کچھ مہینے گزر گئے۔ مریم اب صرف سونے اور رونے تک محدود نہیں رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ آوازیں نکالنے لگی تھی، ہاتھ پاؤں زور سے ہلاتی، اور کبھی کبھی اچانک ایسی مسکراہٹ بکھیر دیتی کہ عائشہ کا سارا دن روشن ہو جاتا۔
عائشہ اکثر اسے فرش پر بچھے نرم قالین پر لٹا دیتی اور خود پاس بیٹھ کر اس کی حرکتیں دیکھتی رہتی۔ مریم کی آنکھوں میں اب ایک تجسس تھا، جیسے وہ دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ عائشہ کو یہ دیکھ کر احساس ہوتا کہ وقت واقعی رکنے والا نہیں۔
بلال کی مصروفیات بڑھ گئی تھیں۔ دفتر میں نئے منصوبے شروع ہو گئے تھے، اور وہ اکثر تھکا ہوا گھر آتا تھا۔ پہلے عائشہ اس بات کو دل پر لے لیتی تھی، مگر اب وہ سمجھنے لگی تھی کہ خاموشی ہمیشہ بے توجہی نہیں ہوتی، کبھی کبھی صرف تھکن ہوتی ہے۔
ایک شام بلال غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ اس نے کھانا بھی کم کھایا اور زیادہ بات نہیں کی۔ عائشہ نے نوٹ کیا، مگر فوراً سوال نہیں کیا۔ مریم کو سلا کر وہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
کچھ دیر بعد بلال خود بول پڑا۔
“آج دفتر میں اچھی خبر نہیں ملی۔”
عائشہ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر کہا،
“کیا ہوا؟”
بلال نے گہری سانس لی۔
“منصوبہ جس پر میں پچھلے چھ مہینوں سے کام کر رہا تھا، وہ روک دیا گیا ہے۔”
عائشہ نے کچھ لمحے سوچا، پھر کہا،
“اور تم؟ تم ٹھیک ہو؟”
بلال چونکا۔ شاید وہ یہی سوال سننے کا عادی نہیں تھا۔
“پتہ نہیں۔ بس خالی سا لگ رہا ہے۔”
عائشہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“کبھی کبھی مردوں کو بھی خالی پن محسوس ہوتا ہے، بس وہ بول نہیں پاتے۔”
بلال ہلکا سا مسکرا دیا۔
“تم نے کب سے مجھے پڑھنا شروع کر دیا؟”
عائشہ نے کہا،
“جب سے میں خود کو سمجھنے لگی ہوں۔”
اس رات وہ دونوں دیر تک جاگتے رہے۔ باتیں کم ہوئیں، مگر خاموشی میں وزن نہیں تھا۔ وہ ایک دوسرے کی موجودگی کو محسوس کر رہے تھے، بغیر کسی حل کے، بغیر کسی منصوبے کے۔
اگلے دن عائشہ نے ایک چھوٹا سا فیصلہ کیا۔ اس نے بلال کے لیے اس کا پسندیدہ کھانا بنایا، خاص کوئی موقع نہیں تھا، بس دل چاہا تھا۔ بلال نے پہلا نوالہ لیتے ہی اسے دیکھا۔
“کیا بات ہے، آج خاص مہربانی؟”
عائشہ نے کندھے اچکا دیے۔
“بس ایسے ہی۔”
بلال نے دل ہی دل میں یہ “ایسے ہی” بہت محسوس کیا۔ وہ جان گیا کہ یہ ہمدردی ہے، وہ خاموش سہارا ہے جو لفظوں کے بغیر ملتا ہے۔
چند دن بعد مریم نے پہلی بار پلٹنے کی کوشش کی۔ عائشہ نے یہ منظر دیکھا تو خوشی سے اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے فوراً بلال کو آواز دی۔
“جلدی آؤ، دیکھو!”
