علی کی عمر ستائیس برس تھی اور زارا بھی ستائیس کی ہی تھی۔ دونوں کی منگنی کو تقریباً ایک سال ہو چکا تھا اور فروری میں ان کی شادی طے تھی۔ دونوں پڑھے لکھے تھے، اچھی نوکریاں کرتے تھے، اور سب کی نظر میں ایک مثالی جوڑا تھے۔ خاندان، دوست احباب، سب یہی کہتے تھے کہ علی اور زارا ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں۔
ان کے معاشرے میں شادی کے کچھ روایتی اصول تھے۔ دولہا دلہن کا لباس خریدنے کی روایت بھی انہی اصولوں میں شامل تھی۔ علی نے زارا کے لیے لہنگا لینا تھا اور زارا نے علی کے لیے شیروانی۔ یہ روایت دونوں کے لیے خوشی کا باعث بھی تھی اور جذباتی اہمیت بھی رکھتی تھی، کیونکہ شادی کا لباس صرف کپڑا نہیں ہوتا، وہ یادوں، خوابوں اور آنے والی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔
اسی لیے دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ عام بازار کے بجائے انہوں نے ایک معروف اور مہنگے برانڈ کا انتخاب کیا۔ کئی دن کی بحث کے بعد دونوں نے ایک قیمت کی حد طے کر لی، تاکہ کسی کو یہ محسوس نہ ہو کہ ایک نے زیادہ خرچ کیا اور دوسرا کم۔ دونوں نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ “جو حد طے ہوئی ہے، اس کے اندر رہتے ہوئے ہم اپنی پسند کا بہترین لباس لیں گے۔”
شوروم جانا خود ایک یادگار تجربہ تھا۔ روشن لائٹس، شیشے، قیمتی کپڑوں کی خوشبو، اور دیواروں پر آویزاں شاہانہ لباس۔ زارا نے کئی لہنگے دیکھے، چھوئے، آزمائے۔ علی خاموشی سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتا رہا۔ آخرکار زارا نے ایک خوبصورت، بھاری کام والا لہنگا پسند کیا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس نے اپنے خواب کو چھو لیا ہو۔
پھر علی کی باری آئی۔ اس نے بھی مختلف شیروانیاں دیکھیں۔ ایک خاص شیروانی پر آ کر اس کی نظر ٹھہر گئی۔ رنگ، کٹ، کڑھائی، سب کچھ شاہانہ تھا۔ زارا نے بھی تعریف کی۔ قیمت تھوڑی زیادہ تھی، مگر پھر بھی اس حد کے اندر تھی جو دونوں نے پہلے سے طے کی تھی۔ علی نے زارا کی طرف دیکھا، زارا نے مسکرا کر سر ہلایا۔ فیصلہ ہو گیا۔
لباس فوراً گھر نہیں لائے گئے کیونکہ ناپ کے مطابق تبدیلیاں ہونی تھیں۔ طے یہ ہوا کہ زارا علی کی شیروانی چند دن بعد لے کر اس کے گھر بھجوا دے گی، اور علی زارا کا لہنگا اسی طرح ایک مہینہ پہلے اس کے گھر پہنچا دے گا۔ علی نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ وہ خود جا کر زارا کا لہنگا لے آیا، گھر لا کر اس کے والدین کے حوالے کیا۔ سب خوش تھے، سب مطمئن تھے۔
دو دن پہلے علی کے گھر ایک بڑا سا پیکٹ آیا۔ زارا نے بھیج دیا تھا۔ علی کے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کی ماں، بہنیں، سب جمع ہو گئیں۔ شیروانی نکالی گئی، تصویریں بنیں، علی نے پہن کر دیکھا۔ سب کچھ بظاہر ٹھیک لگ رہا تھا، مگر علی کے دل میں کہیں ایک ہلکی سی خلش تھی۔
جب اس نے غور سے دیکھا تو اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔ کپڑے کا وزن، کڑھائی کی نفاست، سلائی کی صفائی… کچھ نہ کچھ مختلف تھا۔ وہ شیروانی ویسی نہیں تھی جو اس نے شوروم میں دیکھی تھی۔ رنگ تھوڑا مدھم تھا، کام کم نفیس تھا۔ سب سے عجیب بات یہ تھی کہ کالر کے پیچھے برانڈ کا ٹیگ موجود نہیں تھا۔
