Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

“اندھیرے کے بعد”

 شہر کے اس حصے میں رات جلد اتر آتی تھی، جیسے اندھیرا خود چل کر آتا ہو اور گلیوں میں سانس لینے لگتا ہو۔ بارش کے بعد کی نمی نے فضا کو بوجھل بنا رکھا تھا۔ سڑک کے کنارے جلتے بلب بار بار جھپک رہے تھے، جیسے کچھ کہنا چاہتے ہوں مگر ہمت نہ ہو۔ اسی سڑک پر ایک پرانی عمارت کے سامنے عمران اپنی گاڑی روکے بیٹھا تھا۔ وہ پچھلے دس منٹ سے شیشے کے اس پار اسی دروازے کو دیکھ رہا تھا، جس کے پیچھے اس کی زندگی کا سب سے بڑا راز چھپا ہوا تھا۔

عمران ایک تحقیقاتی صحافی تھا، مگر اس رات وہ خود کو صحافی نہیں بلکہ شکار محسوس کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں موبائل فون تھا، جس کی اسکرین پر ایک نام چمک رہا تھا۔ وہ نام جس نے پچھلے چھ ماہ سے اس کی نیند چھین رکھی تھی۔ فون خاموش تھا، مگر عمران کو یقین تھا کہ کال آئے گی۔ اور جب آئے گی، سب کچھ بدل جائے گا۔

چھ ماہ پہلے کی بات تھی جب شہر کے مضافات میں ایک لاش ملی تھی۔ بظاہر ایک عام سا قتل، مگر عمران کی نظر میں کچھ غیر معمولی تھا۔ لاش کے پاس ایک چھوٹی سی کاغذی پرچی ملی تھی، جس پر صرف ایک تاریخ لکھی تھی۔ کوئی نام نہیں، کوئی پیغام نہیں۔ پولیس نے اسے نظر انداز کر دیا، مگر عمران کے اندر کا صحافی جاگ اٹھا۔ اس نے اس تاریخ کی کھوج شروع کی، اور یہی وہ لمحہ تھا جب وہ ایک ایسی دنیا میں داخل ہو گیا جہاں سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر دھندلی ہو جاتی ہے۔

وہ تاریخ کسی عام دن کی نہیں تھی۔ اسی دن شہر میں ایک بڑا حادثہ ہوا تھا، جسے سرکاری رپورٹ میں تکنیکی خرابی قرار دیا گیا تھا۔ درجنوں لوگ مارے گئے، مگر چند طاقتور نام اس رپورٹ میں کبھی شامل نہیں ہوئے۔ عمران نے پرانی فائلیں کھنگالیں، گواہوں سے بات کی، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی دروازہ اس کے منہ پر بند ہو جاتا۔ اور پھر ایک رات اسے ایک خفیہ ای میل ملی۔

ای میل میں صرف ایک جملہ تھا: “اگر سچ جاننا ہے تو خاموشی سیکھو۔” اس کے نیچے ایک مقام اور وقت درج تھا۔ عمران جانتا تھا کہ یہ خطرناک ہے، مگر اس نے جانا ضروری سمجھا۔ وہ مقررہ وقت پر وہاں پہنچا تو ایک سیاہ کوٹ میں ملبوس شخص نے اسے ایک لفافہ تھما دیا۔ اس سے پہلے کہ عمران کچھ پوچھتا، وہ شخص اندھیرے میں غائب ہو چکا تھا۔

لفافے میں کچھ تصویریں تھیں، کچھ دستاویزات، اور ایک آڈیو ریکارڈنگ۔ ریکارڈنگ میں آوازیں تھیں، وہ آوازیں جو اقتدار کے ایوانوں میں گونجتی ہیں مگر عوام تک نہیں پہنچتیں۔ عمران نے وہ رات جاگ کر سب کچھ سنا، دیکھا، سمجھا۔ اسے احساس ہو گیا کہ وہ ایک ایسے جال میں پھنس چکا ہے جہاں سے واپسی آسان نہیں۔

اگلے دن سے اس کا پیچھا شروع ہو گیا۔ کبھی سڑک پر ایک ہی گاڑی بار بار دکھائی دیتی، کبھی فون پر خاموش کالز آتیں۔ اس کے اپارٹمنٹ کے دروازے پر نشان ملتے، جیسے کوئی اندر آنے کی کوشش کر رہا ہو۔ عمران نے پولیس کو بتانے کا سوچا، مگر پھر رک گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کھیل میں کچھ مہرے ایسے بھی ہیں جو وردی پہنے ہوئے ہیں۔

