Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

یومِ تشکر۔

 

حصہ اوّل

نیو ہیمپشائر کی پہاڑیوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا۔ سردیوں کی آمد قریب تھی۔ درختوں کے پتے زرد ہو کر جھڑ رہے تھے، ہوا میں ٹھنڈک بڑھتی جا رہی تھی اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کی سفید تہہ چمکنے لگی تھی۔ ایسے میں ہر گھرانہ اپنے اپنے انداز میں تھینکس گیونگ کی تیاریوں میں مصروف تھا۔

اسی گاؤں میں ایک سادہ کسان "ایبن" اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتا تھا۔ ایبن کی زندگی کھیتوں اور محنت سے جڑی ہوئی تھی۔ وہ صبح سویرے زمین جو تارہ، پودے لگاتا اور شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا۔ مگر اس کی محنت کی سب سے بڑی خوشی اس کا گھر اور اس کے بچے تھے۔

ایبن کی بیوی "ایلن" نہایت محنتی اور نرم دل خاتون تھی۔ وہ گھر کے سارے کام کاج سنبھالتی، بچوں کی تربیت کرتی اور کھانے پینے میں بڑی ماہر تھی۔ گاؤں میں سب اس کی تعریف کرتے تھے کہ ایلن کے ہاتھ کا کھانا ہمیشہ ذائقے دار ہوتا ہے اور وہ ہر حال میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی رہتی ہے۔

ایبن اور ایلن کے آٹھ بچے تھے۔ سب ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور شرارتوں میں وقت گزارتے۔ ان میں سب سے بڑی بیٹی "تھنی" تھی جو ماں کا سہارا سمجھی جاتی تھی۔ وہ چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالتی اور کاموں میں ہاتھ بٹاتی۔ باقی بچے بھی اپنے اپنے انداز میں چہل پہل کرتے رہتے، کبھی کھیل میں لگ جاتے اور کبھی کسی چھوٹے موٹے کام میں۔

تھینکس گیونگ قریب تھا۔ اس دن کے لیے سب خاص اہتمام کرتے تھے کیونکہ یہ دن صرف کھانے پینے کا نہیں بلکہ شکر گزاری اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا ہوتا ہے۔ ایلن کئی دنوں سے کھانے پینے کی چیزیں جمع کر رہی تھی۔ مکئی کی بالیاں خشک کر کے رکھی تھیں، سیب اور کدو ایک طرف ڈھیر لگے تھے، اور مرغیاں بھی موٹی تازی کر کے تیار رکھی گئی تھیں تاکہ بڑے دن پر سب کچھ خوبصورت طریقے سے پیش کیا جا سکے۔

گھر میں ایک عجیب سی رونق تھی۔ بچے خوشی سے ادھر اُدھر دوڑتے پھر رہے تھے۔ کوئی اناج کی ٹوکریاں گن رہا تھا، کوئی مرغیوں کو دانہ ڈال رہا تھا، اور کوئی چولہے کے قریب کھیلتے کھیلتے ماں سے سوال پوچھتا جا رہا تھا:
"امی! کیا ہم اس بار بھی پائی بنائیں گے؟"
"امی! کیا ہم شہد والا کیک بھی کھا سکیں گے؟"
ایلن ہنستے ہوئے جواب دیتی:
"ہاں ہاں، سب کچھ ہوگا۔ بس تم لوگ شرارتیں کم کر کے ذرا مدد بھی کیا کرو۔"

ایبن شام کو جب کھیتوں سے واپس آیا تو اس کے چہرے پر تھکن تو تھی مگر ساتھ ساتھ سکون بھی تھا۔ وہ بچوں کو کھیلتے اور بیوی کو کام میں مصروف دیکھ کر خوش ہوتا۔ مگر اس دن ایبن کے دل میں ایک پریشانی جاگی۔ گاؤں کے ایک قاصد نے خبر لائی تھی کہ ایبن کی ماں سخت بیمار ہیں۔ وہ قریبی قصبے میں رہتی تھیں اور ان کی حالت اچانک بگڑ گئی تھی۔

ایبن نے بیوی سے بات کی:
"ایلن، ہمیں فوراً نکلنا ہوگا۔ ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ شاید رات بھر ہمیں وہیں رکنا پڑے۔"

ایلن نے فوراً ہامی بھری۔ "ہاں، ایبن۔ ہم چلتے ہیں۔ خدا کرے ماں جی جلدی صحت یاب ہو جائیں۔"

بچے ماں باپ کی یہ گفتگو سن کر چونک گئے۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ چھوٹی بیٹی نے روتے ہوئے کہا:
"امی، آپ ہمیں چھوڑ کر نہ جائیں!"

ایلن نے پیار سے سمجھایا:
"بیٹی، فکر نہ کرو۔ تم سب گھر سنبھال سکتے ہو۔ تھنی تم لوگوں کو سنبھالے گی۔ بس ہمت سے کام لینا۔"

یوں رات کے اندھیرے میں، گھوڑا گاڑی تیار کر کے، ایبن اور ایلن اپنی بیمار ماں کی طرف روانہ ہو گئے۔ آٹھ بچوں کے کاندھوں پر گھر کی ساری ذمہ داری رہ گئی۔

بڑی بیٹی تھنی نے سب کو اکٹھا کیا اور کہا:
"ہم اپنی امی کی طرح سب کچھ کریں گے۔ صبح کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا، شام کا انتظام اور تھینکس گیونگ کی تیاری۔ کوئی ڈرے گا نہیں۔ ہم سب مل کر گھر سنبھالیں گے!"

سب بچوں نے ہاں میں ہاں ملائی۔ اس طرح ایک نئی مہم کا آغاز ہوا۔

حصہ دوم

رات کے بعد جب صبح کی پہلی روشنی کھڑکیوں سے اندر آئی تو بچوں نے آنکھیں کھولیں۔ کمرے میں سکوت تھا، وہ سکوت جو اس وقت ہوتا ہے جب ماں باپ گھر پر نہ ہوں۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، اور پھر تھنی نے سب کو یاد دلایا:

"امی نے کہا تھا ہمیں ڈرنا نہیں ہے۔ آج سے ہم خود گھر کے ذمہ دار ہیں۔ تو سب تیار ہو جاؤ!"

یہ کہہ کر تھنی نے سب کو کام بانٹنا شروع کیا۔ بڑی بہن "پرُوڈنس" کو باورچی خانے میں بھیجا کہ ناشتہ تیار کرے۔ جارج اور سائمن کو لکڑیاں لانے کا کہا۔ چھوٹی بہنیں مرغیوں اور بطخوں کو دانہ ڈالنے لگیں، جبکہ سب سے چھوٹے بچے کھیل کھیل میں صحن صاف کرنے لگے۔

ابھی صبح کا وقت ہی تھا کہ مشکل شروع ہوگئی۔ پرُوڈنس نے آٹا گوندھنے کی کوشش کی مگر پانی زیادہ ڈال دیا۔ آٹا ہاتھوں سے چپکنے لگا۔ چھوٹی بہنیں ہنسنے لگیں:
"یہ تو مٹی کا کھیل لگ رہا ہے!"

پرُوڈنس نے شرمندہ ہو کر کہا:
"امی کے بغیر یہ سب بہت مشکل ہے۔"

تھنی نے اسے تسلی دی:
"فکر مت کرو، ہم سب ساتھ ہیں۔ اگر آٹا خراب ہو بھی گیا تو اور گوندھ لیں گے۔"

ادھر جارج اور سائمن لکڑیاں کاٹنے نکلے۔ کلہاڑا ان کے لیے بھاری تھا۔ وہ لکڑیاں توڑنے کی کوشش کرتے مگر اکثر کلہاڑا زمین میں اٹک جاتا اور دونوں بھائی ہنستے ہنستے ایک دوسرے پر گر پڑتے۔ تھنی نے کھڑکی سے جھانکا اور آواز دی:
"ذرا دھیان سے، ورنہ کلہاڑا پاؤں پر گر جائے گا!"

اندر باورچی خانے میں ایک اور ہنگامہ ہو رہا تھا۔ چھوٹی بہن "ریبی" نے برتن دھونے شروع کیے مگر پانی کا مٹکا گر گیا اور آدھا فرش بھیگ گیا۔ چھوٹے بچے پانی میں چھپ چھپ کھیلنے لگے اور کمرہ پھر قہقہوں سے بھر گیا۔

ناشتہ جیسے تیسے تیار ہوا۔ مکئی کی روٹیاں کچھ کچی رہ گئیں، مکھن زیادہ پگھل گیا اور دودھ کا پیالہ الٹ گیا۔ مگر سب بچوں نے بیٹھ کر کھایا اور ہنسی خوشی کہا:
"یہ ہمارا بنایا ہوا سب سے اچھا ناشتہ ہے!"

