Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اعتماد کی قیمت

 علی کی عمر ستائیس برس تھی اور زارا بھی ستائیس کی ہی تھی۔ دونوں کی منگنی کو تقریباً ایک سال ہو چکا تھا اور فروری میں ان کی شادی طے تھی۔ دونوں پڑھے لکھے تھے، اچھی نوکریاں کرتے تھے، اور سب کی نظر میں ایک مثالی جوڑا تھے۔ خاندان، دوست احباب، سب یہی کہتے تھے کہ علی اور زارا ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں۔

ان کے معاشرے میں شادی کے کچھ روایتی اصول تھے۔ دولہا دلہن کا لباس خریدنے کی روایت بھی انہی اصولوں میں شامل تھی۔ علی نے زارا کے لیے لہنگا لینا تھا اور زارا نے علی کے لیے شیروانی۔ یہ روایت دونوں کے لیے خوشی کا باعث بھی تھی اور جذباتی اہمیت بھی رکھتی تھی، کیونکہ شادی کا لباس صرف کپڑا نہیں ہوتا، وہ یادوں، خوابوں اور آنے والی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔

اسی لیے دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ عام بازار کے بجائے انہوں نے ایک معروف اور مہنگے برانڈ کا انتخاب کیا۔ کئی دن کی بحث کے بعد دونوں نے ایک قیمت کی حد طے کر لی، تاکہ کسی کو یہ محسوس نہ ہو کہ ایک نے زیادہ خرچ کیا اور دوسرا کم۔ دونوں نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ “جو حد طے ہوئی ہے، اس کے اندر رہتے ہوئے ہم اپنی پسند کا بہترین لباس لیں گے۔”

شوروم جانا خود ایک یادگار تجربہ تھا۔ روشن لائٹس، شیشے، قیمتی کپڑوں کی خوشبو، اور دیواروں پر آویزاں شاہانہ لباس۔ زارا نے کئی لہنگے دیکھے، چھوئے، آزمائے۔ علی خاموشی سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتا رہا۔ آخرکار زارا نے ایک خوبصورت، بھاری کام والا لہنگا پسند کیا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس نے اپنے خواب کو چھو لیا ہو۔

پھر علی کی باری آئی۔ اس نے بھی مختلف شیروانیاں دیکھیں۔ ایک خاص شیروانی پر آ کر اس کی نظر ٹھہر گئی۔ رنگ، کٹ، کڑھائی، سب کچھ شاہانہ تھا۔ زارا نے بھی تعریف کی۔ قیمت تھوڑی زیادہ تھی، مگر پھر بھی اس حد کے اندر تھی جو دونوں نے پہلے سے طے کی تھی۔ علی نے زارا کی طرف دیکھا، زارا نے مسکرا کر سر ہلایا۔ فیصلہ ہو گیا۔

لباس فوراً گھر نہیں لائے گئے کیونکہ ناپ کے مطابق تبدیلیاں ہونی تھیں۔ طے یہ ہوا کہ زارا علی کی شیروانی چند دن بعد لے کر اس کے گھر بھجوا دے گی، اور علی زارا کا لہنگا اسی طرح ایک مہینہ پہلے اس کے گھر پہنچا دے گا۔ علی نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ وہ خود جا کر زارا کا لہنگا لے آیا، گھر لا کر اس کے والدین کے حوالے کیا۔ سب خوش تھے، سب مطمئن تھے۔

دو دن پہلے علی کے گھر ایک بڑا سا پیکٹ آیا۔ زارا نے بھیج دیا تھا۔ علی کے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کی ماں، بہنیں، سب جمع ہو گئیں۔ شیروانی نکالی گئی، تصویریں بنیں، علی نے پہن کر دیکھا۔ سب کچھ بظاہر ٹھیک لگ رہا تھا، مگر علی کے دل میں کہیں ایک ہلکی سی خلش تھی۔

جب اس نے غور سے دیکھا تو اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔ کپڑے کا وزن، کڑھائی کی نفاست، سلائی کی صفائی… کچھ نہ کچھ مختلف تھا۔ وہ شیروانی ویسی نہیں تھی جو اس نے شوروم میں دیکھی تھی۔ رنگ تھوڑا مدھم تھا، کام کم نفیس تھا۔ سب سے عجیب بات یہ تھی کہ کالر کے پیچھے برانڈ کا ٹیگ موجود نہیں تھا۔

پہلے تو علی نے خود کو سمجھایا کہ شاید وہ زیادہ سوچ رہا ہے۔ شاید یہ تبدیلی ناپ کی وجہ سے ہو۔ مگر دل مطمئن نہ ہوا۔ اس نے زارا کو فون کیا۔ آہستہ آہستہ ساری بات بتائی، اور یہ بھی کہا کہ شاید دکاندار نے غلطی کی ہے، اس لیے وہ شوروم جا کر بات کرنا چاہتا ہے۔

