Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

خاموش محبت


شام آہستہ آہستہ شہر پر اتر رہی تھی۔ آسمان پر سنہری اور نیلگوں رنگ ایک دوسرے میں گھل رہے تھے، جیسے دن اور رات کے درمیان کوئی خاموش معاہدہ ہو رہا ہو۔ کیفے کی کھڑکیوں سے باہر جھانکتی روشنی سڑک پر بکھر رہی تھی، اور اندر کافی کی خوشبو فضا میں تحلیل ہو کر دل تک اتر رہی تھی۔ اسی کیفے کے ایک کونے میں عارف بیٹھا تھا، ہاتھ میں کپ لیے، مگر نظریں دروازے پر ٹکی ہوئی تھیں۔

مریم ہمیشہ کی طرح وقت پر آئی۔ بارش ابھی شروع نہیں ہوئی تھی مگر ہوا میں نمی تھی، ایسی نمی جو آنے والے لمحوں کی خبر دیتی ہے۔ مریم نے ہلکے رنگ کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا اور اس کے بال کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ عارف نے مسکرا کر اسے دیکھا تو مریم نے نظریں جھکا لیں، جیسے اس مسکراہٹ میں کوئی ذاتی راز چھپا ہو۔

یہ ان کی روزمرہ کی ملاقات بن چکی تھی، مگر ہر دن نیا محسوس ہوتا تھا۔ وہ کافی پیتے، آہستہ آہستہ باتیں کرتے، اور باہر گزرتے لوگوں کو دیکھتے رہتے۔ کبھی کوئی لفظ نہ بھی بولتے تو خاموشی ان کے درمیان اجنبیت نہیں بنتی تھی، بلکہ ایک نرم سی قربت پیدا کر دیتی تھی۔

اس دن بارش نے اچانک شدت اختیار کر لی۔ قطرے شیشے سے ٹکراتے تو ایک مدھم سا شور پیدا ہوتا۔ مریم نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور کہا کہ بارش شہر کو سچا کر دیتی ہے۔ عارف نے پوچھا کیسے؟ مریم نے مسکرا کر جواب دیا کہ بارش میں لوگ چھپ نہیں پاتے، جیسے جذبات بھیگ کر سامنے آ جاتے ہیں۔

کافی ختم ہوئی تو وہ دونوں باہر نکل آئے۔ بارش تیز تھی، مگر دونوں نے چھتری نہیں لی۔ وہ ایک ساتھ چلتے رہے، قدموں کی رفتار ایک جیسی، جیسے انجانے میں کوئی ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہو۔ سڑک پر پانی جمع تھا اور روشنیوں کا عکس اس میں لرز رہا تھا۔

خاموش گلیاں ان کا راستہ بن گئیں۔ یہاں شور نہیں تھا، بس بارش، قدموں کی آواز اور سانسوں کی گرمی۔ مریم نے آہستہ سے کہا کہ اسے یہ گلیاں پسند ہیں کیونکہ یہاں کوئی جلدی نہیں ہوتی۔ عارف نے سر ہلا دیا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ بات صرف گلیوں کے بارے میں نہیں تھی۔

پارک کے قریب پہنچ کر بارش کچھ ہلکی ہو گئی۔ درخت بھیگے ہوئے تھے اور زمین سے مٹی کی خوشبو اٹھ رہی تھی۔ وہ ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ ہوا ٹھنڈی تھی، مگر دلوں میں ایک عجیب سی حرارت تھی۔ عارف نے محسوس کیا کہ مریم کے ہاتھ اس کے ہاتھ کے قریب ہیں، مگر دونوں نے چھونے کی جلدی نہیں کی۔

کچھ لمحوں بعد مریم نے خود ہی بات شروع کی۔ اس نے بتایا کہ وہ ہمیشہ سے خاموش محبت پر یقین رکھتی ہے، ایسی محبت جو دکھاوے کی محتاج نہ ہو۔ عارف نے کہا کہ شاید اسی لیے وہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھ پائے ہیں۔

وقت کے ساتھ ان کی ملاقاتیں بڑھتی گئیں۔ کبھی شام کیفے میں، کبھی بارش میں بھیگتے ہوئے، کبھی پارک کی پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے۔ ہر جگہ ایک ہی احساس ان کے ساتھ رہتا، سکون اور کشش کا ملا جلا سا رنگ۔

ایک دن مریم کچھ خاموش تھی۔ عارف نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ زندگی میں فیصلے سامنے آ رہے ہیں، اور وہ ڈر رہی ہے کہ کہیں یہ سب بدل نہ جائے۔ عارف نے نرمی سے کہا کہ کچھ چیزیں بدلتی نہیں، بس گہری ہو جاتی ہیں۔

