پہاڑوں کے سائے میں

 

 سویٹزرلینڈ کے عظیم پہاڑوں پر واقع ایک قدیم خانقاہ کے سامنے لکڑی کی بینچ پر پانچ قاصد بیٹھے تھے۔ شام کے سورج نے برف پوش چوٹیوں کو ایسے سرخ کر دیا تھا جیسے کسی نے ان پر انگور کی لال شراب انڈیل دی ہو اور وہ اب تک برف میں جذب نہ ہوئی ہو۔ یہ تشبیہ جرمن قاصد نے دی تھی مگر باقی سب اس پر خاموش رہے، جیسے وہ میری موجودگی کو بھی خاطر میں نہ لائے ہوں۔ میں خانقاہ کے دروازے کے دوسری طرف ایک بینچ پر بیٹھا سگریٹ کے دھوئیں کے حلقے بناتا ہوا، انہی پہاڑوں اور قریب کے اُس جھونپڑے کو دیکھ رہا تھا جہاں برف میں دبے بدن سردی کی شدت سے گلنے سڑنے کے بجائے ہمیشہ کے لیے جم جاتے تھے۔

ہوا تیز ہونے لگی۔ برف پر پڑا سرخ عکس آہستہ آہستہ سفید میں بدل گیا۔ آسمان نیلا اور گہرا ہوتا گیا۔ پانچوں قاصد اپنے موٹے کوٹ کے بٹن چڑھانے لگے۔ میں نے بھی ان کی پیروی کی۔ ایسے مقامات پر ان لوگوں کی نقل کرنا بہتر سمجھا جاتا تھا۔

پہاڑ کی عظمت نے سب کو لمحہ بھر کے لیے خاموش کر دیا تھا مگر جیسے ہی روشنی پہاڑ سے کھسکی، وہ اپنی گفتگو میں مگن ہو گئے۔ میں اب تک امریکی مسافر کی طویل کہانی سن رہا تھا جو آگ کے پاس بیٹھا مجھے "مسٹر ڈوجر" کے جمع کیے گئے ڈالرز کی داستان سنا رہا تھا۔ مگر قاصدوں کی باتوں نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔

سب سے پہلے سوئس قاصد نے فرانسیسی میں کہا:
"خدا کی قسم! اگر بات بھوتوں کی کرنی ہے تو—"

جرمن قاصد نے فوراً جواب دیا:
"میں بھوتوں کی بات نہیں کر رہا۔"

"تو پھر کس بات کی کر رہے ہو؟" سوئس نے پوچھا۔

جرمن نے ہنستے ہوئے کہا:
"اگر مجھے معلوم ہوتا تو شاید میں بہت کچھ جانتا!"

یہ جواب سن کر میں اور بھی قریب کھسک آیا اور دیوار سے ٹیک لگا کر ان کی باتیں سننے لگا۔ جرمن نے کہا:
"جب تم کسی بڑے شہر کی بھیڑ میں چلتے ہو، اور ہر اجنبی میں اپنے کسی دوست کی جھلک دیکھتے ہو، جیسے وہ ابھی آنے والا ہو، اور پھر اچانک وہی دوست سامنے آ جائے جسے تم میلوں دور سمجھ رہے تھے… تو اسے کیا کہتے ہو؟"

سب نے سر ہلا کر کہا کہ ایسا اکثر ہوتا ہے۔

پھر جرمن نے پرجوش ہو کر کہا:
"جب ناپل کی پرانی مارکیزہ ایک محفل میں اچانک چیخ اٹھے کہ اس کی بہن مر گئی ہے، اور بعد میں پتہ چلے کہ واقعی اسی لمحے وہ اسپین میں مر گئی تھی… تو اسے کیا کہیں گے؟"

اس پر نیپولین قاصد نے مسکرا کر کہا:
"کیا یہ معجزہ نہیں؟"

سب نے قہقہہ لگایا مگر جرمن نے سنجیدگی سے کہا:
"نہیں، یہ معجزہ نہیں، بلکہ کچھ اور ہے۔ بھوتوں کی ضرورت نہیں۔ عجیب باتیں بغیر بھوتوں کے بھی ہو جاتی ہیں۔"

اس کے بعد جنوائی قاصد، جسے سب "باتیستا" کہہ کر پکارتے تھے، نے ایک عجیب کہانی سنائی۔ اس نے کہا کہ یہ ایک "انگریز دلہن" کی داستان ہے جس میں کوئی بھوت نہیں لیکن پھر بھی سب سے پراسرار ہے۔

