Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

“دوزخ کی دھڑکن”


 برفانی اندھیرا اس قدر گہرا تھا کہ دن اور رات میں فرق مٹ چکا تھا۔ انٹارکٹک کے اس سنسان کنارے پر قائم تحقیقاتی اسٹیشن میں صرف سات لوگ تھے، اور ہر ایک کے دل میں ایک ایسا خوف پل رہا تھا جسے وہ زبان پر لانے سے گھبرا رہے تھے۔ باہر برفانی طوفان چیخ رہا تھا، جیسے کوئی زندہ مخلوق دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر اندر آنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اندر ہیٹر جل رہے تھے، مگر سردی ہڈیوں میں اترتی جا رہی تھی، جیسے یہ سردی جسم کی نہیں، روح کی ہو۔

ڈاکٹر ریان، جو اس مشن کا سربراہ تھا، کھڑکی کے پاس کھڑا سفید میدان کو گھور رہا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے برف کی تہوں کے نیچے کچھ سانس لے رہا ہو۔ وہ جانتا تھا کہ یہ احساس عام نہیں، مگر انٹارکٹک میں عام کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یہاں خاموشی بھی شور مچاتی ہے اور تنہائی انسان سے اس کا نام تک چھین لیتی ہے۔

یہ مشن دراصل برف کے نیچے پائے جانے والے ایک قدیم سوراخ کی تحقیق کے لیے تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں وہ سوراخ ایک سیاہ زخم کی طرح دکھائی دیتا تھا، جیسے زمین نے خود کو چیر دیا ہو۔ جب ٹیم نے وہاں ڈرلنگ شروع کی تو پہلے دن سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر دوسرے دن سے چیزیں بدلنے لگیں۔ آلات خراب ہونے لگے، کمپاس گھومنے لگے، اور ریڈیو سگنلز میں عجیب سی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں۔

پہلی رات الیگزینڈر نے چیخ ماری۔ سب لوگ دوڑ کر اس کے کمرے میں پہنچے تو وہ کانپ رہا تھا، آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ برف کے نیچے آگ جل رہی ہے۔ سب نے اسے وہم سمجھا، مگر اس کی آنکھوں میں جو خوف تھا، وہ جھوٹا نہیں لگتا تھا۔

اگلے دن ٹیم نے سوراخ کو مزید گہرا کیا۔ جیسے جیسے ڈرل نیچے جا رہی تھی، درجہ حرارت غیر فطری طور پر بڑھنے لگا۔ انٹارکٹک کی زمین میں گرمی؟ یہ بات سائنسی اصولوں کے خلاف تھی۔ پھر اچانک ڈرل رک گئی۔ اسکرین پر جو تصویر ابھری، اس نے سب کو ساکت کر دیا۔ نیچے ایک وسیع خالی جگہ تھی، جیسے کوئی غار، اور اس کے اندر کچھ حرکت کر رہا تھا۔

اسی رات اسٹیشن کی بجلی بند ہو گئی۔ اندھیرے میں صرف ایمرجنسی لائٹس کی سرخ روشنی جل رہی تھی۔ باہر طوفان مزید تیز ہو گیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی چیز باہر سے دروازے پر پنجے مار رہی ہو۔ پھر فرش کے نیچے سے آواز آئی، ایک بھاری سانس کی آواز، جیسے کوئی بہت بڑا وجود نیند سے جاگ رہا ہو۔

ایک ایک کر کے لوگ بدلنے لگے۔ ان کے چہرے پیلے، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے، اور باتوں میں عجیب سی بے ربطی۔ وہ کہتے تھے کہ انہیں خواب نہیں آتے، بلکہ یادیں آتی ہیں، ایسی یادیں جو ان کی نہیں ہوتیں۔ ڈاکٹر ریان نے اپنے نوٹس میں لکھا کہ شاید وہ کسی قدیم شعور کے زیر اثر آ رہے ہیں، مگر وہ خود بھی جانتا تھا کہ یہ الفاظ حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتے۔

پانچویں دن ماریا غائب ہو گئی۔ اس کا کمرہ خالی تھا، بستر پر برف جمی ہوئی تھی، جیسے وہ کمرہ برسوں سے بند پڑا ہو۔ ٹریکنگ ڈیوائس آخری بار اسی سوراخ کے قریب سگنل دے رہی تھی۔ سب جان گئے کہ اب یہ مشن تحقیق نہیں، بقا کا سوال بن چکا ہے۔

جب ٹیم نے سوراخ کے اندر جانے کا فیصلہ کیا تو کسی نے مخالفت نہیں کی۔ شاید اس لیے کہ وہ سب اندر ہی اندر جان چکے تھے کہ ان کے لیے واپسی کا راستہ بند ہو چکا ہے۔ نیچے اترتے ہی ماحول بدل گیا۔ برف کی جگہ سیاہ پتھر تھے، اور سردی کے بجائے ایک جلتی ہوئی گرمی۔ دیواروں پر ایسے نشانات تھے جیسے کسی نے پنجوں سے انہیں نوچا ہو۔

غار کے بیچوں بیچ ایک وسیع میدان تھا، اور اس میدان میں ایک دراڑ جس سے سرخ روشنی نکل رہی تھی۔ اس روشنی میں انہیں سائے نظر آئے، انسانی شکلوں جیسے، مگر بہت بڑے اور ٹیڑھے۔ جیسے وہ کبھی انسان تھے، مگر اب نہیں رہے۔ جب وہ سائے بولے تو آواز نہیں آئی، بلکہ خیالات براہ راست دماغ میں اترنے لگے۔

وہ کہہ رہے تھے کہ یہ جگہ زمین کا دوزخ ہے، ایک ایسا قید خانہ جہاں قدیم زمانوں میں کچھ چیزوں کو بند کیا گیا تھا۔ برف اس قید کی مہر تھی، اور انسانوں نے خود اسے توڑ دیا تھا۔ اب وہ طاقت دوبارہ سانس لے رہی تھی، اور اسے آزادی چاہیے تھی۔

اچانک زمین ہلنے لگی۔ غار کے کنارے ٹوٹنے لگے۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا، اور ٹیم کے دو افراد چیختے ہوئے اس سرخ روشنی میں گر گئے۔ ان کی آوازیں فوراً خاموش ہو گئیں، جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔

ڈاکٹر ریان نے آخری ہمت جمع کی۔ اس نے ریموٹ بم کو فعال کیا جو انہوں نے صرف انتہائی صورت حال کے لیے رکھا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ خودکشی کے مترادف ہے، مگر شاید یہی واحد راستہ تھا۔ اس نے باقی بچے لوگوں کو اوپر جانے کا حکم دیا، مگر کسی نے حرکت نہ کی۔ ان کی آنکھوں میں وہی سرخ چمک آ چکی تھی۔

جب دھماکہ ہوا تو پوری زمین لرز گئی۔ برفانی میدان میں ایک لمحے کے لیے آگ کا ستون اٹھا، پھر سب کچھ خاموش ہو گیا۔ طوفان رک گیا، جیسے اس نے اپنا مقصد پورا کر لیا ہو۔

کچھ دن بعد ایک ریسکیو ٹیم وہاں پہنچی۔ اسٹیشن تباہ حال تھا، اور سوراخ مکمل طور پر بند ہو چکا تھا، جیسے کبھی کھلا ہی نہ ہو۔ انہیں صرف ڈاکٹر ریان کی ڈائری ملی، جس کا آخری جملہ خون سے لکھا ہوا تھا۔
“انٹارکٹک صرف برف نہیں، یہ جہنم کا دروازہ ہے، اور ہم نے دستک دی تھی۔”

اس دن کے بعد اس علاقے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا، مگر بعض راتوں میں سیٹلائٹ اب بھی برف کے نیچے سرخ روشنی کی ہلکی سی جھلک ریکارڈ کرتے ہیں، جیسے دوزخ سو رہا ہو، مگر مرا نہیں۔

ریسکیو ٹیم کے جانے کے بعد دنیا نے یہ مان لیا کہ انٹارکٹک کا وہ حادثہ ایک قدرتی سانحہ تھا۔ رپورٹس میں لکھ دیا گیا کہ گیس کے اخراج اور برفانی دباؤ نے اسٹیشن کو تباہ کر دیا۔ ڈاکٹر ریان کی ڈائری کو خفیہ فائلوں میں بند کر دیا گیا، اور اس علاقے کو نقشوں سے تقریباً مٹا دیا گیا۔ مگر حقیقت کبھی دفن نہیں ہوتی، وہ صرف انتظار کرتی ہے۔

چھ ماہ بعد، قطبِ جنوبی کے مدار میں گردش کرنے والے ایک سیٹلائٹ نے ایک عجیب سگنل ریکارڈ کیا۔ یہ کوئی روشنی نہیں تھی، بلکہ حرارت کی دھڑکن تھی، بالکل دل کی دھڑکن جیسی۔ وہی مقام، وہی فریکوئنسی۔ ڈیٹا سائنسدانوں نے اسے آلات کی خرابی کہا، مگر ایک شخص خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔

اس کا نام ایڈم کول تھا، ڈاکٹر ریان کا پرانا شاگرد۔ جب اسے اپنے استاد کی موت کی خبر ملی تھی، تب ہی اس کے دل میں ایک خلش جاگ اٹھی تھی۔ اب یہ سگنل اس خلش کو چیخ میں بدل رہا تھا۔ اس نے خفیہ راستوں سے وہ فائلیں حاصل کیں جن پر “Antarctic Hell Incident” لکھا تھا۔ جوں جوں وہ پڑھتا گیا، اس کے ہاتھ ٹھنڈے ہوتے گئے۔ مگر خوف کے ساتھ ایک عجیب کشش بھی تھی، جیسے کسی نے اسے بلایا ہو۔

ایڈم نے ایک نجی مہم ترتیب دی۔ کوئی بڑی ٹیم نہیں، کوئی سرکاری اجازت نہیں۔ صرف تین لوگ: وہ خود، ایک ماہرِ ارضیات لیلا، اور ایک سابق فوجی جیک، جو خاموشی میں بہت کچھ چھپا لیتا تھا۔ جب ان کا جہاز برفانی میدان پر اترا تو فضا میں وہی بوجھل خاموشی تھی، جو آواز سے زیادہ چیختی ہے۔

رات کے وقت لیلا نے سب سے پہلے محسوس کیا کہ زمین ہلکی سی گرم ہے۔ انٹارکٹک میں گرم زمین؟ اس نے کچھ کہا نہیں، مگر اس کی آنکھوں میں سوال جاگ اٹھے۔ ایڈم نے ڈاکٹر ریان کی ڈائری کھولی، اور وہ جملہ دوبارہ پڑھا۔
“یہ دوزخ سو رہا ہے، مرا نہیں۔”

تیسری رات، جیک جاگتے میں بڑبڑانے لگا۔ وہ کسی سے بات کر رہا تھا، حالانکہ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ اس کی آواز میں اجنبیت تھی، جیسے وہ خود نہ ہو۔ ایڈم نے اسے جھنجھوڑا تو جیک چونک کر خاموش ہو گیا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک سرخ لکیر سی تیر رہی تھی۔

جب وہ دوبارہ بند ہو چکا سوراخ تلاش کرنے پہنچے تو زمین خود بخود دراڑیں لینے لگی۔ برف چرچرانے لگی، جیسے کسی نے نیچے سے اسے دھکیل دیا ہو۔ اچانک ایک گہری سانس کی آواز ابھری، وہی آواز جو ڈاکٹر ریان نے بیان کی تھی۔ دراڑ کے اندر اندھیرا نہیں تھا، بلکہ ہلکی سرخ روشنی تھی، جیسے کسی جلتے انگارے کی۔

لیلا نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، مگر زمین نے اس کے پاؤں پکڑ لیے۔ ایڈم نے اسے کھینچ لیا، مگر اسی لمحے اس نے دراڑ کے اندر جھانکا۔ اس نے جو دیکھا، وہ الفاظ سے باہر تھا۔ بے شمار سائے، قطار در قطار، جیسے قید میں کھڑے ہوں۔ ان سب کی آنکھیں ایک ساتھ کھلیں۔

ایک آواز اس کے ذہن میں اتری، بالکل صاف۔
“ہم نے تمہیں بلایا ہے۔”

