عالیہ کی عمر انیس برس تھی اور اسے ہمیشہ یہی لگتا تھا کہ زندگی سیدھی اور صاف ہوتی ہے، جیسے کسی پرسکون دریا کا بہاؤ۔ اسے یقین تھا کہ جس شخص کا ہاتھ اس نے تھاما ہے وہ اسے کبھی اندھیرے میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ سعد اس کی زندگی میں ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے سے تھا، مگر اس ایک سال میں اس نے عالیہ کے دل میں وہ اعتماد بو دیا تھا جو برسوں میں بھی نصیب نہیں ہوتا۔ وہ باتوں میں نرم تھا، مستقبل کے خواب دکھاتا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر مسکرا دیتا تھا، اور یہی سب کچھ عالیہ کو یہ یقین دلانے کے لیے کافی تھا کہ وہ محفوظ ہے۔
اس رات بھی سعد نے یہی کہا تھا کہ وہ ایک دوست کے ہاں رک رہا ہے۔ بات معمولی تھی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک انجانا سا کھٹکا جاگ اٹھا تھا۔ عالیہ نے خود کو سمجھایا کہ وہ فضول سوچ رہی ہے، کہ اعتماد کا مطلب سوال نہ کرنا ہوتا ہے۔ مگر بستر پر لیٹ کر بھی اس کی آنکھیں بند نہ ہو سکیں۔ کمرہ خاموش تھا مگر اس کے دل میں شور مچا ہوا تھا۔ ہر گزرتا لمحہ اس بے چینی کو بڑھا رہا تھا جس کا کوئی نام نہیں تھا۔
آخر کار وہ اٹھ بیٹھی۔ بغیر کسی کو بتائے اس نے گاڑی نکالی۔ سڑکیں سنسان تھیں اور شہر نیند میں ڈوبا ہوا تھا۔ گاڑی کے شیشے کے پار روشنیاں دھندلی لگ رہی تھیں، جیسے اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی ہو۔ وہ بار بار خود سے کہہ رہی تھی کہ وہ واپس چلی جائے، کہ یہ سب اس کا وہم ہے۔ مگر دل کا بوجھ اسے آگے بڑھنے پر مجبور کر رہا تھا۔
جب وہ اس عمارت کے سامنے پہنچی تو دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کے قدم بھاری تھے۔ دروازہ بند ہونا چاہیے تھا، مگر وہ کھلا ہوا تھا۔ اس لمحے اس کے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا۔ اس نے ہلکی آواز میں دستک دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، جیسے جسم نے پہلے ہی سچ کو پہچان لیا ہو۔
دروازہ کھولتے ہی وقت جیسے رک گیا۔ سامنے وہ منظر تھا جسے آنکھیں دیکھنے سے انکار کر رہی تھیں، مگر دماغ اسے جھٹلا نہیں سکتا تھا۔ سعد بستر پر تھا، اس کے ساتھ ایک اور لڑکی۔ سب کچھ واضح تھا، اتنا واضح کہ کسی وضاحت کی گنجائش نہیں بچی تھی۔ عالیہ کے قدم وہیں جم گئے۔ نہ چیخ نکلی، نہ آنسو بہے۔ بس ایک سنّاٹا اس کے اندر پھیل گیا۔
دونوں نے اسے دیکھا، اور سعد نے اس کا نام اس انداز میں لیا جیسے قصور اس کا ہو۔ وہ ایک لمحہ بھی وہاں نہ رکی۔ مڑ کر باہر آ گئی۔ سیڑھیاں اترتے ہوئے اسے یاد نہیں کہ اس کے پاؤں زمین کو چھو بھی رہے تھے یا نہیں۔ گاڑی میں بیٹھ کر اس نے دروازہ بند کیا اور وہیں بیٹھے بیٹھے کانپتی رہی۔ ہاتھ سٹیئرنگ پر تھے، مگر گرفت کمزور ہو چکی تھی۔
