Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

محبت کی حدیں


وہ شام غیر معمولی طور پر خاموش تھی۔ سورج ڈھلتے وقت آسمان پر نارنجی اور گلابی رنگ اس طرح گھل رہے تھے جیسے کسی نے جذبات کو رنگوں میں قید کر دیا ہو۔ حنا بالکونی میں کھڑی نیچے سڑک کو دیکھ رہی تھی جہاں روشنیوں کی قطاریں آہستہ آہستہ جل رہی تھیں۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی گرمی تھی، ایسی گرمی جو سرد ہوا میں بھی بدن کو گرم رکھتی ہے۔ وہ جانتی تھی کہ یہ احساس محض موسم کا نہیں بلکہ کسی اور کی موجودگی کا ہے، چاہے وہ سامنے نہ بھی ہو۔

اسی شہر میں، اسی لمحے، ارحم اپنی گاڑی روکتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے آج کی رات کچھ بدلنے والی ہے۔ وہ ایک سنجیدہ مزاج شخص تھا، کم بولنے والا، مگر دل میں جذبات کا سمندر رکھتا تھا۔ حنا سے اس کی ملاقات کسی فلمی موڑ کی مرہونِ منت نہیں تھی بلکہ ایک عام سے دن میں، ایک عام سی جگہ پر ہوئی تھی، مگر ان دونوں کے لیے وہ دن غیر معمولی بن چکا تھا۔

حنا اور ارحم پہلی بار ایک کتابوں کی دکان میں ملے تھے۔ حنا ایک ناول کے صفحات الٹ پلٹ رہی تھی جب ارحم نے اسی کتاب کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ ان کی انگلیاں لمحہ بھر کے لیے ٹکرائیں اور وہ لمحہ جیسے وقت سے آزاد ہو گیا۔ حنا نے نظریں اٹھائیں تو ارحم کی آنکھوں میں ایک خاموش کشش تھی، ایسی کشش جو شور نہیں مچاتی مگر دل میں گھر بنا لیتی ہے۔

اس دن کے بعد ملاقاتیں بڑھتی گئیں۔ کبھی کافی شاپ میں، کبھی سمندر کے کنارے، کبھی بارش میں بھیگتی سڑکوں پر۔ ان کی باتیں عام موضوعات سے شروع ہوتیں اور آہستہ آہستہ دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتیں۔ ارحم کی آواز میں ٹھہراؤ تھا اور حنا کی ہنسی میں زندگی۔ جب وہ ساتھ ہوتے تو دنیا جیسے پیچھے رہ جاتی۔

محبت آہستہ آہستہ ان کے وجود میں سرایت کر گئی۔ وہ ایک دوسرے کو چھوتے تو نہیں تھے، مگر نظریں بہت کچھ کہہ دیتی تھیں۔ ارحم کی خاموشی حنا کے لیے سوال نہیں بلکہ سکون بن چکی تھی، اور حنا کی موجودگی ارحم کے دل کے بند دروازے کھول دیتی تھی۔ ان کے درمیان قربت تھی مگر ایک حد بھی، ایک ایسی حد جسے دونوں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔

ایک رات وہ سمندر کے کنارے بیٹھے تھے۔ لہریں آ کر ان کے قدموں کو چھو رہی تھیں۔ ہوا میں نمکین خوشبو تھی اور چاند پانی پر لرزتا ہوا عکس بنا رہا تھا۔ حنا نے آہستہ سے اپنا سر ارحم کے کندھے پر رکھا۔ یہ لمس مختصر تھا مگر اس میں ایک مکمل کہانی تھی۔ ارحم نے کچھ نہ کہا، بس گہری سانس لی، جیسے اس لمحے کو اپنے اندر محفوظ کر رہا ہو۔

ان کے رشتے میں کشش تھی، تپش تھی، مگر سب کچھ خاموش اور مہذب انداز میں۔ حنا کی آنکھوں میں سوال ہوتے اور ارحم کے رویے میں جواب۔ وہ ایک دوسرے کے قریب آتے تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں، مگر ہاتھ خود بخود رک جاتے۔ یہ رکنا کمزوری نہیں تھی بلکہ ایک شعوری انتخاب تھا، ایک ایسی محبت جو خواہش کو بھی وقار دیتی ہے۔

دن گزرتے گئے۔ شہر کی رونقیں بدلتی رہیں، موسم آئے گئے، مگر ان کا رشتہ مضبوط ہوتا گیا۔ وہ ایک دوسرے کے بغیر دن کا تصور نہیں کر سکتے تھے۔ ارحم کے لیے حنا محض ایک محبوبہ نہیں تھی بلکہ اس کی دوست، اس کی رازدار، اس کے سکون کی جگہ تھی۔ اور حنا کے لیے ارحم ایک ایسا احساس تھا جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا تھا۔

ایک دن اچانک ارحم کو دوسرے شہر جانا پڑا۔ یہ جدائی مختصر تھی مگر بھاری محسوس ہو رہی تھی۔ اسٹیشن پر جب ٹرین روانہ ہوئی تو حنا نے ہاتھ ہلایا اور مسکرانے کی کوشش کی، مگر آنکھیں نم ہو گئیں۔ ارحم نے کھڑکی سے اسے دیکھا اور دل میں وعدہ کیا کہ یہ فاصلہ ان کے درمیان نہیں رہے گا۔

دور رہ کر بھی ان کی محبت کم نہ ہوئی۔ فون کالز، پیغامات اور یادوں نے فاصلے کو چھوٹا کر دیا۔ کبھی کبھی رات کے سناٹے میں حنا کو یوں لگتا جیسے ارحم کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی ہو۔ اور ارحم جب بھی آنکھیں بند کرتا تو اسے حنا کی ہنسی نظر آتی۔