ایڈم کو اچانک احساس ہوا کہ یہ سب حادثہ نہیں تھا۔ پہلا مشن، ڈاکٹر ریان کی قربانی، سب ایک امتحان تھا۔ اب باری انسانیت کے اگلے قدم کی تھی۔ یہ دوزخ خود باہر نہیں آ رہا تھا، یہ کسی دروازے کا منتظر تھا۔

جیک نے بغیر پلٹے کہا، “ہم یہاں اکیلے نہیں ہیں۔”
اور اسی لمحے، برف کے نیچے سے ایک ایسی چیخ ابھری جو انسان اور جانور دونوں کی حد سے باہر تھی۔

انٹارکٹک کی رات اور گہری ہو گئی، اور دنیا سے بہت دور، برف کے نیچے، جہنم نے آنکھیں پوری طرح کھول لیں۔

برفانی رات کی خاموشی اب خاموش نہیں رہی تھی۔ وہ چیخ جو زمین کے اندر سے ابھری تھی، ابھی تک ہوا میں معلق تھی، جیسے آواز نے جم کر شکل اختیار کر لی ہو۔ ایڈم کا دل بے قابو ہو رہا تھا، مگر اس کا ذہن غیر معمولی طور پر صاف تھا۔ اسے پہلی بار یقین ہو گیا تھا کہ ڈاکٹر ریان نے جو کچھ لکھا تھا، وہ محض خوف یا وہم نہیں تھا، بلکہ ایک ادھوری حقیقت تھی۔

لیلا کانپ رہی تھی۔ اس کے جوتوں کے نیچے برف نرم ہو چکی تھی، جیسے پگھلتی ہوئی موم۔ “یہ جگہ بدل رہی ہے،” اس نے سرگوشی میں کہا، “یہ ہمیں قبول کر رہی ہے یا رد کر رہی ہے، مجھے سمجھ نہیں آ رہا۔” جیک خاموش کھڑا تھا، مگر اس کی گردن کی رگیں ابھری ہوئی تھیں، اور اس کی سانسیں کسی اور ردھم میں چل رہی تھیں۔

اچانک دراڑ مزید کھل گئی۔ سرخ روشنی تیز ہو گئی، اور اس روشنی میں اب سائے واضح دکھائی دینے لگے۔ وہ سائے انسانی خدوخال رکھتے تھے، مگر ان کے جسم ایسے تھے جیسے کسی نے انسان کو دوبارہ، غلط طریقے سے بنایا ہو۔ لمبے، ٹیڑھے، اور آنکھوں میں ایسی آگ جو جلانے کے بجائے منجمد کر دیتی تھی۔

ایڈم کے ذہن میں ایک سیلاب سا آ گیا۔ وہ تصویریں تھیں، یادیں نہیں۔ قدیم زمانے کے مناظر، جب زمین جوان تھی اور انسان ابھی سیکھ رہا تھا کہ آگ کیا ہے۔ ان تصویروں میں انٹارکٹک برف نہیں تھا، بلکہ سیاہ زمین اور آسمان سے گرتی آگ تھی۔ کچھ طاقتیں تھیں جنہیں زمین نے خود پیدا کیا تھا، مگر پھر خود ہی ان سے خوفزدہ ہو گئی تھی۔

“ہم محافظ تھے،” وہ آواز پھر آئی، “ہمیں قید کیا گیا، بھلا دیا گیا۔ برف ہماری زنجیر بنی۔”
ایڈم کے ہونٹ کانپے، “اور اب؟”
جواب میں ہلکی سی ہنسی ابھری، ایسی ہنسی جس میں صدیوں کی تھکن تھی۔ “اب ہم دروازہ چاہتے ہیں۔”

جیک نے اچانک اپنا ہیلمٹ اتار پھینکا۔ اس کی آنکھیں اب مکمل سرخ ہو چکی تھیں۔ “یہ جھوٹ نہیں بول رہے،” اس نے بھاری آواز میں کہا، “یہ سچ ہے، اور ہم اسے روک نہیں سکتے۔” لیلا چیخ کر پیچھے ہٹی، مگر ایڈم نے محسوس کیا کہ جیک اب ان میں سے نہیں رہا تھا۔ وہ ایک پل کی طرح تھا، انسان اور اس قید کے درمیان۔

زمین لرزنے لگی۔ دور کہیں برفانی پہاڑوں سے گونجتی ہوئی آوازیں آ رہی تھیں۔ سیٹلائٹ مدار میں اس تبدیلی کو نوٹ کر رہے تھے، مگر دنیا ابھی تک بے خبر تھی۔ انٹارکٹک میں وہ لمحہ پیدا ہو چکا تھا جہاں فیصلہ ہونا تھا، کھلنے کا یا بند ہونے کا۔

ایڈم کو اچانک ڈاکٹر ریان کی ڈائری کا آخری صفحہ یاد آیا، جو سب سے زیادہ جلا ہوا تھا۔ اس پر ایک جملہ آدھا مٹا ہوا تھا، جو اس وقت سمجھ نہیں آیا تھا۔ اب اس کے معنی واضح ہو رہے تھے۔ یہ دروازہ صرف دھماکے سے بند نہیں ہوتا، یہ قربانی مانگتا ہے، مگر قربانی جسم کی نہیں، ارادے کی۔

اس نے لیلا کا ہاتھ پکڑا۔ “ہمیں یہیں اسے روکنا ہو گا۔ اگر یہ دروازہ مکمل کھل گیا تو یہ صرف انٹارکٹک نہیں رہے گا، یہ ہر سرد دل، ہر خالی جگہ میں راستہ بنا لے گا۔”
لیلا کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس نے سر ہلا دیا۔

ایڈم نے دراڑ کے کنارے قدم رکھا۔ سرخ روشنی اس کے وجود میں اترنے لگی۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور اپنے ذہن کو ایک ہی خیال پر مرکوز کیا، بندش، قید، حد۔ اس نے محسوس کیا جیسے کوئی طاقت اس کے خیالات سے ٹکرا رہی ہو، اسے توڑنے کی کوشش کر رہی ہو۔

