Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

خوشبو میں بسا ہوا وقت


وہ شہر جس کا نام نقشوں میں ایک عام سے نقطے کی طرح درج تھا، اصل میں احساسات کا ایک وسیع میدان تھا۔ یہاں کی گلیاں صبح کے وقت دودھ کی بھاپ، اخبار کی سیاہی اور تازہ روٹی کی خوشبو سے جاگتی تھیں، اور شام کو اذان، سائیکل کی گھنٹیوں اور پرانے ریڈیو کی مدھم آوازوں کے ساتھ سانس لیتیں۔ یہ شہر بظاہر سادہ تھا مگر اس کے اندر ہر دل کی اپنی ایک کہانی تھی، اور انہی کہانیوں کے درمیان عارف کی زندگی دھیرے دھیرے اپنا مفہوم تلاش کر رہی تھی۔ عارف اسی شہر کے ایک نسبتاً خاموش محلے میں رہتا تھا جہاں دروازے آدھے کھلے رہتے اور لوگ ایک دوسرے کو نام سے جانتے تھے۔ اس کے والد ریٹائرڈ استاد تھے، جن کی آواز میں اب بھی تختۂ سیاہ کی گونج باقی تھی، ماں صبر اور دعا کی تصویر، اور گھر کے صحن میں نیم کا پرانا درخت جس کے سائے میں بچپن کی ہنسی، ضد اور خواب اب بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔

عارف روزانہ صبح سویرے سائیکل پر کالج جاتا۔ راستے میں وہ اکثر دریا کے کنارے رک جاتا، پانی کو دیکھتا اور سوچتا کہ بہاؤ ہمیشہ آگے کیوں بڑھتا ہے، پیچھے کیوں نہیں لوٹتا۔ اسے لفظوں سے فطری محبت تھی، مگر گھر کے حالات اعداد و شمار اور حساب کتاب مانگتے تھے۔ وہ اس کشمکش میں جیتا تھا جہاں خواب اور ذمہ داری ایک ہی دل میں جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی کشمکش میں وہ اکثر اپنے دوست سلمان کے ساتھ چائے کے کھوکھے پر بیٹھ کر لمبی باتیں کرتا۔ سلمان کھلے دل کا انسان تھا، بات بات پر ہنس دیتا اور کہتا کہ زندگی کا حساب کبھی پورا نہیں ہوتا، بس نیت صاف رکھو۔ عارف مسکرا دیتا، مگر دل کے کسی کونے میں وہ سوال رہتا جو ہر نوجوان کے ساتھ بڑا ہوتا ہے اور جواب مانگتا رہتا ہے۔

اسی محلے میں زینب بھی رہتی تھی۔ اس کے ہاتھ میں اکثر کوئی کتاب ہوتی اور آنکھوں میں شہر سے آگے کے خواب۔ وہ محلے کی چھوٹی سی لائبریری میں کام کرتی تھی جہاں پرانی کتابوں کی مہک اسے اپنے نانا کی سنائی ہوئی کہانیوں کی طرف لے جاتی تھی۔ زینب کے لیے لفظ صرف حروف نہیں تھے، وہ لوگوں کے دکھ سکھ تک پہنچنے کا راستہ تھے۔ عارف اور زینب کی ملاقاتیں ابتدا میں مختصر سلام اور ہلکی سی مسکراہٹ تک محدود تھیں، مگر دونوں جانتے تھے کہ خاموشی بھی ایک زبان ہوتی ہے اور بعض باتیں لفظوں کے بغیر بھی کہی جا سکتی ہیں۔

ایک دن شہر میں ایسی بارش آئی جو دھول کو دھو کر یادوں کو ابھار دیتی ہے۔ سڑکیں چمکنے لگیں اور دریا کی آواز تیز ہو گئی۔ عارف سائیکل سمیت پھسل گیا اور اس کے کاغذات بھیگ گئے۔ زینب نے لائبریری کے برآمدے سے یہ منظر دیکھا، آگے بڑھی اور ایک رومال تھما دیا۔ وہ لمحہ بظاہر معمولی تھا مگر اس میں ایک نئی شروعات کی ہلکی سی دستک تھی۔ دونوں نے چند باتیں کیں، بارش کی، کتابوں کی، اور شہر کی۔ عارف کو لگا جیسے وقت نے ذرا سا سانس لینا روک دیا ہو۔

