Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

پہاڑ کی شام

 

📖 حصہ اوّل:

 شمالی پاکستان کے بلند پہاڑوں میں ایک پرانی درگاہ واقع تھی۔ یہ درگاہ اس جگہ پر تھی جہاں بادل اکثر نیچے اتر آتے اور یوں لگتا جیسے آسمان نے زمین کو چھو لیا ہو۔ سردیوں میں یہاں برف اتنی پڑتی تھی کہ سڑکیں اور راستے دنوں بند ہو جاتے، اور جو مسافر اس طرف آ نکلتے، وہ یا تو مہینوں کے لیے برف میں قید ہو جاتے یا ہمیشہ کے لیے یہیں کے ہو رہتے۔

درگاہ کے سامنے ایک لمبی لکڑی کی بنچ رکھی تھی۔ اس پر پانچ قاصد بیٹھے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو پہاڑی راستوں سے خط و کتابت اور پیغام رسانی کا کام کرتے تھے۔ ان کے کندھوں پر پرانے، مگر مضبوط کمبل تھے، اور ان کے جوتے موٹے چمڑے کے تھے جو برف میں دھنسنے سے بچاتے تھے۔

وہ سب دیر تک خاموش بیٹھے سامنے کے پہاڑوں کو دیکھتے رہے۔ ڈوبتے سورج کی سرخی نے برفانی چوٹیوں کو ایسا رنگ دیا جیسے کسی نے ان پر انار کا رس گرا دیا ہو۔ برف کی چمک دمک سرخی میں ڈھل گئی تھی اور ہوا میں ایک عجیب سنجیدگی پھیل گئی تھی۔

یہ خیال سب سے پہلے پٹھان قاصد نے بلند آواز میں کہا:
“یارو! یہ پہاڑ ایسے لگ رہے ہیں جیسے ان پر خون کی ندیاں بہہ رہی ہوں۔”

باقی قاصدوں نے ذرا سا سر ہلایا، مگر زیادہ توجہ نہ دی۔ وہ سب جانتے تھے کہ پٹھان اکثر بات کو بڑھا چڑھا کر کہتا ہے۔

میں، یعنی اس کہانی کا راوی، درگاہ کے دروازے کے دوسری طرف والے بنچ پر بیٹھا تھا۔ میں بھی سگریٹ سلگا کر وہی منظر دیکھ رہا تھا۔ میں نے بھی سوچا کہ واقعی پٹھان نے سچ کہا، لیکن یہ کہنے سے گریز کیا۔

سامنے ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اس کمرے کا دروازہ آدھا کھلا تھا۔ یہ کمرہ دراصل اُن مسافروں کی لاشیں رکھنے کے لیے تھا جو برفانی طوفانوں میں پھنس کر جان دے دیتے تھے۔ وہاں کے سرد موسم میں لاشیں گلتی سڑتی نہیں تھیں، بلکہ آہستہ آہستہ سوکھ جاتی تھیں۔ ایک عجیب سا خوف اور سکوت اُس کمرے سے ٹپکتا تھا۔

اتنے میں پہاڑ کی سرخی دھیرے دھیرے ختم ہو گئی۔ برف دوبارہ سفید اور چمکدار ہو گئی۔ آسمان کی رنگت گہرے نیلے میں ڈھل گئی، اور ہوا نے اپنی کاٹ تیز کر دی۔ سرد جھونکے یوں لگتے جیسے جسم کو چھریاں کاٹ رہی ہوں۔ پانچوں قاصدوں نے ایک ساتھ اپنے کمبل اور کوٹ کے بٹن اچھی طرح بند کر لیے۔ میں نے بھی ویسا ہی کیا، کیونکہ سردی کے معاملے میں ان کے تجربے سے بہتر بھلا کس کی پیروی کی جا سکتی تھی؟