جیک چیخا، مگر اس چیخ میں درد کم اور غصہ زیادہ تھا۔ زمین کے نیچے سے سائے آگے بڑھے، مگر اسی لمحے ہوا جم گئی، جیسے وقت نے سانس روک لی ہو۔ دراڑ آہستہ آہستہ سکڑنے لگی۔

ایک زوردار دھماکہ نہیں ہوا، بلکہ ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ سرخ روشنی مدھم ہو گئی، اور پھر صرف برف رہ گئی، سفید، بے جان، خاموش۔

جب سب کچھ رکا تو لیلا اکیلی کھڑی تھی۔ ایڈم اور جیک کہیں نہیں تھے۔ صرف برف پر ایک دائرہ سا بنا ہوا تھا، جیسے کسی نے وہاں کبھی آگ جلائی ہو۔ لیلا نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر سر جھکا لیا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ انجام نہیں، صرف وقفہ ہے۔

دنیا کو ایک بار پھر یہی بتایا گیا کہ انٹارکٹک میں ایک اور ناکام مہم ختم ہو گئی۔ مگر کچھ راتوں میں، جب قطبِ جنوبی پر آسمان غیر معمولی طور پر سرخ ہو جاتا ہے، تو برف کے نیچے ہلکی سی دھڑکن سنائی دیتی ہے۔

جیسے جہنم بند تو ہے،
مگر جاگ رہا ہے۔

وقت گزرتا رہا، مگر انٹارکٹک کی خاموشی پہلے جیسی نہ رہی۔ لیلا کو بچا لیا گیا تھا، مگر وہ پہلے والی لیلا نہیں رہی تھی۔ اسے وطن واپس بھیج دیا گیا، ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ شدید صدمے میں ہے، اس کی یادداشت بکھری ہوئی ہے۔ مگر راتوں کو، جب سب سو جاتے، وہ جاگ کر بیٹھ جاتی اور ایک ہی جملہ دہراتی رہتی، “یہ بند نہیں ہوا، صرف سو گیا ہے۔”

دنیا نے اسے وہم سمجھا۔ فائلیں پھر بند کر دی گئیں۔ مگر لیلا کے اندر کچھ جاگ چکا تھا۔ اس کے خواب بدل گئے تھے۔ اب وہ خواب نہیں تھے، بلکہ پیغامات تھے۔ وہ خود کو برف کے نیچے کھڑا پاتی، اس دائرے کے بیچ، جہاں ایڈم غائب ہوا تھا۔ وہاں کوئی آگ نہیں تھی، مگر گرمی تھی، ایسی گرمی جو جسم کو نہیں، سوچ کو جلا دیتی ہے۔

ایک رات اسے خواب میں ایڈم نظر آیا۔ اس کا چہرہ دھندلا تھا، مگر آواز صاف۔
“ہم نے دروازہ بند کیا تھا، مگر چابی وہیں رہ گئی ہے۔”
لیلا نے چیخ کر پوچھا، “چابی کہاں ہے؟”
جواب آیا، “انسان کے اندر۔”

اسی رات، دنیا کے مختلف حصوں میں عجیب واقعات شروع ہو گئے۔ سائبیریا میں برف پگھلنے لگی، گرین لینڈ میں زمین کے نیچے سرخ دھبے نظر آنے لگے، اور پہاڑوں میں کام کرنے والے مزدور ایک ہی بات کہنے لگے کہ زمین سانس لے رہی ہے۔ سائنس دانوں نے اسے ماحولیاتی تبدیلی کہا، مگر لیلا جانتی تھی کہ یہ صرف موسم نہیں بدل رہا، توازن بدل رہا ہے۔

انٹارکٹک میں جو قید تھا، وہ ایک جگہ تک محدود نہیں تھا۔ وہ ایک تصور تھا، ایک طاقت، جو سردی، تنہائی اور انسانی خالی پن میں پنپتی تھی۔ ایڈم نے اسے سمجھ لیا تھا، اسی لیے اس نے خود کو قربان کیا تھا۔ مگر قربانی نے اسے ختم نہیں کیا، صرف بکھیر دیا تھا۔

کچھ عرصے بعد لیلا کو ایک خفیہ پیغام ملا۔ کوئی اسے جانتا تھا، کوئی اس سچ سے واقف تھا۔ پیغام میں صرف ایک جملہ تھا:
“ہمیں دوسرا دروازہ مل گیا ہے۔”

وہ جان گئی کہ اب واپسی ممکن نہیں۔ اگر وہ خاموش رہی تو وہی غلطی دہرائی جائے گی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب یہ راز دفن نہیں ہونے دے گی۔ اس نے وہ سب لکھنا شروع کیا جو اس نے دیکھا، جو اس نے سنا، جو اس نے محسوس کیا۔ اس نے واضح کیا کہ یہ جہنم آگ کا نہیں، بلکہ ارادے کا ہے۔ جہاں انسان حد پار کرتا ہے، وہیں یہ دروازہ بنتا ہے۔

کہانی ختم نہیں ہوئی، وہ صرف شکل بدل رہی تھی۔ انٹارکٹک پہلا دروازہ تھا، شاید سب سے قدیم۔ اب سوال یہ نہیں تھا کہ وہ دوبارہ کھلے گا یا نہیں، سوال یہ تھا کہ انسان کتنے دروازے خود بنا چکا ہے۔

اور کہیں، برف سے بہت دور، زمین کی گہرائی میں، ایک دھڑکن مسکرائی۔
کیونکہ جہنم کو آزاد ہونے کے لیے آگ نہیں چاہیے،
صرف اجازت چاہیے۔

لیلا نے وہ پیغام تین بار پڑھا، ہر بار الفاظ ویسے ہی سادہ تھے مگر ان کے پیچھے چھپا وزن بڑھتا جا رہا تھا۔ “ہمیں دوسرا دروازہ مل گیا ہے۔” نہ مقام، نہ نام، نہ وقت۔ بس ایک دعوت، یا شاید ایک انتباہ۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ شہر کی روشنیاں معمول کے مطابق جل رہی تھیں، لوگ ہنس رہے تھے، گاڑیاں چل رہی تھیں، جیسے دنیا کو کسی آنے والے قدموں کی آہٹ سنائی ہی نہ دیتی ہو۔

