عمران کو اس دن یہ بھی یاد نہیں تھا کہ آخری بار وہ اتنا غصے میں کب آیا تھا۔ غصہ بھی ایسا نہیں جو چیخ بن کر نکل آئے، بلکہ وہ جو سینے کے اندر جمع ہو کر سانس بھاری کر دے۔ وہ جانتا تھا کہ وہ حد سے نہیں گزر رہا، مگر بار بار یہ سوال خود سے پوچھ رہا تھا کہ کیا واقعی لوگ “نہیں” سننا بھول چکے ہیں؟
اس کا گھر بڑا نہیں تھا، مگر مکمل تھا۔ تین کمروں کا ایک سادہ سا فلیٹ، جہاں ہر کمرہ کسی کی زندگی سے جڑا ہوا تھا۔ ایک کمرہ اس کا اور اس کی منگیتر ثنا کا تھا، جہاں وہ دونوں مستقبل کے چھوٹے چھوٹے خواب بُننے کی کوشش کرتے تھے۔ دوسرا کمرہ اس کی چار سالہ بیٹی حیا کا تھا، جس کے کھلونوں میں پوری دنیا سمٹ آتی تھی۔ تیسرا کمرہ ثنا کی دس سالہ بہن زینب کا تھا، جس کی ذمہ داری ثنا نے وقت سے پہلے اپنے کندھوں پر اٹھا لی تھی۔
یہ کوئی عارضی انتظام نہیں تھا، یہ ان کی زندگی تھی۔ ہر کمرے میں کسی کی ضرورت، کسی کی عزت، کسی کا سکون بندھا ہوا تھا۔
اسی زندگی میں اچانک فہد کا پیغام آیا۔
فہد عمران کا پرانا دوست تھا۔ پانچ سال، شاید اس سے بھی زیادہ۔ وہ لوگ ایک دوسرے کی بہت سی باتیں جانتے تھے، مگر عمران یہ بھی جانتا تھا کہ پرانی جان پہچان ہر سوال کا جواب نہیں بن سکتی۔ فہد نے مختصر سا پیغام بھیجا کہ وہ کچھ عرصے کے لیے عمران کے گھر آنا چاہتا ہے۔
عمران نے فوراً انکار کر دیا۔ نہ سختی سے، نہ بدتمیزی سے۔ بس صاف الفاظ میں کہ گھر میں جگہ نہیں ہے۔ اس نے یہ بھی نہیں کہا کہ وہ کیوں مطمئن نہیں ہوگا، کیوں کہ کچھ باتیں وضاحت مانگتی ہی نہیں۔
مگر فہد نے “نہیں” کو آخری بات ماننے سے انکار کر دیا۔
اگلا پیغام عجیب تھا۔ اس نے لکھا کہ دونوں لڑکیوں کو ایک ہی کمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ عمران کو لگا جیسے کسی نے اس کے گھر کی دیواروں کو ہاتھ لگا دیا ہو۔ اس کی بیٹی، جس نے ابھی دنیا کو سمجھنا شروع ہی کیا تھا، اور زینب، جو بچپن سے پہلے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا رہی تھی، ان دونوں کی زندگیوں کو کسی بالغ آدمی کی سہولت کے لیے بدل دیا جائے؟
یہ وہ لمحہ تھا جہاں عمران کا لہجہ سخت ہو گیا۔
اسی کے بعد فون کالز شروع ہو گئیں۔ ایک کے بعد ایک۔ فہد چیخ رہا تھا، الزام لگا رہا تھا، دوستی کا حوالہ دے رہا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ عمران خودغرض ہو گیا ہے، کہ اس نے دوستی کا مطلب نہیں سمجھا۔ اور انہی باتوں کے بیچ اس نے بے خیالی میں یہ بھی کہہ دیا کہ اگر وہ آ بھی گیا تو کرایہ نہیں دے گا۔
یہ سن کر عمران کو ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی۔ ہنسی اس بے حسی پر، اور غصہ اس سوچ پر۔
وہ دیر تک کمرے میں ٹہلتا رہا۔ ثنا خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ اس نے کچھ نہیں کہا، مگر اس کی آنکھوں میں وہی سوال تھا جو عمران کے دل میں تھا: کیا واقعی ہم نے کچھ غلط کیا ہے؟
عمران جانتا تھا کہ اصل مسئلہ جگہ کا نہیں تھا۔ اصل مسئلہ حد کا تھا۔ وہ حد جو اس نے اپنے بچوں کے گرد کھینچ رکھی تھی۔ وہ حد جو کسی کو پسند آئے یا نہ آئے، مگر ٹوٹ نہیں سکتی تھی۔
اسے اس بات کا بھی احساس ہوا کہ فہد کا رویہ صرف ایک درخواست نہیں تھا، بلکہ ایک مطالبہ تھا۔ اور مطالبہ وہ ہوتا ہے جس میں سامنے والے کی مرضی کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔
