یہ اسی صبح کا قصہ ہے جس دن میری سب سے قریبی دوست اپنی زندگی کے پہلے بچے کو جنم دینے جا رہی تھی۔ ایک ایسی صبح جو بظاہر بالکل عام تھی، مگر قسمت نے اس میں ایسا موڑ ڈال رکھا تھا جسے میں زندگی بھر نہیں بھول سکوں گی۔
میری دوست، جس کا نام میں یہاں ماہین رکھوں گی، ہسپتال میں تھی۔ دردِ زہ کا سفر شروع ہو چکا تھا، اور اس کے شوہر عاصم اس کے ساتھ تھے۔ میں ان دونوں کے لیے خوش بھی تھی، فکرمند بھی، اور جذباتی بھی۔ ماہین نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ میں اس کے گھر آ کر اس کے کتے کی دیکھ بھال کر لوں۔ اسے ایک حسین مگر بے حد ضدی ہسکی تھی، جس کا نام برفان تھا۔ میرے پاس اپنی ایک ننھی سی منی برنڈوڈل تھی، جس کا نام لُونا تھا۔ دونوں کی دوستی مشہور تھی، اس لیے میں نے سوچا کہ ایک رات وہیں رک جانا بہتر ہوگا تاکہ صبح سب کچھ آسانی سے سنبھال سکوں۔
رات پُرسکون گزری۔ دونوں کتے ایک دوسرے کے ساتھ ایسے گھلے ملے تھے جیسے برسوں کے ساتھی ہوں۔ کبھی برفان لُونا کے پیچھے صوفے کے گرد دوڑتا، کبھی لُونا اپنی چھوٹی ٹانگوں کے ساتھ پوری سنجیدگی سے اس کے برابر چلنے کی کوشش کرتی۔ میں ان دونوں کو دیکھ کر مسکراتی رہی، دل میں سوچتی رہی کہ زندگی میں کچھ لمحے واقعی ایسے ہوتے ہیں جن میں کوئی فکر شامل نہیں ہوتی۔
جنوری کا مہینہ تھا، مگر اس صبح موسم عجیب طور پر گرم تھا۔ مڈویسٹ کی سردیوں میں ایسی نرمی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ صبح سویرے میں جاگی، پردے ہٹائے تو دھوپ اندر جھانک رہی تھی۔ دونوں کتوں کو باہر جانے دیا۔ انہوں نے اپنے معمول کے مطابق پورا صحن چھان مارا، برفان نے ہر گھاس کے تنکے کو ایسے سونگھا جیسے کوئی راز چھپا ہو، اور لُونا خوشی سے ادھر ادھر اچھلتی رہی۔
میں نے گھر سمیٹنا شروع کیا۔ ذہن میں یہی تھا کہ جب ماہین اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ واپس آئے گی تو گھر صاف ستھرا، پرسکون اور محبت سے بھرا ہوا ہونا چاہیے۔ میں نے برتن دھوئے، صوفے سیدھے کیے، کمبل تہہ کیے، اور ایک لمحے کو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا کہ میری دوست اب ماں بننے والی ہے۔ یہ خیال ہی مجھے جذباتی کرنے کے لیے کافی تھا۔
اس کے بعد میں نے شاور لیا، کپڑے بدلے، کام کے لیے لاگ اِن ہوئی۔ ایک میٹنگ کچھ دیر بعد تھی، اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میٹنگ سے پہلے اپنے گھر چلی جاؤں تاکہ اضافی مانیٹر استعمال کر سکوں۔ سب کچھ منصوبے کے مطابق لگ رہا تھا۔
جانے سے پہلے میں نے سوچا کہ کتوں کو ایک آخری بار باہر جانے دے دوں۔
میں نے پچھلا دروازہ کھولا۔ دونوں کتے باہر نکلے۔ چند لمحوں بعد لُونا فوراً واپس آ گئی، جیسے کہہ رہی ہو، “میرا کام ہو گیا۔” مگر برفان… وہ تو ہسکی تھی۔ اس نے وہی کیا جو ہسکی ہمیشہ کرتے ہیں۔ وہ دروازے کے پاس کھڑی ہو کر مجھے ایسے دیکھنے لگی جیسے کہہ رہی ہو، “میں تب آؤں گی جب میں چاہوں گی۔”
