Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

"خاموش راتوں کی چیخ"

 

عالیہ خان کو نیند ہمیشہ سے عزیز تھی، صرف اس لیے نہیں کہ وہ صحت کا خیال رکھتی تھی بلکہ اس لیے بھی کہ نیند اس کے لیے ایک طرح کی پناہ گاہ تھی۔ دن بھر کے بوجھ، ذمہ داریوں اور جذباتی تھکن کے بعد وہ نیند کو ایسے تھامتی تھی جیسے کوئی تھکا ہوا مسافر سایہ دار درخت کو۔ وہ چالیس برس کی ہو چکی تھی، ایک ماں، ایک بیوی، ایک باشعور عورت، جو جانتی تھی کہ اگر نیند پوری نہ ہو تو دن کیسے بوجھل ہو جاتا ہے، سوچ کیسے بکھر جاتی ہے اور برداشت کیسے کمزور پڑ جاتی ہے۔

گھڑی جب ساڑھے نو کا وقت دکھاتی، عالیہ کے اندر ایک غیر محسوس سا سکون اترنے لگتا۔ وہ ایان کو سلا کر کمرے میں آتی، بتی مدھم کرتی اور بستر پر لیٹتے ہی ایک گہری سانس لیتی، جیسے دن کا اختتام کسی دعا پر ہو رہا ہو۔ اس وقت کمرہ خاموش ہوتا، ہوا پردوں سے ٹکرا کر آہستہ آہستہ سرگوشی کرتی اور عالیہ کی پلکیں بوجھل ہونے لگتیں۔

فراز احمد اس سے مختلف تھا۔ وہ رات کا انسان تھا۔ اس کے لیے دن کا شور رات کی خاموشی میں ہی تھمتا تھا۔ وہ اکثر دیر تک جاگتا، کبھی فون پر خبریں دیکھتا، کبھی سوشل میڈیا پر، کبھی کسی کام میں الجھا رہتا۔ پہلے پہل وہ آہستگی سے کمرے میں آتا، موبائل کی ہلکی سی روشنی جلا کر کپڑے بدلتا اور خاموشی سے بستر پر آ جاتا۔ عالیہ جاگ بھی جاتی تو دوبارہ سو جانا اس کے لیے ممکن ہوتا۔

مگر وقت کے ساتھ کچھ بدلا۔ نہ کوئی بڑا واقعہ ہوا، نہ کوئی واضح جھگڑا، بس رویوں میں سختی آ گئی۔ اب فراز جب کمرے میں داخل ہوتا تو سب سے پہلے چھت کی تیز سفید بتی جلا دیتا۔ وہ روشنی جو پورے کمرے کو ایک لمحے میں دن بنا دیتی تھی۔ عالیہ کی آنکھیں فوراً کھل جاتیں، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی اور دماغ جیسے نیند کی نرم آغوش سے زبردستی باہر کھینچ لیا جاتا۔

ایک رات عالیہ نے نیند میں چونک کر آنکھیں کھولیں تو کمرہ روشنی سے بھر چکا تھا۔ فراز الماری کے سامنے کھڑا تھا، بالکل مطمئن، جیسے یہ سب بالکل معمول ہو۔ عالیہ نے ہلکی مگر تھکی ہوئی آواز میں کہا کہ بتی بند کر لو، مگر فراز نے بے نیازی سے جواب دیا کہ وہ اندھیرے میں تیار نہیں ہو سکتا اور اسے یہ احساس پسند نہیں کہ وہ کسی کے ڈر سے دبے پاؤں چل رہا ہو۔

یہ جملہ عالیہ کے دل میں چبھ گیا۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ حلق میں اٹک گئے۔ وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے اس لمحے بات بڑھائی تو آواز اونچی ہو جائے گی، اور وہ اس وقت لڑنا نہیں چاہتی تھی، بس سونا چاہتی تھی۔ مگر نیند اب اس سے کوسوں دور تھی۔