باتیستا نے بتایا کہ دس سال پہلے وہ ایک انگریز جوڑے کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ شوہر جوان، خوش شکل اور دولت مند تھا اور نئی دلہن بے حد حسین۔ شادی کے فوراً بعد وہ ریویرا کے ایک پرانے محل میں گرمی گزارنے آئے۔ مگر دلہن اکثر خوف زدہ رہتی۔ کبھی شوہر کو قریب بلاتی، کبھی رو پڑتی۔ آخر کار نوکرانی "کارولینا" نے راز بتایا کہ دلہن تین راتوں سے ایک ہی خواب دیکھ رہی ہے۔ خواب میں ایک سیاہ پوش شخص، جس کے کالے بال اور بھوری مونچھ تھی، اندھیرے سے اسے گھورتا رہتا تھا۔

باتیستا نے کہا کہ جب وہ پرانے محل میں پہنچے تو دلہن کو ہر تصویر دیکھ کر یہی ڈر رہتا کہ کہیں وہی چہرہ نہ مل جائے۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور سب نے سکون کا سانس لیا۔ کچھ دن بعد ایک مہمان آیا، جس کا نام تھا "سنیور ڈیلومبرا"۔ جیسے ہی دلہن نے اسے دیکھا، وہ چیخ مار کر بے ہوش ہو گئی—کیونکہ یہ وہی چہرہ تھا جو خواب میں دکھائی دیتا تھا۔

شوہر نے اسے وہم قرار دیا اور ضد کر کے ڈیلومبرا کو بار بار بلانے لگا تاکہ دلہن اس خوف سے نکل سکے۔ مگر جتنا وہ آتا، دلہن اتنی ہی سہمی اور خاموش ہو جاتی۔ آخرکار روم کے سفر کے دوران ایک دن دلہن اپنے کمرے سے غائب ہو گئی۔ تلاش کے بعد پتہ چلا کہ وہ سنیور ڈیلومبرا کے ساتھ ایک گاڑی میں روانہ ہوئی تھی اور پھر کبھی اس کا پتہ نہ چلا۔

یہ کہانی سن کر سب خاموش ہو گئے۔ مگر جرمن قاصد نے کہا:
"بھوت کہاں ہیں اس میں؟ یہ سب حقیقت ہے۔ اب سنو میری کہانی۔"

اس نے بتایا کہ وہ ایک انگریز تاجر "مسٹر جیمز" کے ساتھ جرمنی جانے والا تھا۔ اس کا ایک جڑواں بھائی "مسٹر جان" تھا جو ایپنگ فاریسٹ کے قریب رہتا تھا۔ ایک دن جان بیمار ہو کر واپس چلا گیا۔ دو دن بعد رات کو جیمز نے گھبرا کر قاصد کو جگایا اور کہا:
"ولہلم! میں نے اپنے بھائی کا سایہ دیکھا ہے۔ وہ میرے کمرے میں آیا، مجھے گھورا اور چلا گیا۔ مجھے لگتا ہے یہ میرے بیمار ہونے کی علامت ہے۔"

اسی لمحے دروازے پر زور کی دستک ہوئی۔ باہر سے جان کا نوکر آیا اور خبر دی کہ مسٹر جان شدید بیمار ہیں اور بھائی کو فوراً بلا رہے ہیں۔ وہ دونوں ایپنگ فورسٹ پہنچے تو جان بستر پر پڑا تھا۔ اس نے بھائی کو دیکھتے ہی کہا:
"جیمز! تم نے آج رات مجھے پہلے ہی دیکھ لیا تھا… اور تم جانتے ہو!" اور وہ دم توڑ گیا۔

جرمن قاصد کی زبان بند ہوتے ہی فضا میں سناٹا چھا گیا۔ میں نے ادھر اُدھر دیکھا تو پانچوں قاصد ایسے غائب ہو گئے جیسے پہاڑ کی برف نے انہیں نگل لیا ہو۔ میں بھی خوفزدہ ہوا اور خانقاہ کے اندر چلا آیا، جہاں وہی امریکی سیاح ابھی تک اپنی ڈوجر صاحب کی دولت کی داستان سنا رہا تھا۔

✨ اختتام ✨

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی