Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

خاموشیوں کے درمیان ایک فیصلہ


 وہ خود کو ہمیشہ سمجھانے کی عادی تھی۔

کہ وہ کم عمر ہیں۔
کہ وقت کے ساتھ سب سیکھ جاتے ہیں۔
کہ برداشت ہی سمجھداری ہے۔

چھتیس برس کی عمر میں اس نے یہ سبق اچھی طرح سیکھ لیا تھا کہ بعض رشتے صرف اس لیے سنبھالے جاتے ہیں کہ کہیں کسی اور کا توازن نہ بگڑ جائے۔ وہ اپنے بوائے فرینڈ کے بیٹے اور اس کی گرل فرینڈ کے ساتھ بھی یہی کر رہی تھی۔ ان کی بےادبی، ان کا حق جتانے والا انداز، اور ان کی لاپرواہ زبان—سب کچھ وہ دل پر رکھ لیتی، مگر زبان تک نہ آنے دیتی۔ وہ جانتی تھی کہ ایک باپ اور بیٹے کے درمیان وہ وجہ نہیں بننا چاہتی جس پر تلخی پیدا ہو۔

کرسمس قریب آ رہا تھا۔

یہ وہ تہوار تھا جس سے اس کے دل میں ہمیشہ ایک عجیب سی امید جڑی رہتی تھی—کہ شاید لوگ نرم ہو جاتے ہیں، کہ شاید دل کچھ دیر کو ہی سہی، مگر جڑ جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ اور اس کا ساتھی عام طور پر تعطیلات پر مہمان داری نہیں کرتے تھے، اس بار اس نے خود کو اس میں جھونک دیا۔ اس نے منصوبہ بنایا، فہرستیں بنائیں، گروسری کی، اور کچن میں گھنٹوں کھڑی رہی۔

اسے بتایا گیا تھا کہ وہ آ رہے ہیں۔
پھر اسے ان کھانوں کی فہرست دی گئی جو انہیں پسند تھے۔
اور پھر یہ بھی طے کر لیا گیا کہ وہی کھانے بنیں گے۔

اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔

وہ چاہتی تھی کہ جب وہ آئیں، تو گھر صرف چار دیواروں کا مجموعہ نہ ہو—بلکہ ایک احساس ہو۔ اس نے ضرورت سے زیادہ کھانا بنایا۔ اس نیت سے کہ کوئی بھوکا نہ رہے، اور شاید… شاید کوئی دل بھی بھر جائے۔

جمعہ کی رات وہ تقریباً ساڑھے آٹھ بجے پہنچے۔

دروازہ کھلتے ہی جو پہلا جملہ سنا، وہ اس کے دل میں کہیں اتر گیا:
"ہم نے پہلے ہی کھانا کھا لیا ہے۔"

نہ شکر، نہ افسوس، نہ یہ خیال کہ سامنے والے نے وقت اور محبت لگائی ہے۔ اس نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔ اس نے خود کو سمجھایا—کوئی بات نہیں، ہو جاتا ہے۔

اگلے دن وہ آئے۔ کھانا کھایا، فلم دیکھی، اور چلے گئے۔ سب کچھ ٹھیک تھا… بس خالی۔ جیسے کوئی چیز تھی ہی نہیں جسے تھاما جا سکے۔ جاتے وقت لڑکی نے بڑے آرام سے کہا کہ کیوں نہ اگلے دن سب مل کر باہر لنچ کریں۔

اس کا دل چاہا کہ وہ فریج کھول کر دکھائے—جو کھانے سے بھرا ہوا تھا۔
مگر اس نے کچھ نہیں کہا۔

ہفتہ آیا۔
ریسٹورنٹ کی میز پر بیٹھے، اسے جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ جیبیں خالی ہیں—اور توقعات بھری ہوئی۔ نہ کوئی پیشگی بات، نہ کوئی پیشکش۔ ہوٹل، کھانا، اور اب لنچ—سب کچھ جیسے ان کا حق ہو۔

اس دن اس کا ساتھی دیر سے آیا۔
میز پر وہ، اس کے بچے، اور وہ دونوں تھے۔

تب وہ بچی آئی۔

دس یا گیارہ برس کی، ہاتھ میں کینڈی، آنکھوں میں ہچکچاہٹ، مگر لہجے میں حوصلہ۔ وہ اپنی فٹبال فیس کے لیے پیسے جمع کر رہی تھی۔ اس عورت نے لمحہ بھر بھی نہیں سوچا۔ اس نے بیس ڈالر دیے۔ بچی مسکرائی، شکریہ کہا، اور چلی گئی—جیسے کسی نے اس کے وجود کو تسلیم کر لیا ہو۔

اور پھر وہ جملہ۔

ہنستا ہوا۔
ہلکا سا۔
مگر اندر سے بےرحم۔

"میں تو اسے دیکھتی بھی نہیں۔ بس کھاتی رہتی جب تک وہ خود نہ چلی جاتی۔"

وقت جیسے رک گیا۔

اس کی سولہ سالہ بیٹی وہیں بیٹھی تھی۔ ماں اور بیٹی کی نظریں ملیں—ایک ہی سوال، ایک ہی صدمہ۔ اسے یوں لگا جیسے کسی نے تہوار کے دن، بچوں کے سامنے، انسانیت کو میز پر رکھ کر مذاق بنا دیا ہو۔

اس نے اس لڑکی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کہا:
"ہاں، میں بہتر ہوں۔"

وہ ہنسی۔
وہ سمجھی نہیں۔

گھر آ کر اس نے سب بتا دیا۔ لفظ لفظ، احساس احساس۔ اس نے کہا کہ وہ اس رویے کو اپنے بچوں کے آس پاس نہیں چاہتی۔ جواب میں اسے مشورہ ملا—چھوڑ دو۔ وہ جوان ہیں۔ ہم کسی کی پرورش یا سوچ کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔

وہ خاموش ہو گئی۔

مگر اس رات اس نے ایک بات واضح طور پر سمجھ لی۔

یہ عمر کا مسئلہ نہیں تھا۔
یہ انسان ہونے کا مسئلہ تھا۔

جوانی بےحسی کا جواز نہیں ہوتی۔
مہربانی کوئی اضافی خوبی نہیں—یہ بنیادی ضرورت ہے۔

اس دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اب خود کو اچھا ثابت کرنے کے لیے برداشت نہیں کرے گی۔ وہ اپنے بچوں کو یہ سکھائے گی کہ خاموش رہنا ہمیشہ شرافت نہیں ہوتا۔ اور وہ ان لوگوں سے ایک قدم پیچھے ہٹ جائے گی جو انسانوں کو نظرانداز کرنا معمول سمجھتے ہیں۔

کیونکہ بعض اوقات،
خاموشی نہیں—
حد مقرر کرنا ہی اصل محبت ہوتی ہے۔

Post a Comment for "خاموشیوں کے درمیان ایک فیصلہ"