Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

سفر جو لفظوں سے ہلکا ہو گیا


 وہ انچاس برس کی تھی، مگر زندگی نے اس کے کندھوں پر برسوں سے کہیں زیادہ وزن رکھ دیا تھا۔ اس کا نام میں نے عالیہ خان رکھا—ایک عام سا نام، مگر اس نام کے پیچھے ایک غیر معمولی صبر، تھکن اور محبت چھپی تھی۔ عالیہ کی ماں نسرین بیگم ایک نرسنگ ہوم میں رہتی تھیں، ایک ایسی بیماری کے ساتھ جو آہستہ آہستہ یادوں کو چراغ کی لو کی طرح مدھم کر دیتی ہے۔ ڈیمینشیا—ایک لفظ جو سننے میں سادہ ہے، مگر جینے میں بے حد بھاری۔

عالیہ ہفتے میں کئی دن ایک لمبا سفر طے کرتی۔ کبھی دو گھنٹے، کبھی تین—ہائی وے، خاموش سڑکیں، بدلتا موسم، اور گاڑی کے اندر چلتی ایک مسلسل خاموش جنگ۔ وہ پنسلوانیا میں رہتی تھی، ماں اوہائیو میں تھیں، اور راستے میں باپ سلیم خان کے لیے ویسٹ ورجینیا میں رکنا بھی اکثر ضروری ہو جاتا۔ سلیم خان خود کئی بیماریوں سے لڑ رہے تھے، مگر سب سے بڑا زخم وہ تھا جو کسی رپورٹ میں درج نہیں ہوتا—اپنی شریکِ حیات کو آہستہ آہستہ خود سے دور جاتا دیکھنا۔

یہ سفر پہلے سفر نہیں لگتا تھا، بلکہ ایک امتحان ہوتا تھا۔ سڑک پر گاڑی چل رہی ہوتی، مگر عالیہ کا ذہن رکا رہتا۔ وہ سوچتی رہتی: ماں کو آج کیا چاہیے ہوگا؟ نرسوں سے کیا بات کرنی ہے؟ باپ کو کیسے سمجھاؤں کہ کچھ فیصلے ناگزیر ہیں؟ کیا وہ صحیح کر رہی ہے؟ کیا وہ کافی ہے؟ گاڑی کے اندر یہ خیالات شور مچاتے، جیسے بند کمرے میں کئی آوازیں ایک ساتھ بولنے لگیں ہوں۔

پھر ایک دن، ایک عام سا دن، اس نے ریڈیو ایپ کھولی۔ نہ کسی خاص امید کے ساتھ، نہ کسی منصوبے کے تحت۔ بس یونہی۔ ایک آواز سنائی دی—سادہ، بے ساختہ، جیسے کوئی پرانا دوست بات کر رہا ہو۔ وہ ایک پوڈکاسٹ تھا، کہانیوں پر مبنی، مگر ان کہانیوں کے بیچ بیچ میزبان کی اپنی زندگی کی جھلکیاں بھی شامل تھیں۔ عالیہ کو یاد نہیں کہ پہلی کہانی کیا تھی، مگر اسے یہ یاد ہے کہ اس دن سڑک کچھ کم لمبی لگی تھی۔

آہستہ آہستہ وہ آواز اس کے سفر کا حصہ بن گئی۔ جیسے گاڑی میں ایک اور مسافر بیٹھ گیا ہو—خاموشی سے، مگر دل کو سہارا دینے والا۔ وہ پوڈکاسٹ اس کے لیے محض تفریح نہیں رہا؛ وہ پناہ گاہ بن گیا۔ جب خیالات حد سے بڑھنے لگتے، وہ آواز انہیں تھام لیتی۔ جب دل بھاری ہوتا، کوئی جملہ، کوئی قہقہہ، کسی یاد کا ذکر—سب کچھ ہلکا کر دیتا۔

میزبان کبھی اپنی ماں اور باپ کا ذکر کرتا، ان کی بیماری، ہسپتال کے چکر، وہ بے بسی جو ڈاکٹر کے کمرے میں محسوس ہوتی ہے، وہ خاموش دعا جو دل میں رہ جاتی ہے۔ عالیہ چونک جاتی—یہ تو اس کی اپنی کہانی تھی، کسی اور کی زبان میں۔ خاص طور پر ایک واقعہ، جس میں میزبان نے اپنے والد کے بارے میں بتایا—ایک جہاز، ایک کھڑکی، اور وہ باتیں جو سیاق و سباق سے باہر لگتی تھیں۔ عالیہ کو اپنی ماں یاد آ جاتی۔ نسرین بیگم بھی اکثر ایسی باتیں کہتیں جن کا کوئی ظاہری مطلب نہیں ہوتا۔ عالیہ کبھی الجھ جاتی، کبھی اداس، اور کبھی محض حیران کہ بیماری انسان کے ذہن میں کیسے کیسے راستے بنا دیتی ہے۔