اس نے انتظار کیا کہ سعد آئے گا، وضاحت کرے گا، روکے گا۔ مگر کچھ نہیں ہوا۔ گھنٹے گزر گئے۔ رات ختم ہونے کو تھی۔ تب اس کے فون پر ایک پیغام آیا، جس میں لکھا تھا کہ وہ سب کچھ سمجھا سکتا ہے۔ عالیہ نے فون ایک طرف رکھ دیا۔ اس کے لیے اب الفاظ بے معنی ہو چکے تھے۔ جو اس نے دیکھا تھا وہ کسی جملے سے مٹ نہیں سکتا تھا۔
بعد میں اسے پتا چلا کہ یہ سب کچھ ہفتوں سے چل رہا تھا۔ وہی ہفتے جن میں سعد اس سے محبت کے وعدے کر رہا تھا، مستقبل کی باتیں کر رہا تھا، جیسے سب کچھ معمول کے مطابق ہو۔ اس حقیقت نے اس کے دل پر آخری ضرب لگائی۔
اس نے رشتہ ختم کر دیا، مگر درد ختم نہیں ہوا۔ شرمندگی، متلی، خالی پن، سب کچھ ایک ساتھ اس کے اندر جمع تھا۔ وہ بار بار اسی لمحے میں لوٹ جاتی، اسی دروازے کو کھولتی، اسی منظر کو دیکھتی۔ وہ چاہتی تھی کہ یادیں رک جائیں، مگر وہ اس کے قابو میں نہیں تھیں۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ آگے کیا ہوگا، بس اتنا جانتی تھی کہ اب وہ پہلے جیسی نہیں رہی۔ کچھ ٹوٹا تھا، مگر شاید اسی ٹوٹنے میں کہیں نہ کہیں اس کی اپنی طاقت بھی چھپی تھی، جسے وہ ابھی پہچان نہیں پائی تھی۔
عالیہ کے لیے دن اور رات کا فرق ختم ہو چکا تھا۔ وقت جیسے کسی دائرے میں قید ہو گیا تھا جس کے بیچ وہی لمحہ بار بار لوٹ آتا تھا۔ وہ دروازہ، وہ کمرہ، وہ خاموشی۔ وہ کوشش کرتی کہ خود کو مصروف رکھے، مگر ذرا سی تنہائی ملتے ہی ذہن پھر اسی منظر میں اتر جاتا۔ آنکھیں کھلی ہوتیں، مگر وہ سب کچھ دوبارہ دیکھ رہی ہوتی۔
اس نے خود کو الزام دینا شروع کر دیا۔ کبھی سوچتی کہ شاید وہ زیادہ بھروسا کرنے والی تھی، کبھی لگتا کہ شاید اس نے کسی نشانی کو نظر انداز کیا تھا۔ مگر ہر سوال کا جواب آخرکار ایک ہی جگہ آ کر رکتا، وہ دھوکہ تھا جس کا تعلق اس کی کسی کمی سے نہیں تھا۔ پھر بھی دل یہ ماننے کو تیار نہ تھا۔
کچھ دنوں بعد سعد نے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ لمبے پیغامات، خالی معذرتیں، الجھے ہوئے جملے۔ وہ کبھی کہتا یہ سب ایک غلطی تھی، کبھی کہتا وہ خود بھی الجھن میں تھا۔ عالیہ نے سب پڑھا، مگر کسی پیغام کا جواب نہ دیا۔ اسے احساس ہو چکا تھا کہ سچ جان لینے کے بعد وضاحت سننا زخم پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔
اس نے اپنی سہیلی مریم کو سب کچھ بتایا۔ مریم خاموشی سے سنتی رہی، پھر اس نے عالیہ کا ہاتھ تھام لیا۔ اس لمس میں کوئی سوال نہیں تھا، کوئی الزام نہیں تھا، صرف ساتھ تھا۔ عالیہ کو پہلی بار لگا کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ وہ روئی، اس طرح جیسے کئی دنوں سے آنسو اس کے اندر جمع تھے۔ رونے کے بعد تھکن تو تھی، مگر دل کچھ ہلکا ہو گیا تھا۔
وقت آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا، مگر درد اپنی رفتار سے چل رہا تھا۔ کچھ دن اچھے ہوتے، کچھ دن بہت برے۔ کبھی وہ خود کو مضبوط محسوس کرتی، کبھی بالکل ٹوٹا ہوا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو دیکھتی اور سوچتی کہ کیا وہی لڑکی ہے جو کچھ ہفتے پہلے مستقبل کے خواب بنا رہی تھی۔