روشنی بند ہونے کے بعد بھی اس کے ذہن میں ایک چمک باقی رہی۔ آنکھیں بند تھیں مگر دماغ پوری طرح جاگ چکا تھا۔ وہ کروٹ بدلتی، تکیہ درست کرتی، خود کو سمجھاتی کہ بس چند منٹ میں نیند آ جائے گی، مگر ایسا نہ ہوا۔

کچھ دیر بعد فراز کے فون کی آواز کمرے میں گونجی۔ ایک پیغام، پھر کچھ دیر بعد دوسرا۔ عالیہ نے بے اختیار تکیہ کان پر رکھا مگر آواز پھر بھی اندر اتر گئی۔ اس نے آہستہ سے کہا کہ فون سائلنٹ کر لو، مگر جواب ایک لفظ میں آیا، نہیں۔

اس انکار میں کوئی غصہ نہیں تھا، بس ایک ضد تھی۔ عالیہ کو اس ضد کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ فون کو اس طرح سیٹ کیا جا سکتا ہے کہ صرف ضروری کالز آئیں، مگر فراز اس بات پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے لیے یہ اس کی آزادی کا معاملہ تھا، جبکہ عالیہ کے لیے یہ اس کی نیند، اس کی صحت، اس کا سکون تھا۔

راتیں جو کبھی آرام کا وقت ہوا کرتی تھیں، اب آزمائش بن چکی تھیں۔ عالیہ بار بار جاگتی، پھر سونے کی کوشش کرتی، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی چیز اسے پوری طرح بیدار کر دیتی۔ بعض راتوں میں اس کی برداشت ختم ہو جاتی اور اس کی آواز بلند ہو جاتی۔ وہ خود کو پہچان نہیں پاتی تھی، مگر بے خوابی انسان کو بدل دیتی ہے، یہ وہ اب جان چکی تھی۔

ہر جھگڑے کے بعد فراز ایک ہی بات کہتا کہ عالیہ اسے کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ یہ لفظ عالیہ کو اندر تک ہلا دیتا۔ وہ خود سے سوال کرتی کہ کیا کسی کے آرام کا خیال رکھنا واقعی کنٹرول کہلاتا ہے؟ کیا ایک ہلکی سی روشنی، ایک فون کو خاموش کر دینا اتنا بڑا مطالبہ تھا؟

وہ جانتی تھی کہ وہ ہمیشہ سے ہلکی نیند لینے والی رہی ہے۔ شادی کے شروع میں بھی یہ مسئلہ تھا، مگر تب دونوں میں نرمی تھی، سمجھوتا تھا، ایک دوسرے کا خیال تھا۔ اب جیسے یہ سب کہیں کھو گیا تھا۔

دن کے وقت بھی عالیہ تھکی تھکی رہنے لگی۔ اس کی توجہ کمزور پڑ گئی، چھوٹی باتوں پر دل بوجھل ہو جاتا۔ ایان کے ساتھ کھیلتے ہوئے بھی اس کا ذہن کہیں اور ہوتا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سب نیند کی کمی کا اثر ہے، مگر وہ اس مسئلے کا حل اکیلے نہیں کر سکتی تھی۔

ایک رات وہ دیر تک جاگتی رہی، چھت کو گھورتی رہی۔ کمرے میں خاموشی تھی مگر اس کے اندر شور تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیا وہ واقعی زیادہ مانگ رہی ہے یا بس وہ کم دے رہا ہے۔ کیا ایک شادی میں دونوں کی ضرورتیں برابر اہم نہیں ہوتیں؟ کیا خاموشی سے سب برداشت کرتے رہنا ہی اچھی بیوی ہونے کی نشانی ہے؟

اس رات اس کی آنکھوں سے آنسو بہے، بغیر آواز کے، بغیر کسی گواہ کے۔ وہ آنسو جو تھکن، بے بسی اور نظر انداز کیے جانے کا مجموعہ تھے۔ فراز اس کے برابر میں سو رہا تھا، بے خبر، جیسے دونوں ایک ہی بستر پر ہو کر بھی دو مختلف دنیاؤں میں ہوں۔