میں نے دروازہ ہلکا سا کھلا رکھا اور اس کا نام پکارا۔ کوئی ردِعمل نہیں۔ میں نے ٹریٹس اٹھائے، آواز لگائی۔ پھر بھی کچھ نہیں۔ آخرکار میں ٹریٹس کا تھیلا لے کر پورا باہر آ گئی، بس یہ سوچ کر کہ اسے قریب بلا لوں گی۔
اور پھر وہ آواز آئی۔
کلک۔
ایک لمحے کو مجھے لگا شاید میرا وہم ہے۔ میں نے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا۔ میرا دل جیسے سینے میں رک گیا ہو۔
دروازہ بند تھا۔
اور اوپر والا ڈیڈ بولٹ… اندر سے لاک ہو چکا تھا۔
میں نے جیبیں ٹٹولیں۔ کچھ نہیں۔ نہ فون۔ نہ چابیاں۔ نہ کوٹ۔ بس لیگیگز، لمبی آستین والی قمیض، ٹینس کے جوتے، اور ہاتھ میں کتے کے ٹریٹس کا تھیلا۔
میں نے شیشے سے اندر جھانکا۔ لُونا دروازے کے پاس کھڑی دم ہلا رہی تھی، جیسے کسی بڑے کارنامے پر فخر ہو۔ وہ حال ہی میں دروازے کھولنا سیکھ گئی تھی، ہینڈل نیچے دبا کر۔ لگتا تھا اس نے اگلا سبق بھی سیکھ لیا تھا: تالا لگانا۔
میں نے اسے سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ پیار سے بلایا، احکامات دیے، منت سماجت کی۔ وہ جوش سے پنجے مارتی رہی، مگر ڈیڈ بولٹ کے قریب بھی نہ گئی۔ برفان تھوڑے فاصلے پر بیٹھی مجھے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے میں کوئی ذہنی توازن کھو بیٹھی ہوں۔ سچ کہوں تو شاید وہ غلط بھی نہیں تھی۔
چند منٹ بعد حقیقت پوری طرح مجھ پر واضح ہو چکی تھی۔ میں باہر بند تھی۔ جنوری کا مہینہ، اگرچہ اس دن موسم نسبتاً بہتر تھا، مگر پھر بھی سردی تھی۔ اور میں بالکل بے بس۔
میرے سامنے تین راستے تھے۔
یا تو چار گھنٹے باہر بیٹھی رہوں۔
یا اس گھر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کروں جہاں لوگ اس وقت ہسپتال میں ایک نئی زندگی کا استقبال کر رہے تھے۔
یا کسی پڑوسی کے دروازے پر دستک دوں، ایک خوفزدہ، سردی سے کانپتی، اجنبی عورت کی طرح۔
میں نے تیسرا راستہ چنا۔
میں نے ایک کے بعد ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کوئی جواب نہیں۔ ہر خالی دروازہ میرے دل کی دھڑکن تیز کرتا جا رہا تھا۔ میں سردی میں ٹھٹھر رہی تھی، دل میں عجیب سا خوف تھا، ایک بے نام سی کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔
آخرکار ایک دروازہ کھلا۔
ایک بزرگ خاتون، گلابی رنگ کے غسل خانے والے کپڑوں میں، حیرت سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔ میں نے خود کو سنبھالا اور ساری صورتحال بتائی۔ کہ میں دوست کے کتے دیکھ رہی ہوں، اور خود کو باہر بند کر بیٹھی ہوں، اور میرے پاس کچھ بھی نہیں۔
انہوں نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر مجھے اندر بلا لیا۔ مجھے ایک کورڈ لیس فون پکڑایا۔ میں نے فون ہاتھ میں لیا اور اسی لمحے ایک اور خوف نے مجھے جکڑ لیا۔
مجھے کوئی فون نمبر یاد نہیں تھا۔
سن 2007 کے بعد سے میں نے کوئی نمبر یاد ہی نہیں رکھا تھا۔
مجھے اپنے والدین کے نمبر یاد تھے۔ میں نے ایک ایک کر کے سب کو کال کی۔ کوئی جواب نہیں۔ آج کے زمانے میں کون اجنبی نمبر اٹھاتا ہے؟
