Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

"ایک چھوٹی سی بات"

 عائشہ کو آج بھی یاد ہے وہ لمحہ جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ باہر شام اتر رہی تھی، کھڑکی کے پردوں کے پیچھے سورج کی آخری سنہری کرنیں دیوار پر ہلکی سی لکیر بنارہی تھیں۔ گھر میں عجیب سی خاموشی تھی، وہی خاموشی جو عموماً تب ہوتی ہے جب ایک چھوٹا بچہ گہری نیند میں ہو اور ماں باپ دل ہی دل میں شکر ادا کر رہے ہوں کہ چند لمحے سکون کے میسر آ گئے ہیں۔

عائشہ آہستہ قدموں سے بیڈروم میں داخل ہوئی تاکہ کچھ کپڑے رکھ سکے۔ اس کی نظر فوراً بلال پر پڑی جو بستر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا اور وہ پوری توجہ سے کسی چیز میں مصروف تھا۔ عائشہ نے پہلے غور نہیں کیا، لیکن پھر اس کی آنکھ اس چیز پر پڑی جو بلال کے ہاتھ میں تھی۔

وہ چھوٹے سے نیل کٹر تھے۔

عائشہ کے دل میں ایک لمحے کو الجھن پیدا ہوئی۔ اس نے سوچا شاید وہ وہی نیل کٹر ہوں گے جو بلال اپنے لیے استعمال کرتا ہے، مگر وہ جانتی تھی کہ وہ ہمیشہ بڑے سائز والے کٹر استعمال کرتا ہے۔ یہ تو وہ ننھے سے نیل کٹر تھے جو وہ اپنی چار ماہ کی بیٹی، مریم، کے ننھے ننھے ناخن کاٹنے کے لیے رکھتی تھی۔

“بلال؟” اس نے آہستہ سے پکارا۔

بلال نے سر اٹھایا، بالکل نارمل انداز میں، جیسے کوئی غیر معمولی بات ہو ہی نہ۔
“ہاں؟”

عائشہ نے نیل کٹر کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ… تم یہ کیوں استعمال کر رہے ہو؟”

بلال نے ایک لمحے کو اپنے پاؤں کی طرف دیکھا، جیسے اب اسے یاد آیا ہو کہ اس کے ہاتھ میں کیا ہے۔
“اوہ، وہ… میرے اپنے کٹر نہیں مل رہے تھے۔ میں نے کافی ڈھونڈا، پھر یہ نظر آ گئے تو سوچا انہی سے کر لوں۔”

عائشہ کو ایک عجیب سا احساس ہوا، جیسے کوئی چھوٹی سی بات دل کے کسی کونے میں جا کر چبھ گئی ہو۔
“لیکن یہ مریم کے ہیں، بلال۔ میں انہی سے اس کے ہاتھ اور پاؤں کے ناخن کاٹتی ہوں۔”

بلال نے کندھے اچکا دیے۔
“میں جانتا ہوں، لیکن فکر کی کیا بات ہے؟ میں نے بس ایک پاؤں کے ناخن کاٹنا شروع کر دیے ہیں، اب آدھا کام رہ جائے تو عجیب لگے گا نا۔”

عائشہ نے گہری سانس لی۔ وہ جانتی تھی یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں تھا، مگر ماں بننے کے بعد کچھ چیزیں دل کے بہت قریب ہو جاتی ہیں۔ مریم کے ننھے ہاتھ، اس کے نرم پاؤں، اور وہ چھوٹی سی چیزیں جو صرف اسی کے لیے مخصوص تھیں، ان سب کے ساتھ عائشہ ایک جذباتی تعلق محسوس کرتی تھی۔

“ہم کل بازار جا سکتے ہیں،” عائشہ نے کہا، اپنی آواز کو نرم رکھتے ہوئے۔
“نئے نیل کٹر لے لیں گے۔ تم ابھی چھوڑ دو۔”

بلال نے مسکرا کر کہا،
“یار، میں نے شروع کر دیا ہے۔ بس ختم ہی کر لیتا ہوں۔”

عائشہ نے خود کو روکا، مگر پھر بھی بول پڑی۔
“یہ تھوڑا سا… گندا سا نہیں لگتا؟ مطلب، میں انہی سے مریم کے ناخن کاٹتی ہوں۔”

بلال کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ یہ بات عائشہ کے لیے اتنی اہم کیوں ہے۔
“ہم انہیں صاف کر لیں گے نا۔ سٹرلائز کر لینا، مسئلہ کیا ہے؟”

عائشہ نے فوراً جواب دیا،
“پانی سے صاف کرنے پر زنگ بھی لگ سکتا ہے۔ یہ اتنے نازک ہیں۔”

بلال نے جیسے فوراً حل پیش کر دیا ہو۔
“تو الکحل استعمال کر لینا۔ مسئلہ حل۔”

عائشہ خاموش ہو گئی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ بحث بے معنی ہے، مگر اس خاموشی میں اس کے ذہن میں کئی خیالات گردش کرنے لگے۔ یہ بات نیل کٹر کی نہیں تھی، یہ اس احساس کی تھی کہ کچھ چیزیں صرف ماں کے دل کے لیے مقدس ہوتی ہیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے فیصلے، وہ احتیاطیں جو شاید باہر سے غیر ضروری لگیں، مگر اندر سے بہت گہری ہوتی ہیں۔

وہ پلٹ کر کھڑکی کے پاس چلی گئی۔ باہر اندھیرا پھیل رہا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ شادی کے بعد زندگی کتنی بدل جاتی ہے۔ پہلے یہ چیزیں کبھی مسئلہ نہیں تھیں۔ وہ ہنس دیتی، ٹال دیتی۔ مگر اب، جب ایک ننھی سی جان ان دونوں کے درمیان آئی تھی، ہر چیز کی اہمیت بدل گئی تھی۔

