بارش کی وہ رات عام راتوں جیسی نہیں تھی بلکہ ایسی محسوس ہو رہی تھی جیسے آسمان خود زمین پر اتر آیا ہو۔ بادل اس قدر نیچے جھکے تھے کہ لگتا تھا وہ درختوں کے کانوں میں کچھ سرگوشیاں کر رہے ہوں۔ ہوا میں نمی کے ساتھ ایک عجیب سی بوسیدہ خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ حارث نے گاڑی کا انجن بند کیا تو اچانک خاموشی چھا گئی، ایسی خاموشی جو کانوں میں شور بن کر اترتی ہے۔ سامنے گھنا جنگل تھا، وہی جنگل جسے مقامی لوگ سایوں کا جنگل کہتے تھے۔
کہتے تھے جو یہاں آتا ہے وہ واپس تو آ جاتا ہے، مگر اس کی آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے اندھیرا بس جاتا ہے۔ حارث ایک صحافی تھا، سچ کی تلاش اس کا جنون تھی۔ اس نے کئی خوفناک جگہوں پر رپورٹنگ کی تھی، مگر اس جنگل کے بارے میں سنتے ہی اس کے دل میں عجیب سی بے چینی پیدا ہو گئی تھی، جیسے جنگل خود اسے بلا رہا ہو۔
اس کے ساتھ عائشہ تھی، ایک بے خوف فوٹوگرافر جس کے لیے ہر ڈراؤنی جگہ ایک نیا چیلنج تھی، اور فہد جو اس علاقے کا رہائشی تھا۔ فہد کے چہرے پر جنگل کو دیکھتے ہی ہوائیاں اڑنے لگیں۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا کہ اس جنگل میں سورج بھی راستہ بھول جاتا ہے، مگر حارث نے ہنستے ہوئے بات ٹال دی۔
جنگل میں قدم رکھتے ہی درجہ حرارت بدل گیا۔ ہوا ٹھنڈی اور بھاری ہو گئی۔ درخت اتنے اونچے تھے کہ آسمان غائب ہو چکا تھا۔ ہر طرف اندھیرا اور خاموشی تھی، مگر اس خاموشی کے پیچھے جیسے ہزاروں قدموں کی آوازیں چھپی ہوں۔ عائشہ نے کیمرہ آن کیا تو اس کی اسکرین پر دھند سی چھا گئی، حالانکہ لینز بالکل صاف تھا۔
چلتے چلتے انہیں محسوس ہوا کہ راستہ بار بار بدل رہا ہے۔ وہ جس سمت جاتے، درخت اس طرح جھک جاتے جیسے انہیں گھیر رہے ہوں۔ فہد کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس نے کہا کہ یہاں وقت سیدھا نہیں چلتا۔ اس کی بات ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ کہیں دور سے بچوں کے ہنسنے کی آواز آئی۔ اس ویران جنگل میں بچوں کی ہنسی سن کر تینوں کے قدم رک گئے۔
کچھ دیر بعد ایک پرانی جھونپڑی دکھائی دی۔ لکڑی سڑ چکی تھی اور دیواروں پر کالے ہاتھوں کے نشان بنے تھے۔ دروازہ خود بخود چرچراتے ہوئے کھل گیا۔ اندر قدم رکھتے ہی تیز بدبو نے ان کا استقبال کیا۔ دیواروں پر ناخنوں کے گہرے نشان تھے، جیسے کسی نے نکلنے کی کوشش میں دیواریں نوچ ڈالی ہوں۔
عائشہ نے تصویر کھینچی تو فلیش کی روشنی میں ایک لمحے کے لیے تینوں کے علاوہ ایک چوتھا سایہ نظر آیا۔ جب اس نے دوبارہ دیکھا تو تصویر غائب تھی۔ اسی لمحے دروازہ زور سے بند ہوا اور جھونپڑی ہلنے لگی۔ باہر ہوا چیخنے لگی، جیسے کوئی غصے میں ہو۔
