Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

"جادوئی کنواں اور بہادر دوست"


 ایک سرسبز و شاداب وادی میں ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جس کا نام نورآباد تھا۔ اس گاؤں کے چاروں طرف سبز پہاڑ، نیلے آسمان اور بہتے ہوئے چشمے تھے۔ گاؤں کے بچے صبح سویرے پرندوں کی آوازوں کے ساتھ جاگتے اور شام کو جگمگاتے ستاروں کے نیچے سو جاتے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک بچہ رہتا تھا جس کا نام عارف تھا۔ عارف بہت سادہ دل، تجسس سے بھرپور اور دوسروں کی مدد کرنے والا بچہ تھا۔ اسے کہانیاں سننا، پرندوں کو دیکھنا اور نئی نئی چیزیں سیکھنا بے حد پسند تھا۔

عارف کا سب سے اچھا دوست ایک ننھا سا گلہری تھا جسے وہ پیار سے چنٹو کہتا تھا۔ چنٹو ہر روز عارف کے گھر کے پاس والے درخت پر آتا اور اپنی ننھی آنکھوں سے عارف کو دیکھتا جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو۔ عارف بھی اسکول سے واپس آ کر اس کے لیے مونگ پھلیاں رکھ دیتا۔ ان دونوں کی دوستی پورے گاؤں میں مشہور تھی۔

ایک دن گاؤں میں عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ پرندے کم بول رہے تھے اور ہوا میں بھی اداسی محسوس ہو رہی تھی۔ عارف نے اپنی دادی سے پوچھا تو دادی نے بتایا کہ پہاڑوں کے اُس پار والا قدیم جنگل آہستہ آہستہ سوکھ رہا ہے، اور اگر جنگل مر گیا تو چشمے بھی خشک ہو جائیں گے۔ یہ سن کر عارف کا دل گھبرا گیا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جنگل ہی گاؤں کی زندگی ہے۔

اسی رات عارف کو ایک عجیب خواب آیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک روشن جگنو اس کے کمرے میں داخل ہوا اور نرم آواز میں بولا کہ اگر جنگل کو بچانا ہے تو ہمت، دوستی اور سچائی کے ساتھ سفر کرنا ہو گا۔ عارف کی آنکھ کھلی تو وہ خواب کو بھول نہ سکا۔ صبح ہوتے ہی اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ جنگل کو بچانے کی کوشش کرے گا۔

چنٹو جیسے ہی درخت سے نیچے اترا، عارف نے اسے سب بات بتائی۔ چنٹو نے خوشی سے دم ہلائی، جیسے وہ بھی اس مہم کے لیے تیار ہو۔ راستے میں انہیں ایک بولتا ہوا طوطا ملا جس کا نام سبزُو تھا۔ سبزُو نے بتایا کہ جنگل کے دل میں ایک جادوئی کنواں ہے جو سوکھ رہا ہے، اور اگر اس میں دوبارہ سچائی اور نیکی کے قطرے ڈالے جائیں تو جنگل زندہ ہو سکتا ہے۔

تینوں دوست سفر پر نکل پڑے۔ راستے میں انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کہیں پتھریلا راستہ تھا، کہیں اندھیرا غار، مگر ہر مشکل میں وہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتے رہے۔ جب بھی عارف ڈرتا، چنٹو اس کے کندھے پر بیٹھ جاتا، اور سبزُو حوصلہ دینے والی باتیں کرتا۔

ایک مقام پر انہوں نے ایک زخمی ہرن کو دیکھا۔ عارف نے بغیر سوچے سمجھے اس کی مدد کی، پانی پلایا اور پتے کھلائے۔ ہرن نے شکریہ ادا کیا اور انہیں جنگل کے محفوظ راستے کا راز بتا دیا۔ عارف کو اس وقت احساس ہوا کہ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔

بالآخر وہ جادوئی کنویں تک پہنچ گئے۔ کنواں واقعی تقریباً خشک ہو چکا تھا۔ عارف نے اپنی سچائی، ہمت اور دوسروں کی مدد کے سارے واقعات یاد کیے اور دل سے دعا کی۔ چنٹو نے اپنی دوستی کی قربانی پیش کی، اور سبزُو نے سچ بولنے کی طاقت کنویں میں ڈال دی۔

اچانک زمین ہلنے لگی، کنویں سے صاف پانی اُبل پڑا، درختوں میں جان آ گئی، پرندے چہچہا اٹھے، اور پورا جنگل پھر سے سبز ہو گیا۔ عارف کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔

جب وہ واپس گاؤں پہنچے تو چشمے دوبارہ بہنے لگے تھے۔ گاؤں والے عارف پر فخر کرنے لگے، مگر عارف نے مسکرا کر کہا کہ یہ سب دوستی، نیکی اور سچائی کا کمال ہے۔

اس دن کے بعد نورآباد کے بچے بھی ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے، جانوروں سے محبت کرنے لگے اور فطرت کا خیال رکھنے لگے۔ عارف اور چنٹو اب بھی روز ملتے ہیں، مگر اب ان کے ساتھ ایک پوری کہانی جڑی ہوئی ہے جو بچوں کو یہ سکھاتی ہے کہ چھوٹے دل بھی بڑے کام کر سکتے ہیں۔

یہ کہانی یہاں ختم ہوتی ہے، مگر عارف کی سچائی، دوستی اور ہمت ہر اُس بچے کے دل میں زندہ رہتی ہے جو نیکی کے راستے پر چلنا چاہتا ہے۔

Post a Comment for ""جادوئی کنواں اور بہادر دوست""