ایک سال اور آدھے پہلے، میری اور میرے شوہر، عارف، کی زندگی میں ورزش کا حصہ آ گیا تھا۔ ہم نے دونوں نے فیصلہ کیا کہ جم جانا شروع کریں گے۔ شروع میں سب کچھ ٹھیک تھا، ہم ساتھ جاتے، ہنسیں، باتیں کریں اور ورزش کریں۔ لیکن ایک دن یہ سب بدل گیا۔
ہم جم گئے، اور میری خواہش تھی کہ میں لوئر باڈی اور کارڈیو پر کام کروں، جبکہ عارف نے کہا کہ وہ صرف اپر باڈی کرے گا کیونکہ وہ دن بھر ریٹیل میں کھڑے رہنے کے بعد تھک گیا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اختلافات بڑے جھگڑے میں بدل گئے۔ میں لاکر روم میں اپنے والد کو روتی ہوئی فون کر کے بتایا، اور وہ دن میری لیے ختم ہو گیا۔ اس کے بعد جم جانا میرے لیے صرف دباؤ اور پریشانی بن گیا۔ میں نے پھر کبھی جم واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا۔
وقت گزرا، اور میں نے خود کو دوبارہ متحرک کیا۔ میں نے سوچا کہ اب دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔ میں نے عارف سے پوچھا، "کیا تم میرے ساتھ جم جانا چاہو گے؟" اس نے ہاں کہا۔ میں خوش ہوئی کہ شاید اب سب کچھ اچھا ہو جائے گا۔
مجھے یاد آیا، پچھلی بار جب میں نے گھر پر ورزش کی تجویز دی تھی، عارف نے کہا تھا، "ہاں، مگر مجھے وزن اٹھانا ہے۔" اسی لیے میں نے دونوں کے لیے جم ممبرشپ لی تھی، لیکن اب یہ بھی غلط ہے۔
یہ سب مجھے بہت الجھا دیتا ہے۔ اگر میں اکیلے جاؤں، تو وہ بھی میرے ساتھ آ جائے گا، مگر وہ ہمیشہ بُری کیفیت اور منفی رویے کے ساتھ آئے گا۔ میں کبھی نہیں جیت سکتی۔
میں نے بیٹھ کر سوچا اور سمجھا کہ اصل بات یہ ہے کہ عارف شاید دوبارہ فٹ ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ میں پہلے بہت فٹ تھی، لیکن میں نے خود کو چھوڑ دیا اور کافی وزن بڑھ گیا۔ میں اب بھی دیکھی جانے والی حد تک اچھی لگتی ہوں، مگر پہلے کی طرح فٹ نہیں ہوں۔
میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ جب میں ورزش کرنے جاؤں تو میرا وقت خوشگوار اور مثبت گزرے، نہ کہ تنقید اور بُری کیفیت میں۔ لیکن عارف کی رویہ یہی ہے کہ وہ یا تو کوئی کام نہیں کرنا چاہتا، یا اگر کرتا ہے تو مجھے پریشان کرے۔
ایک سال اور آدھے پہلے، میری زندگی میں ورزش کا حصہ آ گیا۔ میں نے اور میرے شوہر، عارف، نے فیصلہ کیا کہ ہم دونوں جم جائیں گے، صحت مند رہیں گے اور ایک دوسرے کی حمایت کریں گے۔ شروع میں سب کچھ اچھا تھا۔ ہم ساتھ جاتے، ہنسیں، باتیں کرتے، اور ورزش کے بعد توانائی محسوس کرتے۔ عارف کے ساتھ وقت گزارنا اور ورزش کرنا ایک خوشی کی بات تھی۔
لیکن جیسے جیسے وقت گزرا، چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی مشکلات میں بدلنے لگیں۔ ایک دن، ہماری ورزش کے دوران ایک معمولی اختلاف نے سب کچھ خراب کر دیا۔ میں چاہتی تھی کہ میں لوئر باڈی اور کارڈیو پر کام کروں تاکہ وزن کم ہو اور صحت بہتر ہو، جبکہ عارف کہہ رہا تھا کہ وہ صرف اپر باڈی کرے گا کیونکہ دن بھر ریٹیل میں کھڑا رہنے کے بعد وہ تھک گیا ہے۔
