وہ ستائیس سال کی تھی۔
عمر کے اس حصے میں جہاں انسان کو خود سے زیادہ اپنے دل کے فیصلوں پر شک ہونے لگتا ہے۔ وہ کسی فلمی محبت کی تلاش میں نہیں تھی، نہ ہی عارضی تعلقات پر یقین رکھتی تھی۔ ڈیٹنگ ایپس اس کے لیے ہمیشہ ایک شور تھیں—لوگ، باتیں، وعدے، سب کچھ عارضی۔
اسی لیے جب اس نے چھ مہینے پہلے ارحم کو اپنی زندگی میں آنے دیا تو یہ اس کے اپنے اصولوں کے خلاف ایک خاموش بغاوت تھی۔
ارحم اکتیس سال کا تھا۔ بظاہر سنجیدہ، ہنستا ہوا، لوگوں سے گھلنے والا۔ وہی ایک مرد تھا جس سے وہ اس ایپ کے ذریعے ملی تھی۔ شروع میں سب کچھ ٹھیک تھا۔ باتیں، قہقہے، لمبی واکس، چھوٹے وعدے۔
مسئلہ صرف ایک تھا—اس کی “بہترین دوست”۔
اس کا نام ماہم تھا۔
ارحم نے شروع ہی میں اس کا ذکر کر دیا تھا۔ جیسے کوئی ایسی چیز جسے وہ چھپانا نہیں چاہتا تھا مگر جس کی وضاحت بھی مکمل نہ کر سکا۔ وہ دونوں کبھی ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ کبھی تعلق تھا، پھر اختلافات، پھر ایک زبردست جھگڑا، اور پھر… دوستی۔
یہ “پھر” ہی وہ لفظ تھا جو اسے کھٹکتا تھا۔
ایک رات، ارحم کے دوست کی شادی سے پہلے کی تقریب تھی۔ وہ سمجھ بیٹھی تھی کہ یہ رات شاید ان کے لیے خاص ہوگی۔ شادیوں میں کچھ ہوتا ہے نا—فضا میں جذبات، وعدے، قربت۔
وہ دونوں ساتھ گئے۔ وہ اس کی بانہوں میں نہیں تھی مگر اس کے قریب تھی۔ خود کو اس کی زندگی میں ایک قدم آگے محسوس کر رہی تھی۔
پھر دروازہ کھلا۔
ماہم اندر آئی۔
کمرے کا شور ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔ یا شاید وہ خاموشی صرف اس کے دل میں اتری تھی۔
وہ اور ماہم ایک جیسے لگتے تھے—بس مختلف انداز میں۔
ماہم کے بال سیاہ، لمبے، ہلکی سی کٹنگ کے ساتھ۔
اس کے اپنے بال قدرتی سرخی لیے ہوئے، پیشانی پر جھکی لٹیں۔
آئینے کی دو تصویریں، مختلف فریم میں۔
وہ اس رات شراب نہیں پی رہی تھی، اس لیے اس کا چہرہ وہ سب کچھ کہہ رہا تھا جو زبان نہ کہہ سکی۔
ماہم زیادہ دیر نہ رکی۔ شاید اس نے فضا محسوس کر لی تھی۔ شاید اسے عادت تھی۔
بات چیت رسمی تھی۔
ماہم نے اس سے زیادہ بات ارحم کے بارے میں کی، جیسے وہ اس کی زندگی کا مشترکہ موضوع ہوں۔
اور ارحم… وہ جانتا تھا کہ ماہم کون سا ڈرنک پسند کرتی ہے۔
یہ چھوٹی بات تھی۔ مگر بعض اوقات چھوٹی باتیں دل میں سب سے بڑی خراش چھوڑ جاتی ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب ارحم کا ایک دوست ماہم سے ہنسی مذاق کرنے لگا۔
ارحم کا لہجہ بدل گیا۔
آواز بلند نہیں ہوئی، مگر سخت ہو گئی۔
“ایسا مت کرو۔”
اس کا دل بیٹھ گیا۔
کیوں؟
دوست ہے تو اتنی فکر کیوں؟
وہ وہاں کھڑی خود کو ایک اضافی کردار کی طرح محسوس کرنے لگی—جیسے اصل کہانی کہیں اور چل رہی ہو۔
ماہم جاتے جاتے ارحم کے ساتھ فلم دیکھنے کا پلان بنا گئی۔
وہ اس کے سامنے۔
سب کے سامنے۔
اس نے محسوس کیا کہ میز پر بیٹھی دوسری عورتیں اسے دیکھ رہی تھیں۔
ایک کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
وہ اکیلی نہیں تھی جو یہ سب عجیب محسوس کر رہی تھی۔
واپسی پر ارحم نے اس کی خاموشی محسوس کر لی۔
سوال کیے۔
اور اس کے اندر جمع سب کچھ گاڑی کے اندھیرے میں بہہ نکلا۔
وہ تلخ ہو گئی۔