ناشتے کے بعد تھنی نے ایک سنجیدہ بات کی:
"دیکھو، اگر ہم نے سارا دن اسی طرح کھیل کھیل میں گزارا تو شام کو کچھ بھی تیار نہیں ہوگا۔ امی نے تھینکس گیونگ کی تیاری کے لیے کہا تھا۔ ہمیں آج ہی سب کچھ سنبھالنا ہوگا۔"

پرُوڈنس نے ہمت کر کے کہا:
"چلو پھر ہم کدو کی پائی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔"

یہ سن کر سب خوشی سے تالی بجانے لگے۔ مگر پائی بنانا آسان نہ تھا۔ کسی نے نمک زیادہ ڈال دیا، کسی نے چینی کم۔ ایک وقت آیا جب چھوٹے بھائی نے مزاق میں آٹے کی مٹھی ہوا میں اچھالی اور پورے کمرے میں آٹے کی بارش ہوگئی۔ سب کے بال سفید ہوگئے اور وہ ہنستے ہنستے دوہرا ہوگئے۔

اس شور شرابے میں بھی ایک عجب سی خوشی چھپی تھی۔ بچے محنت بھی کر رہے تھے اور ہنسی مذاق بھی۔ مگر دل میں یہ خوف بھی تھا کہ اگر امی واپس آئیں اور سب کچھ بگڑا ہوا ہو تو کیا ہوگا؟

شام تک کچن کا حال عجیب ہو گیا تھا۔ کبھی پتیلی جل جاتی، کبھی روٹی سخت ہو جاتی، کبھی سبزی میں نمک کم پڑ جاتا۔ لیکن بچوں نے ہمت نہ ہاری۔ تھنی بار بار کہتی:
"ہمارا مقصد بہترین نہیں بلکہ محنت کرنا ہے۔ امی کو یہ دیکھ کر خوشی ہوگی کہ ہم نے کوشش کی۔"

یوں دوسرا دن ہنسی، مشکل اور محنت کے ملے جلے رنگوں سے گزرا۔

حصہ سوم

اب تیسرے دن کا آغاز ہوا۔ گھر میں ایک الگ ہی ہلچل تھی۔ بچے پورے جوش و خروش کے ساتھ تیاریوں میں لگ گئے تھے۔ مگر جیسے جیسے دن گزرتا گیا، مشکلات بھی بڑھتی گئیں۔

سب سے پہلے پائی کی باری آئی۔ کدو کے بڑے بڑے ٹکڑے کاٹ کر ابالے گئے۔ پرُوڈنس نے دل ہی دل میں سوچا کہ یہ اس کے لیے سب سے مشکل کام ہے۔ وہ کہتی رہی:
"امی یہ سب کتنی آسانی سے کر لیتی ہیں۔ ہمیں تو یہ سب سمجھ ہی نہیں آتا۔"

جب آٹا بیلنے کی باری آئی تو چھوٹی بہن ریبی نے زور زور سے بیلنا شروع کر دیا۔ مگر آٹا ایک طرف سے پتلا اور دوسری طرف سے موٹا ہو گیا۔ جارج نے ہنستے ہوئے کہا:
"یہ تو نقشہ لگ رہا ہے، کہیں پہاڑ ہے اور کہیں میدان!"

سب بچے زور زور سے ہنسنے لگے۔

اسی دوران سائمن نے چولہے میں آگ جلانے کی کوشش کی۔ مگر لکڑیاں گیلی تھیں، دھواں بھر گیا اور سب کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا۔ چھوٹے بھائی چیخ کر کہنے لگے:
"گھر میں تو دھواں کا طوفان آگیا ہے!"