کچھ دیر سب خاموش بیٹھے رہے۔ ایسا منظر واقعی گفتگو روک دیتا ہے۔ لیکن جیسے ہی سورج پوری طرح غائب ہوا اور اندھیرا بڑھنے لگا، قاصدوں نے آہستہ آہستہ دوبارہ باتیں شروع کیں۔

میں ان کی پچھلی باتوں سے واقف نہیں تھا، کیونکہ ابھی ابھی میں مسافروں کے کمرے میں بیٹھے ایک امریکی بابو سے جان چھڑوا کر آیا تھا۔ وہ مجھے ایک دولت مند تاجر کی لمبی داستان سنا رہا تھا جس میں میرا کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

اب میں نے غور سے سنا تو پنجابی قاصد کہہ رہا تھا:
“اللہ خیر کرے، اگر یہ بات کسی بھوت پریت کی ہے—”

پٹھان نے فوراً بات کاٹ دی:
“بھوت کی نہیں، یار! میں بھوتوں کی بات کب کر رہا ہوں؟”

بلوچ قاصد نے بھنویں چڑھاتے ہوئے پوچھا:
“تو پھر کس چیز کی بات کر رہے ہو؟”

پٹھان نے زور سے قہقہہ لگایا اور کہا:
“اگر مجھے خود ہی پتہ ہوتا تو تمہیں بھی سمجھا دیتا۔ مگر جو میں دیکھتا اور محسوس کرتا ہوں، وہ عجیب ہے۔”

اس کے لہجے میں ایک راز چھپا تھا۔ یہ بات سن کر میرا دل چاہا کہ مزید سنوں۔ میں نے اپنا سگریٹ آہستہ سے ایک طرف پھینکا اور ان کی طرف تھوڑا سا سرک کر بیٹھ گیا۔ ایسے جیسے میں لاپرواہ ہوں، مگر دراصل پوری توجہ سے سننے لگا۔

پٹھان نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا، دھواں آہستہ سے چھوڑا اور بولا:
“سن لو… کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تمہیں صبح سے شام تک ایک ہی خیال ستاتا رہے کہ آج فلاں شخص سے ملاقات ہو گی۔ حالانکہ تم جانتے ہو کہ وہ بہت دور ہے۔ مگر شام کو وہ اچانک تمہارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ کیا ہے؟”

قاصدوں نے سرگوشی میں کہا: “ہاں، ایسا ہوتا ہے۔”

پٹھان نے بات آگے بڑھائی:
“یا پھر، جب تم کسی بھیڑ میں جا رہے ہو اور ایک ایک کر کے سب اجنبی تمہیں اپنے دوست احمد جیسے لگتے ہیں۔ ایک نہیں، دو نہیں، کئی لوگ۔ اور پھر اچانک احمد خود سامنے آ جاتا ہے۔ حالانکہ تمہیں یقین تھا کہ وہ اس وقت لاہور میں ہے۔ اب بتاؤ، یہ کیا ہے؟”

“یہ تو اکثر ہوتا ہے۔” باقی قاصدوں نے سر ہلا کر کہا۔

“ہوتا ہے، اکثر!” پٹھان نے زور دے کر کہا۔ “اتنا عام جتنا مری میں سیب، اور کراچی میں سموسے۔”

پھر وہ ذرا جھک کر بولا:
“اور یہ سنو، ایک بڑھیا عورت اکیلی بیٹھی ہے۔ اچانک وہ چیخ اٹھتی ہے: میری بہن مر گئی! مجھے اس کا لمس محسوس ہوا۔ اور جب خبر آتی ہے تو واقعی اسی وقت اس کی بہن کا انتقال ہوا ہوتا ہے۔ اب یہ کیا ہے؟ بھوت ہے؟ جادو ہے؟ یا کیا ہے؟”

سندھی قاصد نے قہقہہ لگایا:
“یا جیسے ہر سال ہمارے سائیں کی درگاہ پر کوئی نہ کوئی معجزہ ہوتا ہے، اسے بھی یہی کہہ دو!”