فون کے اُس پار زارا کی آواز میں بے چینی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ “علی، یہ وہی شیروانی ہے، میں نے خود چیک کی تھی، تم بلاوجہ پریشان ہو رہے ہو۔” علی نے جب شوروم جانے پر اصرار کیا تو زارا اور زیادہ گھبرا گئی۔ اس کا لہجہ بدلنے لگا۔

کچھ دیر بعد، خاموشی کے بعد، زارا ٹوٹ گئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ شیروانی اصل والی نہیں تھی۔ مگر اس نے فوراً یہ بھی کہا کہ اس میں دکاندار کا کوئی قصور نہیں۔ اس نے جان بوجھ کر ایک سستی نقل اٹھائی تھی۔

علی کو لگا جیسے کسی نے اس کے سینے میں ہاتھ ڈال کر دل مروڑ دیا ہو۔ اس نے پوچھا، “کیوں؟”

زارا کا جواب الجھا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ اسے لگا تھا کہ شیروانی کی اصل قیمت زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس کے مطابق عورتوں کے کپڑے بھاری، زیادہ کام والے اور مہنگے ہوتے ہیں۔ اسے لگا کہ علی کی منتخب کی ہوئی شیروانی اس قیمت کے “قابل” نہیں تھی۔ اس لیے اس نے سوچا کہ ایک سستی مگر ملتی جلتی شیروانی لے لی جائے، تاکہ پیسے بچ جائیں۔

علی کے لیے یہ صرف پیسوں کا مسئلہ نہیں تھا۔ یہ اعتماد کا مسئلہ تھا۔ اس نے غصے اور دکھ کے ملے جلے لہجے میں پوچھا کہ اگر اسے ایسا لگتا تھا تو اس نے پہلے کیوں نہیں کہا؟ جب دونوں نے مل کر فیصلہ کیا تھا، تب اس نے اعتراض کیوں نہیں کیا؟ زارا کے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا۔

علی کے ذہن میں بار بار ایک بات گونج رہی تھی۔ زارا وہی لڑکی تھی جو مہنگے میک اپ پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتی تھی، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے۔ پھر اس نے اس ایک موقع پر، جو علی کے لیے زندگی کا سب سے اہم دن تھا، یہ حرکت کیوں کی؟

علی شیروانی اٹھا کر زارا کے گھر چلا گیا۔ اس نے اصل اور نقل کا فرق اسے دکھایا۔ کپڑے کی سلائی، کڑھائی، اور معیار کا موازنہ کیا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی، آنکھوں میں نمی تھی۔ اس نے کہا کہ یہ صرف ایک لباس نہیں، بلکہ اس کے جذبات، اس کا اعتماد، اور اس کی عزت کا معاملہ ہے۔

اس نے صاف کہا کہ یہ حرکت دل توڑنے والی اور بے حد توہین آمیز ہے۔ شادی جیسے مقدس رشتے کی بنیاد اعتماد پر ہوتی ہے، اور زارا نے وہ بنیاد ہلا دی تھی۔ اس نے وہ شیروانی وہیں چھوڑ دی اور خاموشی سے واپس آ گیا۔

اس کے بعد دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ علی کا ماننا تھا کہ غلطی زارا کی ہے، اس لیے پہلا قدم بھی اسی کو اٹھانا چاہیے۔ علی کے گھر میں شروع میں سب بہت دکھی تھے۔ اس کی ماں نے کہا کہ یہ شادی کا لباس تھا، اس کے ساتھ جذبات جڑے ہوتے ہیں۔

مگر وقت کے ساتھ ساتھ خاندان کے کچھ افراد نے کہنا شروع کر دیا کہ علی شاید زیادہ سختی دکھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی سر پر ہے، ایسے وقت میں جھگڑے مناسب نہیں۔ “بات کو بڑھاؤ مت، ورنہ کل کو پچھتاؤ گے”، سب یہی مشورہ دینے لگے۔

مگر علی کے دل میں ایک سوال مسلسل زندہ تھا۔ اگر شادی سے پہلے، جب سب کچھ خوشی اور رضامندی سے ہو رہا تھا، زارا یہ کر سکتی ہے، تو شادی کے بعد کیا ہوگا؟ کیا وہ ہر بڑے فیصلے میں خود ہی طے کرے گی کہ کیا “قابلِ قیمت” ہے اور کیا نہیں؟

علی کو احساس ہوا کہ اصل مسئلہ شیروانی نہیں، بلکہ یہ سوچ تھی کہ اس کے جذبات کی قیمت کم سمجھی گئی۔ وہ راتوں کو جاگتا رہا، شادی کے خواب اب سوالیہ نشان بن چکے تھے۔ وہ زارا سے محبت کرتا تھا، مگر اب اس محبت میں ایک دراڑ آ چکی تھی۔