اسی رات اسے پھر خواب آیا۔ اس بار برف نہیں تھی۔ وہ ایک وسیع، خشک میدان میں کھڑی تھی، جہاں زمین پھٹی ہوئی تھی اور دراڑوں سے گرم ہوا اٹھ رہی تھی۔ ایڈم سامنے کھڑا تھا، مگر اس کے پیچھے کوئی سایہ نہیں تھا، جیسے روشنی نے اسے مکمل طور پر نگل لیا ہو۔ اس نے کہا، “ہر دروازہ برف میں نہیں ہوتا۔ کچھ دروازے شور میں چھپتے ہیں، کچھ ہجوم میں، اور کچھ علم کے اندر۔”

لیلا جاگ اٹھی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز تھی، مگر خوف کے ساتھ اب ایک فیصلہ بھی تھا۔ وہ جان گئی تھی کہ اگر یہ راز صرف فائلوں میں بند رہا تو دروازے خود راستہ بنا لیں گے۔ اس نے اپنے پرانے رابطے کھنگالے، وہی خفیہ نیٹ ورک جس نے کبھی انٹارکٹک کی فائلیں اس تک پہنچائی تھیں۔ چند دن بعد ایک مقام سامنے آیا، وسطی ایشیا کا ایک پہاڑی علاقہ، جہاں زیرِ زمین تحقیق کے دوران عجیب حرارتی لہریں ریکارڈ ہو رہی تھیں، بالکل ویسی ہی دھڑکن جیسی۔

وہ اکیلی نہیں گئی۔ اس بار ٹیم چھوٹی تھی مگر مختلف۔ ایک ماہرِ نفسیات، جو انسانی رویّوں میں غیر معمولی تبدیلیاں پڑھ سکتا تھا، اور ایک ڈیٹا انجینئر، جو سگنلز کے پیچھے چھپی زبان سمجھتا تھا۔ جب وہ پہاڑوں کے درمیان اس خاموش وادی میں پہنچے تو لیلا کو وہی بوجھل احساس ہوا جو انٹارکٹک میں تھا، مگر یہاں سردی نہیں تھی، بلکہ عجیب سی بےچینی۔

تحقیق کے پہلے دن سب کچھ معمول پر رہا۔ دوسرے دن مقامی مزدوروں نے کام چھوڑ دیا۔ وہ کہتے تھے کہ رات کو زمین باتیں کرتی ہے، نام لے کر پکارتی ہے۔ ماہرِ نفسیات نے اسے اجتماعی وہم کہا، مگر لیلا جانتی تھی کہ یہ وہی سرگوشیاں ہیں، بس زبان بدل گئی ہے۔

تیسری رات ڈیٹا انجینئر کے آلات نے وہی فریکوئنسی پکڑی، وہی دھڑکن۔ لیلا کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ اس نے خود کو تیار کیا۔ جب وہ زیرِ زمین حصے میں اترے تو وہاں کوئی غار نہیں تھا، بلکہ ایک گول کمرہ سا تھا، جیسے کسی نے دانستہ طور پر جگہ بنائی ہو۔ دیواروں پر نشانات تھے، بالکل انٹارکٹک جیسے، مگر یہاں برف کی جگہ دھول تھی۔

اچانک ماہرِ نفسیات رک گیا۔ اس کی سانس بھاری ہو گئی۔ اس نے کہا، “یہ جگہ ہمیں نہیں دیکھ رہی، یہ ہمیں جانتی ہے۔” اور اسی لمحے لیلا کو احساس ہوا کہ دوسرا دروازہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہے۔ پہلا دروازہ قید تھا، یہ دروازہ دعوت تھا۔

ہوا بھاری ہونے لگی۔ آوازیں اب سرگوشی نہیں رہیں، بلکہ واضح خیالات بن گئیں۔ وہ طاقت خود کو مختلف ناموں سے پکارتی تھی، مختلف شکلوں میں، مگر مقصد ایک ہی تھا، پھیلاؤ۔ ایڈم کے الفاظ لیلا کے ذہن میں گونجے، چابی انسان کے اندر ہے۔ اس نے سمجھ لیا کہ یہ دروازے دھماکوں سے بند نہیں ہوں گے، نہ قربانیوں سے ہمیشہ کے لیے۔

لیلا نے ایک خطرناک فیصلہ کیا۔ اس نے آلات بند کرنے کا حکم دیا، تمام ریکارڈنگ روک دی۔ اس نے کہا کہ جب تک انسان دیکھتا اور ناپتا رہے گا، یہ دروازے بنتے رہیں گے۔ علم روشنی ہے، مگر حد کے بغیر روشنی بھی راستہ بن جاتی ہے۔ اس لمحے کمرہ لرزا، جیسے کسی نے ناراضی میں سانس لی ہو۔

وہ لوگ بمشکل باہر نکل پائے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو دراڑ خود بخود بھر رہی تھی، جیسے زمین نے فیصلہ بدل لیا ہو۔ مگر لیلا جانتی تھی کہ یہ جیت نہیں، صرف مہلت ہے۔

واپسی پر اس نے وہ سب لکھا جو اس نے سیکھا تھا، مگر اس بار فائلوں کے لیے نہیں، انسانوں کے لیے۔ اس نے کہا کہ سب سے خطرناک دروازے وہ ہیں جو ہم اپنی ضد، لالچ اور خالی پن سے کھولتے ہیں۔ اگر ہم رکنا سیکھ لیں، تو شاید زمین کو بھی آرام مل جائے۔

کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوئی۔ کیونکہ کہیں نہ کہیں، کسی اور جگہ، کوئی اور دروازہ آہستہ آہستہ سانس لے رہا ہے۔
اور انسان، ہمیشہ کی طرح، سننے کے بجائے آگے بڑھنے کو تیار ہے۔

کچھ عرصہ خاموشی رہی، ایسی خاموشی جو سکون نہیں بلکہ جمع ہوتی ہوئی طاقت کی علامت ہوتی ہے۔ لیلا نے جان بوجھ کر منظر سے خود کو ہٹا لیا تھا۔ نہ انٹرویوز، نہ رپورٹس، نہ لیکچر۔ وہ جان چکی تھی کہ ہر لفظ، ہر تشریح، کسی نہ کسی دروازے پر دستک بن جاتی ہے۔ مگر دنیا خاموش نہیں رہتی، وہ خلا برداشت نہیں کرتی۔