اس نے وہ باتیں کہہ دیں جو شاید اسے بعد میں نہیں کہنی چاہئیں تھیں۔
“پھر تم اسی کے ساتھ کیوں نہیں ہو؟”
یہ سوال الزام سے زیادہ درد تھا۔
ارحم نے کہا، “میں تمہیں چاہتا ہوں۔”
مگر الفاظ کافی نہیں ہوتے جب عمل مختلف ہو۔
اسے پتہ چلا کہ ارحم اور ماہم اکیلے فلمیں دیکھتے ہیں، کھانے پر جاتے ہیں، کنسرٹس میں جاتے ہیں، رات گئے تک باہر رہتے ہیں۔
یہ سب سن کر اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔
اس نے صرف اتنا کہا تھا کہ
“ہم ابھی نئے ہیں۔ کیا ہم پہلے خود کو مضبوط نہیں کر سکتے؟ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ اسے چھوڑ دو… بس کچھ فاصلے رکھ لو۔”
پھر اس نے وہ سوال کیا جس کا جواب وہ پہلے سے جانتی تھی۔
“کیا تم دونوں کبھی…؟”
ارحم خاموش ہو گیا۔
پھر ہاں کہی۔
خاموشی کبھی کبھی چیخ بن جاتی ہے۔
بعد میں اس نے بتایا کہ وہ جھوٹ بولنے کا سوچ رہا تھا، کیونکہ اس دوستی نے اس کے پچھلے رشتے بھی خراب کیے تھے۔
یہ سن کر اسے ہنسی بھی آئی اور رونا بھی۔
ماہم کا ماننا تھا کہ ارحم کی گرل فرینڈز کو اس دوستی سے مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔
یہ جملہ اس کے دل میں تیر کی طرح لگا۔
کچھ وقت بعد ماہم کی زندگی میں کوئی اور آیا۔
ارحم اچانک کم دستیاب ہو گیا۔
وہ سکون بھی محسوس کر رہی تھی اور غصہ بھی۔
گویا مسئلہ کبھی اس کا نہیں تھا—ہمیشہ کوئی تیسرا عنصر تھا۔
وہ خود کو اس دوستی سے الگ رکھنے لگی۔
ارحم اکثر آخری لمحے بتاتا کہ وہ ماہم سے مل رہا ہے۔
کبھی اس کے ساتھ پلان بنتا، مگر ماہم کے ساتھ زیادہ پینے کے بعد وہ منسوخ ہو جاتا۔
انہوں نے کچھ وقت کا وقفہ بھی لیا۔
وجہ صرف ماہم نہیں تھی، مگر وہ ایک بڑا حصہ ضرور تھی۔
اور پھر ایک رات…
ارحم نے کہا وہ کھانے جا رہا ہے۔
بعد میں پیغام آیا کہ وہ ماہم کے ساتھ باہر جا رہا ہے۔
وہ خاموش رہی۔
سو گئی۔
ارحم تین بجے رات گھر پہنچا۔
چھ گھنٹے؟
اس نے خود سے سوال کیا—
کیا میں پاگل ہوں؟
یا واقعی میں اس آدمی کو کسی اور کے ساتھ بانٹ رہی ہوں؟
اور یہ سوال اب بھی اس کے دل میں گونج رہا ہے۔
لڑکی کا مسئلہ یہ نہیں کہ مرد عورت کی دوستی غلط ہے۔
وہ بار بار اپنے دل میں یہ بات دہراتی رہی کہ
وہ کسی کو روکنا نہیں چاہتی،
نہ کسی پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔
اس کا درد یہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں
دوستی دوستی نہیں رہتی
اور تعلق تعلق بن جاتا ہے۔
وہ مرد ایک عورت کے ساتھ رشتہ جوڑتا ہے،
مگر اپنی پچھلی قربت کو مکمل طور پر چھوڑ نہیں پاتا۔
وہ کہتا ہے کہ وہ صرف اسی کے ساتھ ہے،
مگر اس کے اعمال بتاتے ہیں کہ
اس کی زندگی میں دو عورتوں کے لیے جگہ ہے۔
یہی اصل زخم ہے۔
شادی کی تقریب والی رات بہت معنی رکھتی ہے۔
شادی وابستگی کی علامت ہوتی ہے،
اور اسی رات اس کا پچھلا تعلق
خاموشی سے ان دونوں کے بیچ آ کھڑا ہوتا ہے۔
یہ منظر لڑکی کے دل میں یہ سوال چھوڑ جاتا ہے کہ
اگر یہ عورت اب بھی یہاں ہے
تو میری جگہ کہاں ہے؟
جب مرد اپنے دوست کو اس عورت کے قریب آنے سے روکتا ہے
تو یہ حسد نہیں تو اور کیا ہے؟
صرف دوستوں میں ایسی سختی نہیں ہوتی۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ عورت اب بھی