یہ کہانی کسی ایک لباس کی نہیں تھی۔ یہ کہانی تھی اعتماد کے ٹوٹنے کی، چھوٹے جھوٹ کی، اور اس خوف کی کہ اگر بنیاد کمزور ہو تو رشتہ کتنا مضبوط رہ سکتا ہے۔ علی اپنے مؤقف پر قائم تھا، کیونکہ اس کے لیے خودداری اور اعتماد کسی بھی رشتے سے کم اہم نہیں تھے، چاہے وہ رشتہ شادی ہی کیوں نہ ہو۔

علی کے گھر میں وہ رات خاموشی سے گزری، مگر اس خاموشی میں شور بہت تھا۔ چھت کی پنکھا گھوم رہا تھا، مگر علی کے دماغ میں خیالات چکر کاٹ رہے تھے۔ ہر لمحہ وہی منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا—شوروم کی روشنیاں، وہ اصل شیروانی، زارا کی مسکراہٹ، اور پھر وہ سستی نقل جو اس کے اعتماد پر رکھ دی گئی تھی۔

وہ بار بار خود سے سوال کرتا رہا:
کیا میں واقعی زیادہ ردِعمل دے رہا ہوں؟
یا پھر میں نے پہلی بار اس رشتے کی اصل حقیقت دیکھ لی ہے؟

اگلی صبح علی کی ماں اس کے کمرے میں آئی۔ اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا، مگر اس کی آنکھوں میں تشویش۔
“بیٹا، بات صرف کپڑے کی نہیں، ہمیں معلوم ہے۔ مگر زندگی میں کبھی کبھی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ شادی سر پر ہے، ذرا سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا۔”

علی نے ماں کی بات خاموشی سے سنی، مگر جواب نہ دیا۔ وہ جانتا تھا کہ ماں کی نیت صاف ہے، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کچھ زخم وقت سے نہیں، سچ سے بھرے جاتے ہیں۔

ادھر زارا کے گھر کا ماحول بھی مختلف نہ تھا۔ علی کے جانے کے بعد وہ کافی دیر تک ایک ہی جگہ بیٹھی رہی۔ اس کے سامنے وہی شیروانی پڑی تھی جسے اس نے “قابلِ قیمت” نہ سمجھا تھا، مگر اب وہی اس کے لیے سب سے بھاری چیز بن چکی تھی۔ اس کی ماں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی، مگر زارا نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔

زارا کو پہلی بار احساس ہوا کہ اس نے صرف پیسے نہیں بچائے تھے، اس نے ایک اعتماد قربان کیا تھا۔ اس کے ذہن میں اس دن کی باتیں گھوم رہی تھیں جب شوروم میں علی نے اس شیروانی کو دیکھ کر کہا تھا،
“یہ مجھے پسند ہے، مجھے اس میں خود کو اچھا محسوس ہو رہا ہے۔”

اس وقت اس نے مسکرا کر سر ہلا دیا تھا، مگر دل میں فیصلہ کچھ اور کر لیا تھا۔ اسے لگا تھا کہ وہ عقلمندی کر رہی ہے۔ اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس “عقلمندی” میں جذبات کا قتل ہو گیا تھا۔

دو دن گزر گئے۔ کوئی فون نہیں، کوئی پیغام نہیں۔ دونوں کے گھروں میں شادی کی تیاریاں تھیں، مگر دلوں میں بے چینی۔ کارڈ چھپ چکے تھے، ہال بک تھا، مہمانوں کی فہرست تیار تھی۔ مگر علی اور زارا کے بیچ ایک دیوار کھڑی ہو چکی تھی۔

تیسرے دن زارا نے ہمت کی۔ اس نے علی کو پیغام بھیجا:
“ہمیں بات کرنی چاہیے۔”

علی نے پیغام دیکھا، مگر فوراً جواب نہ دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ اس وقت بات کرے گا تو شاید کمزور پڑ جائے گا۔ اسے خود سے ایماندار ہونا تھا۔

شام کو علی نے جواب دیا:
“ٹھیک ہے۔ کل۔ مگر صاف بات ہوگی۔”

اگلے دن دونوں ایک خاموش سے کیفے میں ملے۔ وہ جگہ جہاں کبھی وہ گھنٹوں ہنستے، خواب بُنتے تھے، آج اجنبی لگ رہی تھی۔ زارا کی آنکھیں سرخ تھیں، علی کا چہرہ سنجیدہ۔

کچھ لمحے خاموشی رہی۔ پھر زارا نے بولنا شروع کیا۔
“مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تمہیں اتنا دکھ ہوگا۔ میں نے سوچا تھا یہ صرف ایک عملی فیصلہ ہے۔”

علی نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔
“یہی تو مسئلہ ہے، زارا۔ تم نے اسے ‘صرف’ ایک فیصلہ سمجھا۔ میرے لیے یہ میری شادی کا لباس تھا، میری عزت، میرا خواب۔ تم نے فیصلہ اکیلے کیا، اور پھر مجھ سے چھپایا۔”

