Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

علی بابا اور چالیس چور


 برفیلے پہاڑوں اور گھنے جنگلوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں علی بابا اپنے والد کے ساتھ کھیتوں کا کام کرتا تھا۔ علی بابا عام نوجوانوں جیسا نہیں تھا؛ اس کے اندر ہمیشہ کچھ نیا جاننے کی جستجو رہتی تھی۔ وہ کہانیوں اور قصوں کو سننا پسند کرتا تھا، مگر ہمیشہ سوچتا تھا کہ حقیقت میں ان کا کیا مطلب ہے۔

ایک دن علی بابا جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا، جب اچانک اس کی نظر ایک عجیب شور پر پڑی۔ وہ درختوں کے پیچھے چھپ گیا اور دیکھا کہ ایک گروہ گھوڑوں پر سوار، ایک چھپی ہوئی وادی میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کے کپڑوں پر سنہری دھاگے جلی ہو رہی تھی، اور ان کے ہتھیار چمک رہے تھے۔ علی بابا نے دل ہی دل میں سوچا، “یہ عام راہزن نہیں ہیں۔ یہ کوئی خاص منصوبہ لے کر آئے ہیں۔”

وہ وادی کے قریب گیا تو چھت سے چھت جھانک کر دیکھا کہ ایک چھپی ہوئی غار میں چالیس چور ایک دوسرے کے ساتھ کچھ سرگوشیاں کر رہے ہیں۔ علی بابا نے کان لگا کر سنا کہ وہ خزانے کی بات کر رہے ہیں۔ اور پھر اچانک ایک جادوئی لفظ سنائی دیا:
“کھل جا سم سم!”
غار کا دروازہ اپنے آپ کھل گیا اور اندر سے چمکدار سونے کے ڈھیر اور جواہرات نظر آنے لگے۔

علی بابا کو دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ جان گیا کہ یہ خزانہ نہ صرف سونا ہے، بلکہ چالاکیوں، رازوں اور خطرات سے بھرا ہوا ہے۔ وہ رات کو واپس آیا اور دل میں ایک منصوبہ بنایا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ خزانہ چوری نہیں کرے گا، بلکہ چوروں کے راز کو سمجھ کر اپنے گاؤں کے لیے استعمال کرے گا۔

اس نے چند دن غار کا مشاہدہ کیا، چوروں کی حرکتیں دیکھی اور ان کے طریقوں کو نوٹ کیا۔ جلد ہی علی بابا نے ایک راز دریافت کیا: ہر چور کے پاس ایک چھوٹا سا علامتی نشان ہوتا ہے جو ان کے کردار اور طاقت کو ظاہر کرتا تھا۔ اگر اسے صحیح طریقے سے سمجھ لیا جائے تو چوروں کو شکست دی جا سکتی تھی بغیر خون بہائے۔

ایک رات، جب چور سب سو گئے، علی بابا نے خود کو غار کے اندر گھسایا۔ وہ سروں پر روشنی رکھ کر چوروں کے نشانات پڑھتا گیا، اور ہر ایک علامت کا مطلب سمجھا۔ لیکن اچانک ایک چھوٹا سا چور جاگ گیا اور علی بابا کی موجودگی کا پتہ چل گیا۔ علی بابا کو خطرہ محسوس ہوا، مگر اس نے فوراً چالاکی سے دروازہ بند کر دیا، اور چور کو دھوکہ دے کر بھاگ گیا۔

اس کے بعد علی بابا نے گاؤں والوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا۔ ہر چور کے عیب اور طاقت کو سمجھ کر وہ انہیں ایک ایک کر کے بے اثر کرنے لگا، اور خزانہ آہستہ آہستہ گاؤں کے فائدے کے لیے استعمال ہونے لگا۔ مگر چالیس چور جلدی ہار نہیں مانے۔ وہ واپس آئے، مگر علی بابا کی چالاکی اور گاؤں والوں کے حوصلے نے انہیں ہمیشہ کے لیے شکست دی۔

کہانی کا اصل سبق یہ تھا کہ طاقت، خزانہ اور راز صرف اس کے لیے نہیں جو اسے چوری کرے یا قبضہ کرے، بلکہ ان کے لیے ہے جو حکمت، صبر اور شجاعت کے ساتھ اسے استعمال کر سکے۔ علی بابا نہ صرف اپنے گاؤں کا ہیرو بنا بلکہ ایک مثال بھی قائم کی کہ عقل اور حکمت سے خطرناک چالاکیوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