واپسی کا دن آیا تو شہر نے انہیں مختلف انداز میں خوش آمدید کہا۔ اس ملاقات میں جذبات کی شدت پہلے سے زیادہ تھی۔ وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے، کچھ لمحے خاموش، پھر حنا نے مسکرا کر کہا کہ تم بدل گئے ہو۔ ارحم نے جواب دیا کہ ہاں، محبت انسان کو بدل دیتی ہے۔

اس دن انہوں نے محسوس کیا کہ اصل قربت جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہوتی ہے۔ ان کی محبت میں حرارت تھی مگر وہ حرارت دل میں جلتی تھی، آنکھوں میں چمکتی تھی، اور خاموش لمس میں سانس لیتی تھی۔

وقت نے انہیں آزمائشوں سے گزارا، مگر وہ ہر موڑ پر ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔ ان کی کہانی کسی شور شرابے والی محبت کی کہانی نہیں تھی بلکہ ایک گہری، گرم اور مکمل محبت کی مثال تھی۔ ایسی محبت جو حدود میں رہ کر بھی دل کو جلا دیتی ہے اور روح کو روشن کر دیتی ہے۔

یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، کیونکہ کچھ محبتیں انجام نہیں مانگتیں، وہ بس چلتی رہتی ہیں، ہر دن کو ایک نیا مفہوم دیتی ہیں، اور ہر رات کو ایک خاموش وعدہ۔

اسی وعدے نے ان کے رشتے میں ایک نئی شدت بھر دی۔ اب ملاقاتوں میں خاموشی کم اور سانسوں کی گرمی زیادہ تھی۔ حنا جب ارحم کے قریب آتی تو اس کے دل کی دھڑکنیں جیسے ایک تال میں بندھ جاتیں۔ نظریں ملتے ہی نگاہیں ہٹانا مشکل ہو جاتا، جیسے آنکھیں خود ایک دوسرے میں پناہ ڈھونڈ رہی ہوں۔

کافی شاپ کی میز پر بیٹھے وہ ایک دوسرے کی باتوں سے زیادہ ایک دوسرے کی موجودگی محسوس کرتے۔ حنا کی انگلیاں کپ کے کنارے پر ٹھہرتیں تو ارحم کی نگاہیں وہیں رک جاتیں۔ یہ لمس نہیں تھا مگر لمس سے کم بھی نہیں تھا۔ دل میں اٹھتی ہوئی تپش الفاظ کی محتاج نہ تھی۔

بارش کی ایک شام وہ سڑک کے کنارے رکے۔ ہوا میں بھیگی مٹی کی خوشبو تھی۔ حنا کے بالوں سے ٹپکتے ہوئے قطرے ارحم کے دل میں ہلچل مچا رہے تھے۔ اس نے بے اختیار اپنی جیکٹ حنا کے کندھوں پر رکھ دی۔ یہ ایک چھوٹا سا عمل تھا، مگر اس میں وہ ساری حرارت تھی جو کبھی کبھی آگ سے زیادہ جلانے والی ہوتی ہے۔

وہ چلتے چلتے ایک پل پر رکے۔ نیچے پانی شور مچا رہا تھا اور اوپر ان کی خاموشی بول رہی تھی۔ حنا نے آہستہ سے ارحم کی طرف دیکھا۔ اس نظر میں خواہش بھی تھی، اعتماد بھی، اور ایک نرم سی ضد بھی۔ ارحم نے نظریں جھکا لیں، جیسے خود کو سنبھال رہا ہو، مگر دل اس کی گرفت سے نکل چکا تھا۔

اس رات باتیں دیر تک چلتی رہیں۔ فون پر خاموش وقفے بھی معنی خیز ہو گئے۔ سانسوں کی آوازیں ایک دوسرے تک پہنچتی رہیں اور دلوں کی دھڑکنیں فاصلے کے باوجود قریب ہو گئیں۔ یہ قربت جسمانی نہیں تھی، مگر جسم تک اتر آنے والی تھی۔

دنوں بعد جب وہ دوبارہ ملے تو شہر کی روشنی کچھ زیادہ تیز لگ رہی تھی۔ وہ ایک سنسان گلی سے گزرتے ہوئے رکے۔ حنا نے ارحم کے قریب آ کر سرگوشی کی، ایسی سرگوشی جس میں نام بھی تھا اور بے نام سی چاہت بھی۔ ارحم نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، جیسے خود کو قابو میں رکھ رہا ہو۔

ان کے درمیان فاصلہ چند انچ کا رہ گیا تھا۔ اس فاصلے میں برسوں کی خواہش سمٹ آئی تھی۔ ارحم نے آہستہ سے حنا کا ہاتھ تھاما۔ یہ ہاتھ تھامنا ایک اعلان تھا، ایک عہد۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہوئیں مگر قدم اپنی حد میں رہے۔

اس رشتے کی گرمی اسی حد میں تھی، اسی وقار میں۔ وہ جانتے تھے کہ اصل شدت ضبط میں ہے، اور اصل لذت انتظار میں۔ ان کی محبت گرم تھی، بے حد گرم، مگر روشنی کی طرح، جو جلائے بغیر روشن کر دیتی ہے۔

یوں وقت کے ساتھ ان کی کہانی مزید گہری ہوتی گئی۔ ہر ملاقات ایک نیا جذبہ لے کر آتی، ہر جدائی ایک نئی چاہت چھوڑ جاتی۔ یہ محبت شور نہیں کرتی تھی، مگر دل میں مستقل آگ جلائے رکھتی تھی، ایسی آگ جو بجھتی نہیں، بس مزید تیز ہو جاتی ہے۔

Post a Comment for "محبت کی حدیں"