اس کی ملکیت کے احساس میں شامل ہے۔
سب کے سامنے فلم دیکھنے کا منصوبہ بنانا
لڑکی کے لیے ذلت کا لمحہ تھا۔
یہ ایسا تھا جیسے اس کی موجودگی کو نظر انداز کر دیا گیا ہو،
جیسے وہ صرف ایک اضافی کردار ہو
اور اصل کہانی کہیں اور چل رہی ہو۔
لڑکی کے جذبات اس لیے درست ہیں
کیونکہ وہ یہ سب دیکھ رہی تھی، محسوس کر رہی تھی۔
یہ حسد نہیں تھا،
یہ اپنی جگہ کھونے کا احساس تھا۔
جب اس عورت کی زندگی میں کوئی اور آیا
تو مرد اچانک بدل گیا۔
زیادہ وقت، زیادہ توجہ، زیادہ دستیابی۔
یہ بات ثابت کرتی ہے کہ
مسئلہ وقت کا نہیں تھا،
مسئلہ ترجیح کا تھا۔
اور جب وہ تعلق ختم ہوا
تو سب کچھ پھر پہلے جیسا ہو گیا۔
یہ ایک دائرہ تھا جس میں لڑکی ہر بار
پیچھے رہ جاتی تھی۔
رات گئے واپس آنا
صرف دیر سے آنا نہیں تھا۔
یہ لاپرواہی تھی،
یہ اس بات کی علامت تھی کہ
وہ اپنے عمل کا جواب دینے کو تیار نہیں تھا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ
وہ لڑکی غلط تھی یا صحیح۔
اصل سوال یہ ہے کہ
کیا کوئی رشتہ اس وقت تک زندہ رہ سکتا ہے
جب ایک دل دو جگہ بٹا ہوا ہو؟
یہ لڑکی نادان نہیں تھی۔
وہ صرف یہ چاہتی تھی کہ
جس شخص کو اس نے چنا ہے
وہ بھی اسے پوری طرح چنے۔
وہ ستائیس برس کی تھی، مگر اس کے دل پر وقت کی وہ دھول نہیں جمی تھی جو اکثر لوگوں کو بے حس بنا دیتی ہے۔ وہ آج بھی رشتوں پر یقین رکھتی تھی، مگر شور والے یقین پر نہیں، بلکہ خاموش، ٹھہرے ہوئے اعتماد پر۔ اسی لیے اس کی زندگی میں محبت آہستہ چلتی تھی، سنبھل کر، قدم تول کر۔ وہ جانتی تھی کہ دل کا پھسلنا آسان ہے، مگر اسے سنبھالنا مشکل۔
ارحم اس کی زندگی میں ایسے آیا جیسے کسی پرسکون دوپہر میں اچانک نرم ہوا کا جھونکا۔ نہ بہت تیز، نہ بہت نمایاں، مگر محسوس ہونے والا۔ وہ اس سے چھ مہینے پہلے ملی تھی، ایک ایسے ذریعے سے جس پر وہ خود بھی زیادہ یقین نہیں رکھتی تھی۔ مگر بعض اوقات تقدیر اپنے راستے خود چنتی ہے، انسان کے نظریات سے بے پرواہ۔
شروع کے دن اچھے تھے۔ باتیں لمبی ہوتیں، خاموشیاں بھی بے تکلف لگتیں۔ وہ ہنستا تو اسے لگتا جیسے اس کے اندر کچھ روشن ہو گیا ہو۔ وہ اس کی بات سنتا تو اسے محسوس ہوتا کہ شاید وہ پہلی بار واقعی دیکھی جا رہی ہے۔ مگر ہر خوبصورت منظر کے پیچھے کوئی سایہ ضرور ہوتا ہے، اور اس کہانی کا سایہ ماہم تھی۔
ماہم کا ذکر ارحم نے شروع ہی میں کر دیا تھا۔ اس انداز میں جیسے کوئی پرانا زخم دکھا دے، مگر اس پر ہاتھ رکھنے سے گریز کرے۔ وہ کبھی اس کی زندگی کا حصہ تھی، پھر نہیں رہی، پھر کسی طرح دوبارہ بن گئی۔ مگر اس “دوبارہ” میں جو گرہ تھی، وہ کھل کر کبھی سامنے نہ آئی۔
وہ رات جب وہ شادی کی تقریب میں گئے، اس کے دل میں ایک عجیب سی خوشی تھی۔ شادیاں ہمیشہ اسے نرم کر دیتی تھیں۔ اسے لگ رہا تھا جیسے یہ لمحہ ان دونوں کے درمیان کسی نئے باب کا آغاز ہو۔ وہ ساتھ بیٹھی تھی، اس کے قریب، مگر دل میں ایک ہلکی سی جھجک کے ساتھ۔
پھر ماہم آئی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی فضا بدل گئی۔ یا شاید صرف اس کے اندر کچھ ٹوٹا۔ ماہم اس جیسی نہیں تھی، مگر اتنی مختلف بھی نہیں کہ نظر انداز ہو جائے۔ دونوں میں ایک عجیب سی مماثلت تھی، جیسے دو کہانیاں ایک ہی موضوع پر لکھی گئی ہوں، مگر قلم مختلف ہو۔