عالیہ کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ مسئلہ صرف روشنی یا فون کا نہیں تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہ خود کو اکیلا محسوس کرنے لگی تھی۔ ایک ایسے رشتے میں جہاں بات چھوٹی تھی مگر احساس بہت گہرا۔

رات گزر گئی، مگر سوال وہیں رہ گئے۔ اور عالیہ جانتی تھی کہ اگر ان سوالوں کا جواب نہ ملا تو یہ خاموش راتیں کبھی واقعی خاموش نہیں ہو سکیں گی

صبح کی روشنی جب پردوں سے چھن کر کمرے میں داخل ہوئی تو عالیہ کی آنکھ کھل چکی تھی، حالانکہ اس نے نیند پوری نہیں کی تھی۔ فراز ابھی سو رہا تھا، گہری نیند میں، جیسے رات بھر کسی چیز نے اسے چھوا ہی نہ ہو۔ عالیہ نے ایک لمحہ اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر سکون تھا، وہ سکون جو اسے اب اپنے لیے اجنبی لگنے لگا تھا۔

وہ آہستہ سے بستر سے اٹھی تاکہ ایان جاگ نہ جائے۔ کچن میں جا کر اس نے چائے بنائی، مگر چائے کا ذائقہ بھی اسے کڑوا لگا۔ اس کا جسم تھکا ہوا تھا، مگر ذہن اس سے بھی زیادہ بوجھل۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ دن بہ دن خود سے دور ہوتی جا رہی ہے، جیسے اس کی اپنی ضرورتیں کہیں فہرست کے آخر میں دھکیل دی گئی ہوں۔

ایان اسکول کے لیے تیار ہو رہا تھا، سوال پر سوال کر رہا تھا، ہنس رہا تھا۔ عالیہ نے مسکرا کر جواب دیے، مگر مسکراہٹ اس کے چہرے تک محدود تھی، دل تک نہیں پہنچی۔ اسے ڈر لگنے لگا تھا کہ کہیں اس کی تھکن اس کے بچے تک نہ پہنچ جائے۔

فراز ناشتہ کرتے ہوئے اخبار دیکھ رہا تھا۔ عالیہ نے ایک دو بار بات شروع کرنے کی کوشش کی، مگر ہر جملہ اس کے گلے میں ہی رہ گیا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ باتیں صبح کے وقت نہیں ہو سکتیں، جب دونوں کے درمیان پہلے ہی ایک انجانی سی دیوار کھڑی ہوتی ہے۔

دن گزرتے گئے، مگر راتوں کی کیفیت بدلی نہیں۔ کبھی بتی، کبھی فون، کبھی دونوں۔ عالیہ کے اندر غصہ کم اور اداسی زیادہ ہونے لگی۔ اسے یہ بھی محسوس ہونے لگا کہ وہ بات کرنا چھوڑتی جا رہی ہے، اور خاموشی کسی حل کی طرف نہیں لے جا رہی، بلکہ فاصلے بڑھا رہی ہے۔

ایک شام، جب ایان اپنی نانی کے گھر گیا ہوا تھا، گھر غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ عالیہ نے ہمت جمع کی۔ اس نے سوچا کہ اگر آج بھی وہ خاموش رہی تو شاید کبھی بول ہی نہ پائے۔

فراز صوفے پر بیٹھا موبائل دیکھ رہا تھا۔ عالیہ اس کے سامنے آ کر بیٹھ گئی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی، مگر آواز میں اس نے نرمی رکھی۔

اس نے کہا کہ وہ تھک چکی ہے، جسمانی طور پر بھی اور ذہنی طور پر بھی۔ اس نے بتایا کہ نیند اس کے لیے محض آرام نہیں، بلکہ اس کی صحت اور اس کا توازن ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ فراز کو بدلنے کی کوشش نہیں کر رہی، بس اتنا چاہتی ہے کہ وہ اس کا خیال رکھے۔