علی بابا ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا، جو گھنے جنگل اور بلند پہاڑوں کے درمیان بسا ہوا تھا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتا، مگر اس کے دل میں ہمیشہ کچھ نیا جاننے کی خواہش رہتی۔ وہ قصوں اور کہانیوں کو سننا پسند کرتا، مگر اکثر سوچتا کہ حقیقت میں ان کے پیچھے کیا راز چھپا ہوتا ہے۔

ایک دن، علی بابا جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک عجیب شور پر پڑی۔ درختوں کے پیچھے چھپ کر اس نے دیکھا کہ ایک گروہ گھوڑوں پر سوار، ایک چھپی ہوئی وادی میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کے کپڑوں پر سنہری دھاگے جلی ہوئی تھیں اور ہتھیار چمک رہے تھے۔ علی بابا نے دل ہی دل میں سوچا، “یہ عام راہزن نہیں ہیں۔ یہ لوگ کسی بڑے منصوبے پر ہیں۔”

وہ وادی کے قریب گیا اور چھت سے چھت جھانک کر دیکھا کہ ایک غار میں چالیس چور جمع ہیں۔ وہ خزانے کی باتیں کر رہے تھے اور ایک جادوئی لفظ نے دروازہ کھول دیا:
“کھل جا سم سم!”
دروازہ کھلا اور اندر سونا، جواہرات اور قدیم خزانے نظر آنے لگے۔ علی بابا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ جان گیا کہ یہ خزانہ صرف دولت نہیں، بلکہ خطرہ اور چالاکیوں سے بھرا ہوا ہے۔

رات کو واپس گاؤں پہنچ کر علی بابا نے سوچا کہ وہ خزانہ چوری نہیں کرے گا، بلکہ چالاکیوں اور رازوں کو سمجھ کر گاؤں کے لیے فائدہ اٹھائے گا۔ چند دنوں تک اس نے غار کا مشاہدہ کیا اور چوروں کی عادتیں نوٹ کیں۔ جلد ہی اس نے ایک راز دریافت کیا: ہر چور کے پاس ایک چھوٹا سا نشان تھا جو اس کے کردار اور طاقت کو ظاہر کرتا تھا۔ اگر اسے صحیح طریقے سے سمجھ لیا جائے تو چوروں کو شکست دی جا سکتی تھی بغیر خون بہائے۔

ایک رات جب چور سب سو گئے، علی بابا نے خود کو غار کے اندر گھسایا۔ وہ سروں پر روشنی رکھ کر چوروں کے نشانات پڑھتا گیا۔ اچانک ایک چھوٹا سا چور جاگ گیا اور علی بابا کی موجودگی کا پتہ چل گیا۔ علی بابا نے فوراً چالاکی سے دروازہ بند کر دیا اور چور کو دھوکہ دے کر بھاگ گیا۔

اس کے بعد علی بابا نے گاؤں والوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا۔ ہر چور کے عیب اور طاقت کو سمجھ کر وہ انہیں ایک ایک کر کے بے اثر کرنے لگا۔ گاؤں کے نوجوان اور بزرگ سب اس منصوبے میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے خزانے کا استعمال گاؤں کے بھلے کے لیے کیا: نئے تالاب بنائے، اسکول قائم کیے، اور کھیتوں میں جدید اوزار لگائے۔

چور جلدی ہار نہیں مانے۔ وہ واپس آئے، مگر علی بابا کی چالاکی اور گاؤں والوں کی حکمت نے انہیں ہمیشہ کے لیے شکست دی۔ چوروں نے ہر حربے آزمایا، مگر علی بابا نے ہر بار ان کی چالوں کو سمجھ کر جواب دیا۔ کبھی وہ دروازے کے ذریعے غائب ہونے کی کوشش کرتے، کبھی کمزوروں پر حملہ کرتے، مگر ہر بار علی بابا نے اپنی عقل اور حکمت سے انہیں شکست دی۔

ایک دن چوروں کے سردار نے علی بابا کو چیلنج دیا: اگر تم ایک رات میرے خزانے تک پہنچو تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ علی بابا نے قبول کیا مگر شرط رکھی کہ کوئی جان نہ جائے۔ اس رات علی بابا نے سب سے زیادہ خطرناک چالاکی دکھائی۔ اس نے خزانے کو صرف دیکھنے کے لیے پہنچا، مگر اس کے دماغ نے پہلے ہی تمام نشان پڑھ لیے تھے۔ اس نے ایک جادوئی لفظ بولا، “سم سم بند!” اور غار کے دروازے خود بخود بند ہو گئے۔