یہ بات معمولی لگتی ہے، لیکن وہ دن میری یادداشت میں درد کے ساتھ محفوظ ہو گیا۔ جم کے اندر بحث بڑھ گئی، ہم دونوں چیختے اور ایک دوسرے پر ناراض ہو گئے۔ آخر کار میں لاکر روم میں جا کر اپنے والد کو روتے ہوئے فون کر دی۔ اس دن کے بعد جم جانا میرے لیے صرف دباؤ اور پریشانی بن گیا۔ میں نے خود سے وعدہ کیا کہ میں دوبارہ کبھی وہاں نہیں جاؤں گی۔
وقت گزرا، اور میں نے محسوس کیا کہ میری زندگی میں ورزش کی کمی ہے۔ میں نے خود کو متحرک کیا، اور سوچا کہ دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔ میں نے عارف سے پوچھا، "کیا تم میرے ساتھ جم جانا چاہو گے؟" اس نے ہاں کہا۔ میں خوش ہوئی کہ شاید اب سب کچھ اچھا ہو جائے گا، شاید ہمارا تعلق دوبارہ مثبت ہو۔
مجھے یاد آیا، پچھلی بار جب میں نے گھر پر ورزش کرنے کی تجویز دی تھی، عارف نے کہا تھا، "ہاں، مگر مجھے وزن اٹھانا ہے۔" اسی لیے میں نے دونوں کے لیے جم ممبرشپ لی تھی، لیکن اب یہ بھی غلط ہو گیا۔
یہ سب مجھے بہت الجھا دیتا ہے۔ اگر میں اکیلے جاؤں، تو وہ بھی میرے ساتھ آ جائے گا، مگر ہمیشہ بُری کیفیت اور منفی رویے کے ساتھ۔ میں کبھی نہیں جیت سکتی۔
میں نے بیٹھ کر سوچا اور سمجھا کہ اصل بات یہ ہے کہ عارف شاید دوبارہ فٹ ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ میں پہلے بہت فٹ تھی، لیکن میں نے خود کو چھوڑ دیا اور وزن بڑھ گیا۔ میں اب بھی دیکھی جانے والی حد تک اچھی لگتی ہوں، مگر پہلے کی طرح فٹ نہیں ہوں۔
میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ جب میں ورزش کرنے جاؤں تو میرا وقت خوشگوار اور مثبت گزرے، نہ کہ تنقید اور بُری کیفیت میں۔ لیکن عارف کی رویہ یہی ہے کہ وہ یا تو کوئی کام نہیں کرنا چاہتا، یا اگر کرتا ہے تو مجھے پریشان کرے۔
میں نے سوچا کہ میں اپنے لیے کچھ کروں، اپنی صحت اور خوشی کے لیے۔ میں نے چھوٹے چھوٹے اقدامات شروع کیے۔ صبح جلدی اٹھنا، ہلکی ورزش کرنا، اور اپنے لیے وقت نکالنا۔ عارف کی رائے اب مجھے اتنی متاثر نہیں کر رہی تھی، کیونکہ میں جان گئی تھی کہ میری خوشی اور صحت صرف میرے اپنے ہاتھ میں ہے۔
اس دوران، میں نے اپنے دوستوں سے بھی بات کی۔ وہ سب میرے جذبات کو سمجھتے تھے اور مجھے حوصلہ دیتے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ دوسروں کی رائے سے زیادہ اہم، خود کی رائے اور خوشی ہے۔
آخر کار، میں نے یہ سمجھا کہ تعلقات میں ہر چیز ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔ عارف کے اپنے خیالات اور رویے ہیں، اور میرے اپنے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی حمایت نہیں کر سکتے، تو کم از کم میں اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکتی ہوں۔
