رات کے سناٹے میں صحرا کی ہوا عجیب سی گرمی لیے ہوئے تھی۔ ریت کے ذروں میں چھپی تپش جیسے دن کی کہانی سنا رہی ہو۔ آسمان پر چاند آدھا تھا، مگر اس کی روشنی بھی اس ویران علاقے کے راز روشن نہ کر سکی۔ اسی خاموشی میں عالیہ تیز قدموں سے چل رہی تھی، اس کے دل کی دھڑکن اس کے قدموں سے زیادہ بےقابو تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر آج وہ رکی تو شاید کبھی خود کو نہ بچا سکے۔
عالیہ کوئی عام لڑکی نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں میں خوف کے ساتھ ساتھ ضد بھی تھی۔ وہ ایک ایسے راز کے ساتھ بھاگ رہی تھی جس کی قیمت جان بھی ہو سکتی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ڈیٹا ڈرائیو تھا، بظاہر بےجان، مگر اس کے اندر وہ سچ قید تھا جسے طاقتور لوگ دفن کرنا چاہتے تھے۔
اسی لمحے دور سے گاڑی کی روشنی ابھری۔ عالیہ کا دل بیٹھ گیا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ لوگ قریب ہیں۔ ریت پر دوڑتے قدموں کی آوازیں اسے اپنے پیچھے سنائی دینے لگیں۔ وہ ہانپ رہی تھی، مگر رکی نہیں۔
اچانک ایک مضبوط ہاتھ نے اسے کھینچ کر اندھیرے میں کھڑا کر لیا۔ عالیہ چیخنے ہی والی تھی کہ ایک دبی ہوئی آواز اس کے کانوں میں پڑی، “خاموش… اگر زندہ رہنا چاہتی ہو تو۔”
وہ آواز سخت تھی مگر اس میں عجیب سا اطمینان بھی تھا۔ عالیہ نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔ لمبا قد، گہری آنکھیں، چہرے پر تھکن مگر انداز میں اعتماد۔ وہ شخص خطرناک بھی لگ رہا تھا اور واحد سہارا بھی۔
“تم کون ہو؟” عالیہ نے کانپتی آواز میں پوچھا۔
“جو اس وقت تمہیں بچا سکتا ہے،” اس نے مختصر جواب دیا۔
گاڑی کی روشنی ان کے پاس سے گزری مگر اندھیرے نے انہیں چھپا لیا۔ جب خطرہ ٹلا تو عالیہ نے گہرا سانس لیا، مگر اس کا دل اب بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ شخص اب بھی اسے تھامے ہوئے ہے۔ اس لمس میں کوئی بےجا حرکت نہیں تھی، بس مضبوطی تھی، جیسے وہ گرنے نہیں دے گا۔
“میرا نام حمزہ ہے،” اس نے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔ “اور تم اس جگہ پر اکیلی نہیں رہ سکتیں۔”
عالیہ نے کچھ لمحے سوچا۔ اس کے پاس انتخاب کم تھے۔ “میں عالیہ ہوں… اور میرے پیچھے جو لوگ ہیں، وہ سچ سے ڈرتے ہیں۔”
حمزہ کی آنکھوں میں ایک لمحے کو چمک آئی۔ “تو پھر تم صحیح جگہ آ گئی ہو۔”
وہ رات دونوں کے لیے ایک نئے سفر کی ابتدا تھی۔ دن نکلنے سے پہلے وہ صحرا سے نکل چکے تھے۔ راستے میں خاموشی رہی، مگر وہ خاموشی خالی نہیں تھی۔ گاڑی کے اندر عجیب سا تناؤ تھا، جیسے دو اجنبی ایک دوسرے کی موجودگی کو آہستہ آہستہ قبول کر رہے ہوں۔
عالیہ نے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے کہا، “تم مجھ پر بھروسا کیوں کر رہے ہو؟”
حمزہ نے نظر سڑک پر رکھتے ہوئے جواب دیا، “کیونکہ تم خوف کے باوجود بھاگ رہی ہو، اور جو لوگ سچ لے کر بھاگتے ہیں وہ جھوٹوں سے بہتر ہوتے ہیں۔”
یہ الفاظ عالیہ کے دل میں اتر گئے۔ بہت عرصے بعد کسی نے اس پر یقین کیا تھا۔
دن گزرتے گئے۔ وہ شہر بدلتے رہے، ہوٹل بدلتے رہے، مگر خطرہ ان کے ساتھ چلتا رہا۔ ان لمحوں میں، جب باہر دنیا دشمن تھی، ان کے درمیان ایک خاموش قربت نے جنم لیا۔ نظریں ملتی تھیں تو فوراً ہٹ جاتی تھیں، جیسے دونوں اپنے جذبات سے ڈر رہے ہوں۔