چور سردار حیران رہ گیا اور اپنی طاقت کے سامنے عاجز ہو گیا۔ علی بابا نے اسے سمجھایا کہ خزانہ صرف اسی کے لیے ہے جو عقل اور حکمت سے اس کا استعمال کرے۔ طاقت اور دولت صرف جسمانی نہیں، بلکہ ذہنی اور اخلاقی بھی ہو سکتی ہے۔

کہانی کا اصل سبق یہ تھا کہ خزانہ اور طاقت ان لوگوں کے لیے ہیں جو صبر، شجاعت اور عقل کے ساتھ استعمال کریں۔ علی بابا نہ صرف اپنے گاؤں کا ہیرو بنا بلکہ ایک مثال قائم کی کہ کسی خطرناک چالاکی کا مقابلہ صرف حکمت سے کیا جا سکتا ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ علی بابا نے گاؤں میں امن قائم کیا، چور کبھی واپس نہ آئے، اور خزانے کو صرف بھلے کے کاموں میں استعمال کیا گیا۔ گاؤں والے جان گئے کہ دولت، طاقت اور علم صرف اسی کے لیے ہیں جو حدود اور اخلاق کا احترام کریں۔

علی بابا کی کہانی نسل در نسل سنائی گئی۔ ہر بچے نے سنا کہ حقیقی ہیرو وہ نہیں جو دولت جمع کرے، بلکہ وہ ہے جو علم، حوصلہ اور اخلاق کے ساتھ طاقت کا استعمال کرے۔

علی بابا ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا، جو گھنے جنگل اور بلند پہاڑوں کے درمیان بسا ہوا تھا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتا، مگر اس کے دل میں ہمیشہ کچھ نیا جاننے کی خواہش رہتی۔ وہ قصوں اور کہانیوں کو سننا پسند کرتا، مگر اکثر سوچتا کہ حقیقت میں ان کے پیچھے کیا راز چھپا ہوتا ہے۔

ایک دن علی بابا جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک عجیب شور پر پڑی۔ درختوں کے پیچھے چھپ کر اس نے دیکھا کہ ایک گروہ گھوڑوں پر سوار، ایک چھپی ہوئی وادی میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کے کپڑوں پر سنہری دھاگے جلی ہوئی تھیں اور ہتھیار چمک رہے تھے۔ علی بابا نے دل ہی دل میں سوچا، “یہ عام راہزن نہیں ہیں۔ یہ لوگ کسی بڑے منصوبے پر ہیں۔”

وہ وادی کے قریب گیا اور چھت سے چھت جھانک کر دیکھا کہ ایک غار میں چالیس چور جمع ہیں۔ وہ خزانے کی باتیں کر رہے تھے اور ایک جادوئی لفظ نے دروازہ کھول دیا: “کھل جا سم سم!”

دروازہ کھلا اور اندر سونا، جواہرات اور قدیم خزانے نظر آنے لگے۔ علی بابا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ جان گیا کہ یہ خزانہ صرف دولت نہیں، بلکہ خطرہ اور چالاکیوں سے بھرا ہوا ہے۔

رات کو واپس گاؤں پہنچ کر علی بابا نے سوچا کہ وہ خزانہ چوری نہیں کرے گا، بلکہ چالاکیوں اور رازوں کو سمجھ کر گاؤں کے لیے فائدہ اٹھائے گا۔ چند دنوں تک اس نے غار کا مشاہدہ کیا اور چوروں کی عادتیں نوٹ کیں۔ جلد ہی اس نے ایک راز دریافت کیا: ہر چور کے پاس ایک چھوٹا سا نشان تھا جو اس کے کردار اور طاقت کو ظاہر کرتا تھا۔ اگر اسے صحیح طریقے سے سمجھ لیا جائے تو چوروں کو شکست دی جا سکتی تھی بغیر خون بہائے۔

ایک رات جب چور سب سو گئے، علی بابا نے خود کو غار کے اندر گھسایا۔ وہ سروں پر روشنی رکھ کر چوروں کے نشانات پڑھتا گیا۔ اچانک ایک چھوٹا سا چور جاگ گیا اور علی بابا کی موجودگی کا پتہ چل گیا۔ علی بابا نے فوراً چالاکی سے دروازہ بند کر دیا اور چور کو دھوکہ دے کر بھاگ گیا۔