ارحم کا لہجہ بدل گیا۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک آئی جو اس نے پہلے کم ہی دیکھی تھی۔ یہ چمک محبت کی نہیں تھی، مگر بے نیازی کی بھی نہیں۔ یہ کسی پرانی عادت کی روشنی تھی، جو دل کے کسی کونے میں اب بھی زندہ تھی۔
وہ خود خاموش رہی۔ ماہم سے بات ہوئی تو بھی بات کا مرکز ارحم ہی رہا۔ جیسے وہ دونوں عورتیں نہیں، بلکہ ایک مشترکہ یاد ہوں۔ اسے یہ سب عجیب لگا، مگر اس نے خود کو سنبھالے رکھا۔
پھر وہ لمحہ آیا جس نے اس کے دل میں پہلی دراڑ ڈالی۔ ارحم کا ایک دوست ماہم سے ہنسی مذاق کرنے لگا، اور ارحم کی آواز میں سختی آ گئی۔ وہ سختی کسی دوست کے لیے نہیں ہوتی۔ وہ کسی ایسے کے لیے ہوتی ہے جس پر حق جتایا جاتا ہے، چاہے دل مانے یا نہ مانے۔
سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوئی جب ماہم جاتے جاتے فلم دیکھنے کا منصوبہ بنا گئی۔ اس کے سامنے۔ سب کے سامنے۔ وہ لمحہ اس کے لیے ایک خاموش تماشا تھا، جہاں وہ خود کو ایک اضافی کردار محسوس کرنے لگی۔
واپسی پر خاموشی بوجھ بن گئی۔ گاڑی کے اندھیرے میں اس کا دل بول پڑا۔ سوال الزام بن گئے، اور الفاظ میں تلخی گھل گئی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ سخت ہو رہی ہے، مگر درد اکثر زبان کا ذائقہ بدل دیتا ہے۔
جب اسے معلوم ہوا کہ ارحم اور ماہم اکیلے ملتے ہیں، کھانے پر جاتے ہیں، فلمیں دیکھتے ہیں، رات گئے تک باہر رہتے ہیں، تو اس کا دل بیٹھ گیا۔ یہ دوستی نہیں تھی، یہ ایک ادھورا رشتہ تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
اس نے بس اتنا چاہا تھا کہ وہ رشتہ پہلے مضبوط ہو جائے۔ کہ وہ خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔ وہ کسی کو چھوڑنے کا مطالبہ نہیں کر رہی تھی، وہ صرف اپنی جگہ مانگ رہی تھی۔
جب اسے یہ معلوم ہوا کہ وہ دونوں کبھی ایک دوسرے کے قریب رہ چکے ہیں، تو اس کے دل میں عجیب سی شرمندگی نے جنم لیا۔ جیسے وہ ایک ایسے کھیل میں شامل ہو گئی ہو جس کے اصول پہلے سے طے تھے، اور اسے خبر ہی نہ تھی۔
وقت گزرا۔ ماہم کی زندگی میں کوئی اور آیا، اور ارحم کا رویہ بدل گیا۔ وہ زیادہ دستیاب ہو گیا، زیادہ متوجہ۔ اسے سکون بھی ملا اور غصہ بھی۔ یہ احساس کہ وہ ہمیشہ کسی تیسرے کے جانے یا آنے پر منحصر رہی، اسے اندر سے کھوکھلا کرنے لگا۔
پھر سب کچھ ویسا ہی ہو گیا جیسا پہلے تھا۔ وعدے، تاخیر، آخری لمحے کے منصوبے، اور رات گئے واپسی۔ ایک رات وہ سو گئی، اور وہ تین بجے لوٹا۔ چھ گھنٹے۔ چھ گھنٹے جن میں اس کے دل نے خود سے سوال کیا۔
کیا وہ واقعی اس کی ہے؟
یا وہ صرف اس خلا کو بھر رہی ہے جو کوئی اور کبھی پورا نہیں چھوڑتا؟
یہ کہانی حسد کی نہیں۔
یہ کہانی کسی کو روکنے کی نہیں۔
یہ کہانی اس دل کی ہے جو پورا مانگتا ہے، آدھا نہیں۔
اور بعض اوقات سب سے بڑی محبت یہ ہوتی ہے کہ انسان خود کو آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا لے، تاکہ دل مزید ٹوٹنے سے بچ جائے۔
وہ رات اس کے دل میں ٹھہر گئی۔