سب ہنسنے لگے۔

پٹھان نے سنجیدہ لہجے میں کہا:
“نہیں۔ میں ایسی باتوں کی کر رہا ہوں جو حقیقت میں ہوتی ہیں۔ بھوت نہیں۔ حقیقت!”

اس نے اپنی نگاہیں کراچی والے قاصد پر ڈالیں اور کہا:
“حیدر! تم وہ انگریز دلہن والی کہانی سنا دو۔ اس میں نہ بھوت ہے نہ جادو۔ لیکن عجیب ضرور ہے۔”

خاموشی چھا گئی۔ سب کی نظریں حیدر پر جم گئیں۔ میں نے دیکھا کہ حیدر سگریٹ سلگا رہا تھا۔ اس نے گہرا کش لیا، دھواں چھوڑا اور بولا:
“یہ کوئی کہانی نہیں… بلکہ سچ ہے۔ اور آج بھی مجھے اس کی تفصیل یاد ہے۔”
📖 حصہ دوم:

حیدر کے سگریٹ سلگانے کے بعد چند لمحے سب خاموش رہے۔ ہوا اب اور تیز ہو چکی تھی۔ درگاہ کے باہر جلتی ہوئی مشعلیں ہوا سے کانپ رہی تھیں اور روشنی بار بار بجھنے کو ہو رہی تھی۔

پٹھان قاصد نے اپنے ہاتھ ملتے ہوئے کہا:
“یارو! میں نے جو کہا وہ کوئی کہانی نہیں، بلکہ حقیقت ہے۔ انسان کے دل میں کچھ اشارے ایسے اترتے ہیں جو زبان سے کہے نہیں جاتے، مگر وقت آنے پر وہی سچ ثابت ہوتے ہیں۔”

پنجابی قاصد نے ہنس کر کہا:
“پٹھان! تو نے آج پھر فلسفہ جھاڑ دیا۔ یہ سب تیرے وہم ہیں۔ بس انسان کا دماغ ہی ہے جو عجیب عجیب تصویریں بنا لیتا ہے۔”

پٹھان نے ذرا تیوری چڑھائی:
“پھر یہ بتا، اگر صرف وہم ہوتا تو ہمیشہ کیوں سچ ثابت ہوتا ہے؟ میں نے خود کئی بار دیکھا ہے کہ دل کے اندر ایک آواز کہتی ہے ‘ابھی فلاں ملنے والا ہے’ اور وہ سامنے آ جاتا ہے۔ کیا دماغ ہمیشہ مذاق کرتا ہے؟”

بلوچ قاصد بولا:
“ہو سکتا ہے اتفاق ہو۔ ہزاروں بار سوچتے ہیں، ایک بار سچ نکل آئے تو ہم اسے کرامت کہہ دیتے ہیں۔”

پٹھان نے سگریٹ کا لمبا کش لیا، دھواں منہ سے نکالا اور آہستہ آہستہ بولا:
“بلوچ! اتفاق وہ ہوتا ہے جو کبھی کبھار ہو۔ یہ بار بار ہوتا ہے۔ اور نہ صرف میرے ساتھ، بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتیں لیکن وہ موجود ہوتی ہیں۔ جیسے ہوا کو دیکھ نہیں سکتے لیکن محسوس کرتے ہو۔”

سندھی قاصد نے شرارت سے کہا:
“ہوا تو سب مانتے ہیں، مگر تیرے یہ خواب اور اشارے بھلا کون مانے گا؟ اگر ایسا ہوتا تو بابا شاہ بخاری درگاہ والے سب کو پہلے ہی بتا دیتے کہ کون کب مرنے والا ہے۔”

یہ سنتے ہی باقی سب زور سے ہنس پڑے۔

پٹھان مسکرایا، مگر اس کی آنکھوں میں سنجیدگی باقی تھی۔ اس نے کہا:
“چلو مان لو کہ سب وہم ہے، لیکن حیدر کی کہانی سن لو۔ پھر تمہیں خود اندازہ ہو گا کہ یہ محض وہم نہیں۔”