فراز نے موبائل ایک طرف رکھا۔ اس کے چہرے پر الجھن تھی، شاید دفاع بھی۔ اس نے کہا کہ اسے لگتا ہے عالیہ اس پر پابندیاں لگانا چاہتی ہے، کہ وہ ہر وقت خود کو قصوروار محسوس کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ بھی تھکا ہوتا ہے، اور اسے یہ احساس پسند نہیں کہ وہ اپنے ہی گھر میں دب کر رہے۔

یہ گفتگو تلخ نہیں تھی، مگر آسان بھی نہیں۔ دونوں کے درمیان وہ الفاظ آ رہے تھے جو برسوں سے جمع ہو رہے تھے۔ عالیہ نے پہلی بار واضح طور پر کہا کہ وہ خود کو نظر انداز محسوس کرتی ہے۔ کہ وہ جاگتی رہتی ہے اور اسے لگتا ہے کہ اس کی تکلیف کسی کے لیے اہم نہیں۔

فراز خاموش ہو گیا۔ شاید پہلی بار اس نے یہ بات صرف سنی، جواب نہیں دیا۔ کمرے میں خاموشی پھیل گئی، مگر یہ خاموشی ویسی نہیں تھی جیسی راتوں کی ہوتی تھی۔ اس میں کچھ وزن تھا، کچھ سوچ۔

اس رات فراز نے بتی نہیں جلائی۔ اس نے فون بھی خاموش کر دیا، بغیر کچھ کہے۔ عالیہ جاگ گئی تھی، مگر اس بار جاگنے کے بعد اس کے دل میں تلخی نہیں تھی، بس ایک ہلکی سی امید تھی۔

یہ کوئی مکمل حل نہیں تھا۔ عالیہ جانتی تھی کہ ایک رات میں برسوں کی عادتیں نہیں بدلتیں۔ مگر اسے یہ احساس ضرور ہوا کہ شاید مسئلہ صرف نیند کا نہیں، بلکہ سننے اور سمجھے جانے کا تھا۔

وہ بستر پر لیٹی، آنکھیں بند کیں، اور کافی دیر بعد نیند نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ یہ نیند مکمل تو نہیں تھی، مگر پہلے سے بہتر تھی۔ اور بعض اوقات، رشتوں میں بہتری بھی ایسے ہی آہستہ آہستہ آتی ہے، شور کے بغیر، روشنی کے بغیر۔

عالیہ کو معلوم تھا کہ آگے بھی باتیں ہوں گی، اختلاف بھی ہوں گے، مگر اس نے یہ سیکھ لیا تھا کہ خاموشی میں گھٹنے سے بہتر ہے کہ آدمی تھک کر ہی سہی، بول لے۔ کیونکہ ہر جاگتی رات کے پیچھے ایک دل ہوتا ہے جو بس تھوڑا سا خیال چاہتا ہے۔

عالیہ نے محسوس کیا کہ اس رات کے بعد اس کے اندر کچھ بدل سا گیا ہے۔ مسئلہ وہی تھا، مگر اس کی شکل بدل گئی تھی۔ اب وہ صرف نیند کی کمی سے نہیں لڑ رہی تھی، بلکہ اس احساس سے بھی کہ وہ اپنے ہی گھر میں غیر مرئی ہوتی جا رہی ہے۔ صبح جب وہ اٹھی تو جسم اب بھی تھکا ہوا تھا، مگر ذہن میں ایک عجیب سی وضاحت تھی۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اگر وہ صرف برداشت کرتی رہی تو نہ صرف نیند بلکہ خود اعتمادی بھی آہستہ آہستہ تحلیل ہو جائے گی۔