اس رات عمران کو نیند نہیں آئی۔ مگر بے چینی اس بات کی نہیں تھی کہ اس نے کسی دوست کو ناراض کر دیا ہے۔ بے چینی اس بات کی تھی کہ کچھ لوگ دوستی کو حق سمجھ لیتے ہیں، اور حق جتانے لگیں تو رشتے بوجھ بن جاتے ہیں۔
صبح اس نے فیصلہ کر لیا۔
کچھ دوستیوں کو بچانے کے لیے حدیں توڑنی پڑتی ہیں، اور کچھ کو ختم کرنے کے لیے حدیں قائم رکھنی پڑتی ہیں۔ عمران نے دوسری راہ چنی، کیونکہ اس کے گھر میں بچے تھے، اور بچوں کے لیے سب سے ضروری چیز جگہ نہیں، تحفظ ہوتا ہے
عمران نے فہد کی آخری کال کے بعد فون سائلنٹ پر رکھا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔ سامنے حیا فرش پر بیٹھی رنگ بھر رہی تھی، اور زینب کتاب کھولے خاموشی سے پڑھ رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر عمران کے اندر کوئی شک باقی نہیں رہا۔ اگر اس نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی حد کمزور کی، تو اس کی قیمت یہ بچے ادا کریں گے، اور وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
ثنا نے آہستہ سے پوچھا کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔ عمران نے سر ہلایا، مگر آنکھوں میں تھکن صاف تھی۔ اس نے کہا کہ بعض لوگ دوستی کے نام پر وہ مانگ لیتے ہیں جو مانگا نہیں جاتا۔ ثنا نے اس کی بات سنی اور بس اتنا کہا کہ گھر کا سکون کسی بھی رشتے سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ اس جملے نے عمران کے دل میں آخری مہر لگا دی۔
اگلے دن عمران نے خود فہد کو پیغام بھیجا۔ مختصر، صاف، بغیر کسی الزام کے۔ اس نے لکھا کہ اس کا فیصلہ حتمی ہے، اور مزید اس موضوع پر بات نہیں ہوگی۔ اس نے یہ بھی واضح کیا کہ جس طرح فہد نے ردِعمل دیا، اس نے اس دوستی کو نقصان پہنچایا ہے۔
جواب فوراً آیا، مگر اس بار وہی شور نہیں تھا۔ فہد نے پھر خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی، مگر عمران نے پڑھ کر جواب نہیں دیا۔ اس نے فون بند کیا اور دل میں ایک عجیب سا سکون محسوس کیا۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔
کچھ دن عمران کے لیے مشکل تھے۔ پرانی یادیں، ہنسی مذاق، گزرے ہوئے لمحے بار بار ذہن میں آتے۔ مگر ہر بار وہ خود سے ایک سوال کرتا، کیا وہ واقعی غلط تھا؟ اور جواب ہمیشہ ایک جیسا ہوتا، نہیں۔
اس نے سمجھ لیا کہ حدود قائم کرنا خودغرضی نہیں ہوتی۔ اپنے بچوں کے لیے محفوظ ماحول بنانا کسی پر احسان نہیں، بلکہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس احساس نے اس کے اندر موجود جرم کے بوجھ کو آہستہ آہستہ ختم کر دیا۔
وقت کے ساتھ گھر کا ماحول پھر سے ہلکا ہو گیا۔ حیا کی ہنسی، زینب کے سوال، اور ثنا کے ساتھ شام کی باتیں عمران کو یاد دلاتی رہیں کہ اس نے درست فیصلہ کیا ہے۔ وہ جان گیا کہ اگر وہ اس دن دب جاتا، تو شاید آج یہ سکون باقی نہ رہتا۔
کبھی کبھار فہد کا خیال آتا، مگر اب اس خیال کے ساتھ غصہ نہیں تھا، صرف ایک افسوس تھا کہ کچھ لوگ آپ کی زندگی میں بس ایک حد تک ہی ساتھ چل سکتے ہیں۔
ایک شام عمران بالکونی میں کھڑا تھا۔ شہر کی روشنیاں نیچے جگمگا رہی تھیں۔ اس نے گہری سانس لی اور سوچا کہ زندگی میں ہر رشتہ بچانا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ رشتے ہمیں یہ سکھانے آتے ہیں کہ “نہیں” کہنا بھی محبت کی ایک شکل ہے، خاص طور پر جب بات اپنے بچوں کی ہو۔
اس نے اندر جا کر دروازہ بند کیا۔ یہ دروازہ کسی کے خلاف نہیں تھا، بلکہ اپنے گھر کے حق میں تھا۔ اور یہی اس کہانی کا اصل اختتام تھا۔

Post a Comment for "حدود کے اندر گھر"