تھنی نے سب کو کھڑکیاں کھولنے کا کہا، اور وہ خود لکڑیوں کو سکھا کر دوبارہ جلانے میں لگ گئی۔ آخرکار چولہا جل ہی گیا اور کھانے کی خوشبو آہستہ آہستہ گھر میں پھیلنے لگی۔

پھر سب نے مل کر سبزی پکائی۔ مگر اس بار نمک کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ چھوٹی بہن نے ہاتھ سے نمک ڈالنا چاہا مگر پورا ڈبہ الٹ گیا۔ سالن اتنا نمکین ہو گیا کہ چکھتے ہی سب کے منہ بگڑ گئے۔ جارج نے کہا:
"ارے! یہ تو سمندر کا پانی لگ رہا ہے۔"

سب بچے قہقہے مارنے لگے۔ مگر تھنی نے سنجیدگی سے کہا:
"مزاق کم اور محنت زیادہ۔ ہمیں کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہوگا۔"

چنانچہ سالن میں اور پانی ڈالا گیا، پھر سبزیاں مزید ڈالی گئیں تاکہ ذائقہ بہتر ہو سکے۔ آخرکار کھانے کے برتن جیسے تیسے تیار ہوگئے۔

دوپہر تک سب تھک چکے تھے۔ ہاتھ آٹے سے بھرے ہوئے تھے، کپڑوں پر دھبے تھے، اور بالوں میں آٹے کی سفیدی چھا گئی تھی۔ مگر ان سب کے باوجود، بچوں کے دل خوشی سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ بار بار کہتے:
"امی اگر یہ سب دیکھیں گی تو حیران رہ جائیں گی کہ ہم نے کتنا کام کیا۔"

اسی دوران چھوٹے بھائیوں کو ایک خیال آیا۔ انہوں نے کہا:
"ہم جنگل کے کنارے سے کچھ مزید لکڑیاں اور خشک پتے لے آئیں تاکہ آگ دیر تک جلتی رہے۔"

یہ فیصلہ سب کو اچھا لگا۔ لیکن انہیں کیا خبر تھی کہ جنگل کا سفر ایک نئے واقعے کا سبب بننے والا ہے۔

حصہ چہارم

دوپہر کے بعد جارج اور سائمن نے اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لیا اور جنگل کے کنارے لکڑیاں لینے نکلے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، درختوں کے سوکھے پتے زمین پر بکھرے تھے اور پرندے ٹہنیوں پر شور مچا رہے تھے۔ تینوں بچے خوشی خوشی باتیں کرتے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔

اچانک جھاڑیوں کے پیچھے سے ایک عجیب سی آواز آئی — جیسے کوئی بڑا جانور ہل رہا ہو۔ تینوں بچے ٹھٹھک گئے۔ سائمن نے کانپتی آواز میں کہا:
"یہ کیا تھا؟"

پھر انہوں نے جھاڑیوں کے بیچ ایک بھاری سا سایہ ہلتا دیکھا۔ وہ لمبا چوڑا تھا، کمر جھکی ہوئی تھی اور اس کے جسم پر کوئی کھال سی نظر آ رہی تھی۔ چھوٹے بھائی نے ڈری ہوئی آواز میں کہا:
"یہ تو بھالو ہے!"

یہ سنتے ہی تینوں کے ہوش اڑ گئے۔ لکڑیاں پھینکیں اور چیختے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے:
"بھالو! بھالو!"

گھر کی طرف دوڑتے ہوئے وہ زور زور سے چیخ رہے تھے۔ اندر باقی بچے یہ شور سن کر باہر نکلے۔ سب نے ایک ہی دم پوچھا:
"کیا ہوا؟ کیوں شور مچا رہے ہو؟"

جارج ہانپتے ہوئے بولا:
"جنگل میں ایک بھالو ہے! بالکل ہمارے سامنے تھا۔"

یہ سنتے ہی چھوٹی بہنیں ڈر کے مارے ایک دوسرے کے پیچھے چھپ گئیں۔ ریبی تو رونے لگی:
"اگر بھالو گھر آ گیا تو؟"

تھنی نے سب کو تسلی دی مگر خود بھی اندر سے ڈری ہوئی تھی۔ کچھ دیر سب خاموش بیٹھے سوچتے رہے کہ اب کیا کیا جائے۔

اسی دوران باہر دروازہ کھٹکا۔ سب بچے ایک دم کانپ گئے۔ سائمن نے کہا:
"بھالو آگیا!"

مگر جب دروازہ کھلا تو سب حیران رہ گئے۔ سامنے بھالو نہیں بلکہ گیڈ ہاپکنز کھڑا تھا — گاؤں کا ایک آدمی جو اپنی پرانی کھال والی جیکٹ پہنے، لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے کھڑا تھا۔ اس کے کندھے جھکے ہوئے تھے اور جیکٹ کے بال دار کالر کی وجہ سے وہ دور سے بالکل بھالو ہی لگ رہا تھا۔

گیڈ نے ہنستے ہوئے کہا:
"ارے، تم سب ڈر کیوں رہے ہو؟ میں تو صرف لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔"

یہ سنتے ہی سب بچے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ جارج نے کہا:
"ہم نے تمہیں بھالو سمجھ لیا تھا!"