ارحم تین بجے لوٹا تھا، مگر اس کے اندر کی رات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ کمرے میں خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں سوال چیخ رہے تھے۔ وہ جاگ رہی تھی، آنکھیں بند کیے، سانس ہموار رکھنے کی ناکام کوشش میں۔ وہ جان بوجھ کر نہیں اٹھی، نہ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ بعض اوقات انسان سامنے دیکھنے سے ڈرنے لگتا ہے، کہیں وہی سچ نظر نہ آ جائے جس سے وہ بھاگتا رہا ہو۔
اگلی صبح ارحم نے بات کرنے کی کوشش کی۔
عام باتیں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اس نے چائے بنائی، موبائل دیکھا، موسم کا ذکر کیا۔
اور وہ اسے دیکھتی رہی—اس شخص کو جسے وہ چاہتی تھی، مگر جو اسے پوری طرح دیکھ ہی نہیں پا رہا تھا۔
بالآخر اس نے خاموشی توڑ دی۔
آواز دھیمی تھی، مگر لفظ وزنی۔
“کیا تمہیں کبھی محسوس ہوا کہ میں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ رہی ہوں؟”
ارحم چونک گیا۔
اس نے کہا، “تم ایسا کیوں سوچتی ہو؟”
وہ مسکرائی، مگر وہ مسکراہٹ دل تک نہ پہنچی۔
“کیونکہ جب انسان کسی کی زندگی میں پہلی ترجیح نہ رہے، تو وہ خود بخود کنارے ہو جاتا ہے۔”
یہ الزام نہیں تھا، یہ اعتراف تھا۔
اس دن اس نے پہلی بار اپنے دل کی ساری بات کہی۔
بغیر تلخی کے، بغیر طنز کے۔
اس نے بتایا کہ وہ کیوں خاموش ہو جاتی ہے، کیوں سوال نہیں کرتی، کیوں خود کو الگ رکھنے لگی ہے۔
اس نے کہا کہ وہ دوستی کے خلاف نہیں، مگر اس دوستی میں وہ خود کو بے وزن محسوس کرتی ہے۔
جیسے اس کا ہونا یا نہ ہونا ایک جیسا ہو۔
ارحم سنتا رہا۔
کبھی نظریں چرا لیتا، کبھی فرش کو دیکھتا۔
وہ دفاع میں نہیں آیا، مگر مکمل طور پر سمجھ بھی نہ سکا۔
“وہ میری زندگی کا حصہ ہے،” اس نے بس اتنا کہا۔
یہ جملہ چھوٹا تھا، مگر اس کے دل میں گونج بن کر اتر گیا۔
اسے اچانک احساس ہوا کہ مسئلہ ماہم نہیں ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ارحم نے کبھی یہ فیصلہ ہی نہیں کیا کہ اس کی زندگی میں کون سا رشتہ کس جگہ کھڑا ہے۔
اور جو فیصلہ نہ کرے، وہ دراصل دوسروں کو انتظار میں رکھتا ہے۔
اگلے دنوں میں وہ بدل گئی۔
زیادہ سوال نہیں، زیادہ توقع نہیں۔
وہ ہنس دیتی، مگر دل شامل نہ ہوتا۔
وہ ملتی، مگر خود کو روک کر۔
یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں عورت آہستہ آہستہ رشتے سے نہیں، خود سے جڑنے لگتی ہے۔
ایک شام اس نے خود کو آئینے میں دیکھا۔
آنکھوں میں تھکن تھی، مگر کمزوری نہیں۔
اسے احساس ہوا کہ محبت مانگ کر نہیں رکھی جاتی۔
محبت دی جاتی ہے، اور اگر جواب میں آدھا دل ملے تو پیچھے ہٹ جانا بزدلی نہیں، خودداری ہے۔
اس نے ارحم سے آخری بار بات کی۔
کوئی لڑائی نہیں، کوئی شور نہیں۔
بس ایک سیدھی بات۔
“میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی تھی، مگر خود کو کھونا بھی قبول نہیں۔
اگر کبھی تم ایک دل سے ایک رشتہ نبھا سکو، تو شاید ہم پھر کہیں ملیں۔
مگر اس وقت نہیں، جب میں تمہاری زندگی میں انتظار کی جگہ پر ہوں۔”
ارحم خاموش رہا۔
شاید پہلی بار۔
وہ اٹھ کر چلی گئی۔
دروازہ بند ہوا، مگر اس کے اندر ایک کھڑکی کھل گئی۔