خاتون نے پوچھا کہ کیا ہم تالہ ساز یا پولیس کو فون کریں۔ میں نے فوراً انکار کر دیا۔ میں اس دن پولیس کو اس گھر کے قریب بھی نہیں بلانا چاہتی تھی جہاں ایک بچہ دنیا میں آ رہا تھا۔
تب مجھے اپنی ایک اور دوست یاد آئی، سحر۔ وہ بھی ہماری قریبی دوست تھی، اور اس کے پاس اس گھر کی اضافی چابی تھی۔ وہ ایک مڈل اسکول میں ٹیچر تھی۔
پڑوسن نے میری مدد سے اسکول کا نمبر گوگل کیا۔ میں نے دفتر میں کال کی۔ انہوں نے بتایا کہ سحر کلاس میں ہے۔ میں نے کہا، “یہ ایمرجنسی ہے۔” انہوں نے کال ملا دی۔
جب سحر نے فون اٹھایا تو اس کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔ شاید اسے لگا کہ ہسپتال میں کچھ ہو گیا ہے۔ میں نے فوراً کہا، “سب ٹھیک ہے، میں بس باہر بند ہو گئی ہوں۔”
اس کے پاس چابی تھی… مگر اس کے گھر میں۔ اس کی امی کے پاس۔ خدا اس عورت کو سلامت رکھے۔
پندرہ منٹ بعد سحر کی امی اپنی منی وین میں آئیں۔ انہوں نے مجھے اور برفان کو بٹھایا، چابی لی، واپس آئے، اور آخرکار میں گھر میں داخل ہوئی۔
لُونا صوفے پر سو رہی تھی۔
میں تیس منٹ کی میٹنگ میں پچیس منٹ لیٹ ہو چکی تھی۔
میں نے اپنے منیجر کو کال کی، سچ بتایا۔ اس نے ہنس کر کہا، “یہ تو کسی سِٹ کام کا سین لگتا ہے۔”
باقی دن بالکل معمول کے مطابق گزرا۔ شام کو بچے کی پیدائش ہوئی۔ ماں اور بچہ دونوں صحت مند تھے، خوش تھے۔
اور میں؟
میں جانتی ہوں کہ میں اس بچے کی سالگرہ کبھی نہیں بھولوں گی۔ کیونکہ جس دن میری بہترین دوست ماں بنی، اسی دن میرے کتے نے مجھے اور اس کے کتے کو گھر سے باہر بند کر دیا تھا۔
جب میں آخرکار گھر کے اندر داخل ہوئی تو دل میں عجیب سا خلا تھا، جیسے کوئی ہنگامہ گزر گیا ہو اور اب خاموشی اس کی گواہ بن کر رہ گئی ہو۔ میں نے دروازہ بند کیا، ڈیڈ بولٹ کو ایک لمحہ گھور کر دیکھا، اور بے اختیار ہنس دی۔ وہی ڈیڈ بولٹ جس نے مجھے چند گھنٹے پہلے بے بس، سردی میں کانپتی، اجنبی دروازوں پر دستک دیتی عورت بنا دیا تھا، اب بالکل معصوم لگ رہا تھا۔
لُونا صوفے پر ایسے سو رہی تھی جیسے دنیا کا کوئی کام اس کے ذمے نہ ہو۔ اس کے چھوٹے سے پیٹ کا اتار چڑھاؤ، اس کے سکون کی گواہی دے رہا تھا۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، نہ غصہ آیا، نہ شکایت۔ بس ایک تھکن سی دل میں اتری۔ برفان آہستہ آہستہ چلتی ہوئی میرے قریب آئی، اس کی آنکھوں میں وہی خاموش سنجیدگی تھی جو شاید اس سارے ڈرامے کے دوران بھی اس کے اندر رہی تھی۔ میں نے اس کے کان سہلائے اور دل ہی دل میں کہا کہ کم از کم تم نے تو میرا تماشہ نہیں بنایا۔
میں نے گھڑی دیکھی، میٹنگ ختم ہو چکی تھی۔ اب وضاحت دینے کا فائدہ نہیں تھا، مگر پھر بھی میں نے اپنے منیجر کو کال کی۔ سچ بتانا آسان نہیں ہوتا، مگر اس دن سچ خود ہی مزاح بن چکا تھا۔ اس کی ہنسی نے میرے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔ شاید بعض دن ایسے ہی ہوتے ہیں، جن میں سب کچھ الٹ پلٹ ہو کر بھی آخرکار اپنی جگہ پر آ جاتا ہے۔