بلال نے اس کی خاموشی محسوس کی۔
“عائشہ، تم ناراض ہو؟”

عائشہ نے فوراً سر ہلایا۔
“نہیں… بس تھوڑا سا عجیب لگا۔”

بلال نے ہنستے ہوئے کہا،
“یار، تم نے تو ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی بہت بڑا جرم کر دیا ہو۔”

عائشہ بھی مسکرا دی، مگر وہ مسکراہٹ ہلکی سی تھی۔
“میں تمہیں طلاق نہیں دے رہی، فکر نہ کرو۔”

بلال زور سے ہنسا۔
“اللہ کا شکر ہے، ورنہ ایک نیل کٹر کی وجہ سے تاریخ کی سب سے انوکھی علیحدگی ہوتی۔”

اس لمحے کمرے میں ہنسی گونج گئی، مگر عائشہ کے دل میں ایک خاموش سا سبق بھی بیٹھ گیا۔ شادی صرف بڑے مسائل سے نہیں آزماتی، بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی انسان کے صبر، برداشت اور سمجھ کو پرکھتی ہے۔

رات کو جب مریم کی ہلکی سی آواز آئی تو عائشہ فوراً اٹھ بیٹھی۔ اس نے اپنی بیٹی کو گود میں لیا۔ اس کے ننھے ہاتھ اس کی انگلی کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ عائشہ نے اس کے ماتھے کو چوما اور دل ہی دل میں سوچا کہ شاید وہ تھوڑی سی زیادہ حساس ہو گئی ہے، مگر شاید یہی حساسیت ماں ہونے کی پہچان ہے۔

بلال دروازے کے پاس کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس کے دل میں بھی ایک نرمی سی اتر آئی۔ اس نے سوچا کہ عائشہ کی یہ فکر، یہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دھیان دینا، دراصل مریم کے لیے اس کی بے حد محبت کی علامت ہے۔

اگلے دن بلال خود بازار گیا اور دو نیل کٹر لے آیا۔ ایک اپنے لیے اور ایک خاص طور پر مریم کے لیے۔ اس نے آ کر عائشہ کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے کہا،
“یہ دیکھو، اب کوئی الجھن نہیں رہے گی۔”

عائشہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، پھر مسکرا دی۔
“یہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔”

بلال نے نرمی سے کہا،
“ضرورت نہیں تھی، مگر اچھا لگا۔”

عائشہ نے اس لمحے محسوس کیا کہ رشتے اصل میں انہی چھوٹے چھوٹے سمجھوتوں، خیال رکھنے اور ایک دوسرے کے احساسات کو اہمیت دینے سے مضبوط ہوتے ہیں۔ زندگی میں بڑے طوفان کم آتے ہیں، مگر روزمرہ کے یہ ننھے جھونکے اگر سمجھداری سے نہ سنبھالے جائیں تو دلوں میں فاصلے پیدا کر سکتے ہیں۔

وہ نیل کٹر اب بھی الماری میں رکھے تھے، مگر وہ واقعہ ایک یاد بن چکا تھا۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ، ایک سبق کے ساتھ، اور اس یقین کے ساتھ کہ محبت میں جیتنے کے لیے ہر بحث جیتنا ضروری نہیں ہوتا۔

عائشہ اکثر سوچتی تھی کہ شاید وہ واقعی تھوڑا سا زیادہ ری ایکٹ کر گئی تھی، اور بلال بھی مانتا تھا کہ شاید اسے شروع میں ہی رک جانا چاہیے تھا۔ مگر دونوں اس بات پر متفق تھے کہ یہ ایک ایسی لڑائی تھی جس نے انہیں دور نہیں بلکہ قریب کر دیا۔

اور یہی شادی کی خوبصورتی ہے۔
چھوٹی بات، بڑا احساس، اور آخر میں ایک خاموش سی سمجھداری جو دل میں ہمیشہ کے لیے بس جاتی ہے۔

چند دن گزر گئے، نیل کٹر والا واقعہ اب ایک ہلکی سی یاد بن چکا تھا، ایسی یاد جس پر کبھی کبھی عائشہ اور بلال مسکرا دیا کرتے تھے۔ مگر عائشہ نے محسوس کیا کہ ماں بننے کے بعد اس کی سوچ میں واقعی بہت کچھ بدل گیا تھا۔ وہ ہر چیز کو مریم کی نظر سے دیکھنے لگی تھی، ہر چھوٹی تفصیل میں اسے اپنی بیٹی کی حفاظت اور آرام نظر آتا تھا۔

اس دن دوپہر کے وقت گھر میں عجیب سی بے ترتیبی تھی۔ مریم جاگ رہی تھی، مگر خوش موڈ میں نہیں تھی۔ کبھی رونے لگتی، کبھی خاموش ہو جاتی، جیسے خود بھی نہ جانتی ہو کہ اسے کیا چاہیے۔ عائشہ اسے گود میں لیے کمرے میں ٹہل رہی تھی، ہلکی آواز میں لوریاں دہرا رہی تھی، مگر دل کہیں اور اٹکا ہوا تھا۔

بلال دفتر سے جلدی آ گیا تھا۔ وہ دروازہ کھولتے ہی رکا، جیسے منظر کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“کیا ہوا؟” اس نے نرمی سے پوچھا۔

عائشہ نے بس اتنا کہا،
“شاید گیس ہے، یا نیند پوری نہیں ہوئی۔”

بلال قریب آیا، مریم کے ننھے گال کو انگلی سے چھوا۔
“میں پکڑوں؟”