وہ جانتی تھی درد ہوگا، مگر یہ درد اس زخم سے بہتر تھا جو روز لگتا ہے۔
کچھ دن بعد اسے ماہم کا خیال آیا، مگر اب حسد نہیں تھا۔
بس ایک افسوس کہ کچھ لوگ ایک دوسرے کو چھوڑ تو دیتے ہیں، مگر آزاد نہیں کرتے۔
وہ جان گئی تھی کہ
محبت میں سب کچھ بانٹا جا سکتا ہے،
مگر ترجیح نہیں۔
اور یہی اس کہانی کا اگلا موڑ تھا—
جہاں ایک عورت نے کسی مرد کو نہیں،
اپنے آپ کو چُن لیا۔
رسوں گزر گئے تھے۔
وقت نے سب کچھ بدل دیا تھا، مگر کچھ یادیں ایسی تھیں جو بدلنے کے بجائے خاموش ہو گئی تھیں۔ وہ اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ آنکھوں میں وہ بے چینی نہیں تھی جو کبھی ہر سوال کے ساتھ جاگ اٹھتی تھی۔ چہرے پر ٹھہراؤ تھا، لہجے میں یقین۔ زندگی نے اسے سکھا دیا تھا کہ محبت مانگی نہیں جاتی، وہ یا تو خود چل کر آتی ہے یا دروازہ کبھی نہیں کھٹکھٹاتی۔
وہ ایک شام کتابوں کی دکان میں کھڑی تھی۔ پرانی خوشبو، خاموش روشنی، اور صفحوں کی سرسراہٹ۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں وہ اکثر آتی تھی—اپنے لیے، اپنے سکون کے لیے۔ اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی جس کا سرورق سادہ تھا، مگر اندر الفاظ گہرے۔
تب اس نے اسے دیکھا۔
ارحم۔
کچھ لمحے وہ دونوں ایک دوسرے کو پہچان نہ سکے۔ یا شاید پہچان گئے تھے، مگر ماننے میں وقت لگ رہا تھا۔ وہ اب بھی وہی تھا، مگر کچھ کم۔ جیسے وقت نے اس کے کندھوں پر وزن ڈال دیا ہو۔ آنکھوں میں وہی شناسا روشنی تھی، مگر اس کے ساتھ ایک تھکن بھی تھی جو پہلے نہ تھی۔
“تم…؟”
اس کی آواز میں حیرت تھی، شاید ندامت بھی۔
وہ مسکرائی۔
“ہاں۔”
یہ مسکراہٹ کسی فتح کی نہیں تھی، نہ ہی کسی شکوے کی۔ یہ اس عورت کی مسکراہٹ تھی جو اب اپنے آپ میں مکمل تھی۔
وہ دکان سے باہر نکلے۔ باہر شام ڈھل رہی تھی۔ ہوا میں خزاں کی ہلکی سی ٹھنڈک تھی۔ کچھ دیر دونوں خاموش رہے، جیسے پرانے زخموں کے گرد الفاظ ڈھونڈ رہے ہوں۔
“کیسی ہو؟”
اس نے پوچھا۔
“ٹھیک ہوں۔”
اس نے جواب دیا، اور یہ سچ تھا۔
اس نے بتایا کہ زندگی نے اسے کہاں پہنچایا۔ وہ سنجیدگی سے سنتا رہا۔ کوئی مداخلت نہیں، کوئی وضاحت نہیں۔ شاید اب وہ سننا سیکھ گیا تھا۔
“اور تم؟”
اس نے پوچھا۔
ارحم نے آسمان کی طرف دیکھا۔
“میں نے بہت دیر سے سمجھا کہ کچھ رشتے وقت پر نہ سنبھالے جائیں تو ہاتھ سے پھسل جاتے ہیں۔”
یہ اعتراف دیر سے آیا تھا، مگر بنا شور کے۔
وہ چلتے چلتے ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ درمیان میں وہی فاصلہ تھا جو برسوں پہلے نہ تھا، مگر اب ضروری تھا۔
“کیا کبھی تمہیں لگا کہ میں نے تمہارے ساتھ ناانصافی کی؟”
اس نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر بولی،
“ہاں۔ مگر اس ناانصافی نے مجھے خود سے انصاف کرنا سکھا دیا۔”
یہ کہہ کر اس نے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں شام رات میں بدل رہی تھی۔
“اب میں کسی کی زندگی میں جگہ مانگتی نہیں۔ اگر کوئی مجھے چنتا ہے، تو پورے دل سے۔ ورنہ میں اکیلی بھی مکمل ہوں۔”
ارحم نے سر جھکا لیا۔
شاید پہلی بار اس نے کسی سچ کو بغیر دلیل کے قبول کیا تھا۔
“اگر میں اس وقت سمجھ جاتا تو؟”
اس نے سوال کیا۔
وہ مسکرائی، اس بار ذرا نرم۔