مگر اس کہانی میں ایک بات اور بھی تھی—میزبان نے کہا تھا کہ وہ طوفان کے دوسری طرف آ چکا ہے۔ نقصان کا دکھ تھا، یاد کی کمی تھی، مگر وہ زندہ تھا، سانس لے رہا تھا، اور آگے بڑھ رہا تھا۔ عالیہ نے اس جملے کو دل میں باندھ لیا۔ جیسے سمندر میں کوئی زندگی بچانے والا حلقہ ہو۔ وہ خود ابھی طوفان میں تھی، مگر کسی نے اسے یقین دلایا تھا کہ دوسری طرف کنارہ موجود ہے۔

نرسنگ ہوم کے کمرے میں نسرین بیگم کبھی عالیہ کو پہچان لیتیں، کبھی نہیں۔ کبھی ہاتھ تھام کر کہتیں، “تم کب آئیں؟” جیسے ابھی ابھی آئی ہو۔ اور کبھی پوچھتیں، “میری بیٹی کہاں ہے؟” اس سوال پر عالیہ کے دل میں سوئی سی چبھتی، مگر وہ مسکرا کر کہتی، “میں یہی ہوں، امی۔” بعض دن اچھے ہوتے، بعض دن بہت مشکل۔ مگر ان سب دنوں کے بیچ، گاڑی کے سفر میں وہ آواز اس کے ساتھ ہوتی۔

اور ہنسی—وہ قہقہہ جو میزبان بے اختیار لگاتا، جیسے کسی بات پر خود بھی حیران ہو گیا ہو۔ عالیہ کو یاد ہے ایک دن وہ اتنا ہنسنے لگی کہ آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اسے خود پر حیرت ہوئی۔ وہ ہنسنا نہیں چاہتی تھی، یا شاید ہنسنا بھول گئی تھی۔ مگر اس قہقہے نے اسے زبردستی شامل کر لیا۔ اس لمحے، وہ محض ایک تھکی ہوئی بیٹی نہیں تھی؛ وہ ایک انسان تھی جو ہنس سکتی تھی۔

سلیم خان کے گھر رک کر، عالیہ اکثر باپ کے ساتھ خاموش بیٹھتی۔ وہ کم بولتا تھا، زیادہ سوچتا تھا۔ کبھی کبھار وہ ماں کے بارے میں کوئی پرانی بات سنا دیتا—جیسے وہ اب بھی وہیں ہو۔ عالیہ جانتی تھی کہ اس خاموشی کے پیچھے کتنا درد ہے۔ وہ باپ کو فیصلوں کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرتی، مگر جانتی تھی کہ یہ صرف انتظامی مسئلہ نہیں، ایک جذباتی جنگ ہے۔ ایسے دنوں کے بعد، واپسی کے سفر میں پوڈکاسٹ اس کے لیے مرہم بن جاتا۔

وقت کے ساتھ، عالیہ نے محسوس کیا کہ اس کے خیالات کی آواز کار میں کچھ کم ہو گئی ہے۔ وہ اب بھی سوچتی تھی، فکرمند رہتی تھی، مگر اب اس کے پاس ایک توازن تھا۔ کہانیاں سننا اسے یاد دلاتا کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ کہیں اور بھی لوگ ہیں جو اسی طرح کے بوجھ اٹھائے چل رہے ہیں۔ کہیں اور بھی بیٹیاں ہیں جو ماں باپ کے لیے خود کو پیچھے رکھ دیتی ہیں۔

ایک دن، نرسنگ ہوم سے نکلتے ہوئے، نسرین بیگم نے اچانک عالیہ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ “ڈرنا مت،” انہوں نے کہا، حالانکہ کسی نے ڈر کا ذکر نہیں کیا تھا۔ عالیہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ شاید یہ جملہ کسی اور وقت، کسی اور یاد سے آیا تھا، مگر اس لمحے میں یہ سب سے درست بات تھی۔ واپسی کے سفر میں، پوڈکاسٹ چل رہا تھا، اور میزبان کسی سنجیدہ بات کے بعد ہنس پڑا۔ عالیہ نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے شکر ادا کر رہی ہو۔