پہلے تو علی نے خود کو سمجھایا کہ شاید وہ زیادہ سوچ رہا ہے۔ شاید یہ تبدیلی ناپ کی وجہ سے ہو۔ مگر دل مطمئن نہ ہوا۔ اس نے زارا کو فون کیا۔ آہستہ آہستہ ساری بات بتائی، اور یہ بھی کہا کہ شاید دکاندار نے غلطی کی ہے، اس لیے وہ شوروم جا کر بات کرنا چاہتا ہے۔
فون کے اُس پار زارا کی آواز میں بے چینی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ “علی، یہ وہی شیروانی ہے، میں نے خود چیک کی تھی، تم بلاوجہ پریشان ہو رہے ہو۔” علی نے جب شوروم جانے پر اصرار کیا تو زارا اور زیادہ گھبرا گئی۔ اس کا لہجہ بدلنے لگا۔
کچھ دیر بعد، خاموشی کے بعد، زارا ٹوٹ گئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ شیروانی اصل والی نہیں تھی۔ مگر اس نے فوراً یہ بھی کہا کہ اس میں دکاندار کا کوئی قصور نہیں۔ اس نے جان بوجھ کر ایک سستی نقل اٹھائی تھی۔
علی کو لگا جیسے کسی نے اس کے سینے میں ہاتھ ڈال کر دل مروڑ دیا ہو۔ اس نے پوچھا، “کیوں؟”
زارا کا جواب الجھا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ اسے لگا تھا کہ شیروانی کی اصل قیمت زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس کے مطابق عورتوں کے کپڑے بھاری، زیادہ کام والے اور مہنگے ہوتے ہیں۔ اسے لگا کہ علی کی منتخب کی ہوئی شیروانی اس قیمت کے “قابل” نہیں تھی۔ اس لیے اس نے سوچا کہ ایک سستی مگر ملتی جلتی شیروانی لے لی جائے، تاکہ پیسے بچ جائیں۔
علی کے لیے یہ صرف پیسوں کا مسئلہ نہیں تھا۔ یہ اعتماد کا مسئلہ تھا۔ اس نے غصے اور دکھ کے ملے جلے لہجے میں پوچھا کہ اگر اسے ایسا لگتا تھا تو اس نے پہلے کیوں نہیں کہا؟ جب دونوں نے مل کر فیصلہ کیا تھا، تب اس نے اعتراض کیوں نہیں کیا؟ زارا کے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا۔
علی کے ذہن میں بار بار ایک بات گونج رہی تھی۔ زارا وہی لڑکی تھی جو مہنگے میک اپ پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتی تھی، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے۔ پھر اس نے اس ایک موقع پر، جو علی کے لیے زندگی کا سب سے اہم دن تھا، یہ حرکت کیوں کی؟
علی شیروانی اٹھا کر زارا کے گھر چلا گیا۔ اس نے اصل اور نقل کا فرق اسے دکھایا۔ کپڑے کی سلائی، کڑھائی، اور معیار کا موازنہ کیا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی، آنکھوں میں نمی تھی۔ اس نے کہا کہ یہ صرف ایک لباس نہیں، بلکہ اس کے جذبات، اس کا اعتماد، اور اس کی عزت کا معاملہ ہے۔
اس نے صاف کہا کہ یہ حرکت دل توڑنے والی اور بے حد توہین آمیز ہے۔ شادی جیسے مقدس رشتے کی بنیاد اعتماد پر ہوتی ہے، اور زارا نے وہ بنیاد ہلا دی تھی۔ اس نے وہ شیروانی وہیں چھوڑ دی اور خاموشی سے واپس آ گیا۔
اس کے بعد دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ علی کا ماننا تھا کہ غلطی زارا کی ہے، اس لیے پہلا قدم بھی اسی کو اٹھانا چاہیے۔ علی کے گھر میں شروع میں سب بہت دکھی تھے۔ اس کی ماں نے کہا کہ یہ شادی کا لباس تھا، اس کے ساتھ جذبات جڑے ہوتے ہیں۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ خاندان کے کچھ افراد نے کہنا شروع کر دیا کہ علی شاید زیادہ سختی دکھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی سر پر ہے، ایسے وقت میں جھگڑے مناسب نہیں۔ “بات کو بڑھاؤ مت، ورنہ کل کو پچھتاؤ گے”، سب یہی مشورہ دینے لگے۔
