور خود کے لیے وقت نکالتا ہوں۔ میں نے اپنی زندگی کی ترجیحات کا تعین کر لیا ہے: تعلیم، دوستوں کے ساتھ تعلق، اپنے اندر کی سمجھ، اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا۔ میں اب خود سے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بہتر تعلق قائم کر سکتا ہوں، اور یہ سب اس وجہ سے ممکن ہوا کہ میں نے اپنی الجھنوں کا سامنا کیا، انہیں لکھائی کے ذریعے سمجھا، اور اپنی زندگی میں حدود قائم کیں۔

رات آتی ہے، میں بستر پر لیٹتا ہوں، کمرہ خاموش ہے، دل پرسکون ہے، اور آنکھیں آرام سے بند ہوتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میں مکمل نہیں ہوں، اور یہ بھی کہ زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوگی، مگر اب میں تیار ہوں۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ سوال ہونا اور جذبات محسوس کرنا غلط نہیں، بلکہ انہیں سنبھالنا، سمجھنا اور قبول کرنا سب سے بڑی جیت ہے۔

اور اسی سکون کے ساتھ، میری کہانی اپنی جگہ مکمل ہو جاتی ہے، ایک نوجوان کے جذباتی اور ذہنی سفر کا اختتام، جو اب خود کو سمجھتا، سنبھالتا اور زندگی کی راہوں پر اعتماد سے قدم بڑھاتا ہے۔


Post a Comment for "خاموش الجھنیں"