Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

دھوکے کا موسم

 مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ میں ایسا کچھ لکھوں گا، مگر دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے یہ کہنا ضروری ہے۔ میں تین سال سے اپنی لڑکی کے ساتھ تھا، سچ میں انگوٹھی کے لیے پیسے جمع کر رہا تھا، مستقبل کے خواب بنا رہا تھا۔ پھر اس کے فون پر رات دو بجے ہر روز پیغامات آنے لگے۔ وہ کہتی رہی کہ یہ کام کے معاملات ہیں، مگر دو بجے رات؟ یہ بات دل کو نہیں لگتی تھی۔ سب کہتے ہیں کہ پارٹنر کا فون نہیں دیکھنا چاہیے، مگر میں نے دیکھ لیا، اور اسی لمحے میری دنیا ٹوٹ گئی۔

ایک نہیں، چار مختلف لڑکے تھے۔ الگ الگ چیٹس، ایسی تصاویر جنہیں میں دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتا، ملاقاتوں کی پلاننگ، اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ کہ وہ سب میرے بارے میں مذاق کر رہے تھے۔ ان میں ایک میرا بچپن کا سب سے اچھا دوست تھا، دوسرا اس کا باس، تیسرا ہمارے فلیٹ کا پڑوسی، اور وہ جسے وہ “ہم جنس دوست” کہہ کر ملتی رہتی تھی، جو حقیقت میں ویسا تھا ہی نہیں۔ یہ سب آٹھ مہینوں سے چل رہا تھا، اور میں ڈبل شفٹیں کر کے ہمارے مستقبل کے لیے محنت کر رہا تھا۔

جب میں نے اس سے بات کی تو مجھے لگا وہ کم از کم انکار کرے گی یا روئے گی، مگر اس نے الٹا ہنس کر کہا، “اتنی دیر کیوں لگا دی سمجھنے میں؟” اس کے مطابق میں “بہت اندازے والا” تھا اور وہ “بور ہو چکی تھی۔” میرا وہی نام نہاد دوست بعد میں پیغام بھیجتا ہے کہ “ذاتی بات نہیں تھی” اور “ایسا ہو جاتا ہے۔” میں نے اسی رات اپنا سامان اٹھایا، اور وہ باہر چلی گئی “ذہن صاف کرنے”، جس کا مطلب شاید کچھ اور ہی تھا۔

دو مہینے ہو گئے ہیں۔ میں نے شہر بدل لیا، سب کو بلاک کر دیا، اور علاج شروع کیا کیونکہ میں اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔ پھر کل وہ کسی نامعلوم نمبر سے فون کرتی ہے، رو رہی تھی، کہتی ہے اس سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ پتہ چلا کہ باس نے فائدہ اٹھا کر نوکری سے نکال دیا، پڑوسی کہیں اور چلا گیا، میرے سابق دوست کو اس کی گرل فرینڈ نے پکڑ لیا، اور وہ نام نہاد دوست بھی اکتا کر غائب ہو گیا۔ اس نے ہمت کر کے پوچھا کہ کیا ہم “دوبارہ سب ٹھیک” کر سکتے ہیں۔ میں ہنس دیا اور فون بند کر دیا۔ کچھ چیزیں ٹھیک نہیں ہوتیں، اور یہ جاننا کہ تمہاری محبوبہ چار لوگوں کے ساتھ خفیہ زندگی گزار رہی تھی، انہی میں سے ایک ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ دن کتنے سادہ اور پرسکون ہوا کرتے تھے۔ صبح جلدی اٹھنا، کام پر جانا، واپسی پر تھکن کے باوجود اس کے لیے کچھ نہ کچھ لے آنا، کبھی چائے، کبھی اس کی پسند کی کوئی معمولی سی چیز۔ میں نے اپنی زندگی کو ایک سیدھی لکیر میں سوچ رکھا تھا، جس کا آغاز محنت سے اور اختتام ایک محفوظ، پُرسکون گھر پر ہونا تھا۔ تین سال کا ساتھ کوئی معمولی وقت نہیں ہوتا۔ اس دوران انسان ایک دوسرے کی عادتوں، خاموشیوں، ہنسی اور ناراضی سب کا عادی ہو جاتا ہے۔ میں بھی ہو چکا تھا۔