ایک دن اس کے دروازے پر ایک خط ملا۔ کاغذ پر کوئی لوگو نہیں تھا، کوئی نام نہیں۔ صرف ایک جملہ تھا جو اس کے دل میں تیر کی طرح لگا۔
“تیسرا دروازہ تمہارے بغیر کھل چکا ہے۔”

اس بار خواب نہیں آیا۔ اس بار یاد آئی۔ ایک پرانی یاد، جو انٹارکٹک سے بھی پہلے کی تھی۔ لیلا کو یاد آیا کہ اپنے طالب علمی کے زمانے میں اس نے ایک مقالہ پڑھا تھا، جسے سب نے مسترد کر دیا تھا۔ اس مقالے میں لکھا تھا کہ زمین پر کچھ مقامات ایسے ہیں جو جغرافیہ نہیں، نفسیات سے جڑے ہوتے ہیں۔ جہاں خوف، لالچ اور تنہائی جمع ہو جائیں، وہاں زمین نرم ہو جاتی ہے۔

اس نے نقشہ کھولا۔ بڑے شہر، جنگی علاقے، زیرِ زمین لیبارٹریاں، سب اس کے سامنے تھے۔ مگر ایک جگہ پر اس کی نگاہ رک گئی۔ ایک پرانا ساحلی شہر، جہاں سمندر پیچھے ہٹ رہا تھا، اور زمین کے نیچے خالی پن بڑھتا جا رہا تھا۔ وہاں کوئی برف نہیں تھی، کوئی پہاڑ نہیں، صرف شور، لوگ، اور مسلسل حرکت۔

لیلا وہاں پہنچی تو محسوس ہوا کہ یہاں کی ہوا مختلف ہے۔ لوگ بے چین تھے، غصے میں تھے، جیسے کسی انجانے بوجھ کو اٹھائے پھر رہے ہوں۔ خبریں بتا رہی تھیں کہ لوگ بلا وجہ ایک دوسرے پر حملہ کر رہے ہیں، کچھ لوگ اچانک خاموش ہو جاتے ہیں، گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے ہیں، آنکھیں خالی۔

رات کے وقت لیلا نے ساحل کے قریب وہ مقام دیکھا جہاں سمندر غیر معمولی طور پر پیچھے ہٹ چکا تھا۔ ریت کے نیچے دراڑیں تھیں، مگر وہ زمین میں نہیں، لوگوں کے سروں میں محسوس ہو رہی تھیں۔ اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ تیسرا دروازہ کسی جگہ پر نہیں، کسی حالت میں کھلا ہے۔

اسی لمحے اس نے ایڈم کی آواز سنی، مگر باہر نہیں، اپنے اندر۔
“اب یہ دروازہ بند کرنے کے لیے تمہیں نیچے نہیں جانا، تمہیں اوپر آنا ہو گا۔”

اگلے دن لیلا نے ایک ایسا کام کیا جو سب سے زیادہ خطرناک تھا۔ اس نے سچ کو چھپانے کے بجائے، سادہ بنا کر پھیلا دیا۔ اس نے خوف کو کہانی میں بدلا، اعداد کو لفظوں میں، تاکہ لوگ سن سکیں، سمجھے بغیر دروازہ نہ کھولیں۔ اس نے بتایا کہ ہر بار جب ہم حد پار کرتے ہیں، زمین جواب نہیں دیتی، وہ یاد رکھتی ہے۔

کچھ لوگوں نے مذاق اڑایا، کچھ نے اسے پاگل کہا، مگر کچھ رک گئے۔ اور یہی کافی تھا۔ ساحل پر دراڑیں مزید نہیں بڑھیں۔ تشدد کے واقعات آہستہ آہستہ کم ہونے لگے۔ جیسے کسی نے اندر سے ہاتھ کھینچ لیا ہو۔

لیلا جانتی تھی کہ یہ آخری فتح نہیں۔ دروازے ہمیشہ امکان ہوتے ہیں، اور انسان ہمیشہ آزمائش۔ مگر اب وہ اکیلی نہیں تھی۔ اب کہانی پھیل چکی تھی، اور کہانی کبھی ایک ہی ہاتھ میں قید نہیں رہتی۔

کہیں بہت دور، زمین نے ایک لمبی سانس لی۔
تیسرا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا تھا،
مگر پہلی بار، انسان نے خود قدم پیچھے ہٹایا تھا۔

اور یہی اس جنگ کی پہلی اصل جیت تھی۔

وقت نے ایک نیا موڑ لیا، مگر خطرہ ختم نہیں ہوا تھا، بس اپنی شکل بدل چکا تھا۔ لیلا نے محسوس کیا کہ اب دروازے زمین میں کم اور انسانوں کے فیصلوں میں زیادہ کھل رہے ہیں۔ کہانی پھیل چکی تھی، مگر کہانی کے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔ کچھ لوگ ڈر گئے، اور کچھ نے اسی خوف کو طاقت بنا لیا۔

چند ماہ بعد ایک نجی تحقیقی ادارے نے لیلا سے رابطہ کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ “دروازوں” کو بند کرنے کا مستقل حل ڈھونڈ رہے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اس طاقت کو سمجھ لیا جائے تو اسے قابو میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔ لیلا کے دل میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ وہ یہ جملہ پہلے بھی سن چکی تھی، انٹارکٹک سے پہلے۔

وہ اس ادارے کے مرکز پہنچی تو سب کچھ حد سے زیادہ صاف، حد سے زیادہ منظم تھا۔ دیواروں پر بڑے بڑے اسکرینز، جن پر زمین کے مختلف حصوں کے ڈیٹا چل رہے تھے۔ حرارت، دباؤ، انسانی رویّوں کے گراف۔ لیلا کو محسوس ہوا کہ یہ لوگ زمین نہیں، انسان کو ناپ رہے ہیں۔ اور یہی سب سے خطرناک بات تھی۔

