Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

محبت اور زندگی کے فیصلے


 میرا نام شازیہ خان ہے، اور میری عمر 55 سال ہے۔ میرا تعلق ایک انتہائی امیر اور باعزت خاندان سے ہے۔ والدین دونوں ڈاکٹر تھے، والدہ ایک مشہور ہسپتال میں سرجن، اور والد مشہور سرجن اور محقق۔ میرے دونوں بھائی وکیل ہیں، بڑے بھائی فہد خان ملک کے سب سے بڑے لاء فرم کے مالک ہیں، اور تین بار وکلاء کمیٹی کے صدر رہ چکے ہیں۔ میری بڑی بہن سارا خان آنکولوجسٹ ہیں۔ میں خاندان کی سب سے چھوٹی تھی، اور ہمیشہ سے سب کی محبت اور توجہ کا مرکز رہی۔ ہر کسی کو لگتا تھا کہ میری زندگی روشن مستقبل کی ضمانت ہے، تعلیم، عزت اور دولت سب کچھ میرے پاس ہے۔

لیکن میں نے جوانی میں ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے میری زندگی کی سمت ہی بدل دی۔

میں صرف بیس سال کی تھی جب میں نے اپنی محبت زاہد سے شادی کر لی۔ زاہد ایک کار مکینک تھا، جس کا اپنا ورکشاپ تھا۔ وہ مجھ سے پانچ سال بڑا تھا۔ میں اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی اور میں نے دل کی سنتے ہوئے، اپنے خاندان کی نصیحتیں اور انتباہات نظرانداز کر دیے۔ والدین اور بھائیوں نے بار بار کہا کہ میں نے اپنی زندگی ضائع کر دی، کہ میڈیکل کی تعلیم چھوڑ کر گھر بیٹھ جانا میری صلاحیتوں کی توہین ہے، اور وہ شخص جس سے میں شادی کرنے جا رہی ہوں، ہمارے خاندان کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔ میں نے سب کچھ نظر انداز کر دیا۔

جب ہم نے شادی کی، تو میرے خاندان نے مجھے چھوڑ دیا۔ والدین اور بہن بھائیوں نے مجھے خانوادہ سے الگ کر دیا۔ شروع میں مجھے لگا شاید اب آزادی ہے، شاید اب میں خوش ہوں گی۔ اور واقعی، پہلے چند سال خوشی کے لمحے تھے۔ ہم نے چار بچے پیدا کیے: تین بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ زاہد ہمیشہ میرا خیال رکھتا اور ہم چھوٹے مگر سکون والے گھر میں خوش تھے۔

لیکن زندگی نے ہمیں آسان نہیں چھوڑا۔ تیرہ سال پہلے، زاہد ایک شدید کام کے حادثے کا شکار ہوئے اور جزوی طور پر معذور ہو گئے۔ اس کے بعد ان کا ورکشاپ بند ہو گیا اور ہم مالی مشکلات میں گھر گئے۔ میں نے کبھی کام نہیں کیا تھا، اپنی تعلیم مکمل نہیں کی تھی، اور اچانک میری زندگی کے سارے سہارا چھن گئے۔

میرے بڑے بھائی فہد، جس سے ہم برسوں سے بات نہیں کر رہے تھے، اچانک آئے اور اپنے لاء فرم میں مجھے سیکریٹری کی نوکری دی۔ تنخواہ معمولی تھی، اور وہ مجھے دوسرے ملازمین کی طرح ہی ٹریٹ کرتے تھے، مگر میں شکر گزار تھی کہ کم از کم کسی نے میرا ہاتھ پکڑا۔ وہ کبھی ذاتی تعلقات کے لیے دلچسپی نہیں لیتے، اور نہ مجھے خاندان میں شامل ہونے کی پیشکش کرتے، لیکن میں دل سے شکر گزار تھی۔

اسی دوران میرے والدین نے چند ماہ کے فرق سے اس دنیا کو چھوڑ دیا اور مجھے اپنی وصیت میں مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ یہ میرے لیے ایک اور دھچکا تھا۔

سال گزرتے گئے۔ میری بیٹیاں اب سب ڈاکٹر ہیں اور ریزیڈنسی کر رہی ہیں، اور میں ان پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ میرا بیٹا زاہد کی طرح ایک مکینک بن گیا۔ میں نے ہمیشہ اپنی زندگی کی سہولیات قربان کر کے انہیں اعلی تعلیم دلانے کی کوشش کی۔ مگر دل کے اندر خالی پن اور پچھتاوا ہمیشہ موجود رہا۔

زاہد چار سال پہلے انتقال کر گئے۔ ان کے بغیر زندگی اور بھی مشکل ہو گئی۔ میں اکثر دن کے آخر میں سوچتی ہوں کہ اگر میں نے تعلیم جاری رکھی ہوتی، اگر میں نے خاندان کی نصیحتیں سنی ہوتیں، تو شاید آج میں مختلف زندگی گزار رہی ہوتی۔ اب میں مالی پریشانیوں میں گھری ہوئی ہوں، کبھی سوچتی ہوں کہ ماہ کے آخر تک کھانے کے پیسے کافی ہوں گے یا نہیں۔

میں اکثر فیس بک پر اپنے بہن بھائیوں کو دیکھتی ہوں۔ وہ سب خوشحال زندگی گزار رہے ہیں، بچوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ، جبکہ میں ایک پرانی گاڑی چلا رہی ہوں، اور میرا بھائی فہد حال ہی میں نئی لکسس ایس یو وی خرید لیتا ہے۔ یہ منظر میرے دل میں شدید درد اور پچھتاوا پیدا کرتا ہے۔

میں اپنے بچوں سے بے حد محبت کرتی ہوں، اور زاہد سے بھی، جو ہمیشہ میرا خیال رکھتے تھے، مگر دل کے اندر یہ احساس رہتا ہے کہ میں نے اپنی تعلیم اور خوابوں کو قربان کر دیا۔ میں نے اپنے خاندان کی نصیحتوں کو نظر انداز کیا اور اب اس کا صدمہ ہر لمحے محسوس ہوتا ہے۔

میں جانتی ہوں کہ وقت واپس نہیں آئے گا۔ لیکن یہ سب تجربے مجھے یہ سبق دیتے ہیں کہ زندگی میں فیصلے کرتے وقت ہمیں عقل اور دل دونوں کی سننی چاہیے۔ محبت اور جذبات میں اندھا ہونا، زندگی کی قیمتی چیزیں کھو سکتا ہے۔ اور سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اپنی صلاحیتوں اور تعلیم کو کبھی نظرانداز نہ کریں، چاہے محبت یا حالات کچھ بھی کہیں۔

اب میں اپنے بچوں کی کامیابی پر فخر محسوس کرتی ہوں، اور ہر دن ان کی بہتر زندگی کے لیے کوشش کرتی ہوں، لیکن دل کے اندر ہمیشہ ایک پچھتاوا اور یاد رہے گا کہ میں نے کس طرح اپنی نوجوانی کے بہترین سال ضائع کیے۔ یہ کہانی میری زندگی کا سب سے بڑا سبق اور دردناک حقیقت ہے، جسے میں کبھی نہیں بھول سکتی۔

Post a Comment for "محبت اور زندگی کے فیصلے"