میں نے کبھی اس پر شک نہیں کیا۔ میرے نزدیک محبت کا مطلب ہی یہی تھا کہ سامنے والے کو شک کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ میں اضافی شفٹیں اسی لیے کرتا تھا کہ مستقبل میں کسی چیز کی کمی نہ ہو۔ رات کو جب دیر سے گھر آتا تو وہ اکثر موبائل پر مصروف ہوتی۔ میں اسے اس کی آزادی سمجھ کر نظر انداز کرتا رہا۔ مگر کچھ باتیں آہستہ آہستہ دل میں کانٹے کی طرح چبھنے لگتی ہیں۔

فون کا رات گئے بجنا ایک معمول بن چکا تھا۔ دو بجے، کبھی اڑھائی، کبھی تین۔ میں نیند میں کروٹ بدلتا اور اس کے فون کی روشنی کمرے میں پھیل جاتی۔ وہ ہمیشہ ایک ہی جملہ کہتی، یہ کام کا معاملہ ہے۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ دنیا بدل چکی ہے، لوگ ہر وقت کام میں مصروف رہتے ہیں۔ مگر دل کا ایک گوشہ بار بار سوال کرتا کہ آخر ایسا کون سا کام ہے جو ہر رات اسی وقت جاگ اٹھتا ہے۔

ایک رات جب نیند بالکل نہ آئی تو میں خاموشی سے بیٹھ گیا۔ اس کی سانسوں کی رفتار بتا رہی تھی کہ وہ سو رہی ہے۔ موبائل پاس ہی رکھا تھا۔ میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی اس کی نجی چیزوں میں مداخلت نہیں کروں گا، مگر اس رات وہ وعدہ ٹوٹ گیا۔ جیسے ہی میں نے موبائل اٹھایا، دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ چند لمحوں بعد میری پوری زندگی بکھرنے والی ہے۔

جیسے جیسے پیغامات کھلتے گئے، حقیقت میرے سامنے ننگی ہوتی چلی گئی۔ ایک نہیں، دو نہیں، بلکہ چار الگ الگ کہانیاں، چار الگ چہرے، چار الگ دھوکے۔ ہر گفتگو میں وہی بے تکلفی، وہی خفیہ ملاقاتوں کے وعدے، وہی تصاویر جنہیں دیکھ کر آنکھیں جلنے لگیں۔ مگر سب سے زیادہ تکلیف دہ وہ جملے تھے جن میں میرا ذکر مذاق کے طور پر کیا گیا تھا۔ میں، جو اس کے لیے سب کچھ تھا، ان کے لیے محض ایک تماشہ تھا۔

ایک نام ایسا تھا جسے دیکھ کر ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ میرا بچپن کا دوست، جس کے ساتھ میں نے اسکول کے دن گزارے تھے، جسے میں نے اپنا بھائی سمجھا تھا۔ دوسرا نام اس کے دفتر کے سربراہ کا تھا، جس کے بارے میں وہ ہمیشہ احترام سے بات کرتی تھی۔ تیسرا وہ شخص تھا جو ہمارے ہی ساتھ والے دروازے کے پیچھے رہتا تھا، جسے میں روز سلام کرتا تھا۔ اور چوتھا وہ، جسے وہ ایک خاص شناخت کے ساتھ متعارف کرواتی تھی، اور جس پر میں نے کبھی شک نہیں کیا تھا۔

یہ سب آٹھ مہینوں سے چل رہا تھا۔ آٹھ مہینے، جن میں میں اپنی نیند، اپنا سکون، اپنی صحت قربان کر رہا تھا تاکہ ہم ایک بہتر کل دیکھ سکیں۔ موبائل میرے ہاتھ سے گرنے والا تھا۔ دل چاہا کہ چیخوں، دیواروں کو ماروں، مگر آواز گلے میں ہی اٹک گئی۔