ایک رات جب وہ دفتر سے لوٹ رہا تھا تو اچانک بجلی چلی گئی۔ لفٹ رک گئی۔ اندھیرے میں اس نے کسی کی سانسیں محسوس کیں۔ دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ پھر ایک ٹارچ جلی اور ایک مانوس چہرہ سامنے آیا۔ وہ سارہ تھی، اس کی ساتھی صحافی۔ اس کی آنکھوں میں خوف بھی تھا اور عزم بھی۔

سارہ نے بتایا کہ وہ بھی اسی کہانی پر کام کر رہی تھی۔ اسے بھی دھمکیاں ملی تھیں۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب الگ الگ نہیں بلکہ ساتھ چلیں گے۔ انہوں نے شواہد کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا، مختلف ذرائع سے تصدیق کی، اور ایک مکمل تصویر بنانے لگے۔ ہر نیا ٹکڑا پرانی تصویر کو مزید خوفناک بنا دیتا۔

ان کے سامنے ایک ایسا نیٹ ورک کھل کر آیا جو برسوں سے شہر کو کنٹرول کر رہا تھا۔ حادثے، قتل، خاموشیاں، سب کچھ ایک منصوبے کا حصہ تھا۔ وہ لوگ جو اس نیٹ ورک کے خلاف گئے، یا تو خاموش کر دیے گئے یا ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئے۔ عمران اور سارہ جانتے تھے کہ اگلا نمبر شاید ان کا ہے۔

ایک شام سارہ اچانک غائب ہو گئی۔ اس کا فون بند تھا، گھر پر تالا لگا تھا۔ عمران کے دل میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ اس نے ہر جگہ تلاش کیا، مگر کوئی سراغ نہیں ملا۔ پھر اسی رات عمران کو ایک پیغام ملا، جس میں وہی پرانی عمارت کا پتہ لکھا تھا جہاں وہ اس وقت گاڑی میں بیٹھا تھا۔

دروازہ کھلتے ہی اندر اندھیرا اور خاموشی تھی۔ سیڑھیاں چرچرا رہی تھیں، جیسے ہر قدم پر سوال پوچھ رہی ہوں۔ اوپر ایک کمرے میں مدھم روشنی جل رہی تھی۔ عمران اندر داخل ہوا تو سارہ ایک کرسی پر بیٹھی تھی، ہاتھ بندھے ہوئے مگر آنکھیں زندہ تھیں۔ اس کے سامنے ایک شخص کھڑا تھا، جس کا چہرہ نصف سائے میں تھا۔

اس شخص نے مسکرا کر کہا کہ وہ سچ سے نہیں ڈرتا، وہ صرف کنٹرول چاہتا ہے۔ اس نے عمران کو پیشکش کی، خاموشی کے بدلے تحفظ، شہرت، سب کچھ۔ عمران نے لمحہ بھر سوچا۔ اسے وہ تمام لوگ یاد آئے جو اس کہانی میں گم ہو گئے تھے۔ اس نے انکار کر دیا۔

اگلے چند لمحے تیزی سے گزرے۔ شور، اندھیرا، بھاگ دوڑ۔ کسی طرح عمران اور سارہ وہاں سے نکل آئے۔ مگر وہ جانتے تھے کہ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب سچ کو روکنا ممکن نہیں۔ انہوں نے تمام مواد محفوظ سرورز پر اپ لوڈ کیا، بین الاقوامی میڈیا کو بھیجا، اور خود منظر سے ہٹ گئے۔

چند دن بعد شہر میں ہلچل مچ گئی۔ تحقیقات شروع ہوئیں، بڑے نام سامنے آئے، کچھ چہرے ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئے۔ عمران اور سارہ ایک نئے نام اور نئی جگہ کے ساتھ زندگی شروع کر چکے تھے۔ خطرہ ابھی بھی موجود تھا، مگر اب سچ اکیلا نہیں تھا۔

ایک رات عمران نے پھر وہی تاریخ دیکھی، جو سب کچھ شروع ہونے کی وجہ بنی تھی۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں روشنی اور اندھیرا ایک دوسرے میں گھل رہے تھے۔ اس نے محسوس کیا کہ کچھ کہانیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں، وہ صرف شکل بدلتی ہیں۔ اور جب تک کوئی سوال پوچھنے والا موجود ہے، اندھیرا مکمل نہیں ہو سکتا۔