وہ جانتی تھی کہ یہ بیماری ختم نہیں ہو جائے گی۔ باپ کی کمزوریاں بھی شاید بڑھیں گی۔ فیصلے مزید مشکل ہوں گے۔ مگر اب اس کے پاس ایک چیز تھی—امید کا ایک چھوٹا سا چراغ۔ وہ جانتی تھی کہ وہ بھی ایک دن طوفان کے دوسری طرف ہوگی۔ شاید زخم کے ساتھ، شاید یادوں کے بوجھ کے ساتھ، مگر زندہ، مضبوط، اور شکر گزار۔

عالیہ نے کبھی اس پوڈکاسٹ کے میزبان کو نہیں دیکھا تھا، نہ اس سے بات کی تھی۔ مگر اس کی آواز اس کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔ یہ عجیب رشتہ تھا—الفاظ کا، کہانیوں کا، اور سچائی کا۔ اس نے دل ہی دل میں ایک خط لکھا، شکر کا، اعتراف کا۔ اس نے سوچا کہ شاید وہ اکیلی نہیں جو یہ محسوس کرتی ہے۔ شاید بہت سے لوگ ہیں جن کے لیے یہ آواز، یہ ہنسی، یہ سچ، ایک سہارا ہے۔

گاڑی ہائی وے پر چل رہی تھی۔ سورج ڈھل رہا تھا۔ پوڈکاسٹ کی قسط ختم ہونے والی تھی۔ عالیہ نے گہرا سانس لیا۔ وہ جانتی تھی کہ کل پھر یہی سفر ہوگا، وہی راستے، وہی ذمہ داریاں۔ مگر اب وہ سفر اتنا بھاری نہیں لگتا تھا۔ لفظوں نے اسے ہلکا کر دیا تھا۔ اور یہی کافی تھا—فی الحال۔

عالیہ کو یہ احساس آہستہ آہستہ ہونے لگا تھا کہ اس کی زندگی اب دنوں میں نہیں، بلکہ سفروں میں ناپی جاتی ہے۔ ہر سفر ایک جیسا ہوتا، مگر ہر بار دل کا بوجھ مختلف ہوتا۔ کبھی ماں کی آنکھوں میں خالی پن زیادہ ہوتا، کبھی باپ کی خاموشی حد سے بڑھ جاتی، اور کبھی خود اس کی اپنی ہمت کسی کمزور دھاگے کی طرح لرزنے لگتی۔

ایک دن نرسنگ ہوم میں نسرین بیگم غیر معمولی طور پر پُرسکون تھیں۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی باہر دیکھ رہی تھیں، جیسے کسی ایسے منظر کو تلاش کر رہی ہوں جو اب صرف ان کے ذہن میں موجود تھا۔ عالیہ نے کرسی کھینچی اور آہستہ سے بیٹھ گئی۔

“امی، کیا دیکھ رہی ہیں؟”

نسرین بیگم نے کچھ لمحے سوچا، پھر کہا، “ٹرین… دیر ہو رہی ہے۔”

عالیہ کے دل میں ہلکی سی ٹیس اٹھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہاں کوئی ٹرین نہیں تھی، کوئی اسٹیشن نہیں تھا۔ مگر وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ ہر بات کی تصحیح ضروری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات صرف ساتھ بیٹھنا ہی کافی ہوتا ہے۔

“اچھا،” اس نے نرمی سے کہا، “ہم انتظار کر لیتے ہیں۔”

اس لمحے عالیہ نے محسوس کیا کہ شاید اصل خدمت یہی ہے—بیماری کے خلاف جنگ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ چلنا۔ یہ خیال اسے پہلے کبھی اتنی شدت سے نہیں آیا تھا۔ وہ ہمیشہ درست فیصلے، بہترین علاج، اور مکمل کنٹرول کی کوشش کرتی رہی تھی۔ مگر اب اسے سمجھ آنے لگا تھا کہ کچھ چیزیں بس قبول کرنی پڑتی ہیں۔

واپسی کے سفر میں پوڈکاسٹ چل رہا تھا۔ میزبان کسی سامع کا خط پڑھ رہا تھا، جو اپنی ماں کی بیماری کے بارے میں لکھ رہا تھا۔ الفاظ مختلف تھے، مگر درد ایک جیسا۔ عالیہ نے اسٹیئرنگ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کے سینے میں ایک عجیب سی گرمی پھیل گئی—جیسے کوئی اس کے دل کے اندر کہہ رہا ہو، “تم ٹھیک کر رہی ہو۔”

ویسٹ ورجینیا میں باپ کے گھر رکتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ سلیم خان پہلے سے زیادہ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں۔ وہ کرسی پر بیٹھے تھے، سامنے ٹی وی چل رہا تھا، مگر ان کی نظریں کہیں اور تھیں۔

“تمہاری ماں…” وہ بات ادھوری چھوڑ گئے۔

عالیہ نے بات مکمل نہیں کروائی۔ وہ جانتی تھی کہ ہر جملہ بولنا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خاموشی ہی پوری بات کہہ دیتی ہے۔

اس رات عالیہ دیر تک جاگتی رہی۔ پوڈکاسٹ بند تھا، مگر اس کی آواز ذہن میں گونج رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیسے ایک اجنبی کی ایمانداری، اس کی ہنسی، اور اس کے دکھ کی کہانیاں، اس کے لیے سہارا بن گئی ہیں۔ وہ سوچتی تھی کہ شاید یہی انسانوں کا اصل رشتہ ہے—ایک دوسرے کے درد کو پہچان لینا، چاہے فاصلے کتنے ہی ہوں۔

اگلے ہفتوں میں نسرین بیگم کے دن اور زیادہ بدلنے لگے۔ کبھی وہ عالیہ کو اپنی بہن سمجھ لیتیں، کبھی کسی پرانی دوست کا نام لے لیتیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر، ایک چیز کم ہی بدلی—ان کی آواز کا اتار چڑھاؤ، وہ نرمی جو ماں کی پہچان ہوتی ہے۔ عالیہ نے سیکھ لیا تھا کہ وہ ناموں پر نہیں، احساس پر توجہ دے۔ اگر ماں کے لہجے میں محبت ہے، تو یہی کافی ہے۔

ایک دن، جب عالیہ جانے لگی، نسرین بیگم نے اچانک کہا، “ڈرنا نہیں، بیٹیاں مضبوط ہوتی ہیں۔”

عالیہ ساکت رہ گئی۔ یہ جملہ کہاں سے آیا تھا؟ کون سی یاد، کون سا وقت؟ مگر اس نے سوال نہیں کیا۔ اس نے بس ماں کا ہاتھ تھام لیا، جیسے اس جملے کو اپنی ہتھیلی میں محفوظ کر رہی ہو۔

گاڑی میں بیٹھ کر اس نے پوڈکاسٹ چلایا۔ میزبان ہنس رہا تھا، پھر اچانک سنجیدہ ہو گیا، جیسے زندگی خود—کبھی قہقہہ، کبھی خاموشی۔ عالیہ نے مسکرا کر سوچا کہ شاید زندگی بھی اسی توازن کا نام ہے۔ مکمل خوشی نہیں، مکمل غم نہیں، بلکہ دونوں کے بیچ کا سفر۔

اسے معلوم تھا کہ آنے والے دن آسان نہیں ہوں گے۔ شاید وہ دن بھی آئے جب ماں اسے بالکل نہ پہچان سکے۔ شاید باپ کی صحت مزید جواب دے جائے۔ مگر اب عالیہ کے اندر ایک نیا یقین تھا۔ وہ ٹوٹی نہیں تھی۔ وہ تھکی ہوئی ضرور تھی، مگر خالی نہیں تھی۔ کہانیاں، آوازیں، اور ان کہی ہم دردی اس کے ساتھ تھیں۔

اور ہر بار جب وہ ہائی وے پر نکلتی، اسے یوں لگتا جیسے وہ صرف ماں باپ کے لیے نہیں، بلکہ خود اپنے لیے بھی یہ سفر کر رہی ہو—اس یقین کے ساتھ کہ ایک دن، واقعی، وہ بھی طوفان کے دوسری طرف کھڑی ہوگی۔

وقت جیسے اب آہستہ چلنے لگا تھا، مگر واقعات کی رفتار تیز ہو گئی تھی۔ عالیہ کو کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا جیسے زندگی نے اس کے سامنے کئی دروازے ایک ساتھ کھول دیے ہوں، اور ہر دروازے کے پیچھے ایک ذمہ داری کھڑی ہو، خاموش مگر مطالبہ کرتی ہوئی۔