اب، میں جم جانا شروع کر چکی ہوں، اپنے انداز میں۔ کبھی اکیلی، کبھی دوستوں کے ساتھ۔ عارف اب اکثر اپنے کام میں مصروف رہتا ہے، اور میں اپنے وقت کو ضائع نہیں ہونے دیتی۔ میری صحت بہتر ہوئی، توانائی بڑھ گئی، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میں نے اپنی خوشی خود منتخب کی۔
میں نے یہ سبق سیکھا کہ دوسروں کی منفی رویے سے اپنی زندگی کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی آپ کے ساتھ نہیں چلتا، تو آپ اپنے لیے چلیں، اپنے لیے محنت کریں، اور اپنی خوشی اور صحت کو سب سے اوپر رکھیں۔
اب جب میں نے خود کو دوبارہ متحرک کیا، میں نے محسوس کیا کہ ورزش صرف جسمانی صحت کا معاملہ نہیں تھی، بلکہ یہ میری ذہنی اور جذباتی طاقت کا بھی حصہ تھی۔ ہر بار جب میں جم جاتی، میری توانائی میں اضافہ ہوتا، میرے اندر اعتماد بڑھتا، اور میں اپنے آپ کو دوبارہ پہچاننے لگی۔
عارف اکثر گھر پر بیٹھا رہتا اور کبھی کبھی ٹوکنے آ جاتا، لیکن میں نے اب اس کی منفی رویے پر دھیان دینا کم کر دیا تھا۔ میں نے سیکھا کہ اگر ہم دوسروں کے رویے سے اپنی خوشی کی قیمت کم کریں گے، تو ہماری زندگی ہمیشہ ادھوری رہے گی۔ میں نے اپنے اندر ایک نئی خود اعتمادی محسوس کی۔
جم میں جاتے وقت، میں نے چھوٹے چھوٹے اہداف مقرر کیے۔ پہلے ہفتے میں صرف ۳۰ منٹ کارڈیو کرتی، اور کچھ آسان وزن اٹھاتی۔ اگلے ہفتے میں وقت بڑھاتی اور ورزش کے نئے طریقے آزمانا شروع کیا۔ ہر کامیابی مجھے خوشی دیتی، ہر تھکن مجھے مضبوط بناتی۔
عارف کی موجودگی اب بھی کبھی کبھار محسوس ہوتی، لیکن میں نے اپنے جذبات پر قابو پا لیا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی خوشی اور صحت کے لیے کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گی۔ میں نے محسوس کیا کہ زندگی میں اپنے لیے جینا بھی ضروری ہے۔
ایک دن جم کے بعد، میں نے خود سے کہا، "میں نے یہ راستہ اپنے لیے چنا ہے، نہ کہ کسی کے لیے۔" یہ لمحہ میرے لیے بہت اہم تھا۔ میں نے اپنے آپ کو پہچانا، اپنی محنت اور کوشش کی قدر کی، اور یہ سمجھا کہ خوشی دوسروں کی رضامندی سے نہیں آتی، بلکہ اپنے فیصلے اور کوشش سے پیدا ہوتی ہے۔
اب میں ورزش کے ساتھ ساتھ اپنی غذا پر بھی توجہ دینے لگی۔ میں نے صحت مند کھانے کی عادتیں اپنائیں، پانی زیادہ پینا شروع کیا، اور نیند کے معمولات بہتر کیے۔ ہر چھوٹا قدم مجھے اپنی پرانی فٹنس کی یاد دلاتا، اور مجھے اپنے آپ پر فخر محسوس ہوتا۔
عارف اب اکثر کہتا کہ وہ تھکن کی وجہ سے جم نہیں جاتا، لیکن میں نے اس پر توجہ دینا چھوڑ دی۔ میں نے اپنے لیے زندگی کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا، اور میں روزانہ یہ محسوس کرتی کہ میں صحیح راستے پر ہوں۔
یہ کہانی صرف ورزش کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ یہ خود اعتمادی، خود کی قدر، اور اپنی خوشی کے لیے فیصلے کرنے کے بارے میں تھی۔ میں نے سیکھا کہ اگر کوئی ہمارے ساتھ چلنا نہیں چاہتا، تو ہمیں اکیلے بھی آگے بڑھنا آنا چاہیے۔ اور یہ آگے بڑھنا نہ صرف جسمانی طاقت کے لیے ضروری ہے، بلکہ ذہنی اور جذباتی سکون کے لیے بھی بہت اہم ہے۔