کچھ دیر بعد میں نے کچن میں جا کر کافی بنائی۔ کپ ہاتھ میں پکڑے میں کھڑکی کے پاس کھڑی ہو گئی۔ باہر وہی صحن تھا، وہی گھاس، وہی جگہ جہاں چند گھنٹے پہلے میں نے خود کو بے یار و مددگار محسوس کیا تھا۔ مگر اب وہ منظر مختلف تھا۔ اب وہ جگہ ایک کہانی بن چکی تھی، ایک ایسا واقعہ جس پر شاید میں برسوں بعد ہنس سکوں گی۔
دوپہر کے وقت ہسپتال سے پیغام آیا۔ ماہین ٹھیک تھی، درد بڑھ رہا تھا، مگر سب معمول کے مطابق تھا۔ میں نے دل ہی دل میں دعا کی، آنکھیں بند کیں، اور پہلی بار اس دن مکمل سانس لیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ صبح کی ساری پریشانی، خوف اور بھاگ دوڑ کے بعد، اب مجھے اندر سے سکون محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے کائنات نے مجھے کسی اور طرح سے مصروف رکھا تھا تاکہ میں حد سے زیادہ فکرمند نہ ہو سکوں۔
شام ڈھلنے لگی۔ میں نے کتوں کو کھانا دیا، صحن میں ایک بار پھر باہر لے گئی، مگر اس بار دروازے سے ایک قدم بھی دور نہیں گئی۔ ڈیڈ بولٹ کو دو بار چیک کیا۔ لُونا نے مجھے دیکھا، شاید اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ آج اس کی استاد محتاط ہو چکی ہے۔
اور پھر وہ پیغام آیا۔
ایک ننھا سا وجود دنیا میں آ چکا تھا۔
ماہین ماں بن چکی تھی۔
میں کرسی پر بیٹھ گئی۔ آنکھوں میں نمی آ گئی، مگر لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ یہ دن، اپنی ساری بدنظمی، سردی، گھبراہٹ اور مضحکہ خیزی کے باوجود، مکمل ہو چکا تھا۔ ایک نئی زندگی نے جنم لیا تھا، اور میری زندگی میں ایک نئی یاد شامل ہو گئی تھی۔
میں نے سوچا کہ کبھی نہ کبھی میں اس بچے کو یہ کہانی سناؤں گی۔ بتاؤں گی کہ جس دن تم نے آنکھ کھولی، اسی دن ایک چھوٹے سے کتے نے مجھے یہ سکھایا کہ زندگی کبھی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی۔ کبھی تالا لگ جاتا ہے، کبھی دروازہ بند ہو جاتا ہے، اور کبھی اجنبی لوگ اپنی مہربانی سے ہمیں اندر بلا لیتے ہیں۔
رات کو میں نے صوفے پر لیٹ کر چھت کو دیکھا۔ لُونا میرے قدموں میں سمٹ آئی، برفان کمرے کے کونے میں آرام سے لیٹ گئی۔ گھر خاموش تھا، مگر یہ خاموشی خالی نہیں تھی۔ اس میں دن بھر کی ہنسی، خوف، تھکن اور خوشخبری سب شامل تھے۔
اور میں جانتی تھی، پورے یقین کے ساتھ، کہ یہ دن میری یادداشت سے کبھی محو نہیں ہوگا۔ کیونکہ کچھ دن صرف تاریخ نہیں ہوتے، وہ کہانیاں بن جاتے ہیں۔ اور یہ دن، ایک بچے کی پیدائش اور ایک عورت کے بند دروازے کے درمیان، ہمیشہ کے لیے میری زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔
رات گہری ہو چکی تھی۔ گھر میں ہلکی ہلکی روشنی تھی، جیسے سب کچھ دن بھر کے ہنگامے کے بعد خود بھی آرام چاہتا ہو۔ میں صوفے پر بیٹھی تھی، موبائل ہاتھ میں، مگر اسکرین کو دیکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب انسان جانتا ہے کہ جو محسوس ہو رہا ہے، اسے محفوظ کر لینا چاہیے، بغیر کسی تصویر، بغیر کسی لفظ کے۔ بس دل میں۔