ادارے کے سربراہ نے مسکراتے ہوئے کہا، “ہم نے چوتھے دروازے کا سراغ لگا لیا ہے، مگر اس بار ہم تیار ہیں۔”
لیلا نے آہستہ جواب دیا، “تیاری اکثر دروازہ بن جاتی ہے۔”

اسی رات لیلا کو پھر وہی احساس ہوا۔ زمین کی ہلکی سی دھڑکن، مگر اس بار کسی ایک مقام سے نہیں، بلکہ ہر اس جگہ سے جہاں انسان خود کو تنہا، بے معنی یا حد سے آگے محسوس کرتا ہے۔ اسے سمجھ آ گیا کہ دروازے اب مقامات نہیں رہے، وہ نیٹ ورک بن چکے ہیں۔

ایڈم کی یاد پھر ابھری، مگر اس بار اس کی آواز مضبوط تھی۔
“اب مسئلہ بند کرنے کا نہیں، سکھانے کا ہے۔”
لیلا نے آنکھیں بند کیں۔ وہ جان گئی کہ اگر علم کو خوف میں لپیٹ کر رکھا گیا تو یہ طاقتوروں کا ہتھیار بن جائے گا۔ مگر اگر اسے ذمہ داری کے ساتھ بانٹا جائے تو شاید دروازے خود کمزور پڑ جائیں۔

اگلے دن اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس سے اس ادارے کے لوگ ناخوش ہو گئے۔ اس نے ان کے ڈیٹا کو عوامی بنا دیا، مگر تشریح کے ساتھ۔ اس نے واضح کیا کہ ہر گراف ایک انتباہ ہے، کنٹرول کا ذریعہ نہیں۔ اس نے کہا کہ زمین دشمن نہیں، ردِعمل ہے۔ اور ردِعمل کو دبایا نہیں، سمجھا جاتا ہے۔

نتیجہ فوری نہیں آیا۔ کچھ جگہوں پر بے چینی بڑھی، کہیں شور ہوا۔ مگر پھر آہستہ آہستہ ایک تبدیلی محسوس ہونے لگی۔ لوگ سوال کرنے لگے، رکنے لگے، سوچنے لگے۔ اور جہاں سوال پیدا ہوتا ہے، وہاں اندھا قدم رک جاتا ہے۔

چوتھا دروازہ مکمل طور پر نہیں کھلا۔ وہ ایک امکان کی صورت میں ٹھہرا رہا، جیسے کوئی سانس روک کر انتظار کر رہا ہو۔ لیلا جانتی تھی کہ یہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ زمین اور انسان کے درمیان یہ کشمکش ختم نہیں ہو سکتی، مگر متوازن ہو سکتی ہے۔

کہانی یہاں بھی بند نہیں ہوئی، کیونکہ یہ کسی ایک شخص کی کہانی نہیں رہی تھی۔ یہ ہر اس انسان کی کہانی بن چکی تھی جو حد اور ضرورت کے بیچ فرق کرنا سیکھ رہا ہے۔

اور کہیں، زمین کی گہرائی میں، وہ طاقت جو کبھی قید تھی، اب خاموش تھی۔
نہ اس لیے کہ وہ ہار گئی تھی،
بلکہ اس لیے کہ پہلی بار،
اسے جلدی نہیں رہی تھی۔

برفانی اندھیرا اس قدر گہرا تھا کہ دن اور رات میں فرق مٹ چکا تھا۔ انٹارکٹک کے سنسان کنارے پر قائم تحقیقاتی اسٹیشن میں صرف سات لوگ تھے، اور ہر ایک کے دل میں ایک ایسا خوف پل رہا تھا جسے وہ زبان پر لانے سے گھبرا رہے تھے۔ باہر برفانی طوفان چیخ رہا تھا، جیسے کوئی زندہ مخلوق دیواروں سے ٹکرا کر اندر آنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اندر ہیٹر جل رہے تھے، مگر سردی ہڈیوں میں اترتی جا رہی تھی، جیسے یہ سردی جسم کی نہیں، روح کی ہو۔

ڈاکٹر ریان، جو مشن کا سربراہ تھا، کھڑکی کے پاس کھڑا سفید میدان گھور رہا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے برف کی تہوں کے نیچے کچھ سانس لے رہا ہو۔ وہ جانتا تھا کہ یہ احساس عام نہیں، مگر انٹارکٹک میں عام کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یہاں خاموشی بھی شور مچاتی ہے اور تنہائی انسان سے اس کا نام تک چھین لیتی ہے۔

یہ مشن دراصل برف کے نیچے پائے جانے والے ایک قدیم سوراخ کی تحقیق کے لیے تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں وہ سوراخ ایک سیاہ زخم کی طرح دکھائی دیتا تھا، جیسے زمین نے خود کو چیر دیا ہو۔ جب ٹیم نے وہاں ڈرلنگ شروع کی تو پہلے دن سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مگر دوسرے دن سے چیزیں بدلنے لگیں۔ آلات خراب ہونے لگے، کمپاس گھومنے لگے، اور ریڈیو سگنلز میں عجیب سی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں۔

پہلی رات الیگزینڈر نے چیخ ماری۔ سب لوگ دوڑ کر اس کے کمرے میں پہنچے تو وہ کانپ رہا تھا، آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ برف کے نیچے آگ جل رہی ہے۔ سب نے اسے وہم سمجھا، مگر اس کی آنکھوں میں جو خوف تھا، وہ جھوٹا نہیں لگتا تھا۔

اگلے دن ٹیم نے سوراخ کو مزید گہرا کیا۔ جیسے جیسے ڈرل نیچے جا رہی تھی، درجہ حرارت غیر فطری طور پر بڑھنے لگا۔ انٹارکٹک کی زمین میں گرمی؟ یہ بات سائنسی اصولوں کے خلاف تھی۔ پھر اچانک ڈرل رک گئی۔ اسکرین پر جو تصویر ابھری، اس نے سب کو ساکت کر دیا۔ نیچے ایک وسیع خالی جگہ تھی، جیسے کوئی غار، اور اس کے اندر کچھ حرکت کر رہا تھا۔