عمران کو لگا کہ نئی زندگی کی سانس ابھی پوری طرح اندر بھی نہیں گئی تھی کہ پرانے سائے پھر حرکت میں آ گئے۔ شہر بدلا تھا، نام بدلے تھے، مگر خوف کی بو وہی تھی۔ وہ اور سارہ ایک ساحلی قصبے میں رہ رہے تھے جہاں سمندر رات کو زیادہ شور مچاتا تھا، جیسے ہر لہر کوئی راز کنارے پھینکنا چاہتی ہو۔ دن میں وہ عام لوگ تھے، ایک چھوٹے سے اخبار کے لیے کام کرنے والے، مگر رات کو عمران اب بھی فائلیں کھولتا، آوازیں سنتا، اور یادداشت کے بند دروازوں کو چھوتا رہتا۔

ایک شام سمندر غیر معمولی طور پر پرسکون تھا۔ ہوا ساکت، آسمان صاف، اور دل بے وجہ بھاری۔ سارہ نے کہا کہ اسے ایسا سکوت پسند نہیں، کیونکہ خاموشی اکثر طوفان سے پہلے آتی ہے۔ عمران نے مسکرا کر بات بدل دی، مگر اندر کہیں ایک گھنٹی بجنے لگی۔ اسی لمحے اس کے فون پر ایک ای میل آئی، جس کا بھیجنے والا نامعلوم تھا۔ موضوع کی سطر خالی تھی، جیسے بھیجنے والا جانتا ہو کہ الفاظ کی ضرورت نہیں۔

ای میل میں ایک فائل منسلک تھی۔ عمران نے کھولنے سے پہلے سارہ کی طرف دیکھا۔ دونوں کے چہروں پر وہی سوال تھا جو کبھی بولا نہیں جاتا۔ فائل کھلتے ہی ایک ویڈیو چل پڑی۔ دھندلی تصویر، کمزور آواز، مگر پہچان صاف تھی۔ وہی شخص، وہی نصف سائے میں ڈوبا چہرہ، مگر اس بار اس کے پیچھے دیوار پر ایک نشان بنا تھا۔ ایک نشان جو عمران نے کہیں دیکھا تھا، برسوں پہلے، ایک پرانی سرکاری عمارت کی تہہ میں۔

ویڈیو میں آواز بولی کہ کھیل ختم نہیں ہوا، صرف میدان بدلا ہے۔ سچ کو باہر لانا ایک بات ہے، اسے زندہ رکھنا دوسری۔ اگر عمران واقعی سمجھتا ہے کہ سب کچھ سامنے آ چکا ہے، تو وہ غلط ہے۔ پھر ویڈیو ختم ہو گئی، جیسے کسی نے روشنی اچانک بجھا دی ہو۔

سارہ نے کہا کہ یہ دھمکی ہے، مگر عمران جانتا تھا کہ یہ دعوت بھی ہو سکتی ہے۔ اس نشان کا مطلب تھا کہ نیٹ ورک کا ایک حصہ اب بھی متحرک ہے۔ وہ لوگ جو گرے نہیں، وہ جو پردے کے پیچھے رہ گئے۔ عمران نے فیصلہ کیا کہ بھاگتے رہنے سے بہتر ہے کہ جڑ تک پہنچا جائے۔ سارہ نے پہلے انکار کیا، مگر پھر اس کی آنکھوں میں وہی ضد لوٹ آئی جو اسے شروع سے یہاں تک لائی تھی۔

وہ واپس شہر گئے، مگر اس بار خاموشی سے۔ پرانے رابطے، نئے چہرے، اور وہ جگہیں جہاں یادیں ابھی تک دیواروں پر لکھی تھیں۔ عمران اس عمارت کی تہہ تک پہنچا، جہاں کبھی اسے پہلی سراغ ملا تھا۔ دروازہ بند تھا، مگر زنگ آلود تالا زیادہ مضبوط نہیں نکلا۔ اندر ہوا ٹھنڈی تھی، اور دیواروں پر وہی نشان بار بار بنا ہوا تھا، جیسے کوئی اپنی موجودگی کا اعلان کر رہا ہو۔