بلال بھاگتا ہوا آیا اور دونوں نے مریم کی اس ننھی سی کامیابی پر ایسے خوشی منائی جیسے کوئی بہت بڑا کارنامہ ہو گیا ہو۔
اس لمحے بلال نے محسوس کیا کہ اس کی زندگی میں کامیابی کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ پہلے ترقی، تنخواہ اور تعریف سب کچھ تھی، اب مریم کا ایک پلٹنا بھی دنیا کی سب سے بڑی جیت لگ رہا تھا۔
عائشہ نے بلال کے چہرے پر یہ بدلاؤ محسوس کیا۔ اس نے سوچا کہ شاید یہ ہی خاندان ہونا ہے۔ ایک دوسرے کی خوشیوں اور ناکامیوں کو برابر کا سمجھنا۔
اسی رات جب وہ دونوں بستر پر لیٹے تھے تو بلال نے کہا،
“عائشہ، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں کافی نہیں ہوں۔”
عائشہ نے اس کی طرف رخ کیا۔
“کیوں؟”
بلال نے آہستہ سے کہا،
“کیونکہ میں ہر وقت یہاں نہیں ہو پاتا۔”
عائشہ نے نرمی سے جواب دیا،
“کافی ہونا ہر وقت موجود ہونے کا نام نہیں، دل سے جڑے ہونے کا نام ہے۔ اور تم دونوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہو۔”
بلال کی آنکھیں نم ہو گئیں، مگر اس نے پلکیں جھپک کر خود کو سنبھال لیا۔
زندگی اب بھی آسان نہیں تھی، مگر اب وہ دونوں ایک دوسرے کی کمزوریوں کو چھپانے کے بجائے سنبھالنے لگے تھے۔ مریم کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی بڑے ہو رہے تھے، سیکھ رہے تھے۔
اور اس گھر میں، جہاں کبھی ایک نیل کٹر نے بحث چھیڑی تھی، اب ہر دن ایک نئی سمجھداری، ایک نیا صبر، اور ایک نئی محبت جنم لے رہی تھی۔
وقت نے ایک اور کروٹ لی۔ مریم اب بیٹھنے لگی تھی، کبھی لڑکھڑاتی، کبھی توازن کھو دیتی، مگر ہر بار اس کی آنکھوں میں ضد سی جھلک آ جاتی، جیسے وہ ہار ماننے والوں میں سے نہ ہو۔ عائشہ اس کے پاس بیٹھی رہتی، ہاتھ آگے بڑھائے، مگر جان بوجھ کر اسے خود سنبھلنے دیتی۔ اسے لگتا تھا کہ شاید یہی تربیت ہے—ہر بار تھام لینا نہیں، کبھی کبھی گرنے دینا بھی۔
اس دن دوپہر کو عائشہ نے پہلی بار خود کے لیے وقت نکالا۔ اس نے مریم کو بلال کے حوالے کیا اور خاموشی سے نہا کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ آئینے میں نظر آنے والی عورت وہ نہیں تھی جو چند سال پہلے تھی۔ چہرے پر تھکن کی باریک لکیریں تھیں، مگر آنکھوں میں ایک ٹھہراؤ بھی تھا۔ اس نے اپنے بال سنوارے، ہلکی سی لپ اسٹک لگائی، اور خود کو دیکھ کر آہستہ سے مسکرا دی۔ شاید خود کو یاد دلانا ضروری تھا کہ وہ صرف ماں نہیں، عائشہ بھی ہے۔
بلال کمرے میں آیا تو چونک گیا۔
“آج کچھ بدلا بدلا لگ رہا ہے،” اس نے کہا۔
عائشہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا،
“شاید میں نے خود کو یاد کر لیا ہے۔”
بلال نے مریم کو گود میں اچھالتے ہوئے کہا،
“یہ اچھی بات ہے۔ ہمیں تمہاری ضرورت ہے، اور تمہیں اپنی بھی۔”
