یہ ایک طویل، پراسرار اور سبق آموز داستان ہے جسے بغیر کسی سرخی یا ہیڈنگ کے ایک ہی تسلسل میں لکھا گیا ہے۔ یہ کہانی انسانی محنت، ضمیر کی آواز اور لالچ کے انجام کو ایک نئے اور منفرد انداز میں بیان کرتی ہے۔
بہت پرانے وقتوں کی بات ہے جب ریگستانوں کی وسعتوں میں بڑے بڑے شہر ریت کے نیچے دب جاتے تھے اور نئی تہذیبیں جنم لیتی تھیں۔ ایسے ہی ایک گمنام شہر میں، جس کا نام 'صحرائے نُور' تھا، ایک نوجوان رہتا تھا جسے دنیا سمیر کے نام سے جانتی تھی۔ سمیر کوئی عام نوجوان نہیں تھا؛ اس کی آنکھیں ہمیشہ افق کی اس لکیر پر جمی رہتیں جہاں آسمان اور زمین آپس میں ملتے محسوس ہوتے تھے۔ وہ شہر کی تنگ گلیوں میں محنت مزدوری کرتا، لیکن اس کا دل قدیم لائبریریوں کے ملبے اور صحرا کی خاموشی میں چھپے رازوں کو ڈھونڈنے میں لگا رہتا تھا۔ شہر کے لوگ اسے ایک خواب دیکھنے والا لڑکا سمجھتے تھے جو حقیقت کی دنیا سے دور خیالی دنیا میں بستا ہے، لیکن سمیر کا ماننا تھا کہ کائنات کا سب سے بڑا معجزہ انسان کا اپنا ضمیر ہے، جو اگر بیدار ہو جائے تو مٹی کو بھی پارس بنا سکتا ہے۔
ایک ایسی ہی تپتی ہوئی دوپہر جب سورج آگ برسا رہا تھا، سمیر شہر کے ایک پرانے کھنڈر میں کسی قدیم کتاب کے اوراق تلاش کر رہا تھا کہ اس کے پاس ایک اجنبی شخص آکر رکا۔ اس شخص کے چہرے پر جھریاں تھیں لیکن اس کی آنکھیں کسی شکاری پرندے کی طرح تیز تھیں۔ اس نے اپنا تعارف ایک سیاح کے طور پر کرایا، لیکن اس کے لہجے میں ایک عجیب سی سردی تھی جو تپتی دھوپ میں بھی ریڑھ کی ہڈی میں جھرجھری پیدا کر دیتی تھی۔ اس اجنبی نے سمیر سے کہا کہ وہ ایک ایسی وادی کا علم رکھتا ہے جہاں زمانوں کی دانش ایک چراغ کی صورت میں قید ہے، اور اس چراغ کو حاصل کرنے کے لیے اسے ایک ایسے نوجوان کی ضرورت ہے جس کا دل لالچ سے پاک ہو۔ سمیر، جو علم کا پیاسا تھا، اس اجنبی کے ساتھ چلنے پر تیار ہو گیا، یہ سوچے بغیر کہ یہ سفر اس کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔
وہ دونوں کئی روز تک ریگستان کی خاک چھانتے رہے یہاں تک کہ ایک سیاہ پہاڑ کے سامنے پہنچے جو کسی دیو قامت بت کی طرح کھڑا تھا۔ اجنبی نے کچھ قدیم کلمات کہے اور پہاڑ کا ایک حصہ کسی دروازے کی طرح کھل گیا۔ غار کے اندر داخل ہوتے ہی سمیر کو سونے اور چاندی کے ڈھیر نظر آئے، لیکن اسے اجنبی کی وہ تاکید یاد تھی کہ اسے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا بلکہ صرف غار کے آخری گوشے میں رکھے ہوئے ایک مٹی کے سادہ چراغ کو اٹھانا ہے۔ جوں جوں سمیر غار کی گہرائی میں اترتا گیا، اسے دیواروں پر لگے آئینوں میں اپنی ہی زندگی کے عکس نظر آنے لگے، جو اسے یاد دلا رہے تھے کہ انسان کی اصل دولت اس کے وہ نیک اعمال ہیں جو اس نے دوسروں کے لیے کیے۔ آخر کار اسے وہ سادہ سا مٹی کا چراغ مل گیا، لیکن جیسے ہی اس نے اسے ہاتھ لگایا، غار کا دہانہ بند ہو گیا اور وہ اجنبی، جو دراصل ایک مکار جادوگر تھا، اسے اندھیرے میں قید کر کے غائب ہو گیا۔
