شہر کے اس کونے میں جہاں پرانے درخت اب بھی وقت کی دھول اوڑھے کھڑے تھے، ایک چھوٹا سا گھر تھا جس کی کھڑکی سے ہر صبح سورج کی پہلی کرن اندر آتی تھی۔ اسی کھڑکی کے پاس وہ اکثر بیٹھا رہتا، ہاتھ میں چائے کا کپ اور آنکھوں میں نہ جانے کون سی کمی۔ اس کا نام حمزہ تھا، ایک عام سا لڑکا جس کے خواب بہت بڑے تھے مگر آواز ہمیشہ دھیمی رہی۔
حمزہ کو لفظوں سے محبت تھی۔ وہ بات کم کرتا، مگر سوچ بہت زیادہ۔ محلے کی لائبریری اس کی سب سے پسندیدہ جگہ تھی۔ وہاں کتابوں کی خوشبو میں اسے سکون ملتا، جیسے ہر کتاب اس سے خاموشی سے بات کر رہی ہو۔
اسی لائبریری میں پہلی بار اس نے اسے دیکھا تھا۔
وہ ایک لکڑی کی میز کے پاس کھڑی تھی، سفید شلوار قمیص میں، بال سادہ سے دوپٹے میں بندھے ہوئے، اور ہاتھ میں ایک ناول تھا۔ اس کی آنکھیں کتاب پر جمی تھیں مگر چہرے پر ایسی یکسوئی تھی جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں ہو۔ حمزہ نہ جانے کیوں وہیں رک گیا۔ دل نے کہا کچھ کہو، دماغ نے کہا خاموش رہو۔
اس کا نام عائشہ تھا۔
وہ شہر کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، باوقار، سادہ، اور حد سے زیادہ سنجیدہ۔ وہ لائبریری میں روز آتی، ایک ہی وقت پر، ایک ہی میز پر بیٹھتی، اور اکثر وہی کتابیں اٹھاتی جو حمزہ بھی پڑھ چکا ہوتا۔
دن گزرتے گئے، نظریں ملنے لگیں، مسکراہٹیں خاموش سلام بن گئیں، اور خاموشی آہستہ آہستہ ایک انجانی پہچان میں بدلنے لگی۔
وہ جملہ حمزہ کے دل میں کہیں ٹھہر گیا۔
اس دن کے بعد باتیں ہونے لگیں۔ پہلے کتابوں پر، پھر زندگی پر، اور پھر ان خوابوں پر جو دونوں نے کبھی کسی کو نہیں بتائے تھے۔ حمزہ لکھنا چاہتا تھا، لفظوں سے اپنا نام بنانا چاہتا تھا، جبکہ عائشہ پڑھ لکھ کر اپنے خاندان کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی۔
محبت آہستہ آہستہ ان کے بیچ خود ہی جگہ بنانے لگی، بغیر اعلان، بغیر وعدوں کے۔ وہ محبت جو نظریں جھکا دیتی ہے، آواز کو نرم کر دیتی ہے، اور دل کو عجیب سا مطمئن کر دیتی ہے۔
مگر زندگی ہمیشہ سیدھی نہیں چلتی۔
عائشہ کے گھر میں اس کی شادی کی بات چل پڑی۔ ایک اچھا رشتہ، مضبوط خاندان، شہر سے باہر نوکری۔ سب کچھ ویسا ہی جیسا معاشرہ پسند کرتا ہے۔ عائشہ خاموش رہی، جیسے وہ ہمیشہ رہی تھی، مگر اس خاموشی میں پہلی بار بوجھ تھا۔
وہ دن دونوں کے لیے بہت بھاری تھا۔ حمزہ جانتا تھا کہ وہ کچھ کہے گا تو شاید سب بکھر جائے، اور اگر خاموش رہے گا تو خود ٹوٹ جائے گا۔
اس نے خاموشی کو چن لیا۔
عائشہ کی شادی طے ہو گئی۔ لائبریری آنا بند ہو گیا۔ وہ میز خالی رہنے لگی۔ حمزہ نے کئی دن وہاں جا کر وہی کرسی دیکھی، وہی الماری، مگر اب سب کچھ اجنبی لگتا تھا۔
اس نے لکھنا شروع کر دیا۔
وہ لفظ جو وہ عائشہ سے کبھی نہ کہہ سکا، وہ سب کاغذ پر اترنے لگے۔ درد، محبت، جدائی، امید، سب کچھ۔ اس کی کہانیاں لوگوں کو پسند آنے لگیں، رسالوں میں چھپنے لگیں، مگر ہر کہانی کے بیچ ایک اداس مسکراہٹ چھپی ہوتی۔
کئی سال گزر گئے۔
ایک دن کتابوں کی نمائش میں، وہی خوشبو، وہی ہجوم، اور اچانک کسی نے اس کا نام لیا۔ وہ مڑا تو سامنے عائشہ کھڑی تھی۔ چہرہ وہی، مگر آنکھوں میں اب پختگی تھی۔