اس نے ایک دن خود سے وعدہ کیا کہ وہ اس دکھ کو اپنی شناخت نہیں بننے دے گی۔ اس نے چھوٹی چھوٹی چیزوں سے آغاز کیا۔ صبح جلدی اٹھنا، لمبی سیر کرنا، کتابیں پڑھنا، وہ سب کام جنہیں وہ کبھی کسی اور کے لیے ٹال دیتی تھی۔ یہ آسان نہیں تھا، مگر ہر دن کے ساتھ اس کے اندر ایک ہلکی سی مضبوطی جنم لینے لگی۔
کبھی کبھار سعد کا خیال آ جاتا، مگر اب اس خیال کے ساتھ وہی تیز درد نہیں ہوتا تھا۔ وہ بس ایک یاد بن چکا تھا، تلخ، مگر کمزور ہوتی ہوئی۔ عالیہ کو اندازہ ہونے لگا تھا کہ شفا کوئی ایک لمحہ نہیں ہوتی، بلکہ بے شمار چھوٹے لمحوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔
ایک شام وہ اپنی کھڑکی کے پاس بیٹھی سورج کو ڈوبتے دیکھ رہی تھی۔ آسمان پر رنگ بدل رہے تھے، اور اسے لگا جیسے اس کے اندر بھی کچھ بدل رہا ہے۔ شاید وہ سب کچھ بھول نہیں پائے گی، مگر وہ اس کے ساتھ جینا سیکھ سکتی ہے۔ اور یہی احساس پہلی بار اسے مستقبل سے ڈرانے کے بجائے اس کی طرف کھینچ رہا تھا۔
یہ اختتام نہیں تھا، مگر یہ آغاز ضرور تھا۔
عالیہ نے آہستہ آہستہ یہ سیکھنا شروع کیا کہ خاموشی ہمیشہ دشمن نہیں ہوتی۔ پہلے وہ خاموشی سے گھبراتی تھی، کیونکہ اسی میں یادیں بولنے لگتی تھیں، مگر اب وہ خاموشی کو سننا سیکھ رہی تھی۔ وہ جان گئی تھی کہ دل کے زخم شور میں نہیں، سکون میں بھرنے لگتے ہیں۔
ایک دن اس نے سعد کے تمام پیغامات حذف کر دیے۔ یہ کام بظاہر معمولی تھا، مگر اس کے دل کے لیے بہت بڑا قدم تھا۔ انگلی جب اسکرین پر چل رہی تھی تو دل بھاری تھا، مگر آخری پیغام مٹتے ہی اسے ایسا لگا جیسے اس نے کسی بند دروازے کو خود بند کر دیا ہو، ہمیشہ کے لیے۔ اب کوئی وضاحت، کوئی انتظار، کوئی امید باقی نہیں رہی تھی۔
کچھ عرصے بعد اسے پتا چلا کہ سعد اس لڑکی کے ساتھ بھی سنجیدہ نہیں تھا۔ یہ خبر اس تک ایک جاننے والے کے ذریعے پہنچی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ سن کر اس کے اندر کوئی شدید ردعمل نہیں آیا۔ نہ غصہ، نہ خوشی، بس ایک خاموش سا یقین کہ جو اس کے ساتھ ہوا تھا، وہ حادثہ نہیں تھا، یہ اس شخص کی عادت تھی۔
اس دن عالیہ نے خود کو الزام دینے کا سلسلہ مکمل طور پر روک دیا۔ اس نے پہلی بار دل سے مان لیا کہ دھوکہ کھانے والا کمزور نہیں ہوتا، دھوکہ دینے والا ہوتا ہے۔ یہ احساس اس کے اندر کہیں گہرائی میں اتر گیا، جیسے برسوں سے بند کوئی کھڑکی کھل گئی ہو۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس کی ہنسی واپس آنے لگی۔ پہلے ہلکی، پھر بے ساختہ۔ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھتی، باتیں کرتی، کبھی کبھی ماضی کا ذکر بھی آ جاتا، مگر اب وہ ذکر اسے توڑتا نہیں تھا۔ وہ جان گئی تھی کہ یادیں مٹتی نہیں ہیں، بس اپنا وزن بدل لیتی ہیں۔