شام کو بلال کے والدین آنے والے تھے۔ عائشہ کے دل میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ لوگ محبت کرنے والے ہیں، مگر پھر بھی ماں بننے کے بعد ہر ملاقات ایک امتحان لگتی تھی۔ مریم کا رونا، اس کا سونا، اس کا کھانا—سب کچھ جیسے ایک نمائش بن جاتا تھا۔
دروازہ کھلا، مریم کی دادی نے فوراً اسے گود میں لے لیا۔ دعائیں، پیار، اور مشورے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ عائشہ نے خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی۔ اس بار اس نے ہر بات کو دل پر نہیں لیا۔ وہ بس سنتی رہی، مسکراتی رہی، اور جہاں ضروری سمجھا، وہیں رک گئی۔
بلال نے یہ سب دیکھا۔ اس نے محسوس کیا کہ عائشہ بدل رہی ہے—کم خوف زدہ، زیادہ پُراعتماد۔ اور شاید یہی تبدیلی اسے سب سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔
رات کو مہمان چلے گئے تو گھر میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ وہ خاموشی جو تھکن کے بعد آتی ہے۔ عائشہ صوفے پر بیٹھ گئی۔
“آج میں نے خود کو روکا،” اس نے کہا۔
بلال نے پوچھا،
“کس سے؟”
“ہر بات کا جواب دینے سے، ہر مشورے پر دفاع کرنے سے۔”
وہ رکی، پھر بولی، “مجھے احساس ہوا کہ سب کی باتیں میری ذمہ داری نہیں۔”
بلال نے سر ہلایا۔
“یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔”
کچھ دن بعد عائشہ نے محسوس کیا کہ وہ مریم کے بغیر بھی مسکرا سکتی ہے، اور مریم کے ساتھ بھی۔ اس نے ایک پرانی ڈائری نکالی اور اس میں چند سطریں لکھیں—اپنے خوف، اپنی تھکن، اور اپنی چھوٹی چھوٹی جیتیں۔ لکھتے ہوئے اس نے جانا کہ باتیں دل میں رہیں تو بوجھ بنتی ہیں، اور لفظوں میں ڈھل جائیں تو راستہ بناتی ہیں۔
اسی شام بلال نے دفتر سے واپسی پر خبر دی کہ اسے ایک نیا موقع ملا ہے۔ یہ وہی منصوبہ نہیں تھا جو بند ہو گیا تھا، مگر اس میں سیکھنے کی گنجائش تھی۔ عائشہ نے بنا کسی حساب کتاب کے خوشی کا اظہار کیا۔
“ہم سیکھتے رہیں گے،” اس نے کہا، “بس ساتھ رہیں۔”
رات کو جب مریم سو گئی تو دونوں بالکونی میں کھڑے تھے۔ نیچے سڑک پر زندگی چل رہی تھی—گاڑیاں، لوگ، روشنیوں کی لکیریں۔ عائشہ نے بلال کے کندھے پر سر رکھا۔
“کبھی کبھی مجھے لگتا ہے ہم بھی اسی سڑک کی طرح ہیں،” اس نے کہا، “رک نہیں سکتے، مگر سمت بدل سکتے ہیں۔”
بلال نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا،
“اور رفتار کم کر سکتے ہیں۔”
ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک تھی۔ عائشہ نے دل ہی دل میں سوچا کہ شاید یہی سکون ہے—نہ سب ٹھیک، نہ سب خراب، بس قابلِ برداشت، قابلِ محبت۔
اور اس گھر میں، جہاں روزمرہ کی چھوٹی باتیں کبھی مسئلہ بن جاتی تھیں، اب وہی باتیں رشتے کی سلائی بن رہی تھیں۔ مریم سیکھ رہی تھی بیٹھنا، عائشہ سیکھ رہی تھی خود کو سنبھالنا، اور بلال سیکھ رہا تھا تھامے رکھنا—بغیر جکڑے ہوئے۔