حیدر نے اپنی کرسی ذرا پیچھے کھسکائی، کمبل کندھوں پر درست کیا اور بولا:
“یہ بات آج سے تقریباً دس برس پرانی ہے۔ میں ایک امیر انگریز جوڑے کے ساتھ ساحلی سفر پر گیا تھا۔ وہ لوگ لاہور سے کراچی آئے اور وہاں سے مری کی طرف جانا چاہتے تھے۔ راستے میں ہم ایک پرانی حویلی میں رکے۔ وہ حویلی کسی جاگیردار کی تھی، مگر اس وقت سنسان اور ویران کھڑی تھی۔”

وہ ذرا رکا، پھر آہستہ آہستہ بولا:
“وہاں جو کچھ ہوا، وہ نہ جادو تھا نہ خواب۔ بلکہ ایسی حقیقت تھی جسے میں آج تک بھلا نہیں سکا۔”

یہ سن کر باقی قاصد خاموش ہو گئے۔ پنجابی نے اپنی جیب سے نسوار کی ڈبیا نکال کر لبوں میں ڈالی، بلوچ نے اپنے کمبل کو اور اچھی طرح لپیٹا، سندھی نے اپنی ٹوپی سیدھی کی اور پٹھان نے مسکرا کر کہا:
“ہاں حیدر! شروع کر۔ آج کی رات لمبی ہے، اور ہم سب کے کان تیرے ساتھ ہیں۔”

میں، جو دوسری بنچ پر بیٹھا تھا، اور قریب ہو گیا تاکہ ایک لفظ بھی کان سے نہ چھوٹے۔ درگاہ کی مشعلیں اب مدھم ہو گئی تھیں، آسمان پر ستارے جگمگا رہے تھے، اور ہوا میں ایسی سنسنی تھی جیسے کوئی انہونی ہونے والی ہو۔

حیدر نے گہری سانس لی، سگریٹ کا ایک اور کش لیا اور کہنا شروع کیا:
“یہ کہانی ایک دلہن کی ہے… انگریز دلہن… جسے خواب میں بار بار ایک پراسرار شخص کا چہرہ دکھائی دیتا تھا۔ اور پھر ایک دن وہ چہرہ حقیقت میں اس کے سامنے آ گیا—”

📖 حصہ سوم:

حیدر نے سگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑتے ہوئے کہا:
“یہ کوئی عام قصہ نہیں۔ نہ ہی یہ سننے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور محسوس کیا۔ اگر تم ماننا چاہو تو مان لو، نہ مانو تو تمہاری مرضی۔ مگر یاد رکھنا، سچ کبھی چھپتا نہیں۔”

پٹھان قاصد نے کمبل جھٹک کر کہا:
“سنو سب! حیدر کی کہانی میں مذاق نہیں، یہ بات مجھے پہلے سے معلوم ہے۔”

حیدر نے سر ہلایا اور آہستہ آہستہ بولنے لگا:

پہلا منظر: سفر کا آغاز

“یہ آج سے دس سال پرانی بات ہے۔ میں کراچی میں ایک کمپنی میں ملازم تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک انگریز جوڑے سے ہوئی۔ وہ شادی کے بعد پاکستان سیر کرنے آئے تھے۔ دولہا کا نام ولیم تھا اور دلہن کا نام ایملی۔ دونوں نہایت خوش شکل اور شائستہ تھے۔ ولیم کاروباری آدمی تھا، اور ایملی نئی نویلی دلہن۔

انہوں نے مجھ سے کہا:
‘حیدر، تم اردو بھی جانتے ہو، انگریزی بھی۔ ہمیں شمال کی سیر کراؤ۔ مری، نتھیا گلی، اور پہاڑی علاقے۔ ہم چند ہفتے وہاں گزارنا چاہتے ہیں۔’