زارا کی آواز بھرا گئی۔
“میں مانتی ہوں، میں نے غلط کیا۔ مجھے لگتا تھا کہ میں بہتر جانتی ہوں۔ شاید یہی میری سب سے بڑی غلطی تھی۔”

علی نے آہستہ کہا،
“غلطی سب سے ہو جاتی ہے۔ مگر غلطی ماننے میں اور اسے چھپانے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر تم اُس دن کہہ دیتیں کہ تمہیں قیمت پر اعتراض ہے، تو ہم بات کر لیتے۔ مگر تم نے مجھے انتخاب کا حق ہی نہیں دیا۔”

زارا کے آنسو بہنے لگے۔
“میں نے ڈر کے مارے سچ نہیں کہا۔ مجھے لگا تم ناراض ہو جاؤ گے۔”

علی نے گہری سانس لی۔
“اور اب؟ اب تم کیا چاہتی ہو؟”

کافی دیر بعد زارا نے کہا،
“میں چاہتی ہوں کہ ہم سب کچھ نئے سرے سے کریں۔ اگر تم چاہو تو میں اصل شیروانی دوبارہ خریدنے کو تیار ہوں۔ صرف لباس نہیں، میں اپنا رویہ بھی بدلنا چاہتی ہوں۔”

علی خاموش رہا۔ وہ جانتا تھا کہ اصل سوال شیروانی کا نہیں تھا۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا وہ دوبارہ اس اعتماد کو جوڑ سکتا ہے جو ٹوٹ چکا تھا؟

وہ جانتا تھا کہ شادی صرف ایک دن کا نام نہیں، بلکہ ہر دن ایک دوسرے کے ساتھ ایماندار رہنے کا وعدہ ہے۔ اور یہ وعدہ صرف لفظوں سے نہیں، عمل سے نبھایا جاتا ہے۔

کیفے سے نکلتے ہوئے علی نے کوئی حتمی جواب نہیں دیا۔
“مجھے وقت چاہیے،” بس یہی کہا۔

یہ کہانی اب بھی ادھوری تھی۔ کیونکہ کچھ رشتے ایک معافی سے نہیں جڑتے، اور کچھ ٹوٹے ہوئے اعتماد دوبارہ بننے کے لیے وقت، سچائی اور ثابت قدمی مانگتے ہیں۔
شادی قریب تھی، مگر فیصلہ ابھی باقی تھا—کہ کیا یہ رشتہ صرف روایت پر چلے گا، یا واقعی اعتماد کی بنیاد پر۔

علی کو “وقت چاہیے” کہہ کر آئے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا، مگر اس ایک ہفتے نے دونوں کو اندر سے بدل دیا تھا۔ شادی کی تاریخ قریب آ رہی تھی، مگر دلوں میں فاصلے بڑھ گئے تھے۔ جو رشتہ کبھی ہنسی مذاق اور چھوٹے چھوٹے خوابوں سے بھرا ہوا تھا، اب سنجیدہ سوالوں کے بوجھ تلے دب گیا تھا۔

علی اب زیادہ خاموش رہنے لگا تھا۔ دفتر جاتا، کام کرتا، واپس آتا، مگر دل کہیں اور اٹکا رہتا۔ اس کے ساتھی سمجھتے تھے کہ وہ شادی کے دباؤ میں ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں گہری تھی۔ وہ خود سے لڑ رہا تھا۔ ایک طرف برسوں کی محبت، یادیں، وعدے… اور دوسری طرف ایک ایسا زخم جو ہر بار خودداری کو چھو جاتا تھا۔

ایک رات اس نے اپنی الماری کھولی۔ وہ جگہ جہاں شادی کے کپڑے رکھے جانے تھے، خالی پڑی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ اصل شیروانی نہ ہونا صرف ایک کمی نہیں تھی، بلکہ ایک علامت تھی—اس بات کی کہ کسی نے اس کے انتخاب کو کم تر سمجھا تھا۔

ادھر زارا کے لیے یہ دن اس سے بھی زیادہ بھاری تھے۔ اس کے گھر میں شادی کی باتیں ہو رہی تھیں، مگر وہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک خوف چھپائے ہوئے تھی۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ محبت صرف نیت سے نہیں، رویے سے ثابت ہوتی ہے۔ اس نے اپنی ماں کو سب کچھ بتا دیا تھا۔

اس کی ماں نے خاموشی سے سنا، پھر کہا:
“بیٹی، تم نے پیسے نہیں بچائے، تم نے اعتماد کم کیا ہے۔ اور اعتماد سب سے مہنگی چیز ہوتی ہے۔”

یہ جملہ زارا کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ اسی رات اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ صرف لفظوں سے نہیں، عمل سے بات کرے گی۔

