Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

"خاموشی میں خودی"

 

چند دن پہلے میں اپنی ایک دوست کے ساتھ ڈنر پر گئی۔ جگہ ایک چینی ریسٹورنٹ تھی، جہاں بڑے بڑے گول میز لگے ہوئے تھے۔ ہم تقریباً دس لوگوں کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھے تھے۔ میری دوست کی عادت ہے کہ وہ جہاں بھی جائے، خود کو سب سے نمایاں سمجھتی ہے۔ اُس دن بھی اُس کی نظر سامنے بیٹھے ایک لڑکے پر پڑی۔ وہ لڑکا ہمارے کسی مشترکہ دوست کا دوست تھا، یعنی وہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے نہیں تھے، مگر میری دوست کو وہ لڑکا فوراً پسند آ گیا اور وہ اُس کی توجہ حاصل کرنا چاہتی تھی۔

وہ لڑکا اپنے ایک دوست کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔ میری دوست نے اچانک ہاتھ ہلا کر اُن کی بات روک دی اور اُس سے کہا کہ وہ اُس کے لیے اضافی پلیٹ اور چمچ منگوا دے۔ لڑکے نے نہ بدتمیزی دکھائی، نہ بحث کی۔ اُس نے بس پاس سے گزرتی ہوئی ویٹریس کو آواز دی اور بڑے آرام سے کہا،
“براہِ کرم اُس خاتون کے لیے اضافی برتن لے آئیں۔”

پھر اُس نے میری دوست کی طرف دیکھ کر کہا،
“میں نے ویٹریس کو کہہ دیا ہے، وہ ابھی لے آئے گی۔”

اس کے بعد وہ دوبارہ اپنے دوست سے بات کرنے لگا، جیسے کچھ خاص ہوا ہی نہ ہو۔

یہاں سے میری دوست کا موڈ یکدم بدل گیا۔ جیسے ہی لڑکا اپنی گفتگو میں واپس گیا، میری دوست کے چہرے پر ناگواری صاف نظر آنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد اُس نے آہستہ آواز میں میرے کان کے قریب آ کر شکایتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ لڑکا بے حد بدتمیز ہے، حد درجے کا مغرور ہے، اور اُس میں ذرا بھی تہذیب نہیں۔

میں نے حیرانی سے پوچھا،
“لیکن اُس نے کیا غلط کیا؟ اُس نے تو فوراً برتن منگوا دیے تھے۔”

میری دوست غصے میں بولی،
“غلط یہ کیا کہ وہ خود اٹھ کر برتن لینے نہیں گیا۔ اُس نے ویٹریس کو حکم دے دیا، جیسے میں کوئی عام سی انسان ہوں۔ اور سب سے بڑی بات، وہ دوبارہ اپنے دوست سے باتیں کرنے لگا، جیسے میں اُس کے لیے اہم ہی نہیں!”

میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ شاید مسئلہ لڑکے کے رویے میں نہیں، بلکہ میری دوست کی توقعات میں ہے۔ وہ ہمیشہ یہی سمجھتی ہے کہ ہر مرد اُسے دیکھتے ہی متاثر ہو جائے گا، اُس کے لیے سب کچھ چھوڑ دے گا، اور اُسے خاص محسوس کروائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ہر مرد اُس کی خوبصورتی سے متاثر نہیں ہوتا، اور نہ ہی ہر انسان اُسی طرح ردِعمل دیتا ہے جیسا وہ چاہتی ہے۔

اُس رات مجھے یہ بات اور زیادہ واضح ہو گئی کہ بعض اوقات ہم دوسروں کی معمولی باتوں کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ لڑکا شاید صرف ایک باوقار اور مہذب انسان تھا، جو ریسٹورنٹ کے آداب کے مطابق ویٹریس سے کام لینا زیادہ مناسب سمجھتا تھا۔ مگر میری دوست کے لیے یہ سب ایک ذاتی توہین بن گیا، کیونکہ اُس کی نظر میں اُس کی خوبصورتی ہی سب سے بڑا تعارف تھی۔

اور شاید یہی سچ ہے کہ خود کو بہت زیادہ حسین سمجھنا کبھی کبھی انسان کو حقیقت سے دور لے جاتا ہے۔

اُس کے بعد بھی میری دوست کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ کھانا آ گیا، سب لوگ ہنس بول رہے تھے، مگر وہ بار بار اُسی بات کو دہرا رہی تھی۔ کبھی وہ چمچ ہاتھ میں لے کر کہتی، “دیکھو، اگر وہ واقعی مہذب ہوتا تو خود اٹھ کر لے آتا”، اور کبھی وہ اِدھر اُدھر دیکھ کر بولتی، “اُسے کم از کم مجھ سے دوبارہ بات تو کرنی چاہیے تھی۔”