خوف اور خاموشی کے اس عالم میں سمیر نے بے بسی سے چراغ کو اپنے کپڑے سے صاف کیا تاکہ اس کی دھول جھاڑ سکے۔ اچانک چراغ سے کوئی دھواں نہیں نکلا، بلکہ ایک نہایت دھیمی اور پُرسکون روشنی نکلی جو آہستہ آہستہ ایک انسانی شکل اختیار کر گئی۔ وہ کوئی روایتی جِن نہیں تھا جو خواہشات پوری کرتا، بلکہ اس وجود نے خود کو 'روحِ بیداری' کے طور پر متعارف کرایا۔ اس نے سمیر سے کہا کہ وہ اسے کوئی سونا یا محل نہیں دے گا، بلکہ اسے وہ بصیرت دے گا جس سے وہ خود اپنا راستہ تلاش کر سکے۔ سمیر نے اپنی آنکھیں بند کیں اور اس روشنی کی رہنمائی میں غار سے باہر نکلنے کا وہ راستہ تلاش کر لیا جو دیواروں کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ جب وہ باہر نکلا تو اس کے پاس کوئی مال و دولت نہیں تھا، لیکن اس کے پاس وہ دانش تھی جس سے وہ بنجر زمینوں کو سرسبز بنا سکتا تھا۔
شہر واپس پہنچ کر سمیر نے جادو یا طلسم کے بجائے اپنی عقل اور محنت کو ہتھیار بنایا۔ اس نے صحرا میں پانی کی تلاش کے نئے طریقے ایجاد کیے، درخت لگائے اور لوگوں کو سکھایا کہ معجزے آسمان سے نہیں اترتے بلکہ مٹی اور پسینے کے ملاپ سے جنم لیتے ہیں۔ شہر کی شہزادی، جو علم کی قدردان تھی، سمیر کی اس تبدیلی سے متاثر ہوئی اور اس نے اسے اپنی سلطنت کا مشیر مقرر کر دیا۔ لیکن حاسد جادوگر دوبارہ لوٹ آیا اور اس نے ایک بار پھر فریب کے ذریعے وہ چراغ حاصل کر لیا۔ جادوگر نے چراغ کو اپنی ہوس کے لیے استعمال کرنا چاہا، لیکن چراغ کی روح نے اسے وہی دکھایا جو اس کے اندر تھا، یعنی اندھیرا اور خوف۔ جادوگر اپنی ہی ہوس کے بوجھ تلے دب کر غائب ہو گیا، اور چراغ دوبارہ سمیر کے پاس آگیا۔
سمیر نے محسوس کیا کہ جب تک یہ چراغ لوگوں کے سامنے رہے گا، وہ محنت کے بجائے جادو کے منتظر رہیں گے۔ اس نے سب کے سامنے اس چراغ کو زمین پر مار کر توڑ دیا اور کہا کہ اصل چراغ انسان کا ضمیر ہے جو اسے صحیح اور غلط کی پہچان کرواتا ہے۔ اس کے بعد وہ شہر کبھی بنجر نہیں ہوا، کیونکہ وہاں کے لوگوں نے سیکھ لیا تھا کہ سچی کامیابی کا راستہ کسی طلسمی چراغ سے نہیں بلکہ ایمانداری، علم اور مسلسل جدوجہد سے ہو کر گزرتا ہے۔ سمیر اور شہزادی نے مل کر ایک ایسی ریاست قائم کی جہاں ہر انسان خود ایک چراغ کی طرح روشن تھا، اور اس طرح صحرائے نُور کی وہ داستان ہمیشہ کے لیے تاریخ کے اوراق میں امر ہو گئی کہ انسان کی عظمت اس کے ارادوں میں چھپی ہے، جادو میں نہیں۔

Post a Comment for ""طلسمِ ضمیر: صحرائے نُور کا راز""