وہ دونوں جانتے تھے کہ اب راستے بدل چکے ہیں، مگر دل میں جو احترام، جو خاموش رشتہ تھا، وہ اب بھی زندہ تھا۔
جب وہ جدا ہوئے تو اس بار کوئی دکھ نہیں تھا، بس ایک شکر تھا، کہ زندگی نے انہیں ایک خوبصورت احساس دیا تھا، چاہے انجام کچھ بھی رہا ہو۔
حمزہ نے اس رات ایک نئی کہانی لکھی۔ اس کہانی میں محبت تھی، قربانی تھی، اور یہ یقین بھی کہ سچی محبت ہمیشہ حاصل ہونے کا نام نہیں، بلکہ سمجھ جانے کا نام ہے۔
اور شاید یہی محبت کی سب سے خوبصورت شکل تھی
شہر کی وہ گلی ہمیشہ پرسکون رہتی تھی، جیسے اسے شور سے پرانی دشمنی ہو۔ صبح کے وقت جب سورج آہستہ آہستہ دیواروں پر چڑھتا، تو لگتا جیسے وقت بھی یہاں ذرا ٹھہر کر چلتا ہو۔ اسی گلی کے آخری موڑ پر ایک درمیانے سائز کا گھر تھا، جس کی کھڑکی کے پاس کھڑا نیم کا درخت ہر موسم میں ایک ہی سا رہتا تھا۔ اسی کھڑکی کے پیچھے حمزہ اکثر بیٹھا رہتا، ہاتھ میں پرانی ڈائری اور دل میں ان گنت باتیں۔
حمزہ عام سا لڑکا تھا، نہ بہت زیادہ بولنے والا، نہ خود کو نمایاں کرنے کا شوقین۔ وہ بس سنتا تھا، دیکھتا تھا، اور سب کچھ دل میں جمع کر لیتا تھا۔ اس کے والد ایک معمولی سرکاری ملازم تھے، جن کی زندگی اصولوں اور خاموش محنت میں گزری تھی، جبکہ اس کی ماں ہر بات کو دعا میں بدل دینے کا ہنر جانتی تھی۔ حمزہ انہی دونوں کے بیچ پلا بڑھا، سادگی، صبر اور خاموشی سیکھتا ہوا۔
کتابیں اس کی دنیا تھیں۔ جب لوگ دوست ڈھونڈتے ہیں، وہ لفظوں میں سکون تلاش کرتا تھا۔ محلے کی چھوٹی سی لائبریری اس کے لیے کسی پناہ گاہ سے کم نہ تھی۔ وہاں جا کر اسے لگتا جیسے زندگی ذرا آسان ہو گئی ہو۔
اسی لائبریری میں ایک دن وہ لمحہ آیا جس نے اس کی پوری زندگی کو آہستہ آہستہ بدل دیا۔
وہ ایک میز کے پاس کھڑی تھی، جیسے کسی سوچ میں ڈوبی ہو۔ اس کے ہاتھ میں کتاب تھی، مگر آنکھوں میں کہانی سے زیادہ زندگی کے سوال تھے۔ سفید شلوار قمیص، ہلکا سا دوپٹہ، اور بالوں کی سادگی نے اسے عام بنا دیا تھا، مگر اس کی موجودگی میں کچھ ایسا تھا جو نظر ٹھہرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
حمزہ نے نظریں چرا لیں، جیسے وہ کسی ایسی چیز کو دیکھ لیا ہو جس کا دیکھنا ابھی اس کے بس میں نہ تھا۔
وہ عائشہ تھی۔
عائشہ کی زندگی بھی سادہ تھی، مگر اس سادگی میں مضبوطی تھی۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی، جس سے امیدیں بھی زیادہ تھیں اور توقعات بھی۔ وہ پڑھنا چاہتی تھی، سمجھنا چاہتی تھی، اور اپنی ذات کو کسی معنی کے ساتھ جینا چاہتی تھی۔
دن گزرتے گئے۔ وہ دونوں ایک ہی وقت پر لائبریری آنے لگے۔ کبھی نظریں ملتیں، کبھی بس ایک خاموش مسکراہٹ رہ جاتی۔ بات نہیں ہوتی تھی، مگر خاموشی میں ایک انجانی پہچان پیدا ہو گئی تھی۔
عائشہ مسکرائی، جیسے وہ جواب سمجھ گئی ہو۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں سے خاموشی ٹوٹ گئی۔ باتیں ہونے لگیں، پہلے کتابوں پر، پھر زندگی پر، اور پھر ان خوابوں پر جو عام طور پر لوگ چھپا لیتے ہیں۔ حمزہ لکھنے کا خواب دیکھتا تھا، لفظوں میں اپنا وجود تلاش کرنا چاہتا تھا، جبکہ عائشہ چاہتی تھی کہ وہ صرف کسی کی بیٹی یا کسی کی بیوی نہ بنے، بلکہ خود اپنی پہچان بھی رکھے۔