ایک شام وہ اسی سڑک سے گزری جہاں کبھی اس نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ گاڑی روکی تھی۔ دل نے ایک لمحے کو دھڑکنا تیز کیا، مگر وہ رکی نہیں۔ اس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ اس لمحے اسے احساس ہوا کہ وہ اس جگہ سے بھی آگے نکل آئی ہے جہاں اس کا دل کبھی ٹوٹا تھا۔
اس نے مستقبل کے بارے میں دوبارہ سوچنا شروع کیا، مگر اب کسی اور کے سہارے نہیں۔ اب خواب اس کے اپنے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ محبت دوبارہ ہو سکتی ہے، مگر اب وہ محبت خود سے شروع کرے گی۔
کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی، مگر اب راستہ صاف دکھائی دینے لگا تھا۔
عالیہ نے ایک دن محسوس کیا کہ اس کے دل میں اب وہ بے نام سا خوف نہیں رہا جو پہلے ہر سانس کے ساتھ چپکا رہتا تھا۔ وہ خوف جو اسے آئینے میں خود کو دیکھنے سے روکتا تھا، جو ہر مسکراہٹ کے پیچھے شک چھوڑ جاتا تھا۔ اب وہ خوف کہیں پیچھے رہ گیا تھا، جیسے کوئی پرانا سایہ جو روشنی بڑھنے پر خود بخود چھوٹ جاتا ہے۔
اس نے اپنی پڑھائی پر دوبارہ توجہ دینا شروع کی۔ کلاس میں بیٹھ کر نوٹس بناتے ہوئے کبھی کبھی ذہن بھٹک جاتا، مگر اب وہ خود کو واپس کھینچ لیتی تھی۔ اسے یہ سیکھنے میں وقت لگا کہ خیال آ جانا کمزوری نہیں، اس میں کھو جانا کمزوری ہے۔ اور وہ اب کمزور نہیں رہنا چاہتی تھی۔
ایک دن سعد اس کے سامنے آ گیا۔ اچانک، بغیر کسی اطلاع کے۔ عالیہ کے قدم ایک لمحے کو رک گئے۔ دل نے پرانی رفتار پکڑنے کی کوشش کی، مگر وہ اس کے قابو میں رہا۔ سعد کے چہرے پر وہی پرانی اداسی تھی، وہی الجھی ہوئی نظریں۔ اس نے بات کرنا چاہی، وضاحت دینا چاہی، شاید ایک بار پھر اپنے آپ کو درست ثابت کرنا چاہتا تھا۔
عالیہ نے اسے غور سے دیکھا۔ اس نظر میں غصہ نہیں تھا، نفرت نہیں تھی، بس ایک گہری سی تھکن تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا کہ اب کہنے کو کچھ نہیں بچا۔ یہ جملہ چھوٹا تھا، مگر اس میں پورا ایک سال سمیٹا ہوا تھا۔ سعد کچھ کہے بغیر کھڑا رہا، پھر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ گیا۔ اس لمحے عالیہ کو اندازہ ہوا کہ بند دروازے دوبارہ کھلیں تو بھی وہ پہلے جیسے نہیں رہتے۔
اس ملاقات کے بعد اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اتر آیا۔ جیسے کسی بوجھ کا آخری ٹکڑا بھی اتر گیا ہو۔ اب کوئی سوال باقی نہیں تھا، کوئی اگر مگر نہیں تھا۔ جو ہونا تھا ہو چکا تھا، اور جو بچا تھا وہ صرف اس کی اپنی زندگی تھی۔
اس نے خود کو معاف کرنا سیکھ لیا۔ اس لڑکی کو جو بھروسا کرتی تھی، جو خواب دیکھتی تھی، جو سچ مان لیتی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ معافی صرف دوسروں کے لیے نہیں ہوتی، سب سے مشکل معافی خود کو دی جاتی ہے۔ اور جب اس نے یہ کر لیا تو دل کے اندر ایک نئی جگہ بن گئی، ہلکی، صاف، روشن۔