میں خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی۔ اُس کے چہرے پر غصے سے زیادہ ایک ٹوٹا ہوا غرور نظر آ رہا تھا۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ برتن ویٹریس لائی یا لڑکا، مسئلہ یہ تھا کہ لڑکے نے اُس کی توقع کے مطابق ردِعمل نہیں دیا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ لڑکا اُس کی ایک اشارے پر کھڑا ہو جائے، بات چھوڑ دے، اور اُسے خاص محسوس کروائے۔

کچھ دیر بعد وہ لڑکا ہنستے ہوئے کسی اور سے بات کر رہا تھا۔ اُس کی ہنسی میں کوئی بناوٹ نہیں تھی، نہ کسی کو متاثر کرنے کی کوشش۔ وہ بس اپنے حال میں خوش لگ رہا تھا۔ میری دوست بار بار اُس کی طرف دیکھتی، جیسے وہ کسی غلطی کا انتظار کر رہی ہو، مگر وہ لڑکا بالکل نارمل تھا۔

میں نے آہستہ سے کہا،
“شاید اُس نے جان بوجھ کر کوئی بدتمیزی نہیں کی۔ ہو سکتا ہے وہ بس ایسا ہی ہو۔”

میری دوست نے فوراً جواب دیا،
“نہیں، تم نہیں سمجھو گی۔ مرد ایسے نہیں ہوتے جب اُنہیں کوئی لڑکی پسند آ جائے۔”

میں نے دل میں سوچا کہ شاید مسئلہ یہی سوچ ہے۔ یہ مان لینا کہ اگر کوئی مرد فوراً متاثر نہ ہو تو وہ بدتمیز، مغرور یا بے حس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کا اپنا انداز ہوتا ہے، اپنی حدود ہوتی ہیں۔

کھانے کے دوران ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب لڑکے کی نظر اتفاقاً ہماری طرف پڑی۔ اُس نے بس ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا، جیسے ایک عام سی شائستہ سلام۔ میری دوست نے فوراً نظریں چرا لیں، پھر میرے کان میں بولی،
“اب کیا فائدہ، اب تو دیر ہو گئی۔”

اُس جملے میں عجیب سی تلخی تھی، جیسے کوئی موقع چھن گیا ہو۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ صرف لڑکے سے ناراض نہیں تھی، بلکہ اپنے آپ سے بھی خفا تھی۔ شاید پہلی بار اُس نے یہ محسوس کیا تھا کہ اُس کی خوبصورتی ہر جگہ دروازے نہیں کھولتی۔

جب ہم ریسٹورنٹ سے نکلے تو رات کی ہوا ٹھنڈی تھی۔ لوگ آہستہ آہستہ رخصت ہو رہے تھے۔ میری دوست خاموش تھی، جو اُس کے لیے غیر معمولی بات تھی۔ گاڑی میں بیٹھ کر اُس نے ایک لمبی سانس لی اور کہا،
“شاید میں نے بات کو زیادہ بڑھا دیا۔”

میں نے کچھ نہیں کہا، بس کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔ مجھے لگا کہ بعض تجربے انسان کو خود ہی بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ اُس رات مجھے یہ احساس ہوا کہ اصل خوبصورتی تو رویے میں ہوتی ہے، اور اصل بدتمیزی کبھی کبھی ہماری اپنی توقعات میں چھپی ہوتی ہے۔

شاید آئندہ وہ بھی یہ سمجھ جائے کہ ہر نظر اُس کے لیے نہیں ٹھہرتی، اور ہر خاموشی بے ادبی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی لوگ بس اپنے دائرے میں رہتے ہیں، اور یہی اُن کی سب سے بڑی شرافت ہوتی ہے۔

اگلے دن جب میں سو کر اٹھی تو اُس رات کی باتیں ذہن میں پھر سے گھومنے لگیں۔ مجھے اندازہ تھا کہ میری دوست کے لیے وہ واقعہ معمولی نہیں تھا۔ وہ ظاہری طور پر ہنس دیتی ہے، بات بدل دیتی ہے، مگر اندر ہی اندر چھوٹی چھوٹی باتوں کو بہت گہرائی سے محسوس کرتی ہے۔