مجھے بھی تجسس تھا، میں فوراً تیار ہو گیا۔ ہم قافلے کے ساتھ نکلے۔ کراچی سے لاہور، پھر وہاں سے راولپنڈی اور آخر کار مری کے پہاڑوں تک پہنچے۔ سفر مزے کا تھا۔ راستے بھر ہنسی مذاق، تصویریں اور باتیں چلتی رہیں۔ لیکن جب ہم مری کے قریب پہنچے، تب پہلی بار مجھے ایملی کی آنکھوں میں عجیب سا خوف نظر آیا۔”

دوسرا منظر: پراسرار خواب

“ہم ایک پرانی حویلی میں رکے جو کبھی ایک راجہ کی ملکیت تھی۔ اب ویران کھڑی تھی۔ حویلی کے کمرے بڑے تھے، چھتوں پر مکڑ جالے، اور کھڑکیوں سے سرد ہوا سیٹیاں بجاتی گزرتی تھی۔

پہلی رات کھانے کے بعد سب سو گئے۔ رات کے پچھلے پہر اچانک مجھے کسی کے رونے کی آواز سنائی دی۔ میں جاگا اور ایملی کے کمرے کی طرف گیا۔ ولیم بھی گھبرا کر وہاں پہنچا۔

ایملی پسینے میں شرابور تھی۔ وہ بار بار کہہ رہی تھی:
‘وہ شخص! وہ پھر آ گیا… اس نے مجھے دیکھا… اس نے کہا کہ وہ مجھے لینے آئے گا…’

ہم نے پوچھا:
‘کون شخص؟ تم کیا کہہ رہی ہو؟’

ایملی روتے ہوئے بولی:
‘ایک چہرہ… اجنبی مگر جانا پہچانا… وہ بار بار میرے خواب میں آتا ہے۔ بڑی بڑی آنکھیں، سخت نگاہ، اور آواز… آواز کہتی ہے: ایملی، تم میری ہو… میں تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔’

ولیم نے اسے سمجھایا:
‘یہ محض خواب ہے۔ تم تھکی ہوئی ہو، سفر کا اثر ہے۔’

لیکن میں نے دیکھا کہ ایملی کی آنکھوں میں خواب نہیں، بلکہ حقیقت کا خوف تھا۔”

تیسرا منظر: حقیقت کا سامنا

“اگلے دن ہم مری بازار میں گھومنے نکلے۔ ایملی خاموش تھی۔ اچانک وہ رک گئی۔ اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ وہ کانپتے ہوئے بولی:
‘وہ دیکھو! وہی شخص!’

ہم سب نے دیکھا۔ بھیڑ میں واقعی ایک اجنبی شخص کھڑا تھا۔ لمبا قد، سیاہ آنکھیں، چہرہ سنجیدہ۔ وہ ایملی کو گھور رہا تھا۔

ایملی لرز گئی۔ اس نے فوراً ولیم کا ہاتھ پکڑا۔ ہم نے سمجھا شاید غلط فہمی ہے۔ مگر جب ہم حویلی لوٹے، تو رات کو پھر وہی ہوا۔ ایملی نے چیخ کر کہا:
‘وہ آ گیا! وہ کمرے میں تھا۔ میں نے اس کی سانس محسوس کی۔’

ولیم نے کمرہ چھان مارا، مگر کچھ نہ ملا۔”

چوتھا منظر: انجام

“چند دن بعد ہم نتھیا گلی کے جنگلوں میں جا رہے تھے۔ اچانک ایملی غائب ہو گئی۔ ہم نے ہر طرف ڈھونڈا، چیخ کر نام پکارا، مگر وہ نہ ملی۔

گھنٹوں بعد ہم نے درختوں کے بیچ ایک پرانا مندر دیکھا۔ وہاں ایملی کھڑی تھی، مگر اکیلی نہیں۔ وہی پراسرار شخص اس کے ساتھ تھا۔