گیڈ بھی زور سے ہنسا اور کہنے لگا:
"بچو، بھالو نہیں، میں ہوں گیڈ ہاپکنز۔ لیکن ماننا پڑے گا، تم لوگوں نے میرا دن بنا دیا۔"

یوں ڈر کا ماحول ہنسی خوشی میں بدل گیا۔ بچے اندر گئے، سب کو یہ واقعہ سنایا اور قہقہے گونجنے لگے۔

تھنی نے آخر میں کہا:
"دیکھا! اگر ہم ہمت رکھیں تو ڈر بھی مزاق بن جاتا ہے۔"

حصہ پنجم (اختتام)

رات کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔ بچے دن بھر کی محنت اور ہنسی مذاق کے بعد تھکے تو ضرور تھے، مگر ان کے دل مطمئن تھے۔ کچن میں پائی، سبزیاں، روٹی اور گوشت سب تیار پڑے تھے۔ اگرچہ ہر چیز میں تھوڑی سی کچی پکی گڑبڑ تھی، مگر یہ سب کچھ ان کے ہاتھوں کی محنت کا نتیجہ تھا۔

اسی دوران باہر سے گھوڑا گاڑی کی آواز آئی۔ سب بچے دوڑتے ہوئے باہر نکلے۔ دروازے پر ایبن اور ایلن کھڑے تھے۔ بچے خوشی سے چیختے ہوئے ماں باپ سے لپٹ گئے۔

ایلن نے پیار سے پوچھا:
"میرے پیارے بچوں! تم سب نے کیسے وقت گزارا؟"

تھنی نے ذرا گھبرا کر کہا:
"امی، ہم نے کوشش کی کہ سب کچھ ٹھیک طرح سے کریں۔ ناشتہ، دوپہر کا کھانا، شام کی تیاری... مگر بہت سی غلطیاں بھی ہوئیں۔"

پرُوڈنس نے شرمندہ لہجے میں کہا:
"میری پائی کا حال تو بالکل خراب ہے۔"
جارج نے ہنستے ہوئے کہا:
"اور ہمارا سالن تو سمندر کا پانی بن گیا تھا!"

یہ سن کر سب بچے پھر سے قہقہے مارنے لگے۔

ایبن نے سب کو اپنے قریب کرتے ہوئے کہا:
"میری جانوں! غلطیوں کی پرواہ مت کرو۔ اصل بات یہ ہے کہ تم سب نے ہمت دکھائی، ذمہ داری سنبھالی اور ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔"

ایلن نے بھی خوشی سے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا:
"تم سب نے میرا دل خوش کر دیا۔ ماں کو اس سے زیادہ اور کیا چاہیے کہ اس کے بچے محنتی اور بہادر نکلیں۔"

پھر سب گھر کے اندر گئے۔ کھانے کی میز پر سب بچے اور والدین اکٹھے بیٹھ گئے۔ پائی، روٹی، سالن، گوشت اور سبزیوں کے درمیان ہنسی مذاق جاری رہا۔ کھانے کا ذائقہ چاہے جیسا بھی تھا، مگر محبت اور خوشی کی مٹھاس نے سب کچھ بہترین بنا دیا۔

کھانے کے بعد ایبن نے شکر گزاری کے الفاظ کہے:
"خدا کا شکر ہے کہ ہمیں پیار بھرا گھر اور یہ نیک اولاد دی۔ آج کا دن ہمیشہ یادگار رہے گا۔"

سب بچوں نے ایک آواز میں کہا:
"ہاں! یہ سب سے بہترین تھینکس گیونگ ہے!"

یوں ایک سادہ مگر پیار بھرا دن، جو ڈر، ہنسی اور محنت سے بھرا ہوا تھا، سب کی زندگی کا ایک یادگار واقعہ بن گیا۔

✨ اختتام ✨

یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل خوشی دولت یا شان و شوکت میں نہیں بلکہ محبت، اتحاد اور محنت میں ہے۔

Post a Comment for "یومِ تشکر۔"