عائشہ نے ہچکچاتے ہوئے مریم اس کے حوالے کر دی۔ یہ بھی ایک تبدیلی تھی۔ پہلے عائشہ کو لگتا تھا کہ شاید وہی بہتر جانتی ہے، مگر اب وہ سیکھ رہی تھی کہ سب کچھ اکیلے سنبھالنا ضروری نہیں۔

بلال نے مریم کو سینے سے لگایا، آہستہ آہستہ کمر تھپتھپانے لگا۔ کچھ ہی لمحوں میں مریم کی رونے کی آواز مدھم پڑ گئی۔ عائشہ نے یہ منظر دیکھا تو دل میں عجیب سا سکون اتر آیا، مگر ساتھ ہی ایک ہلکی سی شرمندگی بھی کہ وہ بعض اوقات بلال کو غیر ضروری طور پر کم سمجھ لیتی ہے۔

شام کو جب مریم سو گئی تو دونوں صوفے پر بیٹھے تھے۔ کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی، اور باہر گلی میں بچوں کے کھیلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ عائشہ کافی دیر خاموش رہی، پھر اچانک بولی،
“بلال، کیا میں واقعی بہت زیادہ حساس ہو گئی ہوں؟”

بلال نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
“یہ سوال اچانک کیوں؟”

عائشہ نے آہستہ آہستہ کہا،
“ہر چھوٹی بات مجھے بڑی لگنے لگتی ہے۔ کبھی نیل کٹر، کبھی جراثیم، کبھی یہ ڈر کہ کہیں مریم کو کچھ ہو نہ جائے۔”

بلال نے کچھ لمحے سوچا، پھر کہا،
“شاید یہ حساسیت نہیں، ذمہ داری ہے۔ فرق بس نظر کا ہے۔”

عائشہ نے اس کی بات غور سے سنی۔
“مگر میں نہیں چاہتی کہ تمہیں لگے کہ میں تم پر شک کرتی ہوں، یا ہر بات میں روک ٹوک کرتی ہوں۔”

بلال نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
“اور میں نہیں چاہتا کہ تم اکیلے سب بوجھ اٹھاؤ۔ مریم ہم دونوں کی ہے، صرف تمہاری نہیں۔”

یہ جملہ عائشہ کے دل میں اتر گیا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ ماں بننے کے ساتھ ساتھ شاید یہ بھول رہی تھی کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ بلال بھی اسی سفر کا حصہ ہے، بس اس کا انداز مختلف ہے۔

اسی رات عائشہ دیر تک جاگتی رہی۔ مریم گہری نیند میں تھی، اس کی سانسیں ہلکی ہلکی چل رہی تھیں۔ عائشہ نے اس کے ننھے ہاتھ کو تھام لیا۔ اس نے سوچا کہ ماں بننا صرف حفاظت کا نام نہیں، بلکہ اعتماد کا بھی نام ہے۔ اپنے آپ پر بھی، اور اپنے شریکِ حیات پر بھی۔

اگلے دن عائشہ نے ایک چھوٹی سی تبدیلی کی۔ اس نے کچن کی الماری میں ایک ڈبہ رکھا، جس پر اس نے دل ہی دل میں “مریم کی چیزیں” کا لیبل لگا دیا۔ نیل کٹر، چھوٹی کنگھی، تھرما میٹر، سب ایک جگہ۔ بلال نے دیکھا تو مسکرا دیا۔
“یہ تمہارا نیا نظام ہے؟”

عائشہ نے ہلکے سے ہنستے ہوئے کہا،
“ہاں، تاکہ دوبارہ کوئی کنفیوژن نہ ہو۔”

بلال نے مذاق میں کہا،
“یعنی اب اگر میں نے غلط چیز اٹھائی تو سیدھا عدالت؟”

عائشہ ہنس پڑی۔
“نہیں، پہلے وارننگ، پھر سزا۔”

یہ ہنسی اس بات کی علامت تھی کہ وہ دونوں سیکھ رہے تھے۔ شادی اور والدین بننا کوئی مکمل کتاب نہیں ہوتی، بلکہ روز لکھا جانے والا ایک صفحہ ہوتا ہے۔ کبھی غلطی، کبھی سمجھوتہ، اور کبھی بس ایک دوسرے کو سن لینا ہی کافی ہوتا ہے۔

عائشہ کو اب بھی کبھی کبھی لگتا تھا کہ وہ زیادہ سوچ رہی ہے، مگر وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ ہر احساس کو دبانا ضروری نہیں۔ بس اس احساس کو صحیح لفظ دینا اور صحیح جگہ رکھنا ضروری ہے۔

اور بلال، وہ اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر زیادہ دھیان دینے لگا تھا۔ وہ جان گیا تھا کہ بعض چیزیں صرف چیزیں نہیں ہوتیں، بلکہ جذبات کی علامت ہوتی ہیں۔ ایک نیل کٹر بھی کبھی کبھی ماں کے دل کی ترجمانی کر دیتا ہے۔

زندگی اپنی رفتار سے چل رہی تھی، مگر ان دونوں کے درمیان اب ایک خاموش سی سمجھداری اور مضبوط ہو چکی تھی۔
اور یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی، کیونکہ جہاں محبت ہو، وہاں سیکھنے کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔

رات کے آخری پہر عائشہ کی آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں اندھیرا تھا، بس موبائل کی اسکرین پر وقت کی ہلکی سی روشنی جھلملا رہی تھی۔ مریم کی سانسیں ذرا بے ترتیب لگ رہی تھیں۔ عائشہ فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ ماں کا دل عجیب ہوتا ہے، ذرا سی تبدیلی بھی محسوس کر لیتا ہے۔ اس نے آہستہ سے مریم کے ماتھے پر ہاتھ رکھا، وہ ہلکا سا گرم تھا۔

دل میں ہلکی سی گھبراہٹ اٹھی، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔ شاید کمرہ زیادہ گرم تھا۔ اس نے پنکھے کی رفتار کم کی، پھر مریم کو گود میں لے کر ہولے ہولے جھلانا شروع کیا۔ کچھ ہی دیر میں مریم کی سانسیں پھر سے ہموار ہو گئیں، مگر عائشہ کی نیند اڑ چکی تھی۔

وہ مریم کو سینے سے لگائے بیٹھی رہی اور سوچتی رہی۔ پہلے وہ ایسی باتوں پر اتنی پریشان نہیں ہوتی تھی۔ اب ہر رات ایک نیا خوف، ایک نئی فکر۔ اسے احساس ہوا کہ ماں بننے کے بعد نیند بھی بدل جاتی ہے، خواب بھی، اور ڈر بھی۔

اسی لمحے بلال نے کروٹ بدلی۔ اس نے نیم نیند میں عائشہ کو جاگتے دیکھا۔
“کیا ہوا؟” اس کی آواز میں نیند اور فکر دونوں تھیں۔

عائشہ نے آہستہ سے کہا،
“کچھ نہیں، بس مریم ذرا بے چین تھی۔”

بلال اٹھ بیٹھا۔ اس نے مریم کی طرف دیکھا، پھر عائشہ کے چہرے کی طرف۔
“تم ٹھیک ہو؟”

عائشہ نے اثبات میں سر ہلایا، مگر اس کی آنکھوں میں تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔ بلال نے مریم کو آہستہ سے اپنی گود میں لے لیا۔
“تم لیٹ جاؤ، میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ بیٹھتا ہوں۔”

عائشہ نے انکار کرنا چاہا، مگر پھر رک گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ شاید اسے واقعی آرام کی ضرورت ہے۔ وہ لیٹ گئی، مگر نیند فوراً نہیں آئی۔ وہ بلال کو دیکھتی رہی جو خاموشی سے مریم کو تھامے بیٹھا تھا، جیسے ہر سانس کے ساتھ اسے یقین دلا رہا ہو کہ سب ٹھیک ہے۔

صبح جب سورج کی روشنی کمرے میں پھیلی تو عائشہ کی آنکھ کھلی۔ مریم اس کے پاس سو رہی تھی اور بلال کرسی پر نیم دراز تھا، شاید وہ وہیں اونگھ گیا تھا۔ عائشہ کے دل میں ایک نرم سا احساس ابھرا۔ اس نے بلال کو جگایا نہیں، بس خاموشی سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔

چائے بناتے ہوئے اس کے ذہن میں پچھلے چند مہینے گھومنے لگے۔ شادی کے شروع دن، پھر حمل، پھر مریم کی پیدائش۔ ہر مرحلہ ایک نئے امتحان کی طرح تھا۔ کبھی وہ خود کو مضبوط محسوس کرتی، کبھی ٹوٹا ہوا۔ مگر ہر بار، کسی نہ کسی طرح، وہ دونوں سنبھل ہی جاتے تھے۔

بلال کچھ دیر بعد کچن میں آیا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھوں میں نیند کی لکیریں تھیں۔
“تم نے جگایا کیوں نہیں؟” اس نے ہلکے سے شکوے کے انداز میں کہا۔

عائشہ نے مسکرا کر چائے اس کے سامنے رکھ دی۔
“تم بھی تو نہیں جاگ رہے تھے۔”

وہ دونوں خاموشی سے چائے پینے لگے۔ پھر بلال نے کہا،
“عائشہ، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ تم سب کچھ اپنے اندر ہی رکھ لیتی ہو۔”

عائشہ نے کپ میز پر رکھا۔
“کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اگر میں نہ سنبھلی تو سب بکھر جائے گا۔”

بلال نے آہستہ سے کہا،
“اور مجھے لگتا ہے کہ اگر تم نہ بولو تو میں سمجھ نہیں پاؤں گا۔”

یہ بات عائشہ کے دل میں اتر گئی۔ اسے احساس ہوا کہ خاموشی بھی کبھی کبھی دیوار بن جاتی ہے۔ وہ کچھ لمحے خاموش رہی، پھر بولی،
“مجھے ڈر لگتا ہے، بلال۔ ہر وقت۔ یہ ڈر کہ کہیں میں اچھی ماں نہ بن پاؤں۔”

بلال نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“شاید یہی ڈر اس بات کا ثبوت ہے کہ تم اچھی ماں ہو۔”

عائشہ کی آنکھیں نم ہو گئیں، مگر یہ آنسو کمزوری کے نہیں تھے۔ یہ اس بوجھ کے ہلکا ہونے کے آنسو تھے جو وہ اکیلے اٹھائے پھر رہی تھی۔

دن گزرتے گئے۔ کبھی مریم رات کو جاگتی، کبھی دن میں بے وجہ روتی۔ کبھی عائشہ تھک جاتی، کبھی بلال۔ مگر اب وہ ایک دوسرے سے بات کرنے لگے تھے۔ چھوٹی باتیں، چھوٹے خدشات، سب بانٹنے لگے تھے۔

ایک دن عائشہ نے خود کو آئینے میں دیکھا۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی، مگر آنکھوں میں ایک نئی مضبوطی بھی۔ وہ اب جان چکی تھی کہ کامل ہونا ضروری نہیں، بس موجود ہونا کافی ہے۔

اور بلال، وہ اب سمجھ گیا تھا کہ باپ ہونا صرف ذمہ داری نہیں، بلکہ شراکت داری ہے۔ راتوں کی نیند، دن کی تھکن، اور دل کے خدشات، سب برابر کے ہوتے ہیں۔

گھر اب بھی وہی تھا، وہی دیواریں، وہی کمرے۔ مگر ان کے اندر رہنے والے لوگ بدل رہے تھے۔ آہستہ آہستہ، مگر گہرائی کے ساتھ۔