جب میں نے اس سے بات کی تو مجھے لگا شاید وہ روئے گی، معافی مانگے گی، یا کم از کم شرمندہ ہو گی۔ مگر اس کے چہرے پر جو مسکراہٹ تھی، وہ مجھے آج بھی سونے نہیں دیتی۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں بہت دیر سے سمجھا۔ اس کے مطابق میری زندگی بہت سیدھی تھی، بہت قابلِ اندازہ، اور وہ اس سے اُکتا چکی تھی۔ اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ میں جس انسان سے محبت کرتا تھا، وہ شاید کبھی موجود ہی نہیں تھا۔

میرا وہی دوست، جسے میں نے اپنا رازدار بنایا تھا، بعد میں پیغام بھیجتا ہے کہ یہ سب ذاتی نہیں تھا، زندگی میں ایسا ہو جاتا ہے۔ ان الفاظ نے میرے زخموں پر نمک چھڑک دیا۔ میں نے اسی رات فیصلہ کیا کہ اس جگہ، ان لوگوں، اور ان یادوں سے دور جانا ہی بہتر ہے۔ میں نے خاموشی سے اپنا سامان سمیٹا، اور وہ باہر چلی گئی، شاید کسی اور کے پاس۔

نیا شہر، نیا کمرہ، نئی دیواریں، مگر زخم وہی تھے۔ رات کو آنکھ لگتی تو خوابوں میں وہی مناظر آ جاتے۔ میں نے خود کو سنبھالنے کے لیے مدد لینا شروع کی، کیونکہ اکیلا انسان کبھی کبھی اپنے خیالات کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ میں نے سیکھا کہ خاموشی میں بھی طاقت ہوتی ہے، اور خود کو جوڑنے میں وقت لگتا ہے۔

دو مہینے بعد جب فون بجا اور ایک اجنبی نمبر نظر آیا تو دل نے پہچان لیا۔ اس کی آواز میں رونا تھا، پچھتاوا تھا، اور شاید تنہائی بھی۔ اس نے بتایا کہ جن لوگوں کے لیے اس نے سب کچھ داؤ پر لگایا تھا، وہ سب اسے چھوڑ چکے تھے۔ کسی نے فائدہ اٹھا کر راستہ بدل لیا، کسی نے اپنی زندگی بچا لی، اور کوئی یوں ہی غائب ہو گیا۔

اس نے پوچھا کہ کیا ہم سب کچھ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ اس سوال میں ایک بے بسی تھی، مگر میرے دل میں اب کوئی ہمدردی نہیں بچی تھی۔ میں نے ہنس کر فون بند کر دیا۔ وہ ہنسی نفرت کی نہیں تھی، بلکہ اس حقیقت کی تھی کہ کچھ زخم بھرنے کے لیے نہیں ہوتے، وہ صرف ہمیں یہ سکھانے آتے ہیں کہ خود کی قدر کیسے کی جاتی ہے۔

میں آج بھی محنت کرتا ہوں، مگر اب کسی خواب کے بوجھ تلے نہیں، بلکہ اپنے سکون کے لیے۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ سچی محبت خاموش وفاداری مانگتی ہے، اور جو اسے کھیل سمجھ لے، وہ آخرکار اکیلا رہ جاتا ہے۔ یہ کہانی کسی ایک کی نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی ہے جو اندھا اعتماد کرتا ہے، اور پھر وقت اسے سچ دکھا دیتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ میں نے محسوس کیا کہ زخم اگرچہ بھر جاتے ہیں مگر ان کے نشان رہ جاتے ہیں۔ ہر نیا دن ایک امتحان کی طرح ہوتا تھا۔ کبھی کسی گلی میں چلتے ہوئے اچانک اس کی ہنسی یاد آ جاتی، کبھی کسی اجنبی عورت کے لہجے میں اس کی آواز سنائی دیتی، اور کبھی رات کی خاموشی میں دل خود سے سوال کرتا کہ آخر قصور کیا تھا۔ میں نے خود کو بار بار سمجھایا کہ وفا کرنا کمزوری نہیں ہوتی، کمزوری تو دھوکہ دینے میں ہے۔