تہہ خانے میں ایک کمرہ تھا، جہاں پرانے کمپیوٹر، فائلیں، اور ہارڈ ڈرائیوز رکھی تھیں۔ یہ کسی عجائب گھر جیسا تھا، مگر جرائم کا۔ عمران نے ایک ڈرائیو آن کی تو ڈیٹا کا سیلاب بہنے لگا۔ نام، تاریخیں، ادائیگیاں، حادثات۔ سب کچھ جڑا ہوا تھا۔ نیٹ ورک صرف شہر تک محدود نہیں تھا، یہ تو ایک زنجیر تھی جو کئی ملکوں تک پھیلی ہوئی تھی۔

اسی دوران اوپر قدموں کی آہٹ آئی۔ سارہ نے لائٹ بند کر دی۔ اندھیرے میں سانسیں گنی جانے لگیں۔ دروازہ کھلا، روشنی کی ایک لکیر اندر آئی، اور پھر آوازیں۔ وہ اکیلے نہیں تھے۔ عمران نے دل مضبوط کیا۔ اب پیچھے ہٹنے کا وقت نہیں تھا۔ اس نے ڈیٹا کا ایک حصہ فوری طور پر اپ لوڈ کیا، باقی ڈرائیوز بیگ میں ڈال لیں۔

باہر نکلتے ہی تعاقب شروع ہو گیا۔ گلیاں تنگ تھیں، رات گہری۔ گاڑیوں کی آوازیں، قدموں کی دھمک، اور دل کی دھڑکن سب ایک تال میں چلنے لگے۔ ایک موڑ پر سارہ پھسل گئی، عمران نے ہاتھ پکڑ کر سنبھالا۔ ایک لمحے کے لیے لگا کہ سب ختم ہو جائے گا، مگر پھر وہ ایک پرانی دکان کے اندر گھس گئے اور پچھلے دروازے سے نکل کر بھیڑ میں گم ہو گئے۔

اگلے دن شہر کی فضا بدل گئی۔ سوشل میڈیا پر فائلیں پھیلنے لگیں، بین الاقوامی چینلز پر بحث شروع ہو گئی۔ وہ نام جو کبھی افواہ تھے، اب اسکرین پر تھے۔ دباؤ بڑھا، سوال اٹھے، اور جواب مانگے جانے لگے۔ مگر اسی کے ساتھ خطرہ بھی بڑھ گیا۔ عمران کو معلوم تھا کہ آخری وار ابھی باقی ہے۔

ایک رات اسے سارہ کے لیے ایک خط ملا، ہاتھ سے لکھا ہوا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ سچ کی قیمت ہوتی ہے، اور وہ قیمت اب وصول کی جائے گی۔ جگہ اور وقت درج تھا۔ عمران نے سارہ کو روکنے کی کوشش کی، مگر وہ جانتی تھی کہ یہ اس کا بھی امتحان ہے۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جائیں گے، مگر اپنے طریقے سے۔

وہ جگہ ایک ویران فیکٹری تھی، جہاں مشینیں برسوں سے خاموش تھیں۔ اندر داخل ہوتے ہی دروازے بند ہو گئے۔ روشنی جل اٹھی، اور وہ شخص سامنے آیا، اس بار پورے چہرے کے ساتھ۔ اس کے چہرے پر نہ غصہ تھا نہ خوف، صرف تھکن۔ اس نے کہا کہ وہ نظام کا آخری محافظ ہے، اور اگر وہ گرا تو بہت کچھ بکھر جائے گا۔

عمران نے جواب دیا کہ بکھرنا ہی کبھی کبھی ضروری ہوتا ہے۔ سارہ نے ریکارڈنگ آن کر دی۔ باتیں ہونے لگیں، اعتراف، جواز، اور وہ سچ جو کبھی سنا نہیں گیا تھا۔ اسی لمحے پولیس کی آوازیں باہر گونجنے لگیں۔ کسی نے اندر سے ہی اطلاع دے دی تھی۔ شاید نیٹ ورک میں دراڑ پڑ چکی تھی۔

جب سب ختم ہوا تو صبح ہو چکی تھی۔ فیکٹری کے باہر سورج نکل رہا تھا، جیسے نئی کہانی شروع ہو رہی ہو۔ وہ شخص گرفتار ہو چکا تھا، مگر عمران جانتا تھا کہ یہ انجام نہیں، صرف ایک باب ہے۔ سارہ نے اس کا ہاتھ تھاما۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، تھکے ہوئے مگر زندہ۔

دنیا میں اندھیرا اب بھی تھا، مگر کہیں کہیں روشنی نے جگہ بنا لی تھی۔ عمران نے سوچا کہ جب تک سوال زندہ ہیں، امید بھی زندہ ہے۔ اور وہ جانتا تھا کہ یہ راستہ آسان نہیں، مگر یہی اس کی زندگی تھی۔ اگر تم چاہو تو میں اسی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے مکمل انجام تک لے جا سکتا ہوں، 