مگر علی کے دل میں ایک سوال مسلسل زندہ تھا۔ اگر شادی سے پہلے، جب سب کچھ خوشی اور رضامندی سے ہو رہا تھا، زارا یہ کر سکتی ہے، تو شادی کے بعد کیا ہوگا؟ کیا وہ ہر بڑے فیصلے میں خود ہی طے کرے گی کہ کیا “قابلِ قیمت” ہے اور کیا نہیں؟
علی کو احساس ہوا کہ اصل مسئلہ شیروانی نہیں، بلکہ یہ سوچ تھی کہ اس کے جذبات کی قیمت کم سمجھی گئی۔ وہ راتوں کو جاگتا رہا، شادی کے خواب اب سوالیہ نشان بن چکے تھے۔ وہ زارا سے محبت کرتا تھا، مگر اب اس محبت میں ایک دراڑ آ چکی تھی۔
یہ کہانی کسی ایک لباس کی نہیں تھی۔ یہ کہانی تھی اعتماد کے ٹوٹنے کی، چھوٹے جھوٹ کی، اور اس خوف کی کہ اگر بنیاد کمزور ہو تو رشتہ کتنا مضبوط رہ سکتا ہے۔ علی اپنے مؤقف پر قائم تھا، کیونکہ اس کے لیے خودداری اور اعتماد کسی بھی رشتے سے کم اہم نہیں تھے، چاہے وہ رشتہ شادی ہی کیوں نہ ہو۔
علی کے گھر میں وہ رات خاموشی سے گزری، مگر اس خاموشی میں شور بہت تھا۔ چھت کی پنکھا گھوم رہا تھا، مگر علی کے دماغ میں خیالات چکر کاٹ رہے تھے۔ ہر لمحہ وہی منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا—شوروم کی روشنیاں، وہ اصل شیروانی، زارا کی مسکراہٹ، اور پھر وہ سستی نقل جو اس کے اعتماد پر رکھ دی گئی تھی۔
علی نے ماں کی بات خاموشی سے سنی، مگر جواب نہ دیا۔ وہ جانتا تھا کہ ماں کی نیت صاف ہے، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کچھ زخم وقت سے نہیں، سچ سے بھرے جاتے ہیں۔
ادھر زارا کے گھر کا ماحول بھی مختلف نہ تھا۔ علی کے جانے کے بعد وہ کافی دیر تک ایک ہی جگہ بیٹھی رہی۔ اس کے سامنے وہی شیروانی پڑی تھی جسے اس نے “قابلِ قیمت” نہ سمجھا تھا، مگر اب وہی اس کے لیے سب سے بھاری چیز بن چکی تھی۔ اس کی ماں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی، مگر زارا نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔
اس وقت اس نے مسکرا کر سر ہلا دیا تھا، مگر دل میں فیصلہ کچھ اور کر لیا تھا۔ اسے لگا تھا کہ وہ عقلمندی کر رہی ہے۔ اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس “عقلمندی” میں جذبات کا قتل ہو گیا تھا۔
دو دن گزر گئے۔ کوئی فون نہیں، کوئی پیغام نہیں۔ دونوں کے گھروں میں شادی کی تیاریاں تھیں، مگر دلوں میں بے چینی۔ کارڈ چھپ چکے تھے، ہال بک تھا، مہمانوں کی فہرست تیار تھی۔ مگر علی اور زارا کے بیچ ایک دیوار کھڑی ہو چکی تھی۔
علی نے پیغام دیکھا، مگر فوراً جواب نہ دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ اس وقت بات کرے گا تو شاید کمزور پڑ جائے گا۔ اسے خود سے ایماندار ہونا تھا۔
اگلے دن دونوں ایک خاموش سے کیفے میں ملے۔ وہ جگہ جہاں کبھی وہ گھنٹوں ہنستے، خواب بُنتے تھے، آج اجنبی لگ رہی تھی۔ زارا کی آنکھیں سرخ تھیں، علی کا چہرہ سنجیدہ۔
علی خاموش رہا۔ وہ جانتا تھا کہ اصل سوال شیروانی کا نہیں تھا۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا وہ دوبارہ اس اعتماد کو جوڑ سکتا ہے جو ٹوٹ چکا تھا؟
وہ جانتا تھا کہ شادی صرف ایک دن کا نام نہیں، بلکہ ہر دن ایک دوسرے کے ساتھ ایماندار رہنے کا وعدہ ہے۔ اور یہ وعدہ صرف لفظوں سے نہیں، عمل سے نبھایا جاتا ہے۔
علی کو “وقت چاہیے” کہہ کر آئے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا، مگر اس ایک ہفتے نے دونوں کو اندر سے بدل دیا تھا۔ شادی کی تاریخ قریب آ رہی تھی، مگر دلوں میں فاصلے بڑھ گئے تھے۔ جو رشتہ کبھی ہنسی مذاق اور چھوٹے چھوٹے خوابوں سے بھرا ہوا تھا، اب سنجیدہ سوالوں کے بوجھ تلے دب گیا تھا۔