نئے شہر میں میری زندگی آہستہ آہستہ ایک ترتیب پکڑنے لگی۔ صبح کام، شام کو تھکن، اور رات کو خاموشی۔ شروع میں یہ خاموشی مجھے کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی، مگر پھر یہی خاموشی میری دوست بن گئی۔ میں نے سیکھا کہ ہر آواز ضروری نہیں ہوتی، اور ہر تعلق کا شور بھی سچ نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ خاموشی میں خود کو پہچان لیتے ہیں، اور کچھ شور میں بھی اکیلے رہتے ہیں۔

علاج کے دوران مجھے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ میں نے خود کو کتنا نظر انداز کیا تھا۔ میں ہمیشہ دوسروں کے لیے جیتا رہا، ان کے خواب، ان کی خواہشیں، ان کی ضرورتیں۔ کہیں نہ کہیں میں خود سے بھاگ رہا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ کسی کے چھوڑ جانے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ چھوڑا جانے والا بے قیمت ہے، بلکہ اکثر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا اپنی قدر کھو چکا ہے۔

میں نے اپنے اندر ایک عجیب سی مضبوطی محسوس کی۔ وہ مضبوطی جو چیخنے سے نہیں، خاموش رہنے سے پیدا ہوتی ہے۔ میں نے دوبارہ اپنے شوق یاد کیے، کتابیں پڑھیں، لمبی واکس کیں، اور خود سے باتیں کیں۔ پہلی بار مجھے اپنا ساتھ اچھا لگنے لگا۔ میں نے جانا کہ انسان جب خود کے ساتھ ایماندار ہو جائے تو کسی اور کی جھوٹ بولتی مسکراہٹ اسے توڑ نہیں سکتی۔

کبھی کبھار دل میں خیال آتا کہ اگر میں نے اس رات موبائل نہ دیکھا ہوتا تو کیا ہوتا۔ شاید ہم اب بھی ایک جھوٹی خوشی میں جی رہے ہوتے۔ مگر پھر میں خود کو سمجھاتا کہ سچ اگرچہ تکلیف دیتا ہے، مگر اندھیرے میں جینے سے بہتر ہوتا ہے۔ حقیقت کا سامنا کرنا دردناک ضرور ہے، مگر یہی درد انسان کو آئندہ کے لیے بچا لیتا ہے۔

ایک دن میں نے آئینے میں خود کو غور سے دیکھا۔ وہی چہرہ تھا، مگر آنکھوں میں کچھ نیا تھا۔ ایک ٹھہراؤ، ایک سمجھداری، ایک ایسی سنجیدگی جو وقت کے ساتھ آتی ہے۔ میں نے مسکرا کر خود سے کہا کہ میں ٹوٹا نہیں ہوں، میں بدلا ہوں۔ اور کبھی کبھی بدل جانا ہی اصل جیت ہوتی ہے۔

اس کی آخری کال کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ شاید اسے بھی سمجھ آ گیا تھا کہ کچھ دروازے بند ہو جائیں تو انہیں کھٹکھٹانا اپنی توہین کے سوا کچھ نہیں۔ میں نے اس کے لیے نفرت نہیں پالی، کیونکہ نفرت بھی ایک بوجھ ہوتی ہے۔ میں نے بس اسے اپنی کہانی کے ایک باب کی طرح بند کر دیا۔

اب میں جانتا ہوں کہ محبت صرف وعدوں کا نام نہیں، یہ کردار کا امتحان ہوتی ہے۔ جو اس امتحان میں ناکام ہو جائے، وہ لاکھ بہانے بنا لے، وقت اسے بے نقاب کر دیتا ہے۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ خود کی عزت سب سے بڑی دولت ہے، اور جو اسے قربان کر دے، وہ چاہے کسی کے ساتھ ہو، اندر سے خالی رہتا ہے۔

یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا، مگر اب میں راستہ پہچانتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ ہر موڑ پر دھوکہ نہیں ہوتا، اور ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا۔ مگر اب میں اندھا اعتماد نہیں کرتا، میں خود کو پہلے رکھتا ہوں۔ شاید یہی سبق تھا جو مجھے اس کہانی سے ملنا تھا، اور شاید یہی اس کہانی کا اصل انجام ہے۔

Post a Comment for "دھوکے کا موسم"