دن گزرتے گئے۔ شہر کی زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی، مگر عارف کے اندر ایک نیا حوصلہ جاگ اٹھا۔ اس نے لکھنا شروع کیا، چھوٹے چھوٹے خاکے، لوگوں کے چہرے، بس کے سفر، بازار کی آوازیں، بوڑھے موچی کی خاموشی اور بچوں کی بے فکری۔ سلمان نے اس کی تحریریں پڑھ کر کہا کہ یہ شہر تمہارے قلم سے سانس لے رہا ہے۔ زینب نے ایک دن مسکرا کر کہا کہ جب لفظوں میں سچ ہو تو وہ خود اپنا راستہ بنا لیتے ہیں۔

گھر کے حالات مگر آسان نہیں تھے۔ والد کی دوائیں مہنگی تھیں اور پنشن ناکافی۔ عارف کو جز وقتی کام کرنا پڑا۔ وہ رات کو دیر سے لوٹتا، تھکا ہوا، مگر نیم کے درخت کے نیچے بیٹھ کر چند سطریں ضرور لکھتا۔ ماں خاموشی سے چائے رکھ دیتی، جیسے جانتی ہو کہ یہ سطریں اس کے بیٹے کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھی والد خاموشی سے سنتے اور بس اتنا کہتے کہ سچ لکھنا، باقی خود ٹھیک ہو جاتا ہے۔

ایک شام محلے میں بجلی چلی گئی۔ لوگ چھتوں پر نکل آئے، باتیں ہونے لگیں، ہنسی کی آوازیں گونجنے لگیں۔ زینب بھی اپنی چھت پر تھی۔ دور کہیں سے قوالیوں کی آواز آ رہی تھی۔ اس اندھیرے میں عارف نے پہلی بار دل کی بات کہی، نہ بڑے وعدے، نہ لمبے دعوے، بس اتنا کہ وہ اس شہر اور اس کے لوگوں کی کہانی لکھنا چاہتا ہے تاکہ کوئی انہیں بھلا نہ دے۔ زینب نے کہا کہ خوابوں کو وقت دو، وہ پختہ ہو جاتے ہیں اور اپنی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں۔

کچھ مہینوں بعد عارف کی ایک تحریر مقامی اخبار میں چھپی۔ سلمان نے مٹھائی بانٹی، ماں کی آنکھیں نم ہو گئیں، اور والد نے خاموشی سے سر پر ہاتھ رکھا۔ زینب نے لائبریری میں وہ کاغذ سنبھال کر رکھ دیا جیسے کوئی قیمتی شے ہو۔ اس دن عارف کو لگا کہ شاید اس کے لفظوں نے پہلی بار کسی اور دل تک راستہ بنا لیا ہے۔

مگر زندگی سیدھی لکیر نہیں ہوتی۔ والد کی طبیعت بگڑ گئی اور علاج کے لیے زیادہ پیسوں کی ضرورت پڑی۔ عارف کو شہر چھوڑ کر کام کے لیے باہر جانا پڑا۔ رخصت کے دن دریا خاموش تھا اور نیم کے درخت کے پتے ہلکے ہلکے ہل رہے تھے۔ زینب نے کہا کہ فاصلے کہانی کو ختم نہیں کرتے، بس نئے باب کھولتے ہیں۔ عارف نے یہ جملہ دل میں باندھ لیا۔

باہر کی دنیا تیز تھی، بے رحم بھی، مگر عارف نے اپنے اندر کے شہر کو نہیں کھویا۔ وہ خطوط لکھتا، کبھی دیر سے، کبھی مختصر، مگر ہر خط میں نیم کے درخت کا سایہ، دریا کی آواز اور شہر کی خوشبو ہوتی۔ زینب لائبریری میں نئے بچوں کو پڑھنا سکھاتی رہی اور ہر شام ایک صفحہ کھول کر عارف کی تحریروں کو یاد کرتی رہی۔