ہم نے قریب جانا چاہا، لیکن اچانک دھند چھا گئی۔ اتنی گھنی کہ ہاتھ کو ہاتھ نظر نہ آئے۔ جب دھند ہٹی، وہاں نہ ایملی تھی، نہ وہ شخص۔ صرف ایک سفید دوپٹہ زمین پر پڑا تھا، جو ایملی کا تھا۔

اس دن کے بعد ایملی کبھی نہیں ملی۔ پولیس نے تلاش کی، لوگوں نے کہا شاید وہ جنگل میں گم ہو گئی، یا کسی جانور نے لے لیا۔ مگر میں جانتا ہوں… میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ شخص آیا تھا… اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔”

محفل کی خاموشی

حیدر یہ کہہ کر چپ ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں عجب سنجیدگی تھی۔ ہوا رک گئی تھی جیسے خود سننے کے لیے ٹھہر گئی ہو۔ قاصدوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

پٹھان نے آہستہ کہا:
“یہ بھوت نہیں تھا۔ یہ کوئی اور چیز تھی… کوئی اشارہ، کوئی تعلق، جو ہماری سمجھ سے باہر ہے۔”

بلوچ نے زیر لب کہا:
“یا شاید تقدیر… جس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔”

پنجابی اور سندھی قاصد خاموش تھے۔ میں نے دیکھا کہ سب کے چہروں پر خوف اور حیرت کی ملی جلی لکیریں تھیں۔

📖 حصہ چہارم:

حیدر کی کہانی ختم ہوئی تو درگاہ کے صحن میں گہری خاموشی چھا گئی۔
صرف ہوا کی سائیں سائیں تھی جو پہاڑوں کے بیچ سے گزر کر یوں لگ رہی تھی جیسے کوئی نامعلوم راگ گنگنا رہی ہو۔

پنجابی قاصد نے پہلا جملہ کہا:
“یار، یہ سب سن کے تو میرا دل دہل گیا۔ لیکن میں پھر بھی ماننے کو تیار نہیں۔ یہ سب وہم اور خوف کے کھیل ہیں۔ عورتیں ویسے ہی کمزور دل کی ہوتی ہیں۔ خواب کو حقیقت سمجھ بیٹھتی ہیں۔”

پٹھان نے فوراً تیز لہجے میں کہا:
“ایسا نہیں۔ اگر وہم تھا تو پھر وہ شخص بھیڑ میں حقیقت میں کیوں دکھائی دیا؟ اور جنگل میں وہ کیوں نظر آیا؟”

سندھی نے قہقہہ لگایا:
“ارے بھائی، پاکستان میں تو ہر جگہ پراسرار لوگ گھومتے پھرتے ہیں۔ کوئی سائیں، کوئی مجذوب، کوئی فقیر۔ کون جانے وہ کون تھا؟ شاید کوئی چور یا کسی کا دشمن۔”

بلوچ نے گہری آواز میں کہا:
“لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کبھی کبھی انسان کو اندر سے پتہ چل جاتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ میری ماں کہتی تھی، اگر رات کو دل گھبرا جائے، یا اچانک نیند سے جاگ جاؤ اور یوں لگے کہ کوئی بلا رہی ہے، تو ضرور کسی قریبی پر آفت آئی ہوتی ہے۔ یہ صرف کہانیاں نہیں، کئی بار ہم نے سچ ہوتے دیکھا ہے۔”

پہلی چھوٹی کہانی: بلوچ کی ماں کا خواب

بلوچ نے سب کی نظریں اپنے اوپر دیکھ کر کہا:
“میری ماں اکثر خواب دیکھتی تھی۔ ایک رات وہ ہڑبڑا کے جاگ اٹھی اور کہنے لگی: ‘آج تیرا ماموں ڈھاکہ کے دریا میں ڈوب گیا ہے۔ میں نے اسے ہاتھ ہلاتے دیکھا ہے۔’ ہم نے مذاق اڑایا۔ لیکن اگلے دن خبر آئی کہ واقعی وہ کشتی کے حادثے میں ڈوب گیا تھا۔”