علی اب زیادہ خاموش رہنے لگا تھا۔ دفتر جاتا، کام کرتا، واپس آتا، مگر دل کہیں اور اٹکا رہتا۔ اس کے ساتھی سمجھتے تھے کہ وہ شادی کے دباؤ میں ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں گہری تھی۔ وہ خود سے لڑ رہا تھا۔ ایک طرف برسوں کی محبت، یادیں، وعدے… اور دوسری طرف ایک ایسا زخم جو ہر بار خودداری کو چھو جاتا تھا۔
ایک رات اس نے اپنی الماری کھولی۔ وہ جگہ جہاں شادی کے کپڑے رکھے جانے تھے، خالی پڑی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ اصل شیروانی نہ ہونا صرف ایک کمی نہیں تھی، بلکہ ایک علامت تھی—اس بات کی کہ کسی نے اس کے انتخاب کو کم تر سمجھا تھا۔
ادھر زارا کے لیے یہ دن اس سے بھی زیادہ بھاری تھے۔ اس کے گھر میں شادی کی باتیں ہو رہی تھیں، مگر وہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک خوف چھپائے ہوئے تھی۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ محبت صرف نیت سے نہیں، رویے سے ثابت ہوتی ہے۔ اس نے اپنی ماں کو سب کچھ بتا دیا تھا۔
یہ جملہ زارا کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ اسی رات اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ صرف لفظوں سے نہیں، عمل سے بات کرے گی۔
اگلے دن وہ اکیلی شوروم گئی۔ وہی جگہ، وہی روشنی، وہی اصل شیروانی۔ اس نے دکاندار سے بات کی، دوبارہ آرڈر دیا، اور اس بار کسی قیمت پر بحث نہیں کی۔ ناپ دوبارہ دیے، فوری تیاری کی درخواست کی، اور ایڈوانس ادا کر دیا۔ مگر اس کے دل میں ایک خوف تھا—کیا یہ سب کافی ہوگا؟
اس نے علی کو فون نہیں کیا۔ اس نے سوچا کہ کچھ باتیں کہنے سے پہلے ثابت کرنا بہتر ہوتی ہیں۔
چند دن بعد علی کے گھر ایک بار پھر ایک پیکٹ آیا۔ اس بار کوئی خوشی نہیں تھی، کوئی ہجوم نہیں تھا۔ علی نے خود خاموشی سے پیکٹ کھولا۔ جیسے ہی اس نے شیروانی نکالی، اس کے ہاتھ رک گئے۔ وزن، کڑھائی، نفاست… یہ وہی تھی۔ بالکل وہی جسے اس نے پسند کیا تھا۔
علی دیر تک وہ خط ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا۔ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں، مگر دل ابھی بھی مکمل مطمئن نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک درست قدم اعتماد کی شروعات ہو سکتا ہے، مگر منزل نہیں۔
یہ بات علی کے دل میں اتر گئی۔ وہ سمجھنے لگا کہ شاید اصل امتحان یہی تھا—کیا زارا اپنی سوچ بدل سکتی ہے، یا وہ ہمیشہ خود کو درست سمجھتی رہے گی؟
یہ ملاقات فیصلہ کن ہونے والی تھی۔ اس بار بات صرف شیروانی کی نہیں تھی، بلکہ اس سوال کی تھی کہ کیا یہ رشتہ مستقبل میں بھی ایک دوسرے کی آواز سنے گا، یا صرف اپنی سمجھ پر چلے گا۔
علی اور زارا کی آخری ملاقات کسی ریسٹورنٹ یا کیفے میں نہیں ہوئی۔ اس بار دونوں نے ایک سادہ سا فیصلہ کیا تھا۔ وہ اسی پارک میں ملے جہاں کبھی وہ شادی کے بعد کی زندگی کے خواب بناتے تھے۔ شام کا وقت تھا، سورج ڈھل رہا تھا، اور ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ مگر فضا میں رومان نہیں، احتیاط تھی۔
زارا وقت سے پہلے آ گئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں کوئی فائل، کوئی پیکٹ نہیں تھا۔ صرف وہ خود تھی، بغیر کسی دفاع کے۔ جب علی آیا تو اس کی چال میں وہی سنجیدگی تھی جو پچھلے دنوں میں اس کا مستقل مزاج بن چکی تھی۔