سال گزرتے گئے۔ شہر بدلا، سڑکیں چوڑی ہوئیں، نئی عمارتیں بنیں، مگر گلیوں کی خوشبو ویسی ہی رہی۔ عارف واپس لوٹا تو اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، اس کے شہر کی کہانی۔ محلے میں ایک سادہ سی تقریب ہوئی۔ سلمان نے ہنستے ہوئے کہا کہ حساب آخرکار پورا ہو گیا۔ زینب نے کتاب کے ورق الٹتے ہوئے بس اتنا کہا کہ وقت خوشبو بن کر ٹھہر گیا ہے۔

نیم کے درخت کے نیچے بیٹھ کر عارف نے آسمان دیکھا۔ وہ جانتا تھا کہ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں، وہ بس ایک دل سے دوسرے دل تک سفر کرتی ہیں۔ اور اسی سفر میں زندگی اپنی اصل صورت دکھاتی ہے، سادہ، سچی، اور ہمیشہ کے لیے۔

کتاب کی تقریب کے بعد محلہ آہستہ آہستہ معمول پر لوٹ آیا، مگر عارف کی زندگی کے اندر ایک ہلچل سی باقی رہی۔ لوگ اب اسے پہچاننے لگے تھے، کوئی سلام میں فخر شامل کر لیتا، کوئی اپنے دکھ کی کہانی سنا دیتا کہ شاید لفظوں والا آدمی سن لے تو بوجھ ہلکا ہو جائے۔ عارف سب سنتا، خاموشی سے، اور دل ہی دل میں وعدہ کرتا کہ کسی کی بات رائیگاں نہیں جانے دے گا۔ اسے اندازہ ہوا کہ لکھنا صرف اظہار نہیں، امانت بھی ہے۔

زینب کے ساتھ ملاقاتیں اب زیادہ ہو گئی تھیں، مگر ان میں کوئی جلدی نہیں تھی۔ وہ اکثر لائبریری کے بند ہونے کے بعد قریبی پارک میں بیٹھتے، جہاں درختوں کے سائے لمبے اور باتیں مختصر مگر گہری ہوتیں۔ زینب نے بتایا کہ وہ بچوں کے لیے ایک چھوٹا سا مطالعہ کمرہ بنانا چاہتی ہے، جہاں کتابیں صرف رکھی نہ جائیں بلکہ پڑھی جائیں، سمجھی جائیں۔ عارف نے مسکرا کر کہا کہ وہ اس خواب کو لفظ دے سکتا ہے۔

انہی دنوں سلمان نے ایک عجیب سی بات کہی۔ اس نے کہا کہ شہر اب تمہیں سن رہا ہے، اس لیے ذرا سنبھل کر لکھنا۔ عارف نے اس بات کو ہنسی میں اڑا دیا، مگر رات کو نیم کے درخت کے نیچے بیٹھا تو اسے احساس ہوا کہ شہرت بھی ایک امتحان ہوتی ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ جلدی میں کچھ نہیں لکھے گا، ہر لفظ کو وقت دے گا۔

والد کی صحت کچھ بہتر ہوئی تو عارف کے دل کا بوجھ ہلکا ہوا۔ ایک شام والد نے پرانی ڈائری عارف کے حوالے کی، جس میں برسوں پہلے لکھی گئی نظمیں اور ادھورے افسانے تھے۔ عارف نے وہ ڈائری پڑھی تو اسے لگا جیسے اس کے لفظوں کی جڑیں کہیں بہت گہری ہیں۔ اس رات اس نے طویل تحریر لکھی، ایسی جس میں باپ بیٹے کے درمیان خاموش محبت بول رہی تھی۔