فیکٹری کے باہر پولیس کی نیلی بتیاں اب بھی گھوم رہی تھیں، مگر عمران کو یوں لگ رہا تھا جیسے شور اس تک پہنچ ہی نہیں رہا۔ سارہ اس کے پاس کھڑی تھی، اس کے چہرے پر وہی خاموش اطمینان جو کسی طویل لڑائی کے بعد آتا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ جو کچھ آج ہوا، وہ صرف ایک گرفتاری نہیں تھی بلکہ ایک دروازہ تھا جو زبردستی کھولا گیا تھا۔ مگر ہر کھلے دروازے کے پیچھے ایک اور اندھی راہداری بھی ہوتی ہے۔

چند ہفتوں بعد شہر میں حالات بظاہر معمول پر آ گئے۔ تحقیقات، بیانات، اور سرخیاں اپنا کام کر چکی تھیں۔ کچھ طاقتور لوگ سلاخوں کے پیچھے تھے، کچھ ملک چھوڑ چکے تھے، اور کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے اثر و رسوخ سے خود کو پھر بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ عمران اور سارہ کو سرکاری طور پر گواہ تحفظ دیا گیا، مگر وہ جانتے تھے کہ کاغذی تحفظ ہمیشہ کافی نہیں ہوتا۔

انہوں نے ایک بار پھر جگہ بدلی، اس بار پہاڑوں کے قریب ایک خاموش قصبہ چنا۔ یہاں موبائل سگنل کمزور تھا اور راتیں غیر معمولی حد تک خاموش۔ عمران نے لکھنا شروع کیا، مگر خبروں کے لیے نہیں۔ وہ سب کچھ ایک کہانی کی صورت میں قلم بند کرنے لگا، نام بدلے، مقامات بدلے، مگر سچ وہی رکھا۔ سارہ اس کی پہلی قاری تھی، وہی اس کی سب سے سخت نقاد بھی۔

ایک رات جب بارش کھڑکی پر ہلکی ہلکی دستک دے رہی تھی، عمران کو ایک پارسل ملا۔ نہ بھیجنے والے کا نام، نہ کوئی خط۔ صرف ایک چھوٹی سی ہارڈ ڈرائیو۔ عمران کا دل بیٹھ سا گیا۔ وہ لمحہ بھر کو ماضی میں لوٹ گیا، مگر پھر اس نے خود کو سنبھالا۔ سارہ نے خاموشی سے ڈرائیو لی، کمپیوٹر سے جوڑی، اور دونوں نے اسکرین پر نظریں جما دیں۔

اس میں ایک فائل تھی، آخری۔ ایک طویل اعتراف، ایک مکمل نقشہ، اور کئی ایسے نام جو اب تک سامنے نہیں آئے تھے۔ مگر اس کے ساتھ ایک پیغام بھی تھا، جس میں لکھا تھا کہ یہ سب ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ شروع کرنے کے لیے ہے۔ عمران سمجھ گیا کہ نیٹ ورک ٹوٹ چکا تھا، مگر اس کے اثرات ابھی باقی تھے۔ کچھ لوگ اب بھی اندھیرے میں تھے، مگر اب وہ تنہا نہیں تھے۔

انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس بار خاموش رہ کر نہیں بلکہ منظم ہو کر کام کریں گے۔ عمران نے اپنی تحریروں کے ذریعے سوال اٹھانے شروع کیے، سارہ نے ڈیٹا کو تحقیقاتی اداروں تک پہنچایا۔ وہ خود سامنے کم آتے، مگر ان کا کام بولتا تھا۔ آہستہ آہستہ دوسرے صحافی، کارکن، اور عام لوگ بھی جڑنے لگے۔ یہ ایک آواز نہیں رہی تھی، یہ ایک شور بنتا جا رہا تھا۔

ایک دن عمران کو احساس ہوا کہ اب خوف اس پر حاوی نہیں رہا۔ خطرہ تھا، مگر اس کا وزن کم ہو چکا تھا۔ اس نے سارہ سے کہا کہ شاید یہی جیت ہے، کہ اندھیرے کو مکمل مٹانا نہیں بلکہ اس سے ڈرنا چھوڑ دینا۔ سارہ مسکرائی، اس مسکراہٹ میں وہ تمام راتیں شامل تھیں جو انہوں نے جاگ کر گزاری تھیں۔