نرسنگ ہوم کی فضا بدلنے لگی تھی۔ نرسیں اب زیادہ سوال کرنے لگیں تھیں، ڈاکٹر کے جملے زیادہ محتاط ہو گئے تھے۔ عالیہ کو یہ فرق فوراً محسوس ہو جاتا تھا، چاہے کوئی صاف لفظوں میں کچھ نہ کہے۔ نسرین بیگم اب کم بولتی تھیں، زیادہ تر نظریں کسی ایک نقطے پر جمائے رکھتیں، جیسے وہاں کوئی پرانا منظر چل رہا ہو جسے صرف وہی دیکھ سکتی ہوں۔

ایک دن عالیہ ان کے پاس بیٹھی تھی، خاموش۔ پوڈکاسٹ اس دن اس نے جان بوجھ کر نہیں چلایا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ اس لمحے میں مکمل طور پر موجود رہے۔ نسرین بیگم نے اچانک اس کے بالوں کو چھوا، جیسے بچپن میں چھوتی تھیں۔

“تم تھک گئی ہو،” انہوں نے آہستہ سے کہا۔

عالیہ کا دل بھر آیا۔ یہ جملہ کسی بیٹی نے نہیں، کسی ماں نے کہا تھا۔ بیماری کے ہجوم میں سے ایک لمحہ، ایک صاف لمحہ، ابھر آیا تھا۔

“تھوڑا سا،” عالیہ نے مسکرا کر جواب دیا۔

“آرام کر لیا کرو،” نسرین بیگم نے کہا، پھر آنکھیں بند کر لیں۔

یہ جملہ عالیہ کے ساتھ واپس گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس نے اسٹیئرنگ پر ہاتھ رکھا اور گہرا سانس لیا۔ اب پوڈکاسٹ چلایا۔ میزبان کسی عام سی بات پر ہنس رہا تھا، مگر اس ہنسی میں ایک مانوس پن تھا۔ عالیہ نے محسوس کیا کہ وہ اب صرف سن نہیں رہی، بلکہ سانس لے رہی ہے—ہر قسط کے ساتھ، ہر لفظ کے ساتھ۔

ویسٹ ورجینیا میں سلیم خان کے گھر اس دن فضا کچھ بھاری تھی۔ وہ خاموش بیٹھے تھے، جیسے کسی فیصلے کے کنارے کھڑے ہوں۔

“ڈاکٹر نے کہا ہے… ہمیں کچھ باتیں سوچنی ہوں گی،” انہوں نے آہستہ سے کہا۔

عالیہ نے سر ہلایا۔ وہ جانتی تھی یہ دن آئے گا۔ وہ ڈر رہی تھی، مگر حیرت انگیز طور پر بکھری نہیں تھی۔

“ہم مل کر کریں گے، ابو،” اس نے کہا۔ اور اس بار یہ محض تسلی نہیں تھی، ایک یقین تھا۔

اس رات، واپسی پر، سڑک پر بارش ہونے لگی۔ وائپر کی آواز، بارش کی بوندیں، اور پوڈکاسٹ کی آواز—سب ایک ساتھ مل کر ایک عجیب سی ہم آہنگی بنا رہے تھے۔ میزبان اپنے والد کے آخری دنوں کا ذکر کر رہا تھا، اس خوف کا، اس ادھورے پن کا، اور پھر اس خاموش قبولیت کا جو وقت کے ساتھ آ جاتی ہے۔ عالیہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ صرف ڈر نہیں رہی، وہ سیکھ بھی رہی ہے۔

اگلے دنوں میں عالیہ نے اپنے لیے چھوٹے چھوٹے لمحے نکالنے شروع کیے۔ کبھی راستے میں کافی کے لیے رک جانا، کبھی گاڑی بند کر کے چند منٹ آنکھیں بند رکھنا، کبھی پوڈکاسٹ بند کر کے محض خاموشی سننا۔ یہ سب اس کے لیے نئی باتیں تھیں۔ پہلے وہ سمجھتی تھی کہ خود کے لیے وقت نکالنا خود غرضی ہے، مگر اب اسے معلوم ہو رہا تھا کہ یہ بقا ہے۔

نسرین بیگم اب زیادہ تر سوئی رہتیں۔ جب جاگتیں تو کبھی مسکراتیں، کبھی بے چین ہوتیں۔ عالیہ نے سیکھ لیا تھا کہ ہر دن ایک جیسا نہیں ہوگا، اور ہر دن سے ایک جیسی توقع رکھنا خود کو توڑنے کے مترادف ہے۔ وہ اب دن کو دن کی طرح لیتی تھی—بس آج، ابھی۔

ایک شام، جب وہ جانے لگی، نسرین بیگم نے آنکھیں کھولیں اور بہت صاف لہجے میں کہا،

“اچھا کیا تم نے۔”