اور کہیں نہ کہیں، اس خاموش تبدیلی میں، وہ نیل کٹر والا واقعہ ایک مسکراہٹ بن چکا تھا۔ ایک یاد جو انہیں یاد دلاتی تھی کہ کبھی کبھی زندگی کی سب سے بڑی سچائیاں چھوٹی سی بات میں چھپی ہوتی ہیں۔

دن ایسے گزرنے لگے جیسے ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہوں۔ کبھی صبح جلدی آ جاتی، کبھی رات ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ عائشہ نے محسوس کیا کہ وقت اب گھڑی سے نہیں ناپا جاتا تھا، بلکہ مریم کی نیند، اس کے رونے، اس کی مسکراہٹ اور اس کے خاموش رہنے سے پہچانا جاتا تھا۔

ایک دوپہر عائشہ مریم کو نہلا رہی تھی۔ ننھا سا ٹب، نیم گرم پانی، اور مریم کی بے ترتیب سی حرکتیں۔ مریم کبھی پانی پر ہاتھ مارتی، کبھی اچانک رونے لگتی۔ عائشہ نے اسے مضبوطی سے تھاما ہوا تھا، مگر دل میں ہلکا سا خوف پھر بھی موجود تھا۔ ہر نئی ذمہ داری کے ساتھ ایک نیا ڈر بھی جنم لیتا تھا۔

بلال دروازے کے پاس کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔
“میں مدد کروں؟” اس نے پوچھا۔

عائشہ نے لمحہ بھر کو سوچا، پھر کہا،
“ہاں، تولیہ پکڑا دو۔”

یہ چھوٹی سی بات تھی، مگر عائشہ کے لیے ایک قدم تھا۔ پہلے وہ سب کچھ خود کرنا چاہتی تھی، اب وہ سیکھ رہی تھی کہ مدد مانگنا کمزوری نہیں۔

نہلانے کے بعد مریم کو تولیے میں لپیٹ کر بلال نے گود میں لیا۔ وہ اس کے چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا، جیسے ہر دن اسے کوئی نیا پہلو نظر آتا ہو۔
“یہ کتنی جلدی بڑی ہو رہی ہے،” وہ آہستہ سے بولا۔

عائشہ نے مسکرا کر کہا،
“اور ہم؟ ہم بھی تو بدل رہے ہیں۔”

شام کو بلال کی امی کا فون آیا۔ وہ مریم کی خیریت پوچھ رہی تھیں، ساتھ ہی ہلکے پھلکے مشورے بھی دے رہی تھیں۔ عائشہ فون بند کرنے کے بعد کچھ دیر خاموش رہی۔ ساس کی باتوں میں نرمی تھی، مگر عائشہ کے دل میں ایک پرانا سا دباؤ بھی جاگ اٹھا۔ سب کی توقعات، سب کے مشورے، اور درمیان میں وہ خود۔

بلال نے اس کی خاموشی محسوس کی۔
“امی کی باتوں کا برا لگا؟”

عائشہ نے فوراً انکار کیا۔
“نہیں… بس کبھی کبھی لگتا ہے کہ سب کو مجھ سے بہتر معلوم ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔”

بلال نے اس کی بات غور سے سنی۔
“لوگ باتیں کریں گے۔ ہم بس وہ کریں گے جو ہمیں درست لگے۔”

یہ سادہ سا جملہ عائشہ کے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ شادی کے بعد سب سے اہم چیز ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، چاہے دنیا کچھ بھی کہے۔

کچھ دن بعد مریم کو معمولی سا زکام ہو گیا۔ عائشہ کا دل بیٹھ سا گیا۔ وہ بار بار اس کی ناک صاف کرتی، تھرما میٹر دیکھتی، اور ہر چھینک پر چونک جاتی۔ بلال نے اسے سمجھایا کہ یہ عام بات ہے، مگر عائشہ کے لیے یہ عام نہیں تھی۔ یہ اس کی پہلی اولاد تھی، اس کا پہلا خوف۔

رات کو جب مریم سو گئی تو عائشہ صوفے پر بیٹھی رہی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر وہ رو نہیں رہی تھی۔ بلال اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
“تم تھک گئی ہو،” اس نے کہا۔

عائشہ نے دھیمی آواز میں جواب دیا،
“مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں کہیں کچھ غلط نہ کر بیٹھوں۔”

بلال نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“غلطیاں سب کرتے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ نیت ٹھیک ہو۔ اور تمہاری نیت سے زیادہ صاف کچھ نہیں۔”

اس رات عائشہ نے پہلی بار خود کو رونے دیا۔ یہ رونا کمزوری کا نہیں تھا، بلکہ تھکن، خوف اور محبت سب کا ملا جلا اظہار تھا۔ بلال خاموشی سے اس کے پاس بیٹھا رہا، بغیر کسی نصیحت کے، بغیر کسی حل کے۔ بس موجود رہا۔

وقت کے ساتھ مریم کے رونے کی آواز میں فرق آنے لگا۔ کبھی وہ مسکرا دیتی، کبھی بے وجہ ہاتھ ہلاتی۔ عائشہ کو ان چھوٹی تبدیلیوں میں خوشی ملنے لگی۔ وہ اب ہر چیز کو مسئلہ نہیں سمجھتی تھی، بلکہ سیکھنے کا موقع ماننے لگی تھی۔

ایک دن الماری صاف کرتے ہوئے عائشہ کی نظر پھر انہی ننھے نیل کٹر پر پڑی۔ اس نے انہیں ہاتھ میں لیا اور مسکرا دی۔ وہ واقعہ جو کبھی اسے پریشان کر گیا تھا، اب ایک سبق بن چکا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ شاید زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ چھوٹی سی بات، بڑا احساس، اور پھر وقت کے ساتھ اس کا مطلب بدل جاتا ہے۔