عارف کی رویے نے ہمیشہ ہماری زندگی کے معمولات پر اثر ڈالا۔ وہ کبھی بھی ورزش یا کسی بھی مثبت سرگرمی میں دل سے شامل نہیں ہوتا تھا، اور اس کا ہر قدم بوجھ محسوس ہوتا۔ پہلے میں اس پر غصہ کرتی، تو اب میں نے سمجھنا شروع کیا کہ کسی کے رویے کو بدلنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا، لیکن اپنے رویے اور اپنی زندگی کو بدلنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔
شروع میں، جب میں اکیلے جم جاتی، عارف اکثر منفی تبصرے کرتا یا بلاوجہ ناراض ہوتا۔ وہ کہتا، "جم جانا ضروری نہیں، ہمارے پاس تو سب کچھ گھر پر ہے۔" میں جانتی تھی کہ یہ محض بہانہ ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ دوبارہ فٹ ہونے یا محنت کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ لیکن اب میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی خوشی اور صحت کے لیے کسی کی اجازت کی محتاج نہیں ہوں۔
ہماری روزمرہ کی زندگی میں بھی اس کا اثر نظر آتا تھا۔ کھانے کی عادات، سونے کا وقت، چھوٹی چھوٹی باتیں، سب میں وہ منفی رویہ دکھاتا۔ پہلے میں اکثر خود کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی، لیکن یہ مجھے تھکانے اور ناراض کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں خود کو بدلوں گی، اپنی صحت، اپنے جذبات، اور اپنی زندگی کے لیے۔
ایک دن، جب میں جم سے واپس آئی، عارف نے کچھ نہ کہا۔ میں نے اپنے اندر خوشی محسوس کی، کیونکہ اب میں جان گئی تھی کہ میری کامیابی اور خوشی میری محنت کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی کے رویے کا۔ میں نے اپنی ورزش کے دوران چھوٹے چھوٹے اہداف مقرر کیے اور انہیں پورا کرنے کی کوشش کی۔ ہر مکمل ہفتہ، ہر مکمل ورزش، مجھے اپنے آپ پر فخر دلاتی۔
میرے جسم میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ توانائی بڑھ گئی، وزن کم ہوا، اور سب سے بڑی بات یہ کہ میرے اندر اعتماد پیدا ہوا۔ میں نے محسوس کیا کہ جسمانی فٹنس کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جذباتی سکون بھی آ رہا ہے۔ عارف کے رویے کی وجہ سے پہلے پریشانی اور غصہ محسوس ہوتا تھا، لیکن اب میں اپنے اندر مثبت تبدیلیاں محسوس کر رہی تھی۔
میں نے اپنے دوستوں اور خاندان سے بھی حوصلہ لیا۔ وہ سب میری محنت اور کوشش کی تعریف کرتے، اور مجھے یاد دلاتے کہ میں اپنی خوشی اور صحت کے لیے بہترین قدم اٹھا رہی ہوں۔ میں نے سمجھا کہ تعلقات میں سب کچھ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ہمارے ساتھ چلیں گے، کچھ نہیں۔ اور یہ بالکل ٹھیک ہے۔