“کیا، امی؟”

“سب کچھ۔”

عالیہ جواب نہ دے سکی۔ اس نے بس ماں کے ماتھے کو چوما اور کمرے سے باہر آ گئی۔ راہداری میں کھڑے ہو کر اس نے آنسو صاف کیے۔ یہ آنسو کمزوری کے نہیں تھے، یہ ایک طویل سفر کے اعتراف کے آنسو تھے۔

گاڑی میں بیٹھ کر اس نے پوڈکاسٹ آن کیا، مگر اس بار اس کی توجہ کم تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ شاید ایک دن وہ خود بھی کسی کے لیے ایسی ہی آواز بن جائے—کسی کے سفر میں، کسی کے مشکل لمحے میں۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ کیسے ہوگا، مگر خیال نے اسے سکون دیا۔

ہائی وے پر روشنیوں کی قطار پھیل رہی تھی۔ عالیہ نے شیشہ تھوڑا سا کھولا۔ ٹھنڈی ہوا اندر آئی۔ اس نے مسکرا کر خود سے کہا،

“میں ابھی بھی طوفان میں ہوں… مگر اب مجھے راستہ نظر آ رہا ہے۔”

اور اس یقین کے ساتھ، اس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔

بارش اب تھم چکی تھی، مگر سڑک گیلی تھی، جیسے ابھی ابھی رو کر خاموش ہوئی ہو۔ عالیہ نے گاڑی آہستہ چلائی۔ اس کے اندر بھی کچھ ایسا ہی تھا—آنسو تھم گئے تھے، مگر نشان باقی تھے۔ اس نے ریڈیو بند رکھا۔ آج وہ آواز نہیں چاہتی تھی، آج وہ اپنے دل کی دھڑکن سننا چاہتی تھی، یہ جانچنا چاہتی تھی کہ وہ ابھی بھی مضبوط ہے یا نہیں۔

اگلے چند دن غیر متوقع طور پر مصروف رہے۔ نرسنگ ہوم سے فون آیا، پھر ڈاکٹر کی میٹنگ، پھر کاغذات، وہ کاغذات جن پر دستخط کرتے ہوئے انسان کو لگتا ہے جیسے وہ صرف سیاہی نہیں، اپنی ہمت بھی کاغذ پر رکھ رہا ہو۔ عالیہ نے ہر بات غور سے سنی، سوال پوچھے، فیصلے کیے۔ سلیم خان اس کے ساتھ بیٹھے رہے، کم بولے، مگر موجود رہے۔ ان کی خاموش موجودگی بھی اب ایک طرح کی تائید بن گئی تھی۔

ایک شام، جب دونوں نرسنگ ہوم کے لان میں بیٹھے تھے، سلیم خان نے اچانک کہا،

“تم نے اپنی زندگی روک دی ہے، عالیہ۔”

یہ جملہ الزام نہیں تھا، نہ شکایت۔ یہ محض ایک مشاہدہ تھا۔

عالیہ نے جواب دینے میں وقت لیا۔ “میں نے روکی نہیں، ابو… بس اسے اس موڑ پر رکھا ہے جہاں اس کی ضرورت تھی۔”

سلیم خان نے سر جھکا لیا۔ شاید وہ پہلی بار یہ سمجھ رہے تھے کہ بیٹی نے کتنا آگے بڑھ کر سب کچھ تھام رکھا ہے۔

نسرین بیگم اب کم ہی آنکھیں کھولتیں۔ مگر جب کھولتیں، تو کبھی کبھی ان کی نظر عالیہ پر ٹھہر جاتی، جیسے کسی دھند میں سے کوئی مانوس شے نظر آ گئی ہو۔ ایک دن انہوں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “گاڑی ٹھیک چلا لیا کرو۔”

عالیہ چونک گئی۔ یہ جملہ اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔

“جی، امی،” اس نے آہستہ سے کہا، اور دل میں سوچا کہ ماں شاید سب کچھ بھول رہی ہے، مگر فکر کرنا نہیں بھولی۔

ان دنوں پوڈکاسٹ پھر سے اس کی زندگی میں لوٹ آیا۔ مگر اب وہ صرف سہارا نہیں تھا، وہ آئینہ بھی تھا۔ میزبان کی باتوں میں عالیہ کو اپنی ہی آواز سنائی دیتی۔ وہ اب صرف سننے والی نہیں رہی تھی، وہ سمجھنے لگی تھی کہ دکھ کے ساتھ جینا کوئی ہار نہیں، بلکہ ایک ہنر ہے—جو وقت، صبر، اور خود پر رحم مانگتا ہے۔