بلال کمرے میں آیا تو عائشہ نے ہنستے ہوئے کہا،
“تمہیں یاد ہے یہ؟”

بلال نے فوراً پہچان لیا۔
“ہاں، وہ تاریخی دن۔”

دونوں ہنس پڑے۔ یہ ہنسی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ آگے بڑھ چکے ہیں۔ کامل نہیں بنے تھے، مگر پہلے سے زیادہ سمجھدار ہو گئے تھے۔

رات کو جب وہ دونوں مریم کے پاس بیٹھے اسے سوتا دیکھ رہے تھے تو عائشہ نے دل میں ایک سکون محسوس کیا۔ زندگی اب بھی مشکل تھی، مگر تنہا نہیں تھی۔

اور یہی اس کہانی کی اصل بات تھی۔
مسائل آئیں گے، چھوٹے بھی، بڑے بھی۔ مگر جب دو لوگ ایک دوسرے کے احساسات کو سننا سیکھ لیں، تو حتیٰ کہ ایک نیل کٹر بھی رشتے کو توڑنے کے بجائے جوڑنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

کچھ مہینے گزر گئے۔ مریم اب صرف سونے اور رونے تک محدود نہیں رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ آوازیں نکالنے لگی تھی، ہاتھ پاؤں زور سے ہلاتی، اور کبھی کبھی اچانک ایسی مسکراہٹ بکھیر دیتی کہ عائشہ کا سارا دن روشن ہو جاتا۔

عائشہ اکثر اسے فرش پر بچھے نرم قالین پر لٹا دیتی اور خود پاس بیٹھ کر اس کی حرکتیں دیکھتی رہتی۔ مریم کی آنکھوں میں اب ایک تجسس تھا، جیسے وہ دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ عائشہ کو یہ دیکھ کر احساس ہوتا کہ وقت واقعی رکنے والا نہیں۔

بلال کی مصروفیات بڑھ گئی تھیں۔ دفتر میں نئے منصوبے شروع ہو گئے تھے، اور وہ اکثر تھکا ہوا گھر آتا تھا۔ پہلے عائشہ اس بات کو دل پر لے لیتی تھی، مگر اب وہ سمجھنے لگی تھی کہ خاموشی ہمیشہ بے توجہی نہیں ہوتی، کبھی کبھی صرف تھکن ہوتی ہے۔

ایک شام بلال غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ اس نے کھانا بھی کم کھایا اور زیادہ بات نہیں کی۔ عائشہ نے نوٹ کیا، مگر فوراً سوال نہیں کیا۔ مریم کو سلا کر وہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔

کچھ دیر بعد بلال خود بول پڑا۔
“آج دفتر میں اچھی خبر نہیں ملی۔”

عائشہ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر کہا،
“کیا ہوا؟”

بلال نے گہری سانس لی۔
“منصوبہ جس پر میں پچھلے چھ مہینوں سے کام کر رہا تھا، وہ روک دیا گیا ہے۔”

عائشہ نے کچھ لمحے سوچا، پھر کہا،
“اور تم؟ تم ٹھیک ہو؟”

بلال چونکا۔ شاید وہ یہی سوال سننے کا عادی نہیں تھا۔
“پتہ نہیں۔ بس خالی سا لگ رہا ہے۔”

عائشہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“کبھی کبھی مردوں کو بھی خالی پن محسوس ہوتا ہے، بس وہ بول نہیں پاتے۔”

بلال ہلکا سا مسکرا دیا۔
“تم نے کب سے مجھے پڑھنا شروع کر دیا؟”

عائشہ نے کہا،
“جب سے میں خود کو سمجھنے لگی ہوں۔”

اس رات وہ دونوں دیر تک جاگتے رہے۔ باتیں کم ہوئیں، مگر خاموشی میں وزن نہیں تھا۔ وہ ایک دوسرے کی موجودگی کو محسوس کر رہے تھے، بغیر کسی حل کے، بغیر کسی منصوبے کے۔

اگلے دن عائشہ نے ایک چھوٹا سا فیصلہ کیا۔ اس نے بلال کے لیے اس کا پسندیدہ کھانا بنایا، خاص کوئی موقع نہیں تھا، بس دل چاہا تھا۔ بلال نے پہلا نوالہ لیتے ہی اسے دیکھا۔
“کیا بات ہے، آج خاص مہربانی؟”

عائشہ نے کندھے اچکا دیے۔
“بس ایسے ہی۔”

بلال نے دل ہی دل میں یہ “ایسے ہی” بہت محسوس کیا۔ وہ جان گیا کہ یہ ہمدردی ہے، وہ خاموش سہارا ہے جو لفظوں کے بغیر ملتا ہے۔

چند دن بعد مریم نے پہلی بار پلٹنے کی کوشش کی۔ عائشہ نے یہ منظر دیکھا تو خوشی سے اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے فوراً بلال کو آواز دی۔
“جلدی آؤ، دیکھو!”