دن کے وقت اس نے خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کی۔ اس نے ورزش کی، کھانا سوچ سمجھ کر بنایا، ایان کے ہوم ورک میں دل لگا کر مدد کی۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر اندر کہیں ایک سوال بار بار سر اٹھا رہا تھا کہ کیا اس کی ضرورتیں واقعی اتنی غیر اہم ہیں؟ وہ جانتی تھی کہ وہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں کر رہی۔ وہ صرف اتنا چاہتی تھی کہ اس کی موجودگی کو محسوس کیا جائے، اس کے آرام کو اہم سمجھا جائے۔

کچھ دنوں تک فراز واقعی محتاط رہا۔ وہ رات کو آتے وقت بتی جلانے سے پہلے رک جاتا، جیسے خود سے اجازت مانگ رہا ہو۔ کبھی فون خاموش ہوتا، کبھی نہیں، مگر کم از کم اب اس پر بات ہو سکتی تھی۔ عالیہ نے بھی خود کو بدلنے کی کوشش کی۔ اس نے چیخنا چھوڑ دیا، رات کو غصے میں بات کرنے کے بجائے دن میں گفتگو کا راستہ چنا۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ نیند کی حالت میں کہے گئے الفاظ اکثر زخم چھوڑ جاتے ہیں۔

ایک دوپہر وہ اپنی ماں کے گھر گئی۔ ماں نے اس کے چہرے پر تھکن دیکھ لی۔ ماں کو بیٹی کے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ خاموشی بھی پڑھ لیتی ہے۔ عالیہ نے سب کچھ نہیں بتایا، بس اتنا کہا کہ وہ بہت تھک گئی ہے۔ ماں نے آہستہ سے کہا کہ شادی میں سب سے خطرناک چیز نظر انداز ہونا ہے، کیونکہ یہ آہستہ آہستہ انسان کو خود سے کاٹ دیتی ہے۔ یہ جملہ عالیہ کے دل میں دیر تک گونجتا رہا۔

اس رات عالیہ نے خود سے ایک وعدہ کیا۔ وہ اپنی نیند، اپنی صحت اور اپنی آواز کو دوبارہ نظر انداز نہیں کرے گی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اگر فراز دوبارہ لاپرواہی دکھائے گا تو وہ غصے کے بجائے وضاحت کا راستہ اختیار کرے گی، مگر خاموش نہیں رہے گی۔ اسے اب یہ سمجھ آ چکی تھی کہ احترام مانگنا کنٹرول نہیں ہوتا، بلکہ رشتے کو بچانے کی کوشش ہوتی ہے۔

کچھ راتیں بہتر گزرنے لگیں، کچھ ویسی ہی رہیں۔ مگر اب عالیہ ہر جاگنے کے بعد خود کو کمزور محسوس نہیں کرتی تھی۔ اس نے اپنے لیے چھوٹے چھوٹے سہارا تلاش کر لیے تھے۔ کبھی کانوں میں ہلکی سی آواز روکنے والی چیز، کبھی رات کو سونے سے پہلے گہری سانسیں، کبھی خود کو یاد دلانا کہ وہ اپنی ضرورتوں کے ساتھ بھی ایک مکمل انسان ہے۔

فراز بھی بدل رہا تھا، شاید آہستہ، شاید انجانے میں۔ اس نے ایک رات خود ہی کہا کہ وہ نہیں چاہتا کہ عالیہ خود کو اکیلا سمجھے۔ اس اعتراف میں معذرت کم اور سچائی زیادہ تھی۔ عالیہ نے اس لمحے محسوس کیا کہ بعض رشتے مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوتے، بس بہتر ہو جاتے ہیں، اور کبھی کبھی یہی کافی ہوتا ہے۔

وقت کے ساتھ عالیہ نے یہ سیکھ لیا کہ نیند صرف آنکھیں بند کرنے کا نام نہیں، بلکہ سکون کا نام ہے۔ اور سکون صرف خاموشی سے نہیں آتا، بلکہ اس احساس سے آتا ہے کہ آپ کی بات سنی جا رہی ہے۔ اس کی راتیں اب بھی کامل نہیں تھیں، مگر وہ اب ہر صبح اس احساس کے ساتھ اٹھتی تھی کہ اس نے خود کو مکمل طور پر کھو نہیں دیا۔