کچھ دیر بعد ہسپتال سے آخری پیغام آیا۔ ماں اور بچہ دونوں سو رہے تھے۔ سب خیریت سے تھا۔ میں نے موبائل سینے سے لگا لیا، آنکھیں بند کیں، اور شکر ادا کیا۔ اس دن کی ساری گھبراہٹ، سردی، بے بسی اور بھاگ دوڑ جیسے ایک ہی سانس میں تحلیل ہو گئی۔
میں نے آہستہ سے اٹھ کر دروازے کی طرف دیکھا۔ وہی دروازہ، وہی تالا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر ڈیڈ بولٹ کو کھولا اور بند کیا، جیسے خود کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ اب سب میرے اختیار میں ہے۔ مگر اندر ہی اندر میں جانتی تھی کہ زندگی کبھی مکمل اختیار میں نہیں آتی۔ وہ ہمیشہ ہمیں کسی نہ کسی موڑ پر روک کر مسکرا دیتی ہے، جیسے کہہ رہی ہو کہ ذرا ٹھہر جاؤ، ابھی کہانی ختم نہیں ہوئی۔
لُونا نیند میں کروٹ بدلی اور ہلکی سی آواز نکالی۔ میں نے اس کے پاس بیٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اس ننھے سے وجود نے جانے انجانے میں مجھے ایک سبق دے دیا تھا۔ یہ کہ بعض اوقات ہم دروازے کھولنے سیکھ لیتے ہیں، مگر تالے بند ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اور پھر جب تالا لگ جاتا ہے، تو ہمیں انسانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اجنبی دروازے، مہربان ہاتھ، اور وہ لوگ جنہیں ہم شاید کبھی دوبارہ نہ دیکھیں، مگر جو ایک لمحے کے لیے ہماری پوری دنیا سنبھال لیتے ہیں۔
اگلی صبح میں نے گھر صاف کیا، کتوں کے بستر درست کیے، اور ہسپتال جانے کی تیاری کی۔ جب میں وہاں پہنچی اور ماہین نے اپنے بچے کو میری طرف بڑھایا، تو مجھے لگا جیسے یہ ساری کہانی اسی لمحے کے لیے لکھی گئی تھی۔ ننھی سی انگلیاں، بند آنکھیں، اور وہ سکون جو صرف نئی زندگی کے پاس ہوتا ہے۔ میں نے بچے کو تھامتے ہوئے مسکرا کر کہا، تم نہیں جانتی، مگر تمہاری آمد کے دن زندگی نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔
ماہین ہنس پڑی۔ شاید اسے اس دن کے تماشے کا اندازہ نہیں تھا، اور میں نے بھی سب کچھ نہیں بتایا۔ کچھ کہانیاں صرف دل میں رہنے کے لیے ہوتی ہیں، سنانے کے لیے نہیں۔
جب میں واپس نکلی تو سردی پھر سے محسوس ہوئی، مگر اس بار وہ تکلیف دہ نہیں تھی۔ یہ وہی سردی تھی جو انسان کو یاد دلاتی ہے کہ وہ زندہ ہے۔ میں نے گاڑی میں بیٹھ کر آخری بار اس گھر کی طرف دیکھا، جہاں ایک نیا باب شروع ہو چکا تھا۔
اور میں جانتی تھی کہ ہر سال جب اس بچے کی سالگرہ آئے گی، میرے دل میں ایک ہلکی سی ہنسی ابھرے گی۔ مجھے یاد آئے گا کہ اسی دن ایک دروازہ بند ہوا تھا، مگر کتنے ہی دل کھل گئے تھے۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی تھی، بس مکمل ہو گئی تھی۔ کیونکہ بعض دنوں کا انجام خوشی نہیں، بلکہ سمجھ ہوتا ہے۔ اور اس دن مجھے یہ سمجھ آ گئی تھی کہ زندگی کے سب سے یادگار لمحے اکثر انہی دنوں میں چھپے ہوتے ہیں جن میں سب کچھ الٹا ہو جاتا ہے

Post a Comment for "تولد اور تقدیر کا ایک دن"