زینب کا مطالعہ کمرہ آخرکار بن گیا، چھوٹا سا مگر روشن۔ افتتاح کے دن چند بچے، چند کتابیں اور بہت سی امید تھی۔ عارف نے بچوں کو کہانی سنائی، ایسی کہانی جس میں ہیرو کوئی ایک نہیں تھا بلکہ سب تھے۔ زینب کی آنکھوں میں اس دن ایک عجیب سی روشنی تھی، جیسے اس کا خواب حقیقت کو چھو گیا ہو۔

وقت ایک بار پھر اپنے بہاؤ میں آگے بڑھا۔ عارف کو ایک بڑے شہر سے پیشکش آئی کہ وہ وہاں مستقل رہ کر لکھے۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ اس نے دریا کے کنارے جا کر دیر تک پانی کو دیکھا۔ آخرکار اس نے وہی کیا جو دل نے کہا۔ اس نے پیشکش قبول کی، مگر یہ وعدہ کیا کہ وہ اس شہر سے رشتہ نہیں توڑے گا۔

رخصتی کے دن زینب نے کوئی لمبی بات نہیں کی، بس اتنا کہا کہ جہاں بھی رہو، اپنے لفظوں کو سچا رکھنا۔ عارف نے سر ہلا دیا۔ اس بار جدائی میں اداسی کم اور یقین زیادہ تھا۔

نئے شہر میں عارف نے بہت کچھ دیکھا، بہت کچھ سیکھا، مگر جب بھی قلم اٹھاتا، پہلے نیم کے درخت کا سایہ کاغذ پر اترتا۔ اس کی تحریریں اب دور دور تک پڑھی جانے لگیں، مگر وہ جانتا تھا کہ اصل کامیابی وہ مطالعہ کمرہ ہے جہاں کوئی بچہ پہلی بار کتاب کھولتا ہے۔

کئی برس بعد جب عارف واپس آیا تو شہر نے اسے اجنبی نہیں سمجھا۔ زینب اب بھی لائبریری میں تھی، بالوں میں وقت کی ہلکی سی لکیر کے ساتھ، مگر آنکھوں میں وہی خواب۔ دونوں نیم کے درخت کے نیچے بیٹھے، خاموشی میں۔ اس خاموشی میں کوئی سوال نہیں تھا، صرف شکر تھا۔

عارف نے دل میں سوچا کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ شاید یہ کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتی، کیونکہ جب تک کوئی لفظ کسی دل میں جگہ بناتا رہے، زندگی خود لکھتی رہتی ہے۔

 ایک ہلچل سی باقی رہی۔ لوگ اب اسے پہچاننے لگے تھے، کوئی سلام میں فخر شامل کر لیتا، کوئی اپنے دکھ کی کہانی سنا دیتا کہ شاید لفظوں والا آدمی سن لے تو بوجھ ہلکا ہو جائے۔ عارف سب سنتا، خاموشی سے، اور دل ہی دل میں وعدہ کرتا کہ کسی کی بات رائیگاں نہیں جانے دے گا۔ اسے اندازہ ہوا کہ لکھنا صرف اظہار نہیں، امانت بھی ہے۔

زینب کے ساتھ ملاقاتیں اب زیادہ ہو گئی تھیں، مگر ان میں کوئی جلدی نہیں تھی۔ وہ اکثر لائبریری کے بند ہونے کے بعد قریبی پارک میں بیٹھتے، جہاں درختوں کے سائے لمبے اور باتیں مختصر مگر گہری ہوتیں۔ زینب نے بتایا کہ وہ بچوں کے لیے ایک چھوٹا سا مطالعہ کمرہ بنانا چاہتی ہے، جہاں کتابیں صرف رکھی نہ جائیں بلکہ پڑھی جائیں، سمجھی جائیں۔ عارف نے مسکرا کر کہا کہ وہ اس خواب کو لفظ دے سکتا ہے۔

انہی دنوں سلمان نے ایک عجیب سی بات کہی۔ اس نے کہا کہ شہر اب تمہیں سن رہا ہے، اس لیے ذرا سنبھل کر لکھنا۔ عارف نے اس بات کو ہنسی میں اڑا دیا، مگر رات کو نیم کے درخت کے نیچے بیٹھا تو اسے احساس ہوا کہ شہرت بھی ایک امتحان ہوتی ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ جلدی میں کچھ نہیں لکھے گا، ہر لفظ کو وقت دے گا۔