کئی ماہ بعد عمران نے اپنی کہانی مکمل کی۔ یہ کسی ایک شہر یا ایک نیٹ ورک کی کہانی نہیں تھی، بلکہ اس سوال کی کہانی تھی کہ سچ کی قیمت کیا ہوتی ہے۔ کتاب شائع ہوئی، لوگوں نے پڑھی، بحث کی، اختلاف کیا، مگر خاموشی نہیں رہی۔ عمران نے کتاب بند کرتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں صبح کی روشنی پہاڑوں پر اتر رہی تھی۔

اسے معلوم تھا کہ کہیں نہ کہیں کوئی اور عمران، کوئی اور سارہ، کسی اور شہر میں اسی اندھیرے کو دیکھ رہا ہوگا۔ اور شاید یہی تسلسل اصل امید تھا۔ کہانیاں ختم ہو سکتی ہیں، مگر سوال زندہ رہتے ہیں۔ اور جب تک سوال زندہ ہیں، اندھیرا مکمل نہیں ہوتا۔

بارش رک چکی تھی، مگر زمین میں نمی ابھی باقی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے عمران اور سارہ کی زندگی میں ماضی کی پرچھائیاں۔ کتاب شائع ہوئے کئی ماہ گزر چکے تھے۔ شور آہستہ آہستہ کم ہو گیا تھا، مگر اثر باقی تھا۔ کچھ لوگوں کی زندگیاں بدل چکی تھیں، کچھ نظام ہل چکا تھا، اور کچھ چہرے اب بھی پردوں کے پیچھے تھے۔ مگر اب سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔

ایک صبح عمران کو ایک عام سا خط ملا۔ نہ دھمکی، نہ خفیہ زبان۔ صرف ایک سادہ جملہ لکھا تھا کہ جو کچھ تم نے کیا، اس نے کسی ایک جان کو بچا لیا۔ نیچے کوئی نام نہیں تھا۔ عمران نے خط بند کیا اور دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ اس ایک جملے نے اس سارے خوف، بھاگ دوڑ اور قربانی کو معنی دے دیے تھے۔

سارہ اب ایک بین الاقوامی تحقیقاتی پلیٹ فارم کے ساتھ کام کر رہی تھی۔ وہ اب بھی محتاط تھی، مگر خوف اس کے فیصلوں پر حاوی نہیں تھا۔ دونوں نے طے کر لیا تھا کہ وہ ایک جگہ نہیں رکیں گے، مگر بھاگتے بھی نہیں رہیں گے۔ جہاں ضرورت ہو گی، وہاں جائیں گے، جہاں سچ دبایا جائے گا، وہاں سوال چھوڑ آئیں گے۔

ایک شام وہ دونوں پہاڑی راستے پر چل رہے تھے۔ سورج ڈوب رہا تھا اور روشنی آہستہ آہستہ سائے میں بدل رہی تھی۔ عمران نے رک کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ کوئی تعاقب نہیں تھا، کوئی آہٹ نہیں تھی۔ صرف ہوا تھی، جو درختوں سے ٹکرا کر ایک ہلکی سی سرگوشی کر رہی تھی۔

اس نے سارہ سے کہا کہ شاید پہلی بار اسے سکون محسوس ہو رہا ہے۔ سارہ نے جواب دیا کہ سکون ہمیشہ خاموشی میں نہیں ہوتا، کبھی کبھی یہ جاننے میں ہوتا ہے کہ اگر اندھیرا واپس بھی آیا تو اب آنکھیں بند نہیں ہوں گی۔

وہ آگے بڑھ گئے۔ ان کے قدموں کے نشان کچھ دیر میں مٹ گئے، مگر ان کا چھوڑا ہوا اثر باقی رہا۔ کہیں کوئی فائل کھل رہی تھی، کہیں کوئی سوال اٹھ رہا تھا، کہیں کوئی سچ بولنے کی ہمت کر رہا تھا۔

کہانی وہیں ختم ہو گئی، مگر حقیقت نہیں۔ کیونکہ یہ کوئی ایک انجام نہیں تھا، یہ ایک سلسلے کا اختتام تھا جو نئے آغاز کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ اور جب تک کوئی سچ کے لیے کھڑا رہتا ہے، اندھیرا مکمل نہیں ہو پاتا۔

Post a Comment for "“اندھیرے کے بعد”"