ایک شام اس نے اپنی ڈائری کھولی اور لکھا کہ وہ اب کسی کے وعدوں پر اپنی خوشی نہیں رکھے گی۔ وہ خوشی جو اندر سے آئے گی، وہی سچی ہوگی۔ الفاظ لکھتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی، ایسی مسکراہٹ جو دکھ چھپانے کے لیے نہیں، قبولیت کے لیے تھی۔
یہ کہانی اب انجام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ زخم بھر چکے تھے، نشان باقی تھے، مگر وہ درد نہیں دیتے تھے۔ عالیہ کو معلوم تھا کہ زندگی میں آزمائشیں پھر آئیں گی، مگر اب وہ خود کو کھونے کے خوف سے آزاد ہو چکی تھی۔
عالیہ نے اب یہ مان لیا تھا کہ کچھ رشتے ہمیں منزل تک نہیں لے جاتے، بلکہ ہمیں راستہ پہچاننا سکھاتے ہیں۔ وہ پہلے اس سچ سے بھاگتی رہی تھی، مگر اب اسے قبول کرنے میں عجیب سا سکون ملتا تھا۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ ہر ٹوٹنا بربادی نہیں ہوتا، بعض ٹوٹنے نئی تشکیل کی بنیاد بن جاتے ہیں۔
وہ اب خود کے ساتھ وقت گزارنے لگی تھی۔ کبھی اکیلے کافی شاپ میں بیٹھ کر لوگوں کو دیکھتی، کبھی پارک کی بنچ پر بیٹھ کر درختوں کی خاموش باتیں سنتی۔ اسے حیرت ہوتی کہ جو لڑکی کبھی تنہائی سے ڈرتی تھی، وہ اب اسی تنہائی میں خود کو پہچاننے لگی تھی۔ اسے معلوم ہوا کہ خاموشی میں سوال نہیں ہوتے، صرف جواب ہوتے ہیں۔
ایک دن اس کی سہیلی نے کہا کہ وہ بدل گئی ہے۔ عالیہ نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ بدلاؤ کسی خوشی کا نتیجہ نہیں، بلکہ سچ کو مان لینے کا اثر تھا۔ وہ اب کم بات کرتی تھی، مگر جو کہتی تھی اس میں وزن ہوتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ الجھن نہیں تھی جو پہلے ہر لمحہ تیرتی رہتی تھی۔
کبھی کبھار سعد کا خیال پھر بھی آ جاتا، مگر اب وہ خیال کسی درد کی طرح نہیں آتا تھا۔ وہ بس ایک یاد تھا، جیسے کوئی پرانا خواب جو ادھورا رہ گیا ہو، مگر جس کے ٹوٹنے سے نیند خراب نہ ہو۔ عالیہ نے یہ بھی سیکھ لیا تھا کہ ہر یاد کو مٹانا ضروری نہیں ہوتا، کچھ یادیں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ ہم کہاں سے نکل آئے ہیں۔
ایک شام اس نے خود سے ایک سوال کیا، اگر وہ سب کچھ دوبارہ جینے کا موقع ملے تو کیا وہ وہی راستہ چنے گی؟ اس نے لمبی سانس لی اور سوچا کہ شاید ہاں۔ اس لیے نہیں کہ درد اچھا تھا، بلکہ اس لیے کہ اس درد نے اسے مضبوط بنایا تھا۔ اس نے اسے اپنی قدر سکھائی تھی، وہ قدر جو وہ کبھی کسی اور کے ہاتھ میں دے بیٹھی تھی۔
اس رات وہ پرسکون نیند سوئی۔ خواب میں کوئی دروازہ نہیں تھا، کوئی اندھیرا کمرہ نہیں تھا۔ بس ایک کھلا میدان تھا اور وہ خود، بغیر خوف کے، بغیر سوال کے۔ صبح آنکھ کھلی تو اس کے دل میں شکر کا احساس تھا، ایسا احساس جو کسی شخص کے لیے نہیں، زندگی کے لیے تھا۔
اب کہانی اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی تھی۔ سب کچھ کہہ دیا گیا تھا، سب کچھ جیا جا چکا تھا۔ اب صرف انجام باقی تھا، وہ انجام جو شور سے نہیں، سکون سے لکھا جاتا ہے۔
عالیہ ایک صبح بہت ہلکے دل کے ساتھ جاگی۔ یہ ہلکاپن کسی خوشخبری کا نتیجہ نہیں تھا، نہ کسی نئے رشتے کا۔ یہ اس بات کی علامت تھا کہ اس کے اندر وہ جنگ ختم ہو چکی تھی جو وہ خود سے لڑ رہی تھی۔ اب اسے خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تھی، نہ کسی سوال کا جواب دینا تھا، نہ کسی یاد سے بھاگنا تھا۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تو پہلی بار اس نے خود کو ترس کی نظر سے نہیں دیکھا۔ اس نظر میں احترام تھا۔ اس لڑکی کے لیے جو ٹوٹ کر بھی کھڑی رہی، جو سچ دیکھ کر بکھری ضرور مگر بکھر کر ختم نہیں ہوئی۔ اس نے اپنے دل میں اس لڑکی کو خاموشی سے گلے لگایا جو ایک وقت میں بس کسی کے ساتھ ہونے سے مکمل محسوس کرتی تھی، اور اب اکیلے ہونے میں بھی خود کو پورا محسوس کر رہی تھی۔
کچھ دن بعد اسے سعد کا آخری پیغام ملا۔ اس نے نہ کھولا، نہ پڑھا۔ فون ایک طرف رکھ دیا۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ بعض باتیں سنی نہ جائیں تو ہی بہتر ہوتی ہیں۔ کچھ دروازے بند رہیں تو ہی دل محفوظ رہتا ہے۔ اس لمحے اس نے ماضی کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا، بلکہ محسوس کیا کہ ماضی خود بخود پیچھے رہ گیا ہے۔
اس نے اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے خواب دوبارہ چننا شروع کیے۔ پڑھائی مکمل کرنا، خود مختار بننا، اپنے لیے وقت نکالنا۔ وہ خواب جو کبھی کسی اور کے منصوبوں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے، اب صرف اس کے اپنے تھے۔ اور یہ سوچ اسے خوف نہیں دیتی تھی، بلکہ مضبوط کرتی تھی۔
ایک شام وہ اسی جگہ سے گزری جہاں کبھی اس کی دنیا رک گئی تھی۔ اس بار نہ اس کی رفتار کم ہوئی، نہ دل نے احتجاج کیا۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا، گہری سانس لی، اور مسکرا دی۔ اسے احساس ہوا کہ شفا کا مطلب یہ نہیں کہ درد کبھی تھا ہی نہیں، بلکہ یہ کہ درد اب اس کا راستہ نہیں روکتا۔
زندگی نے اسے بہت کچھ سکھایا تھا، سب سے بڑھ کر یہ کہ محبت مانگ کر نہیں ملتی، اور وفا سمجھوتے سے نہیں نبھتی۔ اس نے یہ بھی سیکھا کہ جو شخص آپ کو دھوکہ دے، وہ آپ کی قیمت کم نہیں کرتا، بس اپنی حقیقت ظاہر کرتا ہے۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، کیونکہ عالیہ کی زندگی جاری تھی۔ مگر یہ باب یہاں مکمل ہو چکا تھا۔ ایک ایسا باب جو آنسوؤں سے شروع ہوا، خاموشی میں پکا، اور خود اعتمادی پر ختم ہوا۔
وہ اب جانتی تھی کہ اگر کبھی دوبارہ محبت آئے گی تو وہ خود کو کھو کر نہیں آئے گی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ کافی ہے، اکیلی بھی، اور اگر کسی کے ساتھ ہو تو بھی۔
اور یہی اس کہانی کا اصل انجام تھا۔

Post a Comment for "خاموش دروازے کے اُس پار"