والد کی صحت کچھ بہتر ہوئی تو عارف کے دل کا بوجھ ہلکا ہوا۔ ایک شام والد نے پرانی ڈائری عارف کے حوالے کی، جس میں برسوں پہلے لکھی گئی نظمیں اور ادھورے افسانے تھے۔ عارف نے وہ ڈائری پڑھی تو اسے لگا جیسے اس کے لفظوں کی جڑیں کہیں بہت گہری ہیں۔ اس رات اس نے طویل تحریر لکھی، ایسی جس میں باپ بیٹے کے درمیان خاموش محبت بول رہی تھی۔

زینب کا مطالعہ کمرہ آخرکار بن گیا، چھوٹا سا مگر روشن۔ افتتاح کے دن چند بچے، چند کتابیں اور بہت سی امید تھی۔ عارف نے بچوں کو کہانی سنائی، ایسی کہانی جس میں ہیرو کوئی ایک نہیں تھا بلکہ سب تھے۔ زینب کی آنکھوں میں اس دن ایک عجیب سی روشنی تھی، جیسے اس کا خواب حقیقت کو چھو گیا ہو۔

وقت ایک بار پھر اپنے بہاؤ میں آگے بڑھا۔ عارف کو ایک بڑے شہر سے پیشکش آئی کہ وہ وہاں مستقل رہ کر لکھے۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ اس نے دریا کے کنارے جا کر دیر تک پانی کو دیکھا۔ آخرکار اس نے وہی کیا جو دل نے کہا۔ اس نے پیشکش قبول کی، مگر یہ وعدہ کیا کہ وہ اس شہر سے رشتہ نہیں توڑے گا۔

رخصتی کے دن زینب نے کوئی لمبی بات نہیں کی، بس اتنا کہا کہ جہاں بھی رہو، اپنے لفظوں کو سچا رکھنا۔ عارف نے سر ہلا دیا۔ اس بار جدائی میں اداسی کم اور یقین زیادہ تھا۔

نئے شہر میں عارف نے بہت کچھ دیکھا، بہت کچھ سیکھا، مگر جب بھی قلم اٹھاتا، پہلے نیم کے درخت کا سایہ کاغذ پر اترتا۔ اس کی تحریریں اب دور دور تک پڑھی جانے لگیں، مگر وہ جانتا تھا کہ اصل کامیابی وہ مطالعہ کمرہ ہے جہاں کوئی بچہ پہلی بار کتاب کھولتا ہے۔

کئی برس بعد جب عارف واپس آیا تو شہر نے اسے اجنبی نہیں سمجھا۔ زینب اب بھی لائبریری میں تھی، بالوں میں وقت کی ہلکی سی لکیر کے ساتھ، مگر آنکھوں میں وہی خواب۔ دونوں نیم کے درخت کے نیچے بیٹھے، خاموشی میں۔ اس خاموشی میں کوئی سوال نہیں تھا، صرف شکر تھا۔

عارف نے دل میں سوچا کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ شاید یہ کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتی، کیونکہ جب تک کوئی لفظ کسی دل میں جگہ بناتا رہے، زندگی خود لکھتی رہتی ہے۔

واپسی کے بعد دن کچھ اس طرح گزرنے لگے جیسے وقت نے خود کو نرم کر لیا ہو۔ عارف اب اکثر صبح سویرے اٹھتا، نیم کے درخت کے نیچے بیٹھ کر چائے پیتا اور محلے کی جاگتی ہوئی آوازیں سنتا۔ کسی گھر سے برتنوں کی کھنک، کسی سے قرآن کی تلاوت، کہیں بچوں کی ہنسی۔ اسے محسوس ہوتا کہ یہ سب مل کر ایک ایسی نظم بنا رہے ہیں جو کاغذ پر نہیں آ سکتی مگر دل میں ہمیشہ کے لیے بس جاتی ہے۔