اور شاید یہی سب سے بڑی جیت تھی۔

عالیہ نے ایک صبح آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو غور سے دیکھا۔ چہرے پر تھکن اب بھی تھی، مگر آنکھوں میں وہ خالی پن نہیں رہا تھا جو کبھی اسے ڈرا دیتا تھا۔ اس نے یہ مان لیا تھا کہ زندگی کامل خاموشی کا وعدہ نہیں کرتی، مگر یہ ضرور سکھاتی ہے کہ انسان اپنی حدیں کہاں کھینچتا ہے۔

اس دن اس نے فراز سے آخری بار اس موضوع پر بات کی، کسی الزام کے بغیر، کسی دفاع کے بغیر۔ اس نے بس اتنا کہا کہ نیند اس کے لیے عیاشی نہیں، ضرورت ہے، اور اگر یہ ضرورت مسلسل نظر انداز ہوئی تو وہ آہستہ آہستہ ٹوٹ جائے گی۔ یہ بات اس نے چیخ کر نہیں کہی، بلکہ پورے سکون اور یقین کے ساتھ کہی، جیسے کوئی اپنے وجود کا تعارف کروا رہا ہو۔

فراز نے اس بار بات کو ٹالا نہیں۔ اس نے مان لیا کہ وہ مسئلے کو معمولی سمجھتا رہا، اور شاید اسی لیے عالیہ کی تکلیف اسے پوری طرح دکھائی نہیں دی۔ اس اعتراف میں کوئی بڑا وعدہ نہیں تھا، مگر ایک بات واضح تھی کہ اب وہ سن رہا تھا، صرف سننے کا ڈھونگ نہیں کر رہا تھا۔

اس رات جب فراز کمرے میں آیا تو بتی نہیں جلائی۔ اس نے فون سائلنٹ کیا اور آہستہ سے بستر پر آ کر لیٹ گیا۔ عالیہ کی آنکھ کھلی، مگر دل میں وہ گھبراہٹ نہیں آئی جو پہلے آتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ یہ کوئی جادوئی حل نہیں، مگر یہ ایک سمت ضرور ہے۔

وقت کے ساتھ چیزیں مکمل طور پر آسان نہیں ہوئیں، مگر قابلِ برداشت ہو گئیں۔ عالیہ نے سیکھ لیا کہ خود کو قربان کرنا محبت نہیں ہوتا، اور فراز نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ آزادی کا مطلب بے پرواہی نہیں۔ ان دونوں کے بیچ جو فاصلہ خاموش راتوں میں پیدا ہو رہا تھا، وہ آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔

ایان ایک شام کھیلتے ہوئے بولا کہ اب امی زیادہ ہنستی ہیں۔ عالیہ نے یہ سن کر آنکھیں بند کیں اور ایک لمحے کے لیے دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس ہنسی کے پیچھے بہت سی جاگتی راتیں، بہت سے سوال اور بہت سی باتیں چھپی ہیں، مگر وہ سب بے کار نہیں گئیں۔

کہانی کسی مثالی انجام پر ختم نہیں ہوئی، نہ سب کچھ یک دم درست ہو گیا۔ مگر عالیہ نے یہ جان لیا کہ خاموش رہ کر گھٹنے سے بہتر ہے کہ آدمی بولے، اپنی جگہ بنائے اور اپنے سکون کو اہم سمجھے۔ اور بعض اوقات، یہی چھوٹا سا فیصلہ زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔

رات آئی، بتی بند تھی، کمرہ خاموش تھا۔ عالیہ نے کروٹ بدلی، ایک گہری سانس لی اور آنکھیں بند کر لیں۔ اس بار نیند آہستہ نہیں، پورے اعتماد کے ساتھ اس کے پاس آئی۔
اور یہی اس کہانی کا اختتام تھا۔

Post a Comment for ""خاموش راتوں کی چیخ""