اسی رات اسٹیشن کی بجلی بند ہو گئی۔ اندھیرے میں صرف ایمرجنسی لائٹس کی سرخ روشنی جل رہی تھی۔ باہر طوفان مزید تیز ہو گیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی چیز باہر سے دروازے پر پنجے مار رہی ہو۔ پھر فرش کے نیچے سے آواز آئی، ایک بھاری سانس کی آواز، جیسے کوئی بہت بڑا وجود نیند سے جاگ رہا ہو۔

ایک ایک کر کے لوگ بدلنے لگے۔ ان کے چہرے پیلے، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے، اور باتوں میں عجیب سی بے ربطی۔ وہ کہتے تھے کہ انہیں خواب نہیں آتے، بلکہ یادیں آتی ہیں، ایسی یادیں جو ان کی نہیں ہوتیں۔ ڈاکٹر ریان نے اپنے نوٹس میں لکھا کہ شاید وہ کسی قدیم شعور کے زیر اثر آ رہے ہیں، مگر وہ خود بھی جانتا تھا کہ یہ الفاظ حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتے۔

پانچویں دن ماریا غائب ہو گئی۔ اس کا کمرہ خالی تھا، بستر پر برف جمی ہوئی تھی، جیسے وہ کمرہ برسوں سے بند پڑا ہو۔ ٹریکنگ ڈیوائس آخری بار اسی سوراخ کے قریب سگنل دے رہی تھی۔ سب جان گئے کہ اب یہ مشن تحقیق نہیں، بقا کا سوال بن چکا ہے۔

جب ٹیم نے سوراخ کے اندر جانے کا فیصلہ کیا تو کسی نے مخالفت نہیں کی۔ شاید اس لیے کہ وہ سب اندر ہی اندر جان چکے تھے کہ ان کے لیے واپسی کا راستہ بند ہو چکا ہے۔ نیچے اترتے ہی ماحول بدل گیا۔ برف کی جگہ سیاہ پتھر تھے، اور سردی کے بجائے ایک جلتی ہوئی گرمی۔ دیواروں پر ایسے نشانات تھے جیسے کسی نے پنجوں سے انہیں نوچا ہو۔

غار کے بیچوں بیچ ایک وسیع میدان تھا، اور اس میدان میں ایک دراڑ جس سے سرخ روشنی نکل رہی تھی۔ اس روشنی میں انہیں سائے نظر آئے، انسانی شکلوں جیسے، مگر بہت بڑے اور ٹیڑھے۔ جیسے وہ کبھی انسان تھے، مگر اب نہیں رہے۔ جب وہ سائے بولے تو آواز نہیں آئی، بلکہ خیالات براہ راست دماغ میں اترنے لگے۔

وہ کہہ رہے تھے کہ یہ جگہ زمین کا دوزخ ہے، ایک ایسا قید خانہ جہاں قدیم زمانوں میں کچھ چیزوں کو بند کیا گیا تھا۔ برف اس قید کی مہر تھی، اور انسانوں نے خود اسے توڑ دیا تھا۔ اب وہ طاقت دوبارہ سانس لے رہی تھی، اور اسے آزادی چاہیے تھی۔

اچانک زمین ہلنے لگی۔ غار کے کنارے ٹوٹنے لگے۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا، اور ٹیم کے دو افراد چیختے ہوئے اس سرخ روشنی میں گر گئے۔ ان کی آوازیں فوراً خاموش ہو گئیں، جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔

ڈاکٹر ریان نے آخری ہمت جمع کی۔ اس نے ریموٹ بم کو فعال کیا جو انہوں نے صرف انتہائی صورت حال کے لیے رکھا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ خودکشی کے مترادف ہے، مگر شاید یہی واحد راستہ تھا۔ اس نے باقی بچے لوگوں کو اوپر جانے کا حکم دیا، مگر کسی نے حرکت نہ کی۔ ان کی آنکھوں میں وہی سرخ چمک آ چکی تھی۔

جب دھماکہ ہوا تو پوری زمین لرز گئی۔ برفانی میدان میں ایک لمحے کے لیے آگ کا ستون اٹھا، پھر سب کچھ خاموش ہو گیا۔ طوفان رک گیا، جیسے اس نے اپنا مقصد پورا کر لیا ہو۔

کچھ دن بعد ایک ریسکیو ٹیم وہاں پہنچی۔ اسٹیشن تباہ حال تھا، اور سوراخ مکمل طور پر بند ہو چکا تھا، جیسے کبھی کھلا ہی نہ ہو۔ انہیں صرف ڈاکٹر ریان کی ڈائری ملی، جس کا آخری جملہ خون سے لکھا ہوا تھا:
“انٹارکٹک صرف برف نہیں، یہ جہنم کا دروازہ ہے، اور ہم نے دستک دی تھی۔”

چھ ماہ بعد ایڈم کول، ڈاکٹر ریان کا شاگرد، نے وہ خفیہ فائلیں حاصل کیں۔ اس نے خود ایک چھوٹی ٹیم بنائی، دوبارہ وہ دروازے تلاش کرنے کے لیے۔ پہاڑ، ساحل، شہر—ہر جگہ وہی سرخ دھڑکن اور سائے، مگر اب وہ طاقت انسانی فیصلوں میں کھل رہی تھی۔

لیلا، جو پہلے زندہ بچ گئی تھی، اب دنیا کو سمجھا رہی تھی کہ دروازے مقامات نہیں، حالات ہیں۔ ایڈم کی قربانی اور اس کی علم کی ذمہ داری نے اسے یہ سمجھایا کہ انسان کی حد کے بغیر علم بھی خطرہ ہے۔

آخری دروازہ نہ مکمل بند ہوا، نہ مکمل کھلا۔ لیکن زمین اور انسان کے درمیان ایک غیر تحریری معاہدہ بن گیا:
“ہم حد پار کریں گے، مگر جان بوجھ کر نہیں۔ اور تم جواب دو گی، مگر انتقام نہیں۔”

کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی، کیونکہ توازن میں کہانیاں کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں۔
زمین نے ایک لمبی سانس لی، دروازے خاموش ہو گئے، اور پہلی بار انسان نے قدم پیچھے ہٹایا۔
یہ پہلی حقیقی جیت تھی، کیونکہ انسان نے خود کو روکا، خوف کو سمجھا، اور حد کی قدر کی۔


Post a Comment for "“دوزخ کی دھڑکن”"