زینب کے مطالعہ کمرے میں اب بچوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ کچھ بچے ایسے بھی تھے جن کے ہاتھ میں کتاب پہلی بار آئی تھی۔ عارف کبھی کبھی وہاں جا کر بیٹھ جاتا، بچوں کو سنتا، ان کے سوالوں پر مسکراتا۔ اسے اندازہ ہوا کہ اصل کہانیاں وہ نہیں جو وہ لکھتا ہے، بلکہ وہ ہیں جو ان بچوں کی آنکھوں میں جنم لے رہی ہیں۔ زینب یہ سب خاموشی سے دیکھتی اور دل ہی دل میں شکر ادا کرتی کہ خواب اگر سچے ہوں تو تھکاتے نہیں، طاقت دیتے ہیں۔

ایک دن زینب نے عارف کو بتایا کہ اسے شہر سے باہر ایک تربیتی پروگرام کی پیشکش ہوئی ہے، جہاں وہ دیہی علاقوں میں لائبریریاں قائم کرنے میں مدد کرے گی۔ اس خبر میں خوشی بھی تھی اور ایک ہلکی سی اداسی بھی۔ عارف نے کچھ نہیں کہا، بس اتنا محسوس کیا کہ زندگی پھر ایک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا اور ایک نئی تحریر لکھی، ایسی تحریر جس میں رخصت اور واپسی دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔

سلمان حسبِ عادت چائے کے کھوکھے پر ملا۔ اس نے کہا کہ تم دونوں جہاں بھی جاؤ، یہ محلہ تمہیں یاد رکھے گا۔ عارف ہنس دیا، مگر اس ہنسی میں نمی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ کچھ رشتے فاصلے سے کمزور نہیں ہوتے، بلکہ اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔

زینب کے جانے کا دن آیا تو کوئی بڑا منظر نہیں بنا۔ بس ایک مختصر سی دعا، چند کتابیں، اور وعدہ کہ وہ جہاں بھی جائے گی، لفظوں کا چراغ جلائے گی۔ عارف نے اسے رخصت کیا اور دیر تک سڑک کو دیکھتا رہا۔ اس دن اسے محسوس ہوا کہ محبت کا مطلب ساتھ چلنا ہی نہیں، راستہ دینا بھی ہوتا ہے۔

وقت نے ایک بار پھر اپنا کام کیا۔ خط آتے رہے، کہانیاں لکھی جاتی رہیں، مطالعہ کمرہ آباد رہا۔ عارف کی تحریریں اب نصاب میں شامل ہونے لگیں، مگر وہ ہر کامیابی کے بعد نیم کے درخت کے نیچے بیٹھ کر خود کو یاد دلاتا کہ اصل بات کہاں سے شروع ہوئی تھی۔

کئی برس بعد ایک شام زینب واپس لوٹی۔ وہ زیادہ نہیں بدلی تھی، بس آنکھوں میں تجربے کی ایک نئی تہہ شامل ہو گئی تھی۔ مطالعہ کمرہ اب ایک چھوٹی سی لائبریری بن چکا تھا۔ اس شام عارف اور زینب دونوں بچوں کے درمیان بیٹھے کہانی سن رہے تھے۔ کہانی ختم ہوئی تو ایک بچی نے پوچھا کہ کیا کہانیاں کبھی ختم ہو جاتی ہیں۔ عارف نے زینب کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر کہا کہ نہیں، وہ بس شکل بدل لیتی ہیں۔

رات کو نیم کے درخت کے نیچے بیٹھے عارف نے اپنی آخری سطر لکھی۔ اسے محسوس ہوا کہ اس نے جو کہنا تھا، وہ کہہ دیا ہے، مگر زندگی ابھی بولتی رہے گی۔ شہر خاموشی سے سن رہا تھا، دریا بہہ رہا تھا، اور وقت خوشبو بن کر ہر طرف پھیل چکا تھا۔

Post a Comment for "خوشبو میں بسا ہوا وقت"