ایک رات، جب بارش زور سے برس رہی تھی، بجلی چلی گئی۔ ہوٹل کے کمرے میں اندھیرا پھیل گیا۔ باہر گرج چمک تھی، اندر خاموشی۔ عالیہ نے لاشعوری طور پر حمزہ کا نام لیا۔ اس نے آگے بڑھ کر کہا، “میں یہیں ہوں۔”
ان دو لفظوں میں ایسا سکون تھا کہ عالیہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ برسوں سے مضبوط بنی ہوئی تھی، مگر اس لمحے اس کی دیواریں ہل گئیں۔ حمزہ نے بس اتنا کہا، “تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔”
یہ کوئی وعدہ نہیں تھا، بس حقیقت تھی۔
اگلے دن حقیقت سامنے آئی۔ دشمنوں نے انہیں ڈھونڈ لیا تھا۔ گولیوں کی آواز، چیخیں، بھاگتے قدم۔ حمزہ نے عالیہ کو اپنے پیچھے رکھا، ہر خطرے کے سامنے خود کھڑا ہوا۔ اس لمحے عالیہ کو احساس ہوا کہ اس کا دل کب اس شخص سے جڑ گیا، اسے خود بھی خبر نہیں ہوئی۔
آخرکار، سچ دنیا کے سامنے آ گیا۔ وہ ڈیٹا لیک ہو گیا جسے چھپایا جا رہا تھا۔ طاقتور گرے، کمزوروں کو آواز ملی۔ مگر قیمت آسان نہیں تھی۔ حمزہ زخمی ہوا، اور عالیہ نے پہلی بار خود کو ٹوٹتے محسوس کیا۔
اس نے حمزہ کا ہاتھ تھام کر کہا، “تم نے یہ سب میرے لیے کیوں کیا؟”
حمزہ نے کمزور مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “شاید اس لیے کہ کچھ لڑائیاں سچ کے لیے ہوتی ہیں… اور کچھ کسی ایک نظر کے بعد۔”
وقت گزرا۔ زخم بھر گئے، مگر یادیں رہ گئیں۔ عالیہ اب بھی مضبوط تھی، مگر اکیلی نہیں۔ اس نے سیکھ لیا تھا کہ شدت صرف خطرے میں نہیں ہوتی، بعض اوقات خاموش اعتماد میں بھی آگ ہوتی ہے۔
اور یہی کہانی تھی — شور سے شروع ہو کر سکون پر ختم ہونے والی، مگر اندر ایسی حرارت لیے ہوئے جو لفظوں سے کہیں زیادہ گہری تھی۔
حمزہ کے زخم تو بھر گئے تھے، مگر اس کی آنکھوں میں اب بھی وہی خاموش تھکن بسی ہوئی تھی جو لڑائیاں لڑنے والوں کی پہچان ہوتی ہے۔ عالیہ اکثر اسے دیکھتی تو محسوس کرتی کہ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کے جواب الفاظ میں نہیں ہوتے۔ وہ دونوں ایک چھوٹے سے ساحلی شہر میں آ کر رکے تھے، جہاں سمندر کی آواز رات کو بھی جاگتی رہتی تھی۔ یہ جگہ بظاہر پرسکون تھی، مگر ان کی زندگیوں میں سکون ابھی مکمل نہیں آیا تھا۔
عالیہ صبح سویرے ساحل پر چلی جاتی۔ ننگے پاؤں ریت پر چلتے ہوئے وہ سمندر سے باتیں کرتی، جیسے لہریں اس کے دل کا بوجھ سن سکتی ہوں۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی وجہ سے حمزہ نے بہت کچھ کھویا ہے، اپنی پہچان، اپنی خاموش زندگی، شاید اپنا مستقبل بھی۔ یہ خیال اسے اندر سے کاٹتا تھا۔
ایک دن حمزہ بھی اس کے پیچھے ساحل پر آ گیا۔ اس نے دور سے عالیہ کو دیکھا، ہوا میں اس کے بال بکھر رہے تھے، آنکھوں میں وہی سنجیدگی جو اب اسے پہچانی پہچانی لگتی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ قریب آیا، جیسے لمحے کو توڑنا نہیں چاہتا ہو۔
“تم ہر روز یہاں آتی ہو،” حمزہ نے کہا۔
عالیہ نے چونک کر پیچھے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی، “یہ واحد جگہ ہے جہاں مجھے لگتا ہے کہ میں بھاگ نہیں رہی۔”
حمزہ نے سمندر کی طرف دیکھا۔ “کبھی کبھی رکنا بھی بہادری ہوتا ہے۔”
یہ جملہ عالیہ کے دل میں اتر گیا۔ وہ جانتی تھی کہ حمزہ خود بھی رکا ہوا ہے، اپنے ماضی اور حال کے بیچ۔