بلال بھاگتا ہوا آیا اور دونوں نے مریم کی اس ننھی سی کامیابی پر ایسے خوشی منائی جیسے کوئی بہت بڑا کارنامہ ہو گیا ہو۔

اس لمحے بلال نے محسوس کیا کہ اس کی زندگی میں کامیابی کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ پہلے ترقی، تنخواہ اور تعریف سب کچھ تھی، اب مریم کا ایک پلٹنا بھی دنیا کی سب سے بڑی جیت لگ رہا تھا۔

عائشہ نے بلال کے چہرے پر یہ بدلاؤ محسوس کیا۔ اس نے سوچا کہ شاید یہ ہی خاندان ہونا ہے۔ ایک دوسرے کی خوشیوں اور ناکامیوں کو برابر کا سمجھنا۔

اسی رات جب وہ دونوں بستر پر لیٹے تھے تو بلال نے کہا،
“عائشہ، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں کافی نہیں ہوں۔”

عائشہ نے اس کی طرف رخ کیا۔
“کیوں؟”

بلال نے آہستہ سے کہا،
“کیونکہ میں ہر وقت یہاں نہیں ہو پاتا۔”

عائشہ نے نرمی سے جواب دیا،
“کافی ہونا ہر وقت موجود ہونے کا نام نہیں، دل سے جڑے ہونے کا نام ہے۔ اور تم دونوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہو۔”

بلال کی آنکھیں نم ہو گئیں، مگر اس نے پلکیں جھپک کر خود کو سنبھال لیا۔

زندگی اب بھی آسان نہیں تھی، مگر اب وہ دونوں ایک دوسرے کی کمزوریوں کو چھپانے کے بجائے سنبھالنے لگے تھے۔ مریم کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی بڑے ہو رہے تھے، سیکھ رہے تھے۔

اور اس گھر میں، جہاں کبھی ایک نیل کٹر نے بحث چھیڑی تھی، اب ہر دن ایک نئی سمجھداری، ایک نیا صبر، اور ایک نئی محبت جنم لے رہی تھی۔

وقت نے ایک اور کروٹ لی۔ مریم اب بیٹھنے لگی تھی، کبھی لڑکھڑاتی، کبھی توازن کھو دیتی، مگر ہر بار اس کی آنکھوں میں ضد سی جھلک آ جاتی، جیسے وہ ہار ماننے والوں میں سے نہ ہو۔ عائشہ اس کے پاس بیٹھی رہتی، ہاتھ آگے بڑھائے، مگر جان بوجھ کر اسے خود سنبھلنے دیتی۔ اسے لگتا تھا کہ شاید یہی تربیت ہے—ہر بار تھام لینا نہیں، کبھی کبھی گرنے دینا بھی۔

اس دن دوپہر کو عائشہ نے پہلی بار خود کے لیے وقت نکالا۔ اس نے مریم کو بلال کے حوالے کیا اور خاموشی سے نہا کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ آئینے میں نظر آنے والی عورت وہ نہیں تھی جو چند سال پہلے تھی۔ چہرے پر تھکن کی باریک لکیریں تھیں، مگر آنکھوں میں ایک ٹھہراؤ بھی تھا۔ اس نے اپنے بال سنوارے، ہلکی سی لپ اسٹک لگائی، اور خود کو دیکھ کر آہستہ سے مسکرا دی۔ شاید خود کو یاد دلانا ضروری تھا کہ وہ صرف ماں نہیں، عائشہ بھی ہے۔

بلال کمرے میں آیا تو چونک گیا۔
“آج کچھ بدلا بدلا لگ رہا ہے،” اس نے کہا۔

عائشہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا،
“شاید میں نے خود کو یاد کر لیا ہے۔”

بلال نے مریم کو گود میں اچھالتے ہوئے کہا،
“یہ اچھی بات ہے۔ ہمیں تمہاری ضرورت ہے، اور تمہیں اپنی بھی۔”

شام کو بلال کے والدین آنے والے تھے۔ عائشہ کے دل میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ لوگ محبت کرنے والے ہیں، مگر پھر بھی ماں بننے کے بعد ہر ملاقات ایک امتحان لگتی تھی۔ مریم کا رونا، اس کا سونا، اس کا کھانا—سب کچھ جیسے ایک نمائش بن جاتا تھا۔

دروازہ کھلا، مریم کی دادی نے فوراً اسے گود میں لے لیا۔ دعائیں، پیار، اور مشورے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ عائشہ نے خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی۔ اس بار اس نے ہر بات کو دل پر نہیں لیا۔ وہ بس سنتی رہی، مسکراتی رہی، اور جہاں ضروری سمجھا، وہیں رک گئی۔

بلال نے یہ سب دیکھا۔ اس نے محسوس کیا کہ عائشہ بدل رہی ہے—کم خوف زدہ، زیادہ پُراعتماد۔ اور شاید یہی تبدیلی اسے سب سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔

رات کو مہمان چلے گئے تو گھر میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ وہ خاموشی جو تھکن کے بعد آتی ہے۔ عائشہ صوفے پر بیٹھ گئی۔
“آج میں نے خود کو روکا،” اس نے کہا۔

بلال نے پوچھا،
“کس سے؟”

“ہر بات کا جواب دینے سے، ہر مشورے پر دفاع کرنے سے۔”
وہ رکی، پھر بولی، “مجھے احساس ہوا کہ سب کی باتیں میری ذمہ داری نہیں۔”

بلال نے سر ہلایا۔
“یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔”

کچھ دن بعد عائشہ نے محسوس کیا کہ وہ مریم کے بغیر بھی مسکرا سکتی ہے، اور مریم کے ساتھ بھی۔ اس نے ایک پرانی ڈائری نکالی اور اس میں چند سطریں لکھیں—اپنے خوف، اپنی تھکن، اور اپنی چھوٹی چھوٹی جیتیں۔ لکھتے ہوئے اس نے جانا کہ باتیں دل میں رہیں تو بوجھ بنتی ہیں، اور لفظوں میں ڈھل جائیں تو راستہ بناتی ہیں۔

اسی شام بلال نے دفتر سے واپسی پر خبر دی کہ اسے ایک نیا موقع ملا ہے۔ یہ وہی منصوبہ نہیں تھا جو بند ہو گیا تھا، مگر اس میں سیکھنے کی گنجائش تھی۔ عائشہ نے بنا کسی حساب کتاب کے خوشی کا اظہار کیا۔
“ہم سیکھتے رہیں گے،” اس نے کہا، “بس ساتھ رہیں۔”