ایک قسط میں میزبان نے کہا تھا، “کبھی کبھی ہم کسی کے لیے مضبوط بنتے بنتے خود کو بھول جاتے ہیں، اور پھر ایک دن سمجھ آتا ہے کہ ہمیں بھی کسی کی ضرورت ہے۔”

عالیہ نے گاڑی ایک طرف روکی۔ آنکھیں بند کیں۔ اس نے پہلی بار خود سے پوچھا، “مجھے کس کی ضرورت ہے؟”

جواب فوراً نہیں آیا۔ مگر سوال آ جانا بھی ایک آغاز تھا۔

اسی ہفتے اس نے ایک پرانی دوست کو فون کیا، بس حال پوچھنے کے لیے۔ بات مختصر تھی، مگر دل ہلکا ہو گیا۔ اس نے یہ بھی سوچا کہ شاید وہ سب کچھ اکیلے نہیں اٹھا سکتی، اور یہ مان لینا کمزوری نہیں ہے۔

پھر وہ دن آیا جس کا ڈر ہمیشہ دل کے کسی کونے میں رہتا ہے۔ نرسنگ ہوم سے فون آیا، آواز سنجیدہ تھی، مگر گھبرائی ہوئی نہیں۔ عالیہ نے گہرا سانس لیا، سلیم خان کو ساتھ لیا، اور دونوں خاموشی سے روانہ ہو گئے۔ کمرے میں داخل ہوتے وقت عالیہ نے خود کو سنبھالا۔ نسرین بیگم پرسکون تھیں، سانس آہستہ آہستہ چل رہی تھی، جیسے کوئی لمبا سفر طے کر کے آرام کر رہا ہو۔

عالیہ نے ماں کا ہاتھ تھاما۔ وہ ہاتھ اب کمزور تھا، مگر اس لمس میں وہی پرانی مانوسیت تھی۔

“میں یہاں ہوں، امی،” اس نے کہا۔

نسرین بیگم کی پلکیں ہلیں۔ شاید انہوں نے سنا، شاید نہیں۔ مگر عالیہ نے بات کہنا ضروری سمجھا۔ یہ کہنا اس کے لیے تھا، ماں کے لیے بھی۔

اس رات واپسی پر، پوڈکاسٹ نہیں چلا۔ گاڑی کی آواز، سڑک کی خاموشی، اور دل کی دھڑکن کافی تھی۔ عالیہ نے محسوس کیا کہ وہ ٹوٹ نہیں رہی۔ درد تھا، بہت تھا، مگر وہ بکھر نہیں رہی تھی۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ آسمان صاف تھا، ستارے مدھم مگر موجود تھے۔

اسے اچانک وہی خیال یاد آیا—طوفان کے دوسری طرف۔ شاید وہ ابھی وہاں نہیں پہنچی تھی، مگر وہ جان چکی تھی کہ وہ چل رہی ہے۔ ہر سفر، ہر فیصلہ، ہر آنسو اسے آگے لے جا رہا تھا۔

گھر پہنچ کر اس نے جوتے اتارے، بیگ ایک طرف رکھا، اور صوفے پر بیٹھ گئی۔ تھکن پورے جسم میں تھی، مگر ایک عجیب سا سکون بھی تھا۔ اس نے خود سے آہستہ کہا،

“میں نے پوری کوشش کی ہے۔”

اور اس جملے میں، اس رات، اسے نیند آ گئی۔

اگلی صبح فجر سے کچھ پہلے فون کی گھنٹی بجی۔ وہ عام سی گھنٹی نہیں تھی، وہی آواز تھی جس کا خدشہ ہر تیماردار کے دل میں پلتا رہتا ہے، چاہے زبان اس کا اقرار نہ کرے۔ عالیہ نے فون اٹھایا تو الفاظ زیادہ نہیں تھے، بس اتنا کہا گیا کہ آج آ جانا بہتر ہوگا۔

اس نے فون بند کیا، بستر پر چند لمحے بیٹھی رہی۔ نہ چیخ، نہ آنسو، نہ گھبراہٹ۔ بس ایک گہری خاموشی، جیسے دل پہلے ہی جانتا ہو کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ اس نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں اور ماں کی وہ سب باتیں یاد آئیں جو کبھی ادھوری لگتی تھیں، جو سیاق و سباق سے باہر ہوتی تھیں، مگر جن میں اب ایک عجیب سی معنویت محسوس ہو رہی تھی۔