“تو شاید ہم دونوں آج مختلف ہوتے۔ مگر جو نہیں ہوا، وہ بھی ہمیں یہاں تک لایا۔”
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
اب رکنا اس کے مزاج میں نہیں تھا۔
“تم خوش رہو،”
اس نے کہا۔
کوئی وعدہ نہیں، کوئی واپسی کا راستہ نہیں۔
وہ مڑی اور چل دی۔
پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
ارحم وہیں بیٹھا رہا۔
شاید پہلی بار اس نے کسی کو کھو کر نہیں،
خود کو سمجھ کر خاموشی اختیار کی تھی۔
اور وہ…
وہ آگے بڑھ گئی تھی۔
کیونکہ بعض ملاقاتیں دوبارہ ملنے کے لیے نہیں ہوتیں،
وہ صرف یہ بتانے آتی ہیں
کہ ہم کہاں سے چلے تھے
اور کہاں پہنچ گئے ہیں۔
وہ رات دیر تک جاگتی رہی۔
کتابوں کی دکان، وہ بینچ، ارحم کی خاموش آنکھیں—سب کچھ یادوں کی طرح نہیں، آئینے کی طرح سامنے تھا۔ مگر اس بار آئینہ ٹوٹا نہیں، صاف تھا۔ اس نے خود کو پہلی بار بغیر کسی سوال کے دیکھا۔ دل میں کوئی خلش نہ تھی، بس ایک ہلکی سی اداسی، جیسے بارش کے بعد زمین پر رہ جانے والی نمی۔
اگلے دن وہ اپنے معمول پر لوٹ آئی۔ کام، راستے، لوگوں کی آوازیں۔ مگر اب اس کے قدموں میں ٹھہراؤ تھا۔ وہ جانتی تھی کہ ماضی نے اسے روکنے کے لیے نہیں، سمجھانے کے لیے پکارا تھا۔
کچھ ہفتوں بعد ایک دعوت نامہ آیا۔ ایک مشترکہ دوست کی تقریب۔ اس نے لمحہ بھر سوچا، پھر ہاں کہہ دی۔ بھاگنا اب اس کی عادت نہ تھی۔
تقریب کی روشنی نرم تھی۔ لوگوں کی ہنسی میں زندگی کی روانی تھی۔ وہ پرسکون تھی، سادہ لباس میں، بالوں میں وہی وقار جو برسوں کی خاموش محنت نے دیا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ نظر اس کی طرف ٹھہرتی ہے، مگر وہ نظر مانگتی نہیں تھی۔
وہ وہاں تھا۔
ارحم نے اسے دور سے دیکھا۔ اس بار اس کی آنکھوں میں حیرت نہیں، قبولیت تھی۔ وہ اس کے قریب آیا، آہستہ، جیسے کسی حد کا خیال رکھتا ہو۔
“تم واقعی بدل گئی ہو،”
اس نے کہا۔
وہ مسکرائی۔
“میں بدلی نہیں، میں لوٹ آئی ہوں۔ اپنے پاس۔”
اس نے سر ہلایا۔
“میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔”
“سیکھنا کافی نہیں ہوتا،”
اس نے نرمی سے کہا،
“عمل بھی بدلنا پڑتا ہے۔”
یہ بات تیر کی طرح نہیں لگی، مرہم کی طرح لگی۔
کچھ دیر بعد وہ ایک کونے میں کھڑے تھے۔ شور سے الگ۔ اس نے بتایا کہ وہ اکیلا ہے۔ کہ اس نے پرانی گرہیں کھولنے کی کوشش کی، مگر سب کچھ وقت پر نہیں کھلتا۔
“میں اب کسی کو آدھا نہیں چاہتا،”
اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
وہ خاموش رہی۔ خاموشی اب اس کی دشمن نہ تھی۔
“میں بھی نہیں،”
اس نے جواب دیا۔
“مگر میں کسی وعدے پر نہیں ٹھہرتی۔ میں عمل دیکھتی ہوں۔”
وہ بات یہاں رک گئی۔ کوئی وعدہ، کوئی التجا نہیں۔ بس ایک سچ، جو دونوں نے سن لیا تھا۔
کچھ دنوں بعد اس نے اسے ایک پیغام بھیجا۔ مختصر، واضح۔ اس نے وقت مانگا، مگر اس بار حد کے ساتھ۔ اس نے جواب دیا—وقت ملے گا، مگر ترجیح کے ساتھ نہیں، وقار کے ساتھ۔
وہ ملے۔ کھلے دن میں۔ سادہ جگہ پر۔ باتیں کم، سننا زیادہ۔ اس نے دیکھا کہ وہ اب سوال نہیں ٹالتا، بات چھپاتا نہیں۔ وہ دیر نہیں کرتا، اطلاع دیتا ہے۔ چھوٹی باتیں تھیں، مگر انہی سے یقین بنتا ہے۔