پٹھان نے سر ہلایا:
“یہی تو میں کہتا ہوں۔ یہ کوئی تیسری آنکھ ہے جو سب کے پاس نہیں، مگر کچھ کے پاس ضرور ہوتی ہے۔”

دوسری چھوٹی کہانی: سندھی کی درگاہ والی بات

سندھی نے ہنستے ہوئے کہا:
“چلو میں بھی سناتا ہوں۔ ہماری طرف ایک بزرگ درگاہ کے مجاور ہیں۔ وہ رات کو سوئے ہوئے اچانک اٹھ بیٹھے اور کہنے لگے: ‘مسجد کے مینار میں بجلی گرے گی!’ ہم نے مذاق سمجھا۔ مگر صبح فجر کے وقت واقعی مینار ٹوٹا اور آگ لگ گئی۔ اب بتاؤ یہ کیسے ہوا؟”

پنجابی نے قہقہہ لگایا:
“ہو سکتا ہے وہ بجلی کی کڑک پہلے ہی سن چکے ہوں۔”

سندھی نے کہا:
“نہیں جی، یہ کئی گھنٹے پہلے کہا تھا۔”

تیسری چھوٹی کہانی: پنجابی کا تجربہ

اب پنجابی نے بھی اپنی کرسی کھسکائی اور بولا:
“اچھا، مان لیتا ہوں کہ کچھ نہ کچھ ہے۔ ایک بار میرا بھائی فوج میں تھا۔ وہ سرحد پر تعینات تھا۔ ایک رات میری بیوی نے خواب دیکھا کہ اس کے کپڑوں پر خون لگا ہے۔ صبح ہمیں تار ملا کہ وہ زخمی ہوا ہے۔ اب یہ کیا ہے؟ خواب ہی تو تھا، مگر سچ نکلا۔”

محفل میں سنجیدگی

یہ سب سن کر راوی (یعنی میں) بھی حیران رہ گیا۔ میں اب تک خاموش بیٹھا سنتا رہا تھا، مگر دل میں سوچ رہا تھا کہ واقعی یہ سب محض اتفاقات ہیں یا کوئی پوشیدہ حقیقت؟

پہاڑ کے اوپر آسمان پر بادل تیرنے لگے تھے۔ ہوا اور تیز ہو گئی تھی۔ قاصدوں کی محفل اب سنجیدہ ہو چکی تھی۔ سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے جیسے ہر ایک کے دل میں کوئی پرانی یاد یا ڈر چھپا ہو۔

پٹھان نے دھیمی آواز میں کہا:
“انسان کے پاس سب کا جواب نہیں۔ کچھ چیزیں بس ہو جاتی ہیں۔ نہ سائنس سمجھا سکتی ہے، نہ عقل۔”

حیدر نے سر جھکایا اور بولا:
“ایملی کی وہ چیخیں آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں۔”

بلوچ نے آہستہ کہا:
“یہ سب قسمت کے کھیل ہیں۔ جو لکھا ہے، وہی ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی ہمیں پہلے ہی خبر ہو جاتی ہے، تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ سب انسان ہونے کے باوجود بے بس ہیں۔”

اختتامِ حصہ چہارم

محفل خاموشی میں ڈوب گئی۔ ہوا کی آواز، مشعلوں کی مدھم روشنی اور پہاڑ کی سنسانی نے فضا کو اور بھی پراسرار بنا دیا۔
یوں لگا جیسے وہ درگاہ خود ان کہانیوں کو سن رہی ہو۔

📖 حصہ پنجم:

درگاہ کے صحن میں رات مزید گہری ہو گئی تھی۔ مشعلوں کی روشنی اب کمزور ہو کر یوں لگ رہی تھی جیسے ہوا انہیں بجھا ڈالے گی۔ پانچوں قاصد اپنے اپنے قصے اور تجربات سنانے کے بعد خاموش ہو گئے تھے۔ صرف درگاہ کی دیواروں سے گونجتی ہوا اور پہاڑی درختوں کی سرسراہٹ باقی رہ گئی تھی۔

میں، جو اب تک چپ چاپ سن رہا تھا، ان سب کہانیوں کے بوجھ تلے دب گیا تھا۔ میرے دل میں عجیب سی کیفیت تھی۔ ایک طرف عقل کہہ رہی تھی کہ یہ سب اتفاقات اور وہم ہیں، لیکن دل گواہی دے رہا تھا کہ اس دنیا میں واقعی کچھ ایسی طاقتیں ہیں جنہیں انسان کی آنکھ اور عقل نہیں سمجھ سکتی۔

قاصدوں کی رخصتی

رات آدھی گزر چکی تھی۔ ایک خادم آیا اور بولا:
“حضرات! درگاہ کے دروازے اب بند کیے جا رہے ہیں۔ جو لوگ سفر پہ نکلنے والے ہیں، صبح فجر سے پہلے تیار رہیں۔”

قاصد ایک ایک کر کے اٹھنے لگے۔
پٹھان نے اپنا نیلا کھیس کندھے پر ڈالا، بلوچ نے اپنی چھوٹی سی تھیلی اٹھائی، سندھی نے مسکرا کر سب کو دعا دی، پنجابی نے ہاتھ ملایا اور حیدر سب سے آخر میں کھڑا ہوا۔

وہ سب الگ الگ راستوں پر نکلنے والے تھے، مگر آج کی رات نے انہیں ایک ڈور میں باندھ دیا تھا۔ جیسے یہ محفل ہمیشہ یادگار بن کر ان کی زندگی کا حصہ بن جائے گی۔

راوی کی تنہائی

جب سب جا چکے، میں صحن میں اکیلا بیٹھ گیا۔ آسمان پر بادل ہٹ چکے تھے اور چاند نکل آیا تھا۔
میں نے درختوں کی پرچھائیاں دیکھی اور سوچا:
“یہ لوگ عام قاصد تھے، لیکن ان کے دل میں ایسی ایسی داستانیں چھپی تھیں جو بڑے بڑے عالم اور فلاسفر بھی بیان نہ کر سکیں۔”

مجھے یوں لگا جیسے آج میں نے انسان کے دل کا ایک نیا دروازہ دیکھا ہے۔ خوف، محبت، یادیں، خواب اور احساسات۔۔۔ یہ سب انسان کو اس کائنات کے قریب لے جاتے ہیں جو آنکھ سے اوجھل ہے۔

آخری منظر

رات کی ہوا نے میرے چہرے کو چھوا اور میں نے آہستہ سے سر جھکایا۔
“شاید یہ سب کہانیاں ہمیں یہ یاد دلانے آئی ہیں کہ ہم انسان، چاہے جتنا بھی علم حاصل کر لیں، قسمت اور تقدیر کے قیدی ہی رہتے ہیں۔”

پہاڑ کی چوٹی پر چاندنی پھیل رہی تھی۔
میں نے درگاہ کی طرف آخری بار نظر ڈالی اور اپنے دل میں یہ فیصلہ کیا کہ یہ رات اور یہ محفل ہمیشہ میری یاد میں زندہ رہے گی۔

🌙 اختتام

یوں کہانی ختم ہوتی ہے۔
پانچ قاصد، ان کے قصے، اور ایک اجنبی مسافر کے تاثرات۔۔۔
یہ سب مل کر ایک ایسی محفل بناتے ہیں جو قاری کے دل میں دیر تک بسی رہتی ہے۔

Post a Comment for "پہاڑ کی شام "