سلیم خان کو کال کی۔ انہوں نے صرف “اچھا” کہا۔ دونوں جانتے تھے کہ زیادہ الفاظ اب بوجھ بن جائیں گے۔

سفر اس دن بہت مختصر لگا، حالانکہ راستہ وہی تھا۔ ہائی وے پر گاڑی چل رہی تھی، مگر عالیہ کے اندر جیسے وقت ٹھہر گیا تھا۔ اس نے پوڈکاسٹ آن کیا، پھر چند سیکنڈ بعد بند کر دیا۔ آج کسی اور کی آواز نہیں چاہیے تھی۔ آج اسے خود اپنی سانسوں کا ساتھ درکار تھا۔

نرسنگ ہوم کا کمرہ غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ مشینوں کی ہلکی آوازیں تھیں، مگر وہ شور نہیں لگ رہی تھیں، جیسے وہ بھی جانتی ہوں کہ اب آہستہ رہنا ہے۔ نسرین بیگم بستر پر لیٹی تھیں، چہرہ پُرسکون، جیسے کسی لمبی نیند کی تیاری ہو۔ عالیہ نے ان کا ہاتھ تھاما۔ اس بار ہاتھ ٹھنڈا نہیں لگا، بس ہلکا لگا—جیسے ذمہ داریاں آہستہ آہستہ چھوڑ رہا ہو۔

“امی… میں آ گئی ہوں۔”

نسرین بیگم کی پلکیں ذرا سی ہلیں۔ شاید آواز پہنچی، شاید نہیں۔ مگر اچانک ان کے ہونٹوں پر ہلکی سی جنبش ہوئی۔ آواز بہت مدھم تھی، مگر لفظ صاف تھے۔

“ڈرنا نہیں…”

عالیہ کا دل جیسے رک گیا۔ یہی جملہ۔ وہی پرانا، وہی مانوس، وہی حفاظت والا جملہ۔

اس نے ماں کے ہاتھ کو اپنے گال سے لگا لیا۔ آنسو اب بھی نہیں بہے تھے، مگر سینہ جیسے بھر چکا تھا۔ سلیم خان دوسری طرف کھڑے تھے، آنکھیں جھکی ہوئی، مگر وہ رو بھی نہیں رہے تھے۔ شاید کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو آنسوؤں سے آگے کے ہوتے ہیں۔

چند لمحوں بعد کمرے میں ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ مشین کی آواز بدلی، پھر رک گئی۔ کسی نے کچھ نہیں کہا، کیونکہ کہنے کو کچھ باقی نہیں تھا۔

نسرین بیگم جا چکی تھیں۔

عالیہ نے ماں کے ہاتھ کو آہستہ سے بستر پر رکھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ اسے لگا جیسے ماں واقعی اب آرام میں ہیں۔ کوئی الجھن نہیں، کوئی خوف نہیں، کوئی ٹوٹی ہوئی باتیں نہیں۔ بس سکون۔

واپسی کا سفر سب سے مختلف تھا۔ نہ آنسو تھے، نہ سوال، نہ شور۔ گاڑی میں بیٹھ کر اس نے پوڈکاسٹ آن کیا—آخری بار اس سفر کے لیے۔ میزبان ہنس رہا تھا، پھر خاموش ہوا، پھر بولا:

“اگر آپ یہ سن رہے ہیں اور کسی کو کھو چکے ہیں، یا کھونے والے ہیں… تو یاد رکھیں، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آپ نے پوری کوشش کی ہے۔”

عالیہ نے گاڑی ایک طرف روک دی۔ اس بار آنسو خود بخود بہنے لگے۔ وہ رو رہی تھی، مگر ٹوٹ نہیں رہی تھی۔ وہ جان گئی تھی کہ یہ آنسو کمزوری کے نہیں، تکمیل کے ہیں۔

اس نے خود سے آہستہ کہا،

“میں طوفان کے دوسری طرف آ گئی ہوں، امی۔”

اور پہلی بار، واقعی، اس نے یہ بات مان لی۔

یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، مگر یہ سفر یہاں رک جاتا ہے۔ کیونکہ بعض رشتے ختم ہو کر بھی ساتھ رہتے ہیں—آوازوں میں، یادوں میں، اور ان لمحات میں جب ہم کسی اجنبی کی ہنسی سن کر، اپنی تھکن تھوڑی دیر کو بھول جاتے ہیں۔

Post a Comment for "سفر جو لفظوں سے ہلکا ہو گیا"