عارف نے آخرکار یہ سمجھنا شروع کیا کہ میں مستقل طور پر جم جا رہی ہوں اور اپنی صحت بہتر کر رہی ہوں۔ اس نے کبھی کبھار ورزش کی تعریف کی، لیکن میں نے اپنی خوشی اور توانائی کے لیے اپنی محنت جاری رکھی۔ میں جانتی تھی کہ میری کامیابی میری اپنی ہے، اور کسی کی منفی رویے سے متاثر نہیں ہوگی۔
اب، میں روزانہ جم جاتی ہوں، اپنے دوستوں کے ساتھ یا اکیلے، اور ہر بار اپنی محنت اور لگن کا نتیجہ محسوس کرتی ہوں۔ عارف اب اکثر اپنے کام میں مصروف رہتا ہے، اور میں اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا رہی ہوں۔ میں نے یہ سبق سیکھا کہ دوسروں کی منفی رویے سے اپنی زندگی خراب نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کوئی ہمارے ساتھ نہیں چلتا، تو ہمیں اکیلے بھی آگے بڑھنا آنا چاہیے۔
یہ کہانی صرف ورزش کے بارے میں نہیں تھی۔ یہ خود اعتمادی، خود کی قدر، اور اپنی خوشی کے لیے فیصلے کرنے کے بارے میں تھی۔ میں نے سیکھا کہ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا ہمارا حق ہے، اور کسی کی ناپسندیدہ رائے سے ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ ہر چھوٹا قدم، ہر چھوٹا فیصلہ ہمیں مضبوط اور آزاد بناتا ہے۔
اب میری زندگی میں ورزش صرف ایک عمل نہیں، بلکہ میری خوشی، توانائی اور خود اعتمادی کی علامت بن گئی ہے۔ میں نے اپنے لیے یہ راستہ چنا، اور یہ راستہ مجھے ہر دن بہتر اور مضبوط بناتا ہے۔ میں نے جان لیا کہ اپنی خوشی اور صحت کے لیے اٹھایا گیا ہر قدم، چاہے اکیلا کیوں نہ ہو، سب سے قیمتی ہوتا ہے۔
ٹھیک ہے، میں کہانی کا آخری حصہ لکھ دیتا ہوں، جہاں عارف کے رویے کے طویل اثرات، شادی میں توازن، اور خواتین کے لیے خود اعتمادی اور صحت کے اہم سبق کو مکمل انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ یہ پوری کہانی بلاگ یا ویڈیو کے لیے تیار ہو جائے۔
وقت گزرتا گیا، اور میں نے محسوس کیا کہ عارف کے رویے کے اثرات ہماری زندگی پر ہر چھوٹی بات میں نظر آتے ہیں۔ وہ اکثر اپنی تھکن اور کام کو بہانہ بنا کر ورزش یا دیگر مثبت سرگرمیوں سے بچنے کی کوشش کرتا۔ پہلے میں ہر بار اس کے رویے پر پریشان ہوتی اور اپنی خوشی کا نقصان محسوس کرتی، لیکن اب میں نے یہ سیکھ لیا کہ کسی اور کی منفی سوچ ہمیں محدود نہیں کر سکتی، جب تک ہم خود اپنے لیے قدم اٹھائیں۔
میں نے اپنے دن کی منصوبہ بندی بدل دی۔ صبح جلدی اٹھنا، ورزش کے لیے وقت نکالنا، اور اپنے لیے صحت مند غذا کا انتخاب میری ترجیح بن گیا۔ میں نے اپنی زندگی میں چھوٹے چھوٹے اہداف مقرر کیے، اور ہر کامیابی نے مجھے خوشی اور اعتماد دیا۔ عارف کے رویے کا اثر اب میرے فیصلوں پر کم پڑتا تھا، کیونکہ میں جان گئی تھی کہ میری خوشی اور میری صحت میری اپنی ذمہ داری ہے۔
شادی شدہ زندگی میں توازن برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب شریک حیات آپ کی حوصلہ افزائی کے بجائے رکاوٹ بنتا ہو۔ میں نے یہ سمجھا کہ تعلقات میں سب کچھ یکساں نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ہم اکیلے بھی آگے بڑھنا سیکھتے ہیں۔ لیکن یہ اکیلا پن کمزوری نہیں بلکہ قوت کی علامت ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں خود اعتمادی اور خودمختاری کو مضبوط کیا۔