محبت آہستہ آہستہ ان کے بیچ جگہ بنانے لگی، جیسے بارش کی بوند زمین میں راستہ خود بنا لیتی ہے۔ نہ کسی نے اظہار کیا، نہ وعدہ کیا، مگر دونوں جانتے تھے کہ یہ احساس عام نہیں ہے۔
کبھی کبھی عائشہ بات کرتے ہوئے خاموش ہو جاتی، اور حمزہ اس خاموشی کو سمجھ لیتا۔ کبھی حمزہ کچھ کہنے سے رک جاتا، اور عائشہ اس کے ادھورے جملے خود مکمل کر دیتی۔
یہ محبت شور نہیں کرتی تھی، بس دل میں رہتی تھی۔
مگر وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔
ایک دن عائشہ نے آتے ہی بتایا کہ اس کے گھر میں اس کی شادی کی بات ہو رہی ہے۔ اس کا لہجہ پرسکون تھا، مگر آنکھیں سب کچھ کہہ رہی تھیں۔ حمزہ نے خود کو مضبوط رکھنے کی کوشش کی، مگر اندر کچھ ٹوٹ سا گیا۔
"تم کیا چاہتی ہو؟" اس نے آہستہ سے پوچھا۔
یہ وہ سچ تھا جو اکثر محبت کو خاموش کر دیتا ہے۔
حمزہ جانتا تھا کہ اگر وہ بولے گا تو شاید عائشہ مشکل میں پڑ جائے گی۔ اگر خاموش رہے گا تو خود جلتا رہے گا۔ اس نے وہی کیا جو اکثر محبت کرنے والے کرتے ہیں، اس نے قربانی کو محبت سمجھ لیا۔
عائشہ کی شادی طے ہو گئی۔ لائبریری کی وہ میز خالی رہنے لگی۔ حمزہ کئی دن وہاں گیا، مگر اب کتابیں بھی اجنبی لگنے لگیں۔ اس نے خود کو لکھنے میں جھونک دیا۔
وہ ہر وہ بات لکھتا جو وہ عائشہ سے نہ کہہ سکا۔ لفظ کاغذ پر اترتے رہے، اور درد دھیرے دھیرے کہانی بنتا گیا۔ اس کی تحریریں لوگوں کو پسند آنے لگیں، مگر ہر تحریر کے پیچھے ایک ادھورا احساس سانس لیتا رہا۔
سال گزرتے گئے۔ وقت نے سب کچھ بدل دیا، مگر کچھ یادیں ویسی ہی رہیں۔
ایک دن کتابوں کی ایک نمائش میں، ہجوم کے بیچ، حمزہ نے ایک جانا پہچانا چہرہ دیکھا۔ وہ عائشہ تھی۔ وقت نے اسے بدلا تھا، مگر پہچان نہیں چھینی تھی۔
وہ دونوں جانتے تھے کہ اب راستے جدا ہیں، مگر یہ ملاقات کسی بوجھ کی طرح نہیں تھی۔ یہ ایک مکمل دائرہ تھا، جو خاموشی سے بند ہو رہا تھا۔
جب وہ جدا ہوئے تو حمزہ نے پہلی بار دل میں سکون محسوس کیا۔ اس نے جان لیا تھا کہ محبت کا مطلب ہمیشہ ساتھ رہنا نہیں ہوتا، کبھی کبھی چھوڑ دینا بھی محبت ہی ہوتا ہے۔
اس رات اس نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ سچی محبت وہ نہیں جو پا لی جائے، بلکہ وہ ہے جو انسان کو بہتر بنا دے۔
وقت کے ساتھ حمزہ کی زندگی میں ایک عجیب سی ٹھہراؤ آ گیا تھا۔ نہ وہ پہلے جیسا اداس تھا، نہ مکمل طور پر مطمئن۔ دن لکھنے میں گزرتے، راتیں سوچنے میں۔ اس کے لفظ اب صرف درد نہیں لکھتے تھے بلکہ سمجھ بھی لکھنے لگے تھے۔ وہ جان چکا تھا کہ ہر ادھوری محبت ناکامی نہیں ہوتی، کچھ محبتیں انسان کو اندر سے بڑا بنا دیتی ہیں۔
عائشہ اپنی نئی زندگی میں مصروف تھی۔ اس کا شوہر ایک ذمہ دار انسان تھا، مگر ان کے درمیان وہ بات نہ تھی جو خاموشی کو معنی دے دے۔ وہ عزت سے جیتے تھے، سمجھوتے سے، مگر کہیں نہ کہیں دل کے کسی کونے میں ایک ہلکی سی خالی جگہ رہ گئی تھی، جسے وہ خود بھی پوری طرح پہچان نہیں پاتی تھی۔