بارش نے اس دن بھی انہیں گھیر لیا۔ وہ ایک تنگ گلی میں کھڑے تھے، چھجے کے نیچے۔ پانی سامنے بہہ رہا تھا اور روشنی مدھم تھی۔ مریم نے عارف کی طرف دیکھا، اس نظر میں سوال بھی تھا اور اعتماد بھی۔ عارف نے پہلی بار ہمت کر کے اس کا ہاتھ تھاما۔ یہ لمس مختصر تھا مگر مکمل۔

اس لمحے دونوں نے جان لیا کہ محبت صرف کہنے کا نام نہیں، محسوس کرنے کا عمل ہے۔ ان کے درمیان کوئی جلد بازی نہیں تھی، بس ایک قدرتی تسلسل تھا جو انہیں قریب لا رہا تھا۔

دن مہینوں میں بدلے۔ شہر کی گلیاں، کیفے، پارک سب ان کی یادوں کا حصہ بن گئے۔ وہ کبھی ہنستے، کبھی سنجیدہ باتیں کرتے، مگر ایک دوسرے سے دور نہیں ہوتے۔

ایک شام عارف نے مریم کو اسی خاموش پارک میں بلایا جہاں وہ پہلی بار دیر تک بیٹھے تھے۔ بارش ہلکی تھی اور فضا میں نمی تھی۔ عارف نے کہا کہ وہ مریم کے ساتھ زندگی کی ہر شام، ہر بارش، ہر خاموش گلی بانٹنا چاہتا ہے۔

مریم نے آنکھوں میں نمی کے ساتھ مسکرا کر جواب دیا کہ کچھ محبتیں شور نہیں کرتیں، مگر وقت کے ساتھ مضبوط ہو جاتی ہیں۔

یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، کیونکہ بارش ابھی باقی تھی، اور اس بارش میں قربت اور بے لفظ احساسوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے والا تھا۔

اگلی ملاقات بھی بارش کے نام رہی۔ اس دن بادل پہلے سے زیادہ بھاری تھے اور آسمان مسلسل برستا جا رہا تھا۔ عارف اور مریم کیفے سے نکلے تو سڑک پر پانی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اردگرد لوگ جلدی میں تھے، مگر وہ دونوں آہستہ چل رہے تھے، جیسے وقت نے ان کے لیے رفتار بدل دی ہو۔

بارش میں بھیگتی ہوئی سڑک پر چلتے ہوئے ان کے کندھے کبھی کبھار آپس میں ٹکرا جاتے۔ ہر بار یہ ہلکا سا لمس دل میں ایک عجیب سی لرزش پیدا کر دیتا۔ کوئی معذرت نہیں، کوئی وضاحت نہیں، بس ایک خاموش قبولیت۔

وہ ایک تنگ سی گلی میں داخل ہوئے جہاں روشنی کم اور خاموشی زیادہ تھی۔ بارش کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر گونج رہی تھی۔ مریم رک گئی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر عارف کی طرف۔ اس نظر میں کچھ کہا نہیں گیا، مگر بہت کچھ سمجھ لیا گیا۔

عارف نے آہستہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، جیسے اجازت مانگ رہا ہو۔ مریم نے بغیر کچھ کہے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ لمحہ نہ جلدی کا تھا نہ جوش کا، بلکہ مکمل سکون کا تھا۔ بارش کے قطرے ان کے ہاتھوں پر گرتے رہے، مگر اندر ایک خاموش آگ جلتی رہی۔

وہ دونوں یونہی کھڑے رہے، ہاتھوں میں ہاتھ لیے۔ بارش نے انہیں دنیا سے الگ کر دیا تھا۔ آس پاس کچھ نہیں تھا، بس سانسوں کی آواز، دل کی دھڑکنیں، اور وہ قربت جو لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔

مریم نے دھیمی آواز میں کہا کہ بعض احساسات بولے جائیں تو ٹوٹ جاتے ہیں۔ عارف نے اس کے ہاتھ کو ذرا سا مضبوطی سے تھام لیا، جیسے کہہ رہا ہو کہ یہ احساس محفوظ ہے۔

پارک کے قریب پہنچ کر بارش کچھ ہلکی ہوئی۔ درختوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ وہ ایک درخت کے نیچے رکے۔ مریم کے بال بھیگ کر اس کے چہرے کے قریب آ گئے تھے۔ عارف نے نظریں چرا لیں، احترام کے ساتھ، مگر دل پوری شدت سے بول رہا تھا۔

اس لمحے دونوں نے محسوس کیا کہ اصل قربت لمس میں نہیں، اس ضبط میں ہے جو دل کی گہرائی سے نکلتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے بہت قریب تھے، مگر حدود اپنی جگہ قائم تھیں۔ یہی قربت کو اور زیادہ معنی خیز بنا رہا تھا۔