کچھ سال یوں ہی گزر گئے، خاموشی سے، بغیر اعلان کے۔ وقت نے مریم کے قدموں میں مضبوطی بھر دی، اور عائشہ اور بلال کے دلوں میں ٹھہراؤ۔ وہ دن بھی آئے جب مریم اسکول کے پہلے دن بیگ اٹھائے دروازے پر کھڑی تھی، اور عائشہ کی آنکھوں میں وہی پرانا خوف اور وہی نئی امید اکٹھے جھلک رہے تھے۔
عائشہ اب بھی ہر چیز پر نظر رکھتی تھی، مگر اب اس نظر میں گھبراہٹ کم اور اعتماد زیادہ تھا۔ وہ جان چکی تھی کہ کامل ہونا ضروری نہیں، بس موجود رہنا کافی ہے۔ مریم کو گرنے سے وہ ہر بار نہیں بچاتی تھی، مگر ہر بار اٹھانا جانتی تھی۔
بلال نے بھی زندگی کو نئے معنی دیے تھے۔ کام اب بھی اہم تھا، مگر سب کچھ نہیں۔ وہ شامیں جو پہلے فائلوں اور فون کالز میں گم ہو جاتی تھیں، اب مریم کی کہانیوں، اس کے سوالوں اور اس کی ہنسی کے نام ہو چکی تھیں۔ وہ اب صرف کمانے والا نہیں تھا، وہ سننے والا بھی بن گیا تھا۔
ایک شام عائشہ الماری صاف کر رہی تھی۔ پرانی چیزوں کے بیچ ایک چھوٹا سا ڈبہ نکلا۔ اس نے ڈبہ کھولا تو اندر وہی ننھے نیل کٹر رکھے تھے۔ وہ رک گئی، پھر مسکرا دی۔ وہ چیز جو کبھی ایک بحث کا سبب بنی تھی، اب ایک یاد بن چکی تھی۔ ایک علامت—اس سفر کی جو انہوں نے ساتھ طے کیا تھا۔
بلال کمرے میں آیا تو عائشہ نے ڈبہ اس کے سامنے رکھ دیا۔
“یہ رکھیں، ہمارے رشتے کی پہلی بڑی لڑائی کا ثبوت۔”
بلال ہنس پڑا۔
“اور پہلی بڑی سمجھداری کا بھی۔”
مریم نے تجسس سے پوچھا،
“امی، یہ کیا ہے؟”
عائشہ نے اسے پاس بٹھا کر کہا،
“یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کبھی کبھی چھوٹی سی بات بھی بڑا سبق سکھا دیتی ہے۔”
مریم نے بات پوری طرح نہیں سمجھی، مگر مسکرا دی۔ شاید سمجھنا ضروری بھی نہیں تھا۔ کہانیاں اکثر بعد میں معنی اختیار کرتی ہیں۔
رات کو گھر خاموش تھا۔ مریم سو چکی تھی۔ عائشہ اور بلال بالکونی میں کھڑے تھے، وہی جگہ جہاں کبھی انہوں نے تھکن اور خوف بانٹے تھے۔ اب وہاں سکون تھا۔ عائشہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے کم تھے، مگر جو تھے، صاف دکھائی دے رہے تھے۔
بلال نے آہستہ سے کہا،
“اگر وہ دن نہ ہوتا… نیل کٹر والا…”
عائشہ نے بات مکمل کی،
“تو شاید ہم اتنا سیکھ نہ پاتے۔”
وہ دونوں مسکرا دیے۔ زندگی نے انہیں یہ سکھا دیا تھا کہ رشتے بڑے فیصلوں سے نہیں، چھوٹی سمجھداریوں سے بنتے ہیں۔ بات جیتنے سے نہیں، ایک دوسرے کو سننے سے آگے بڑھتے ہیں۔
دروازے کے پیچھے ایک گھر تھا—عام سا، مگر ان کے لیے مکمل۔ اس گھر میں شور بھی تھا، خاموشی بھی، تھکن بھی، اور محبت بھی۔ اور یہی سب کچھ مل کر زندگی بناتا ہے۔
عائشہ نے بلال کا ہاتھ تھام لیا۔ بلال نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ دبا دیا۔
کوئی وعدہ نہیں کیا گیا، کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ بس یہ خاموش یقین تھا کہ جو بھی آئے گا، وہ اکیلے نہیں آئیں گے۔
اور یوں ایک چھوٹی سی بات سے شروع ہونے والی کہانی، ایک بڑے سکون پر ختم ہوئی۔
Post a Comment for ""ایک چھوٹی سی بات""