یہ الفاظ علی کے لیے نئے تھے۔ یہ وہ زارا تھی جسے وہ کم ہی دیکھتا تھا—غلطی ماننے والی، خود پر سوال اٹھانے والی۔
یہ پہلا لمحہ تھا جب علی کو لگا کہ شاید یہ رشتہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ شاید یہ زخم صرف ایک انتباہ تھا، سزا نہیں۔
اگلے چند دن دونوں نے دانستہ طور پر کم بات کی، مگر اس خاموشی میں فاصلے نہیں، سوچ تھی۔ علی نے خود کو ٹٹولا۔ کیا وہ واقعی زارا کو معاف کر سکتا ہے؟ یا وہ اس واقعے کو ہمیشہ ایک ہتھیار کی طرح استعمال کرے گا؟
اسے احساس ہوا کہ اگر وہ معاف کرے تو دل سے کرے، ورنہ یہ شادی دونوں کے لیے بوجھ بن جائے گی۔
“ہم ہر بڑے فیصلے میں ایک دوسرے کو سنیں گے۔ اختلاف ہوگا، مگر چھپاؤ نہیں ہوگا۔ اور اگر کبھی تمہیں لگے کہ تم بہتر جانتی ہو، تو پہلے مجھے قائل کرو، بدل مت دو۔”
یہ وعدہ کسی رومانوی لمحے میں نہیں ہوا تھا۔ نہ کوئی موسیقی تھی، نہ کوئی خوابناک منظر۔ مگر شاید یہی وعدے اصل شادی ہوتے ہیں—خاموش، بھاری، اور سچے۔
شادی وقت پر ہو گئی۔ شیروانی وہی تھی جو علی نے پسند کی تھی، مگر اس دن علی کو لباس سے زیادہ ایک چیز عزیز تھی—یہ احساس کہ اس کی آواز سنی گئی ہے۔
شادی کے بعد کے دن ہمیشہ تصویروں جیسے نہیں ہوتے، یہ بات علی اور زارا نے بہت جلد سیکھ لی۔ نکاح کے بعد جب رسمیں ختم ہوئیں اور مہمان رخصت ہو گئے، تو اصل زندگی آہستہ آہستہ دروازہ کھٹکھٹانے لگی۔
ابتدائی دن خاموشی میں گزرے۔ خوشگوار خاموشی نہیں، بلکہ محتاط سی۔ دونوں ایک دوسرے سے بات تو کرتے تھے، مگر ہر جملہ ناپ تول کر۔ جیسے دونوں کو ڈر ہو کہ کہیں پھر کوئی لفظ کسی پرانا زخم نہ چھیڑ دے۔
مگر اب وہ رکتی تھی۔
علی نے دل ہی دل میں محسوس کیا کہ شاید یہ رشتہ واقعی ایک نئی بنیاد پر کھڑا ہو رہا ہے۔
یہ جملہ سن کر علی کے اندر کچھ ہل گیا۔ زارا نے شاید یہ بات سنی نہیں تھی، مگر علی کے لیے وہ پرانی یاد پھر زندہ ہو گئی۔ رات کو وہ غیر ارادی طور پر خاموش ہو گیا۔
وقت کے ساتھ چھوٹی چھوٹی آزمائشیں آئیں۔ زارا کبھی کبھار پرانی عادت کی طرف جاتی، مگر اب وہ خود رک جاتی۔ علی بھی ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھنے کے بجائے سیکھ رہا تھا کہ کب اعتماد کرنا ہے اور کب بات کرنی ہے۔
کچھ رشتے ایک بڑے جھگڑے سے ٹوٹ جاتے ہیں، اور کچھ اسی جھگڑے کے بعد سچ میں شروع ہوتے ہیں۔ علی اور زارا کا رشتہ کامل نہیں تھا، مگر اب اس میں ایک چیز ضرور تھی—احتیاط کے ساتھ سچائی۔
اور شاید یہی وہ فرق تھا جو ایک خوبصورت تقریب اور ایک مضبوط رشتے کے درمیان ہوتا ہے۔
وقت آہستہ آہستہ اپنی رفتار پر واپس آ گیا۔ علی اور زارا کی زندگی میں دن معمول کے ہونے لگے، مگر اب معمول میں ایک نئی بات شامل تھی—بات کرنا۔ وہ باتیں جو پہلے دل میں دبا لی جاتی تھیں، اب لفظوں میں ڈھلنے لگیں۔
علی نے پہلی بار محسوس کیا کہ زخم تب بھرنا شروع ہوتا ہے جب سامنے والا سچ میں سنتا ہے، نہ کہ خود کو درست ثابت کرتا ہے۔ اس رات وہ ہلکا محسوس کر رہا تھا—جیسے کوئی بوجھ زمین پر رکھ دیا ہو۔
مہینے گزر گئے۔ زارا نے واقعی خود کو بدلا تھا، اور علی نے واقعی اعتماد کرنا سیکھا تھا۔ نہ وہ رشتہ کامل تھا، نہ وہ لوگ۔ مگر اب وہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں، ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔

Post a Comment for "اعتماد کی قیمت"