بارش تھمی تو وہ آہستہ آہستہ واپس چل پڑے۔ ہاتھ اب بھی ایک دوسرے کے ساتھ تھے، جیسے چھوڑنے کا وقت ابھی نہیں آیا تھا۔ اس دن کے بعد بارش ان کے لیے محض موسم نہیں رہی، بلکہ ایک احساس بن گئی۔

جب بھی بادل آتے، جب بھی پہلی بوند گرتی، انہیں ایک دوسرے کی یاد آ جاتی۔ کیونکہ اس بارش نے ان کے درمیان وہ کہہ نہ سکنے والی باتیں کہہ دی تھیں، جو لفظوں میں کبھی نہیں سمٹ سکتیں۔

مگر زندگی ہمیشہ ایک ہی رفتار سے نہیں چلتی۔ بارش کے بعد جیسے موسم بدلتا ہے، ویسے ہی ان کی زندگی میں بھی ایک موڑ آیا۔ مریم کو ایک اہم موقع ملا، ایک ایسا فیصلہ جو اس کے مستقبل کے لیے ضروری تھا مگر اس میں عارف سے وقتی جدائی شامل تھی۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، مگر دونوں جانتے تھے کہ خاموش محبت قربانی مانگتی ہے۔

آخری ملاقات اس دن ہوئی جب آسمان صاف تھا، مگر دلوں میں بادل تھے۔ وہ اسی کیفے میں بیٹھے تھے جہاں ان کی کہانی نے شکل لی تھی۔ باتیں کم تھیں، خاموشی زیادہ۔ عارف نے کچھ نہیں پوچھا، مریم نے کچھ نہیں سمجھایا۔ دونوں جانتے تھے کہ یہ جدائی وقتی ہے، مگر درد حقیقی تھا۔

جدائی کے دن آہستہ آہستہ گزرنے لگے۔ عارف کی شامیں اب بھی کیفے کے آس پاس گزرتیں، مگر سامنے والی کرسی خالی رہتی۔ بارش ہوتی تو وہ خاموش گلیوں میں چلتا اور ہر موڑ پر مریم کا خیال اس کے ساتھ چلتا۔ انتظار اب ایک عادت بن چکا تھا، ایک ایسا احساس جو تکلیف بھی دیتا تھا اور طاقت بھی۔

مریم بھی دور رہ کر یہی محسوس کرتی تھی۔ نئے شہر میں سب کچھ نیا تھا، مگر دل میں وہی پرانی گلیاں، وہی کیفے، وہی بارش بستی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ کچھ رشتے فاصلے سے کمزور نہیں ہوتے بلکہ اور گہرے ہو جاتے ہیں۔

وقت نے دونوں کو بدل دیا، مگر الگ نہیں کیا۔ صبر نے ان کے رشتے کو مضبوط کیا۔ پھر ایک دن، بغیر کسی اعلان کے، مریم واپس لوٹ آئی۔ شام کا وقت تھا، ہوا میں ہلکی سی نمی تھی، جیسے شہر نے انہیں دوبارہ ملانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔

عارف حسبِ معمول کیفے کے باہر کھڑا تھا۔ جب اس نے مریم کو دیکھا تو لمحہ بھر کو وقت رک گیا۔ کوئی دوڑ نہیں، کوئی شور نہیں، بس خاموش قدم ایک دوسرے کی طرف بڑھے۔ نظریں ملیں، مسکراہٹ ابھری، اور آنکھوں میں وہی پرانا یقین لوٹ آیا۔

وہ دونوں خاموش گلی سے ہوتے ہوئے پارک تک آئے۔ وہی بینچ، وہی درخت، اور فضا میں ہلکی ہلکی بارش۔ اس بار ہاتھ تھامنے میں کوئی جھجک نہیں تھی، کیونکہ انتظار نے انہیں یقین سکھا دیا تھا۔

عارف نے کہا کہ کچھ محبتیں آزمائش مانگتی ہیں تاکہ ثابت ہو سکیں۔ مریم نے جواب دیا کہ اور کچھ محبتیں خاموش رہ کر ہی مضبوط ہوتی ہیں۔

یہ ان کا reunion تھا، شور سے پاک، مگر احساس سے بھرپور۔ بارش پھر شروع ہو چکی تھی، مگر اس بار وہ دونوں جانتے تھے کہ اب کوئی جدائی انہیں کمزور نہیں کرے گی۔

یوں خاموش محبت اپنی مکمل شکل میں سامنے آئی۔ شام، کیفے، بارش، پارک اور خاموش گلیاں اب صرف جگہیں نہیں رہیں، بلکہ ان کی محبت کی گواہ بن چکی تھیں۔

یہ کہانی یہاں اختتام کو پہنچتی ہے، مگر یہ اختتام ختم ہونا نہیں، بلکہ ایک ایسے سفر کی شروعات ہے جو سکون، اعتماد اور خاموش محبت کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے

Post a Comment for "خاموش محبت"