عارف کے رویے نے مجھے یہ سبق بھی دیا کہ ہمیں اپنی خوشی اور صحت کے لیے کسی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے محسوس کیا کہ جسمانی فٹنس صرف دکھاوے کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہماری ذہنی اور جذباتی طاقت کا بھی حصہ ہے۔ ہر بار جب میں جم جاتی، ہر بار جب میں وزن اٹھاتی، ہر بار جب میں اپنی توانائی محسوس کرتی، میں اپنے اندر ایک نئی آزادی محسوس کرتی۔
دوستوں اور خاندان کے تعاون نے بھی میری راہ آسان کی۔ وہ ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے اور یاد دلاتے کہ میں اپنے فیصلوں اور کوششوں کے ذریعے اپنی زندگی بہتر بنا سکتی ہوں۔ میں نے سیکھا کہ اگر کوئی ہمارے ساتھ نہیں چلتا، تو ہمیں اکیلے بھی آگے بڑھنا آنا چاہیے۔ یہ آگے بڑھنا نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور جذباتی سکون کے لیے بھی ضروری ہے۔
اب میں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ زندگی میں ہر شخص کی اپنی ترجیحات اور رویے ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں توقع رکھنی چاہیے کہ دوسرا ہمیشہ ہماری مدد کرے یا ہماری خوشی میں شامل ہو۔ لیکن ہمیں اپنے لیے اٹھائے گئے ہر قدم پر فخر ہونا چاہیے، چاہے ہم اکیلے ہی کیوں نہ ہوں۔
میری زندگی میں ورزش، صحت مند کھانے، اور خود اعتمادی کی یہ عادتیں اب میری روزمرہ کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہ میرے لیے صرف جسمانی فٹنس نہیں بلکہ میری خودمختاری، اعتماد، اور خوشی کی علامت ہے۔ میں نے اپنے لیے یہ راستہ چنا، اور ہر دن اپنے فیصلے اور محنت سے اپنی زندگی کو بہتر بنایا۔
عارف کے رویے کے باوجود، میں نے اپنی زندگی کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔ میں نے جان لیا کہ دوسروں کی منفی رائے ہمیں محدود نہیں کر سکتی، جب تک ہم خود اپنی زندگی کے لیے مثبت قدم اٹھائیں۔ ہر چھوٹا قدم، ہر چھوٹا فیصلہ، ہمیں مضبوط، آزاد، اور خوش بناتا ہے۔
اب میری زندگی میں ورزش، صحت، اور خود اعتمادی کے یہ اصول صرف روزمرہ کی عادت نہیں، بلکہ میری شناخت اور خوشی کی بنیاد ہیں۔ میں نے یہ سبق سیکھا کہ خوشی اور صحت دوسروں کی اجازت یا رویے کا محتاج نہیں، بلکہ یہ ہماری اپنی محنت، خود اعتمادی، اور مستقل مزاجی سے حاصل ہوتی ہیں۔
میں نے اپنی زندگی میں یہ فیصلہ کیا کہ میں ہمیشہ اپنے لیے اٹھائے گئے ہر قدم کی قدر کروں گی، اپنی صحت اور خوشی کو ترجیح دوں گی، اور کبھی بھی کسی کی منفی رویے سے اپنی زندگی کی روشنی نہیں بجھنے دوں گی۔ اور یہ سب کچھ ممکن ہوا، جب میں نے اپنے اندر کی طاقت اور خود اعتمادی کو پہچانا۔

Post a Comment for ""اپنی خوشی کے لیے اٹھایا گیا ہر قدم""