دوپہر کے قریب اُس کا فون آیا۔ آواز میں وہی ہلکی سی اداسی تھی، جو صرف وہی لوگ پہچان سکتے ہیں جو کسی کو برسوں سے جانتے ہوں۔ اُس نے بغیر کسی تمہید کے کہا،
“کل رات میں نے بہت سوچا… شاید میں واقعی ضرورت سے زیادہ توقع لگا بیٹھی تھی۔”

میں خاموش رہی، اُسے بولنے دیا۔ کچھ لمحوں بعد اُس نے خود ہی بات آگے بڑھائی،
“مجھے عادت ہو گئی ہے کہ لوگ فوراً توجہ دیتے ہیں۔ جب کوئی ایسا نہیں کرتا تو لگتا ہے جیسے اُس نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہو۔”

اُس کے لہجے میں پہلی بار خوداحتسابی تھی۔ وہ غرور نہیں، وہ ضد نہیں، بس ایک ہلکی سی تھکن تھی۔ جیسے کوئی شخص آئینے میں خود کو دیکھ کر پہلی بار مان لے کہ تصویر ہمیشہ ویسی نہیں ہوتی جیسی ہم سمجھتے ہیں۔

میں نے آہستہ سے کہا،
“شاید وہ لڑکا بس مختلف تھا۔ ہو سکتا ہے اُس کے لیے یہ سب ایک نارمل بات ہو۔”

اُس نے ہلکی سی ہنسی ہنسی، مگر وہ ہنسی ادھوری تھی۔
“ہاں… اور شاید میں نے خود کو بہت زیادہ خاص سمجھ لیا تھا۔”

اُس جملے کے بعد کچھ لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔ پھر اُس نے اچانک موضوع بدل دیا، مگر میں جانتی تھی کہ بات دل میں کہیں رک گئی ہے۔

چند دن بعد ہم دوبارہ ایک جگہ اکٹھے ہوئے۔ اتفاق سے وہی لڑکا بھی وہاں موجود تھا۔ اس بار ماحول مختلف تھا۔ نہ کوئی خاص توقع، نہ کوئی اشارہ۔ وہ لڑکا سب سے عام انداز میں سب سے بات کر رہا تھا۔ جب اُس کی نظر میری دوست پر پڑی تو اُس نے بس شائستگی سے سلام کیا اور مسکرا دیا۔ کوئی بناوٹ نہیں، کوئی اضافی توجہ نہیں۔

اور عجیب بات یہ تھی کہ اس بار میری دوست کو اُس مسکراہٹ میں کوئی بدتمیزی محسوس نہیں ہوئی۔ شاید اس لیے کہ اب وہ اُس مسکراہٹ سے کچھ مانگ نہیں رہی تھی۔

بعد میں اُس نے خود مجھ سے کہا،
“اب وہ مجھے بدتمیز نہیں لگتا۔ بس… ایک عام سا انسان ہے۔”

میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ بعض اوقات مسئلہ سامنے والے میں نہیں ہوتا، بلکہ اُس کہانی میں ہوتا ہے جو ہم اپنے ذہن میں بنا لیتے ہیں۔ جب توقعات کم ہو جائیں تو لوگ خود بخود زیادہ بہتر لگنے لگتے ہیں۔

یہ واقعہ شاید اُس کی زندگی کا کوئی بڑا موڑ نہ ہو، مگر ایک چھوٹا سا سبق ضرور تھا۔ یہ سمجھنے کا سبق کہ خوبصورتی توجہ کی ضمانت نہیں، اور خاموشی ہمیشہ بے رخی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی یہ صرف ایک انسان کا اپنا انداز ہوتی ہے، جسے سمجھنے کے لیے ہمیں اپنی نظر بدلنی پڑتی ہے۔

وقت گزرتا گیا، مگر اُس چھوٹے سے واقعے نے میری دوست کے اندر کہیں نہ کہیں ایک ہلکی سی تبدیلی پیدا کر دی تھی۔ وہ اب بھی خود کو پسند کرتی تھی، اپنے انداز، اپنے لباس اور اپنی مسکراہٹ پر فخر کرتی تھی، مگر اب اُس کے رویّے میں پہلے جیسی بے چینی نہیں رہی تھی۔ جیسے اُس نے سیکھ لیا ہو کہ ہر محفل اُس کے لیے امتحان نہیں ہوتی۔