اندر سے سرگوشیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ تم بہت دیر سے آئے ہو، کوئی ہنس رہا تھا، کوئی رو رہا تھا۔ فہد گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے دادا بھی کبھی اس جنگل میں گم ہو گئے تھے اور واپس آ کر بولنا ہی بھول گئے تھے۔
فرش پر اچانک ایک دراڑ پڑی اور ایک خفیہ دروازہ کھل گیا۔ نیچے اندھیرا تھا، مگر اندھیرے میں جیسے آنکھیں چمک رہی ہوں۔ حارث نے ٹارچ جلائی اور نیچے اترنے لگا۔ سیڑھیاں ٹھنڈی تھیں، ایسی جیسے برف سے بنی ہوں۔ ہر قدم کے ساتھ پیچھے سے کسی کے سانس لینے کی آواز آ رہی تھی۔
نیچے ایک وسیع ہال تھا جہاں انسانی شکل کے مجسمے کھڑے تھے۔ ان کے چہرے خوف میں جمے ہوئے تھے۔ عائشہ نے قریب جا کر دیکھا تو ایک مجسمہ بالکل اس جیسا تھا۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ اسی وقت مجسمے کی آنکھوں سے سیاہ مائع ٹپکنے لگا اور وہ آہستہ آہستہ مسکرانے لگا۔
ایک کونے میں پرانی ڈائری پڑی تھی۔ اس میں لکھا تھا کہ یہ جنگل انسان کے خوف سے زندہ ہے۔ جو جتنا ڈرتا ہے، جنگل اتنا ہی طاقتور ہو جاتا ہے۔ آخری صفحے پر لکھا تھا کہ نکلنے کا راستہ صرف ایک ہے، مگر اس کے لیے خود کو کھونا پڑتا ہے۔
اچانک مجسمے حرکت کرنے لگے۔ ان کے قدموں کی آوازیں پورے ہال میں گونجنے لگیں۔ عائشہ کا کیمرہ خود بخود فلیش کرنے لگا اور روشنی کے ہر جھماکے میں ایک نیا راستہ نظر آتا، مگر اگلے ہی لمحے غائب ہو جاتا۔
تینوں دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھے مگر اوپر پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ جھونپڑی غائب ہو چکی تھی۔ جنگل اور زیادہ گھنا ہو گیا تھا۔ درختوں سے سائے نکل کر ان کے پیچھے بھاگنے لگے۔ سائے ان کی آوازوں میں باتیں کر رہے تھے، ان کے راز دہرا رہے تھے۔
حارث نے چیخ کر کہا کہ خوف کو خود پر حاوی مت ہونے دو۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور اپنے اندر کے ڈر کو دبانے کی کوشش کی۔ عائشہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور فہد نے کانپتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔
ایک لمحے کے لیے لگا جیسے سب کچھ رک گیا ہو۔ پھر اچانک تیز روشنی پھیلی۔ آنکھیں کھولیں تو وہ جنگل کے کنارے کھڑے تھے۔ صبح ہو چکی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
وہ خاموشی سے واپس لوٹ آئے۔ کسی نے کچھ نہیں کہا۔ مگر عائشہ کے کیمرے میں آخری تصویر محفوظ تھی۔ اس تصویر میں تینوں مسکرا رہے تھے، مگر ان کے پیچھے درختوں کے درمیان درجنوں سائے کھڑے تھے، اور ان کی آنکھیں زندہ تھیں۔
اس رات کے بعد حارث نے لکھنا چھوڑ دیا۔ فہد شہر چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ عائشہ نے کیمرہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ مگر سایوں کا جنگل آج بھی موجود ہے، اور جو اس کی کہانی پڑھتا ہے، وہ رات کے سناٹے میں درختوں کی سرگوشیاں ضرور سنتا ہے۔

Post a Comment for "سایوں کا جنگل"