اگلے دن وہ اکیلی شوروم گئی۔ وہی جگہ، وہی روشنی، وہی اصل شیروانی۔ اس نے دکاندار سے بات کی، دوبارہ آرڈر دیا، اور اس بار کسی قیمت پر بحث نہیں کی۔ ناپ دوبارہ دیے، فوری تیاری کی درخواست کی، اور ایڈوانس ادا کر دیا۔ مگر اس کے دل میں ایک خوف تھا—کیا یہ سب کافی ہوگا؟

اس نے علی کو فون نہیں کیا۔ اس نے سوچا کہ کچھ باتیں کہنے سے پہلے ثابت کرنا بہتر ہوتی ہیں۔

چند دن بعد علی کے گھر ایک بار پھر ایک پیکٹ آیا۔ اس بار کوئی خوشی نہیں تھی، کوئی ہجوم نہیں تھا۔ علی نے خود خاموشی سے پیکٹ کھولا۔ جیسے ہی اس نے شیروانی نکالی، اس کے ہاتھ رک گئے۔ وزن، کڑھائی، نفاست… یہ وہی تھی۔ بالکل وہی جسے اس نے پسند کیا تھا۔

پیکٹ کے اندر ایک لفافہ بھی تھا۔
علی نے خط کھولا۔

“میں جانتی ہوں کہ یہ سب شاید بہت دیر سے ہو رہا ہے۔
میں یہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ میں نے تمہاری پسند کو سمجھا ہے، اس کی عزت کی ہے۔
میں یہ شیروانی اس لیے نہیں بھیج رہی کہ شادی ہو جائے،
بلکہ اس لیے کہ اگر ہم شادی کریں تو وہ اعتماد کے ساتھ ہو۔
اگر تم نہیں بھی چاہتے، تب بھی یہ تمہارا حق تھا۔
— زارا”

علی دیر تک وہ خط ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا۔ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں، مگر دل ابھی بھی مکمل مطمئن نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک درست قدم اعتماد کی شروعات ہو سکتا ہے، مگر منزل نہیں۔

اسی شام اس کے والد نے اس سے بات کی۔
“بیٹا، شادی میں دو چیزیں چلتی ہیں—اصول اور لچک۔ اگر دونوں میں توازن نہ ہو تو رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اس نے غلطی کی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا وہ غلطی سمجھ کر بدلنے کو تیار ہے؟”

یہ بات علی کے دل میں اتر گئی۔ وہ سمجھنے لگا کہ شاید اصل امتحان یہی تھا—کیا زارا اپنی سوچ بدل سکتی ہے، یا وہ ہمیشہ خود کو درست سمجھتی رہے گی؟

علی نے آخرکار زارا کو پیغام بھیجا:
“ہمیں ایک آخری بار بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ خاندان کے بغیر۔ صرف ہم دونوں۔”

زارا کا جواب فوراً آیا:
“میں تیار ہوں۔”

یہ ملاقات فیصلہ کن ہونے والی تھی۔ اس بار بات صرف شیروانی کی نہیں تھی، بلکہ اس سوال کی تھی کہ کیا یہ رشتہ مستقبل میں بھی ایک دوسرے کی آواز سنے گا، یا صرف اپنی سمجھ پر چلے گا۔

شادی اب بھی قریب تھی، مگر اب یہ واضح ہو چکا تھا کہ نکاح صرف تاریخ پر نہیں ہوتا—وہ اعتماد کے دن پر ہوتا ہے۔
اور وہ دن ابھی آنا باقی تھا…

علی اور زارا کی آخری ملاقات کسی ریسٹورنٹ یا کیفے میں نہیں ہوئی۔ اس بار دونوں نے ایک سادہ سا فیصلہ کیا تھا۔ وہ اسی پارک میں ملے جہاں کبھی وہ شادی کے بعد کی زندگی کے خواب بناتے تھے۔ شام کا وقت تھا، سورج ڈھل رہا تھا، اور ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ مگر فضا میں رومان نہیں، احتیاط تھی۔

زارا وقت سے پہلے آ گئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں کوئی فائل، کوئی پیکٹ نہیں تھا۔ صرف وہ خود تھی، بغیر کسی دفاع کے۔ جب علی آیا تو اس کی چال میں وہی سنجیدگی تھی جو پچھلے دنوں میں اس کا مستقل مزاج بن چکی تھی۔

دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ پرندوں کی آوازیں، بچوں کی ہنسی، سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر ان کے دلوں میں طوفان تھا۔
آخرکار زارا نے خود کو سمیٹ کر بات شروع کی۔

“میں تم سے معافی مانگنے نہیں بیٹھی،” اس نے آہستہ کہا،
“کیونکہ معافی لفظوں سے نہیں ہوتی۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ تم جان لو کہ میں نے خود کو پہلی بار سچ میں غلط پایا ہے۔”

علی نے نظریں زمین پر جمائے رکھیں۔
“مجھے اس بات سے تکلیف نہیں ہوئی کہ تم نے سستی شیروانی لی،” وہ بولا،
“مجھے اس بات نے توڑا کہ تم نے فیصلہ اکیلے کیا، اور پھر مجھے یہ محسوس کروایا کہ میرا انتخاب کم تر ہے۔”

زارا نے سر جھکا لیا۔
“میں ہمیشہ سمجھتی رہی کہ میں عملی ہوں، سمجھدار ہوں۔ مگر اب مجھے لگ رہا ہے کہ میں نے اپنی سمجھداری کو تم پر مسلط کیا۔ میں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ اس دن تم کیسا محسوس کرو گے۔”

علی نے پہلی بار گہری سانس لی۔
“شادی کے بعد ایسے فیصلے روز ہوں گے، زارا۔ گھر، پیسے، بچے، خاندان۔ اگر ہر بار ایک ہی شخص طے کرے گا کہ کیا درست ہے، تو دوسرا آہستہ آہستہ خاموش ہو جائے گا۔ میں وہ خاموش آدمی نہیں بننا چاہتا۔”

یہ بات زارا کے دل میں بیٹھ گئی۔
“اور میں وہ عورت نہیں بننا چاہتی جو اپنے شوہر کو نظرانداز کرے،” اس نے کہا۔
“میں مانتی ہوں، مجھے اپنی عادتیں بدلنی ہوں گی۔ میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ میری یہ عادت—سب کچھ خود بہتر سمجھنے کی—کسی کو اتنا نقصان پہنچا سکتی ہے۔”

علی نے اس کی طرف دیکھا۔ پہلی بار اس کی آنکھوں میں دفاع نہیں، خوف تھا۔
“مجھے ڈر ہے،” زارا نے سچ بول دیا،
“مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم مجھے اس ایک غلطی کی وجہ سے پوری طرح رد نہ کر دو۔ مگر مجھے اس سے بھی زیادہ ڈر ہے کہ اگر تم نے مجھے معاف کر دیا اور میں نہ بدلی، تو میں واقعی اس رشتے کے قابل نہیں ہوں گی۔”

یہ الفاظ علی کے لیے نئے تھے۔ یہ وہ زارا تھی جسے وہ کم ہی دیکھتا تھا—غلطی ماننے والی، خود پر سوال اٹھانے والی۔

علی نے آہستہ کہا،
“میں شادی صرف اس لیے نہیں کرنا چاہتا کہ تاریخ قریب ہے، کارڈ چھپ گئے ہیں، لوگ کیا کہیں گے۔ میں شادی اس لیے کرنا چاہتا ہوں کہ میں تم پر بھروسا کر سکوں۔”

زارا نے فوراً جواب نہیں دیا۔ اس نے کچھ دیر سوچا، پھر کہا،
“تو پھر ہمیں شادی کو ایک امتحان نہیں، ایک ذمہ داری سمجھ کر شروع کرنا ہوگا۔ اگر تم کہو، تو ہم شادی کچھ مہینے آگے بھی کر سکتے ہیں۔ میں خاندان کو خود سمجھا لوں گی۔”

یہ سن کر علی چونک گیا۔
“تم واقعی یہ کر سکتی ہو؟”

“اگر رشتہ بچانا قیمت مانگتا ہے، تو تاریخ کیا چیز ہے؟” زارا کی آواز مضبوط تھی،
“میں نہیں چاہتی کہ تم اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ دباؤ میں کرو۔”

یہ پہلا لمحہ تھا جب علی کو لگا کہ شاید یہ رشتہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ شاید یہ زخم صرف ایک انتباہ تھا، سزا نہیں۔

اگلے چند دن دونوں نے دانستہ طور پر کم بات کی، مگر اس خاموشی میں فاصلے نہیں، سوچ تھی۔ علی نے خود کو ٹٹولا۔ کیا وہ واقعی زارا کو معاف کر سکتا ہے؟ یا وہ اس واقعے کو ہمیشہ ایک ہتھیار کی طرح استعمال کرے گا؟

اسے احساس ہوا کہ اگر وہ معاف کرے تو دل سے کرے، ورنہ یہ شادی دونوں کے لیے بوجھ بن جائے گی۔

آخرکار ایک رات علی نے زارا کو فون کیا۔
“میں شادی مؤخر نہیں کرنا چاہتا،” اس نے کہا،
“مگر ایک شرط ہے۔”

زارا کا دل دھڑکنے لگا۔
“کہو۔”

“ہم ہر بڑے فیصلے میں ایک دوسرے کو سنیں گے۔ اختلاف ہوگا، مگر چھپاؤ نہیں ہوگا۔ اور اگر کبھی تمہیں لگے کہ تم بہتر جانتی ہو، تو پہلے مجھے قائل کرو، بدل مت دو۔”

