ٹائٹینک کی کہانی اُس خواب سے شروع ہوتی ہے جو انسان نے سمندر پر حکمرانی کے لیے دیکھا تھا۔ بیلفاسٹ کے کارخانے میں لوہے، اسٹیل اور انسان کی محنت سے ایک ایسا جہاز تیار کیا گیا جو اُس وقت دنیا کا سب سے بڑا اور شاندار جہاز تھا۔ اس کی لمبائی، اس کی اونچائی، اس کے کمروں کی آرائش، شیشے کے فانوس، کشادہ ڈائننگ ہال اور جدید مشینری سب کچھ اس بات کا اعلان تھا کہ انسان نے سمندر کو بھی فتح کر لیا ہے۔ لوگوں کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ یہ جہاز کبھی نہیں ڈوب سکتا۔
جب ٹائٹینک پانی میں اتارا گیا تو ہزاروں آنکھوں میں حیرت اور فخر تھا۔ یہ صرف ایک جہاز نہیں تھا بلکہ ایک چلتا پھرتا شہر تھا۔ اپریل انیس سو بارہ میں جب اس کے پہلے سفر کا اعلان ہوا تو دنیا بھر سے لوگ اس پر سوار ہونے لگے۔ کوئی دولت مند اپنی شان دکھانے آیا تھا، کوئی کاروبار کے خواب لیے روانہ ہوا تھا، اور کوئی غریب انسان بہتر مستقبل کی امید میں اپنے وطن سے دور جا رہا تھا۔
دس اپریل کی صبح ٹائٹینک ساؤتھمپٹن کی بندرگاہ سے روانہ ہوا۔ لوگوں نے ہاتھ ہلا کر الوداع کہا، بینڈ کی موسیقی گونج رہی تھی، اور مسافروں کے چہروں پر خوشی اور اعتماد صاف نظر آ رہا تھا۔ جہاز نے راستے میں فرانس اور آئرلینڈ سے مزید مسافروں کو سوار کیا اور پھر کھلے سمندر کی طرف بڑھ گیا۔ دن پرسکون گزر رہے تھے۔ پہلی درجے کے مسافر ضیافتوں میں مصروف تھے، موسیقی اور رقص ہو رہا تھا، جبکہ تیسرے درجے کے لوگ چھوٹے کمروں میں بیٹھ کر آنے والے دنوں کے خواب بُن رہے تھے۔
چودہ اپریل کی رات سمندر غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ آسمان پر ستارے جھلملاتے تھے اور سردی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی رات جہاز کو برفانی تودوں کے بارے میں کئی وارننگ پیغامات ملے، مگر رفتار کم نہ کی گئی۔ رات گئے اچانک ایک جھٹکا محسوس ہوا۔ زیادہ شور نہ تھا، مگر جہاز ایک برفانی پہاڑ سے ٹکرا چکا تھا۔ ابتدا میں لوگوں نے اسے معمولی واقعہ سمجھا، مگر نیچے کے حصوں میں پانی تیزی سے داخل ہو رہا تھا۔
کپتان اور عملے کو جلد اندازہ ہو گیا کہ حالات خطرناک ہیں۔ جہاز کے حفاظتی حصے ایک ایک کر کے پانی سے بھرنے لگے۔ اعلان ہوا کہ مسافر لائف بوٹس کے قریب آ جائیں، مگر زیادہ تر لوگ اس خطرے کو سنجیدہ نہیں لے رہے تھے۔ کسی کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اتنا بڑا جہاز ڈوب بھی سکتا ہے۔
جب حقیقت واضح ہوئی تو افراتفری پھیل گئی۔ سب سے دردناک بات یہ تھی کہ لائف بوٹس کی تعداد کم تھی۔ عورتوں اور بچوں کو پہلے بٹھایا جانے لگا۔ کچھ لوگ خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کرتے رہے، کچھ چیخنے چلانے لگے، اور کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی جان دوسروں کے لیے قربان کر دی۔ موسیقی بجانے والے آخری لمحے تک دھنیں بجاتے رہے تاکہ خوف کم ہو سکے۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا، جہاز ایک طرف جھکنے لگا۔ سردی بڑھ چکی تھی اور سمندر کی تاریکی دل دہلا رہی تھی۔ بہت سے لوگ لائف بوٹس تک پہنچ ہی نہ سکے۔ جب ٹائٹینک آخرکار دو حصوں میں ٹوٹ کر سمندر میں غائب ہوا تو چیخوں اور سناٹے نے پوری فضا کو گھیر لیا۔ یخ بستہ پانی میں گرے ہوئے لوگ چند ہی لمحوں میں خاموش ہو گئے۔
پندرہ اپریل کی صبح امدادی جہاز پہنچا اور زندہ بچ جانے والوں کو سوار کیا گیا۔ جو بچے وہ صدمے میں تھے، جو نہ بچ سکے وہ تاریخ کا حصہ بن گئے۔ پندرہ سو سے زیادہ جانیں اس رات سمندر کی نذر ہو گئیں۔
ٹائٹینک کا حادثہ دنیا کے لیے ایک بڑا سبق بن گیا۔ سمندری قوانین بدلے گئے، ہر جہاز پر مکمل لائف بوٹس لازمی قرار دی گئیں، اور حفاظت کو عیش و آرام پر ترجیح دی جانے لگی۔ برسوں بعد جب ٹائٹینک کا ملبہ سمندر کی گہرائیوں میں ملا تو یہ ثابت ہو گیا کہ انسان کی بنائی ہوئی سب سے مضبوط چیز بھی قدرت کے سامنے بے بس ہو سکتی ہے۔
آج ٹائٹینک کی کہانی صرف ایک جہاز کی داستان نہیں بلکہ انسان کے غرور، خوابوں اور انجام کی مکمل تصویر ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ترقی کے ساتھ عاجزی ضروری ہے، کیونکہ قدرت کے فیصلے ہمیشہ انسان کی سوچ سے بڑے ہوتے ہیں۔

Post a Comment for "غرور، خواب اور سمندر کی خاموش قبر"