رات کو جب مریم سو گئی تو دونوں بالکونی میں کھڑے تھے۔ نیچے سڑک پر زندگی چل رہی تھی—گاڑیاں، لوگ، روشنیوں کی لکیریں۔ عائشہ نے بلال کے کندھے پر سر رکھا۔
“کبھی کبھی مجھے لگتا ہے ہم بھی اسی سڑک کی طرح ہیں،” اس نے کہا، “رک نہیں سکتے، مگر سمت بدل سکتے ہیں۔”

بلال نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا،
“اور رفتار کم کر سکتے ہیں۔”

ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی۔ عائشہ نے دل ہی دل میں سوچا کہ شاید یہی سکون ہے—نہ سب ٹھیک، نہ سب خراب، بس قابلِ برداشت، قابلِ محبت۔

اور اس گھر میں، جہاں روزمرہ کی چھوٹی باتیں کبھی مسئلہ بن جاتی تھیں، اب وہی باتیں رشتے کی سلائی بن رہی تھیں۔ مریم سیکھ رہی تھی بیٹھنا، عائشہ سیکھ رہی تھی خود کو سنبھالنا، اور بلال سیکھ رہا تھا تھامے رکھنا—بغیر جکڑے ہوئے۔

کچھ سال یوں ہی گزر گئے، خاموشی سے، بغیر اعلان کے۔ وقت نے مریم کے قدموں میں مضبوطی بھر دی، اور عائشہ اور بلال کے دلوں میں ٹھہراؤ۔ وہ دن بھی آئے جب مریم اسکول کے پہلے دن بیگ اٹھائے دروازے پر کھڑی تھی، اور عائشہ کی آنکھوں میں وہی پرانا خوف اور وہی نئی امید اکٹھے جھلک رہے تھے۔

عائشہ اب بھی ہر چیز پر نظر رکھتی تھی، مگر اب اس نظر میں گھبراہٹ کم اور اعتماد زیادہ تھا۔ وہ جان چکی تھی کہ کامل ہونا ضروری نہیں، بس موجود رہنا کافی ہے۔ مریم کو گرنے سے وہ ہر بار نہیں بچاتی تھی، مگر ہر بار اٹھانا جانتی تھی۔

بلال نے بھی زندگی کو نئے معنی دیے تھے۔ کام اب بھی اہم تھا، مگر سب کچھ نہیں۔ وہ شامیں جو پہلے فائلوں اور فون کالز میں گم ہو جاتی تھیں، اب مریم کی کہانیوں، اس کے سوالوں اور اس کی ہنسی کے نام ہو چکی تھیں۔ وہ اب صرف کمانے والا نہیں تھا، وہ سننے والا بھی بن گیا تھا۔

ایک شام عائشہ الماری صاف کر رہی تھی۔ پرانی چیزوں کے بیچ ایک چھوٹا سا ڈبہ نکلا۔ اس نے ڈبہ کھولا تو اندر وہی ننھے نیل کٹر رکھے تھے۔ وہ رک گئی، پھر مسکرا دی۔ وہ چیز جو کبھی ایک بحث کا سبب بنی تھی، اب ایک یاد بن چکی تھی۔ ایک علامت—اس سفر کی جو انہوں نے ساتھ طے کیا تھا۔

بلال کمرے میں آیا تو عائشہ نے ڈبہ اس کے سامنے رکھ دیا۔
“یہ رکھیں، ہمارے رشتے کی پہلی بڑی لڑائی کا ثبوت۔”

بلال ہنس پڑا۔
“اور پہلی بڑی سمجھداری کا بھی۔”

مریم نے تجسس سے پوچھا،
“امی، یہ کیا ہے؟”

عائشہ نے اسے پاس بٹھا کر کہا،
“یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کبھی کبھی چھوٹی سی بات بھی بڑا سبق سکھا دیتی ہے۔”

مریم نے بات پوری طرح نہیں سمجھی، مگر مسکرا دی۔ شاید سمجھنا ضروری بھی نہیں تھا۔ کہانیاں اکثر بعد میں معنی اختیار کرتی ہیں۔

رات کو گھر خاموش تھا۔ مریم سو چکی تھی۔ عائشہ اور بلال بالکونی میں کھڑے تھے، وہی جگہ جہاں کبھی انہوں نے تھکن اور خوف بانٹے تھے۔ اب وہاں سکون تھا۔ عائشہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے کم تھے، مگر جو تھے، صاف دکھائی دے رہے تھے۔

بلال نے آہستہ سے کہا،
“اگر وہ دن نہ ہوتا… نیل کٹر والا…”

عائشہ نے بات مکمل کی،
“تو شاید ہم اتنا سیکھ نہ پاتے۔”

وہ دونوں مسکرا دیے۔ زندگی نے انہیں یہ سکھا دیا تھا کہ رشتے بڑے فیصلوں سے نہیں، چھوٹی سمجھداریوں سے بنتے ہیں۔ بات جیتنے سے نہیں، ایک دوسرے کو سننے سے آگے بڑھتے ہیں۔

دروازے کے پیچھے ایک گھر تھا—عام سا، مگر ان کے لیے مکمل۔ اس گھر میں شور بھی تھا، خاموشی بھی، تھکن بھی، اور محبت بھی۔ اور یہی سب کچھ مل کر زندگی بناتا ہے۔

عائشہ نے بلال کا ہاتھ تھام لیا۔ بلال نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ دبا دیا۔
کوئی وعدہ نہیں کیا گیا، کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ بس یہ خاموش یقین تھا کہ جو بھی آئے گا، وہ اکیلے نہیں آئیں گے۔

اور یوں ایک چھوٹی سی بات سے شروع ہونے والی کہانی، ایک بڑے سکون پر ختم ہوئی۔

Post a Comment for ""ایک چھوٹی سی بات""