زارا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“میں وعدہ کرتی ہوں۔”

یہ وعدہ کسی رومانوی لمحے میں نہیں ہوا تھا۔ نہ کوئی موسیقی تھی، نہ کوئی خوابناک منظر۔ مگر شاید یہی وعدے اصل شادی ہوتے ہیں—خاموش، بھاری، اور سچے۔

شادی وقت پر ہو گئی۔ شیروانی وہی تھی جو علی نے پسند کی تھی، مگر اس دن علی کو لباس سے زیادہ ایک چیز عزیز تھی—یہ احساس کہ اس کی آواز سنی گئی ہے۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، کیونکہ اعتماد ایک دن میں مکمل نہیں ہوتا۔ مگر اس دن ایک بات واضح ہو گئی تھی:
رشتے پیسوں سے نہیں، نیت اور احترام سے مہنگے ہوتے ہیں۔
اور اگر احترام نہ ہو، تو سب سے خوبصورت لباس بھی کھوکھلا لگتا ہے۔

شادی کے بعد کے دن ہمیشہ تصویروں جیسے نہیں ہوتے، یہ بات علی اور زارا نے بہت جلد سیکھ لی۔ نکاح کے بعد جب رسمیں ختم ہوئیں اور مہمان رخصت ہو گئے، تو اصل زندگی آہستہ آہستہ دروازہ کھٹکھٹانے لگی۔

ابتدائی دن خاموشی میں گزرے۔ خوشگوار خاموشی نہیں، بلکہ محتاط سی۔ دونوں ایک دوسرے سے بات تو کرتے تھے، مگر ہر جملہ ناپ تول کر۔ جیسے دونوں کو ڈر ہو کہ کہیں پھر کوئی لفظ کسی پرانا زخم نہ چھیڑ دے۔

علی نے محسوس کیا کہ زارا بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ اب فیصلے فوراً نہیں سناتی تھی، بلکہ سوال کرتی تھی۔
“تمہیں کیا بہتر لگتا ہے؟”
“ہم اس پر مل کر سوچ لیں؟”

یہ جملے علی کے لیے نئے تھے۔ پہلے وہی زارا تھی جو اکثر کہہ دیتی تھی:
“مجھے پتا ہے، یہ بہتر ہے۔”

مگر اب وہ رکتی تھی۔

ایک دن گھر کے اخراجات کا موضوع آیا۔ زارا نے ایک فہرست بنائی اور علی کے سامنے رکھ دی۔
“یہ میں نے نہیں، ہم نے بنانی ہے،” اس نے صاف کہا۔

علی نے دل ہی دل میں محسوس کیا کہ شاید یہ رشتہ واقعی ایک نئی بنیاد پر کھڑا ہو رہا ہے۔

مگر زخم اگر گہرا ہو تو صرف اچھا رویہ کافی نہیں ہوتا۔ کچھ دن بعد علی کو دفتر میں ایک ساتھی نے ہنستے ہوئے کہا:
“یار، تمہاری شیروانی بڑی پسند کی جا رہی تھی۔ سنا ہے بڑا مہنگا برانڈ تھا!”

یہ جملہ سن کر علی کے اندر کچھ ہل گیا۔ زارا نے شاید یہ بات سنی نہیں تھی، مگر علی کے لیے وہ پرانی یاد پھر زندہ ہو گئی۔ رات کو وہ غیر ارادی طور پر خاموش ہو گیا۔

زارا نے محسوس کر لیا۔
“کیا ہوا؟” اس نے آہستہ سے پوچھا۔

علی نے ٹالنے کی کوشش کی، مگر پھر رک گیا۔
“مجھے ڈر لگتا ہے،” اس نے سچ کہہ دیا،
“کہ کہیں میں یہ سب بھولنے کا دکھاوا تو نہیں کر رہا؟”

زارا نے کچھ لمحے سوچا، پھر بولی:
“اور مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم دل میں سب جمع تو نہیں کر رہے؟”

یہ وہ لمحہ تھا جہاں پرانا علی خاموش ہو جاتا، اور پرانی زارا دفاع میں آ جاتی۔
مگر اس بار دونوں رکے۔

“میں تم سے ایک بات پوچھوں؟” زارا نے کہا۔
“پوچھو۔”
“کیا تم مجھ سے شادی اس لیے کر رہے ہو کہ میں بدل رہی ہوں، یا اس لیے کہ تم مجھے بدلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہو؟”

یہ سوال علی کے لیے آسان نہیں تھا۔ اس نے سچ سوچا، پھر کہا:
“میں تم سے شادی اس لیے کر رہا ہوں کہ تم نے مانا کہ تم غلط ہو سکتی ہو۔ اور میں اس لیے تمہارے ساتھ ہوں کیونکہ تم نے بدلنے کا فیصلہ خود کیا، میرے دباؤ میں نہیں۔”