اس کے بعد علی بابا نے گاؤں والوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا۔ ہر چور کے عیب اور طاقت کو سمجھ کر وہ انہیں ایک ایک کر کے بے اثر کرنے لگا۔ گاؤں کے نوجوان اور بزرگ سب اس منصوبے میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے خزانے کا استعمال گاؤں کے بھلے کے لیے کیا: نئے تالاب بنائے، اسکول قائم کیے، اور کھیتوں میں جدید اوزار لگائے۔

چور جلدی ہار نہیں مانے۔ وہ واپس آئے، مگر علی بابا کی چالاکی اور گاؤں والوں کی حکمت نے انہیں ہمیشہ کے لیے شکست دی۔ چوروں نے ہر حربے آزمایا، مگر علی بابا نے ہر بار ان کی چالوں کو سمجھ کر جواب دیا۔ کبھی وہ دروازے کے ذریعے غائب ہونے کی کوشش کرتے، کبھی کمزوروں پر حملہ کرتے، مگر ہر بار علی بابا نے اپنی عقل اور حکمت سے انہیں شکست دی۔

ایک دن چوروں کے سردار نے علی بابا کو چیلنج دیا: اگر تم ایک رات میرے خزانے تک پہنچو تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ علی بابا نے قبول کیا مگر شرط رکھی کہ کوئی جان نہ جائے۔ اس رات علی بابا نے سب سے زیادہ خطرناک چالاکی دکھائی۔ اس نے خزانے کو صرف دیکھنے کے لیے پہنچا، مگر اس کے دماغ نے پہلے ہی تمام نشان پڑھ لیے تھے۔ اس نے ایک جادوئی لفظ بولا، “سم سم بند!” اور غار کے دروازے خود بخود بند ہو گئے۔

چور سردار حیران رہ گیا اور اپنی طاقت کے سامنے عاجز ہو گیا۔ علی بابا نے اسے سمجھایا کہ خزانہ صرف اسی کے لیے ہے جو عقل اور حکمت سے اس کا استعمال کرے۔ طاقت اور دولت صرف جسمانی نہیں، بلکہ ذہنی اور اخلاقی بھی ہو سکتی ہے۔

لیکن اس کہانی کا سب سے بڑا twist ابھی باقی تھا۔ ایک رات علی بابا نے محسوس کیا کہ خزانہ اپنی جگہ نہیں رہا۔ دروازے خود بخود حرکت کرنے لگے اور خزانہ چھوٹے چھوٹے shadows کی شکل میں گاؤں کے اردگرد پھیل گیا۔ وہ چھوٹے shadows خزانے کے جادو کو زندہ رکھ رہے تھے اور ہر کسی کے دل میں خواہش پیدا کر رہے تھے کہ وہ اسے تلاش کرے۔

لیلا، ایک نوجوان لڑکی جسے علی بابا نے گاؤں میں تربیت دی تھی، نے اسے روکا۔ اس نے کہا، “اگر ہم سب greedy بنیں گے تو چور دوبارہ زندہ ہو جائیں گے اور ہمیں تباہ کر دیں گے۔”

علی بابا نے اس کی بات سمجھی اور گاؤں والوں کو سکھایا کہ خزانہ صرف اس کے لیے ہے جو عقل اور اخلاق سے استعمال کرے۔

کہانی کا اصل سبق یہ تھا کہ دولت، طاقت اور علم صرف اسی کے لیے ہیں جو حدود اور اخلاق کا احترام کریں۔ علی بابا نہ صرف اپنے گاؤں کا ہیرو بنا بلکہ ایک مثال قائم کی کہ کسی خطرناک چالاکی کا مقابلہ صرف حکمت سے کیا جا سکتا ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ علی بابا نے گاؤں میں امن قائم کیا، چور کبھی واپس نہ آئے، اور خزانے کو صرف بھلے کے کاموں میں استعمال کیا گیا۔ گاؤں والے جان گئے کہ دولت، طاقت اور علم صرف اسی کے لیے ہیں جو حدود اور اخلاق کا احترام کریں۔

علی بابا کی کہانی نسل در نسل سنائی گئی۔ ہر بچے نے سنا کہ حقیقی ہیرو وہ نہیں جو دولت جمع کرے، بلکہ وہ ہے جو علم، حوصلہ اور اخلاق کے ساتھ طاقت کا استعمال کرے۔

Post a Comment for "علی بابا اور چالیس چور"