وہ اکثر رات کو سونے سے پہلے حمزہ کی لکھی کہانیاں پڑھتی۔ ان کہانیوں میں کوئی نام نہیں ہوتا تھا، مگر احساس وہی ہوتا تھا جو کبھی لائبریری کی خاموش میز پر جنم لیا تھا۔ وہ کبھی خود سے سوال کرتی کہ کیا محبت واقعی ختم ہو جاتی ہے، یا بس یادوں کی شکل بدل لیتی ہے۔
کچھ سال بعد حمزہ کو اپنی تحریروں کی وجہ سے شہر سے باہر ایک ادبی تقریب میں مدعو کیا گیا۔ یہ اس کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب لوگ اسے صرف پڑھتے نہیں تھے بلکہ سننے بھی آتے تھے۔ اس دن اس کے والد پہلی صف میں بیٹھے تھے، آنکھوں میں فخر اور خاموش دعائیں۔ اس کی ماں نے جاتے وقت بس اتنا کہا تھا، "سچ لکھنا، باقی سب خود ٹھیک ہو جاتا ہے۔"
تقریب کے بعد جب لوگ آہستہ آہستہ ہال سے نکل رہے تھے، حمزہ نے دور ایک مانوس سا چہرہ دیکھا۔ وہ عائشہ تھی۔ اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا، جو اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا۔ حمزہ کے قدم ایک لمحے کو رک گئے، مگر دل میں کوئی ہلچل نہ ہوئی، بس ایک مانوس سا سکون تھا۔
عائشہ نے اس لمحے میں حمزہ کو غور سے دیکھا۔ اسے لگا جیسے وہ اب پہلے سے زیادہ مکمل ہے، جیسے وقت نے اسے توڑا نہیں بلکہ تراشا ہو۔ اسے پہلی بار دل سے خوشی محسوس ہوئی کہ حمزہ نے اپنی زندگی کا راستہ ڈھونڈ لیا تھا۔
وہ دونوں کچھ دیر ساتھ بیٹھے۔ پرانی باتیں نہیں ہوئیں، پرانے زخم نہیں کریدے گئے۔ بس حال کی بات ہوئی، زندگی کے چھوٹے چھوٹے سچ بولے گئے۔ اس ملاقات میں کوئی ادھوراپن نہیں تھا، بس شکر تھا۔
اس دن کے بعد دونوں نے ایک دوسرے سے رابطہ نہیں رکھا، مگر دل میں جو سکون آیا تھا، وہ دیرپا تھا۔
کچھ عرصے بعد حمزہ کی شادی ہو گئی۔ اس کی زندگی میں ایک عورت آئی جو اس کے ماضی سے حسد نہیں کرتی تھی بلکہ اسے سمجھتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ہر انسان کے دل میں کچھ یادیں ہوتی ہیں جو وقت سے پہلے کی ہوتی ہیں۔ حمزہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ محبت صرف بے چینی کا نام نہیں، بلکہ اعتماد کا نام بھی ہے۔
وہ اپنی نئی زندگی میں خوش تھا۔ وہ لکھتا رہا، سکھاتا رہا، اور نوجوانوں کو یہی کہتا رہا کہ محبت کو پانے کی ضد نہ بناؤ، اسے سیکھنے کا ذریعہ بناؤ۔
کئی سال بعد، ایک دن حمزہ نے اپنی پرانی ڈائری نکالی۔ اس نے آخری صفحے پر ایک جملہ لکھا اور ڈائری بند کر دی۔ وہ جملہ یہ تھا کہ زندگی نے مجھے یہ سکھایا کہ جو لوگ ہمیں مکمل نہیں ملتے، وہی ہمیں مکمل بنا دیتے ہیں۔
کہیں اور، اسی شہر میں، عائشہ اپنی کھڑکی کے پاس کھڑی شام کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے بیٹے کی ہنسی کمرے میں گونج رہی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ زندگی نے اسے سب کچھ دیا، حتیٰ کہ ایک ایسی محبت بھی جو ساتھ نہ رہ کر بھی اس کے دل کو نرم رکھ گئی۔
وقت آگے بڑھتا رہا، لوگ بدلتے رہے، شہر شور سے بھر گئے، مگر کہیں نہ کہیں دو دلوں کی وہ خاموش محبت آج بھی زندہ تھی، کسی کہانی میں، کسی لفظ میں، کسی دعا میں۔
اور یہی محبت کی اصل خوبصورتی تھی کہ وہ حاصل ہو کر نہیں، سمجھ آ کر مکمل ہوتی ہے۔

Post a Comment for "خاموشی میں لکھی محبت"