شہر چھوٹا تھا، مگر نظریں بہت تھیں۔ عالیہ کو اکثر احساس ہوتا کہ کوئی انہیں دیکھ رہا ہے۔ وہ خطرہ جو بظاہر ختم ہو چکا تھا، حقیقت میں ابھی مرا نہیں تھا۔ ایک شام، جب سورج ڈوب رہا تھا اور آسمان نارنجی رنگ میں نہایا ہوا تھا، عالیہ کو ایک انجان نمبر سے پیغام ملا۔ صرف ایک لائن: “سچ کی قیمت ابھی باقی ہے۔”
اس کا ہاتھ کانپ گیا۔ اس نے فوراً حمزہ کو دکھایا۔ حمزہ کا چہرہ سخت ہو گیا۔ “میں جانتا تھا کہ یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔”
اس رات نیند دونوں سے روٹھ گئی۔ کمرے میں خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں خوف کی سرگوشی شامل تھی۔ عالیہ نے آہستہ سے کہا، “اگر تم چاہو تو میں اکیلی جا سکتی ہوں۔”
حمزہ نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔ “یہ بات دوبارہ مت کہنا۔”
اس کے لہجے میں غصہ نہیں تھا، بس یقین تھا۔ “ہم یہاں تک ساتھ آئے ہیں۔ آگے بھی ساتھ ہی جائیں گے۔”
یہ الفاظ کسی اعلان جیسے نہیں تھے، مگر عالیہ کے دل میں آگ سی لگا گئے۔ وہ پہلی بار سمجھ پائی کہ قربت صرف لمس سے نہیں بنتی، کچھ رشتے خطرے میں کندہ ہوتے ہیں۔
اگلے دن حقیقت کھل کر سامنے آ گئی۔ وہ لوگ واقعی پہنچ چکے تھے۔ شہر کے ایک ویران گودام میں ان کا سامنا ہوا۔ دھات کی بو، سمندر کی نمی، اور ہوا میں معلق خطرہ۔ حمزہ نے عالیہ کو پیچھے رکھا، مگر اس بار عالیہ نہیں ڈری۔ اس نے خود کو چھوٹا محسوس نہیں کیا۔ وہ جانتی تھی کہ سچ اس کے ہاتھ میں ہے، اور اب وہ اسے چھیننے نہیں دے گی۔
جب سب کچھ ختم ہوا، تو صرف خاموشی رہ گئی۔ پولیس کی گاڑیاں، جلتی ہوئی لائٹس، اور تھکے ہوئے چہرے۔ حمزہ ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ عالیہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی، اس بار اس نے خود اس کا ہاتھ تھاما۔
“ہم زندہ ہیں،” عالیہ نے آہستہ کہا۔
حمزہ نے اس کی طرف دیکھا۔ “اور بدل چکے ہیں۔”
دنوں بعد، جب میڈیا کا شور تھم گیا، اور سچ ایک بار پھر کاغذوں میں قید ہو گیا، عالیہ نے ایک نیا فیصلہ کیا۔ وہ بھاگنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ اب چھپنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے ایک تحقیقاتی پلیٹ فارم شروع کیا، جہاں وہ کہانیاں سامنے لاتی جو دبانے کی کوشش کی جاتیں۔ حمزہ اس کے ساتھ تھا، مگر اس بار محافظ بن کر نہیں، بلکہ برابر کے ساتھی کی طرح۔
رات کو اکثر وہ دونوں چھت پر بیٹھ کر شہر کی لائٹس دیکھتے۔ کبھی باتیں ہوتیں، کبھی خاموشی۔ ایک ایسی خاموشی جس میں سوال نہیں تھے، بس قبولیت تھی۔
ایک رات عالیہ نے کہا، “اگر میں تم سے کبھی نہ ملی ہوتی تو؟”
حمزہ نے کچھ دیر سوچا، پھر جواب دیا، “شاید میں اب بھی زندہ ہوتا، مگر اتنا جاگتا ہوا نہیں۔”
عالیہ نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے ویسے ہی تھے، مگر اب وہ خالی نہیں لگتے تھے۔
یہ کہانی کسی فلمی انجام پر ختم نہیں ہوئی۔ نہ کوئی بلند دعویٰ، نہ کوئی بڑا وعدہ۔ بس دو لوگ، جو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا سیکھ گئے تھے۔ شدت اب شور میں نہیں تھی، بلکہ اس اعتماد میں تھی جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوا تھا۔
اور بعض اوقات، یہی سب سے زیادہ گرم حقیقت ہوتی ہے۔

Post a Comment for "خاموش آگ"