وہ دل کے دروازے کھولنے میں جلدی نہیں کر رہی تھی۔ اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ اگر دوبارہ قدم رکھنا ہے تو پورے شعور کے ساتھ۔
ایک شام اس نے کہا،
“اگر کبھی تمہیں لگا کہ میں وہی پرانا ہوں، تو تم رکنا نہیں۔”
وہ مسکرائی۔
“میں اب رکتی نہیں، چل دیتی ہوں۔”
مہینے گزرے۔ خاموشی میں اعتماد نے جگہ بنائی۔ وہ جان گئی تھی کہ محبت دوبارہ بھی آ سکتی ہے، مگر اس بار شرائط کے ساتھ—اپنی عزت، اپنی حد، اپنی روشنی کے ساتھ۔
اور اگر کبھی یہ سب بھی کافی نہ ہوتا، تو اسے معلوم تھا کہ وہ اکیلی بھی مکمل ہے۔
کیونکہ اب اس کی محبت کسی کی محتاج نہ تھی—
وہ خود ایک مکمل کہانی تھی،
جس کا اگلا صفحہ
وہ خود لکھ رہی تھی
وہ سمجھ چکی تھی کہ ہر کہانی کو لمبا کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض کہانیاں وہاں مکمل ہو جاتی ہیں جہاں انسان خود کو پا لیتا ہے۔ ارحم کے ساتھ دوبارہ ملنا اس کے لیے کسی ادھورے باب کو بند کرنے جیسا تھا، نہ کہ نیا باب کھولنے جیسا۔
کچھ عرصہ وہ ایک دوسرے سے ملتے رہے، مگر اس بار فاصلہ واضح تھا۔ باتیں صاف تھیں، خاموشیاں الجھن والی نہیں تھیں۔ ارحم نے واقعی کوشش کی—وقت پر آنا، بات چھپائے بغیر کہنا، فیصلوں میں اسے شامل کرنا۔ مگر وہ جانتی تھی کہ کوشش اور فطرت میں فرق ہوتا ہے۔ انسان بدلتا ہے، مگر آہستہ؛ اور بعض زخم انتظار نہیں کرتے۔
ایک شام وہ دریا کے کنارے بیٹھے تھے۔ سورج ڈوب رہا تھا، پانی پر سنہری روشنی بکھر رہی تھی۔ ارحم نے اس کی طرف دیکھا، اس نظر سے جس میں امید بھی تھی اور ڈر بھی۔
“کیا ہم… دوبارہ؟”
یہ سوال سادہ تھا، مگر وزن دار۔
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا،
“ہم دوبارہ نہیں ہو سکتے، کیونکہ میں اب وہ نہیں رہی جو کبھی تھی۔ اور یہ بات اچھی ہے۔”
ارحم نے گہری سانس لی۔
“میں نے تمہیں دیر سے سمجھا۔”
“دیر سے سمجھنا غلط نہیں،”
اس نے نرمی سے کہا،
“مگر دیر سے چاہنا بعض اوقات کافی نہیں ہوتا۔”
وہ جانتی تھی کہ اگر وہ ہاں کہہ دے تو شاید سب ٹھیک چلتا رہے، مگر وہ ٹھیک سے زیادہ سچا چاہتی تھی۔ اس نے اپنی زندگی میں پہلی بار سہولت کے بجائے وقار کو چنا تھا۔
وہ کھڑی ہوئی۔ ہوا میں خنکی تھی، مگر اس کے اندر سکون تھا۔
“میں تمہاری دشمن نہیں ہوں،”
اس نے کہا،
“میں بس اپنی دوست ہوں۔”
ارحم نے سر ہلایا۔
کوئی ضد نہیں، کوئی بحث نہیں۔ شاید وہ بھی سمجھ گیا تھا۔
وہ الگ راستوں پر چل پڑے۔
مگر اس بار جدائی ٹوٹنے والی نہیں تھی۔ یہ جدائی مکمل تھی، صاف، بغیر کسی بوجھ کے۔
کچھ ماہ بعد وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکی تھی۔ نئے خواب، نئی مصروفیات، اور ایک ایسا دل جو اب خالی نہیں لگتا تھا۔ محبت پھر آئی—نرم، خاموش، بغیر مقابلے کے۔ ایک ایسا رشتہ جس میں وہ واحد انتخاب تھی، متبادل نہیں۔
کبھی کبھار وہ ارحم کو یاد کرتی، مگر درد کے ساتھ نہیں۔ شکر کے ساتھ۔ کیونکہ اگر وہ کہانی نہ ہوتی، تو وہ خود تک نہ پہنچتی۔
اور یوں یہ کہانی ختم ہوئی—
نہ کسی بڑے المیے پر،
نہ کسی شور پر۔
بس ایک عورت کے اس فیصلے پر
جس نے محبت سے پہلے
خود کو چن لیا۔
یہی انجام تھا۔
Post a Comment for "“دو دلوں کے بیچ ایک سایہ”"