زارا کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
“اور اگر میں پھر کبھی لڑکھڑا گئی؟”

علی نے آہستہ جواب دیا:
“تو ہم پھر بات کریں گے۔ مگر شرط وہی رہے گی—چھپاؤ نہیں ہوگا۔”

وقت کے ساتھ چھوٹی چھوٹی آزمائشیں آئیں۔ زارا کبھی کبھار پرانی عادت کی طرف جاتی، مگر اب وہ خود رک جاتی۔ علی بھی ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھنے کے بجائے سیکھ رہا تھا کہ کب اعتماد کرنا ہے اور کب بات کرنی ہے۔

ایک رات زارا نے خود وہ بات چھیڑی جس سے علی ہمیشہ کتراتا تھا۔
“اگر وہ شیروانی والا واقعہ دوبارہ تمہارے ذہن میں آئے، تو براہِ راست مجھ سے کہو۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ ایک خاموش دیوار بن جائے۔”

علی نے پہلی بار دل سے مسکرا کر کہا:
“شاید یہی اصل شادی ہے۔”

کچھ رشتے ایک بڑے جھگڑے سے ٹوٹ جاتے ہیں، اور کچھ اسی جھگڑے کے بعد سچ میں شروع ہوتے ہیں۔ علی اور زارا کا رشتہ کامل نہیں تھا، مگر اب اس میں ایک چیز ضرور تھی—احتیاط کے ساتھ سچائی۔

اور شاید یہی وہ فرق تھا جو ایک خوبصورت تقریب اور ایک مضبوط رشتے کے درمیان ہوتا ہے۔

وقت آہستہ آہستہ اپنی رفتار پر واپس آ گیا۔ علی اور زارا کی زندگی میں دن معمول کے ہونے لگے، مگر اب معمول میں ایک نئی بات شامل تھی—بات کرنا۔ وہ باتیں جو پہلے دل میں دبا لی جاتی تھیں، اب لفظوں میں ڈھلنے لگیں۔

ایک شام علی دیر سے گھر آیا۔ تھکا ہوا تھا، ذہن بوجھل۔ زارا نے حسبِ عادت سوال نہیں کیا، بس کھانا میز پر رکھا اور کہا،
“کھانے کے بعد بات کریں؟”

یہ چھوٹا سا جملہ علی کے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔
وہ کھانے کے بعد خاموشی سے بیٹھا رہا، پھر خود بولا،
“آج وہ واقعہ پھر یاد آ گیا تھا۔”

زارا نے کوئی صفائی پیش نہیں کی، کوئی دفاع نہیں کیا۔
بس اتنا کہا،
“میں سن رہی ہوں۔”

علی نے پہلی بار محسوس کیا کہ زخم تب بھرنا شروع ہوتا ہے جب سامنے والا سچ میں سنتا ہے، نہ کہ خود کو درست ثابت کرتا ہے۔ اس رات وہ ہلکا محسوس کر رہا تھا—جیسے کوئی بوجھ زمین پر رکھ دیا ہو۔

مہینے گزر گئے۔ زارا نے واقعی خود کو بدلا تھا، اور علی نے واقعی اعتماد کرنا سیکھا تھا۔ نہ وہ رشتہ کامل تھا، نہ وہ لوگ۔ مگر اب وہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں، ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔

ایک دن زارا نے الماری صاف کرتے ہوئے وہ پرانی سستی شیروانی دیکھی جو اس واقعے کی گواہ تھی۔ اس نے علی کو آواز دی۔
“اس کا کیا کریں؟”

علی نے شیروانی کو دیکھا، پھر مسکرا کر کہا،
“اسے رکھ دو۔”

“کیوں؟”
“تاکہ ہمیں یاد رہے کہ ایک غلط فیصلہ ہمیں کتنا کچھ سکھا گیا تھا۔”

زارا کی آنکھیں بھر آئیں۔
وہ سمجھ گئی کہ علی نے معاف کر دیا ہے—صرف لفظوں میں نہیں، دل سے۔

کچھ رشتے بڑے وعدوں سے نہیں بنتے، بلکہ ان لمحوں سے بنتے ہیں جہاں انسان اپنی انا ایک طرف رکھ کر کہتا ہے:
“میں غلط ہو سکتا ہوں۔”

علی اور زارا کی کہانی اسی دن ایک نئے موڑ پر ختم نہیں ہوئی—بلکہ شروع ہوئی۔
اب ان کے درمیان ہر چیز قیمتی تھی، مگر سب سے قیمتی وہ اعتماد تھا جو ٹوٹ کر، سچ کے ساتھ، دوبارہ جڑا تھا۔

اور شاید یہی اصل انجام تھا—
جہاں شادی صرف ایک رسم نہیں رہی،
بلکہ ایک شعوری انتخاب بن گئی۔

Post a Comment for "اعتماد کی قیمت"