ایک شام ہم کافی شاپ میں بیٹھی تھیں۔ وہی ہلکی موسیقی، وہی کافی کی خوشبو، مگر باتیں مختلف تھیں۔ اُس نے اچانک کہا،
“تمہیں پتہ ہے، میں نے اُس لڑکے کے بارے میں پھر سوچا تھا۔ اگر وہ واقعی اُٹھ کر برتن لے آتا تو شاید مجھے اچھا لگتا، مگر پھر میں اُسے عام سا ہی سمجھتی۔”

میں نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔ اُس نے بات جاری رکھی،
“مجھے اصل میں یہ برداشت نہیں ہوا تھا کہ اُس نے مجھے متاثر کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔”

یہ اعتراف میرے لیے نیا تھا۔ وہ پہلی بار مان رہی تھی کہ مسئلہ بدتمیزی نہیں، بلکہ اُس کے اندر کی وہ خواہش تھی جو ہر نظر کو اپنی طرف موڑنا چاہتی تھی۔

کچھ دیر بعد اُس نے ایک گہری سانس لی اور کہا،
“شاید ہمیں یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ ردّ ہونا بھی نارمل ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر سامنے والا جھک نہ جائے تو وہ غلط ہے۔”

میں نے مسکرا کر کہا،
“یا پھر ہم خود بہت اونچی جگہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔”

وہ ہنس پڑی، اس بار ہنسی میں کوئی تلخی نہیں تھی۔

اسی دوران کافی شاپ کے دروازے سے وہی لڑکا اندر آیا۔ اتفاق نے جیسے پھر امتحان لے لیا۔ وہ کاؤنٹر پر کھڑا آرڈر دے رہا تھا۔ میری دوست نے اُسے دیکھا، پھر نظریں ہٹا لیں۔ کوئی لہر نہیں، کوئی بے چینی نہیں۔ بس ایک عام سا لمحہ۔

کچھ دیر بعد وہ ہمارے پاس سے گزرا۔ اُس نے سر ہلا کر سلام کیا۔ میری دوست نے بھی بڑے سکون سے جواب دیا۔ نہ زیادہ گرمجوشی، نہ سرد مہری۔

جب وہ چلا گیا تو میری دوست نے آہستہ سے کہا،
“اب میں خود کو ہلکا محسوس کر رہی ہوں۔ جیسے مجھے کسی کو متاثر کرنے کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑ رہا۔”

میں نے اُس لمحے سمجھ لیا کہ اصل تبدیلی خاموشی سے آتی ہے۔ نہ شور کے ساتھ، نہ اعلان کے ساتھ۔ بس اندر کہیں ایک سوچ بدل جاتی ہے، اور انسان وہی رہتے ہوئے بھی کچھ اور بن جاتا ہے۔

شاید اُس رات کے بعد میری دوست نے یہ سیکھ لیا تھا کہ اپنی قدر دوسروں کی توجہ سے ناپنا سب سے تھکا دینے والا کام ہے۔ اور یہ سیکھ لینا، کہ ہر شخص ہمیں پسند کرے یہ ضروری نہیں، دراصل ایک عجیب سی آزادی ہے۔

اور یہی آزادی شاید اُس شام اُس کی آنکھوں میں جھلک رہی تھی

وہ کہانی وہاں ختم نہیں ہوئی، بس اُس مقام پر رک گئی تھی جہاں انسان خود کو سننا شروع کرتا ہے۔ اس کے بعد دن معمول کے مطابق گزرنے لگے، مگر میری دوست اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ وہ اب بھی محفلوں میں جاتی، اب بھی ہنستی، باتیں کرتی، مگر اب اُس کی نظریں ہر چہرے پر ٹھہرنے کے بجائے جلد ہٹ جایا کرتی تھیں۔ جیسے وہ کسی اور چیز کی تلاش میں ہو ہی نہیں۔

کچھ ہفتوں بعد ایک مشترکہ دوست نے ایک چھوٹا سا گیدرنگ رکھا۔ وہی لوگ، وہی ماحول، اور قسمت نے پھر وہی چہرہ سامنے لا کھڑا کیا۔ اس بار کوئی چونک نہیں ہوئی، کوئی دل کی دھڑکن تیز نہیں ہوئی۔ بس ایک ہلکا سا احساس کہ ہاں، ہم پہلے بھی مل چکے ہیں۔

وہ لڑکا ہمارے پاس آ کر کھڑا ہوا۔ چند لمحے خاموشی رہی، پھر اُس نے خود کہا،
“پچھلی بار ریسٹورنٹ میں شاید میں تھوڑا روکھا لگوں۔ میرا ارادہ ایسا نہیں تھا۔”

میری دوست نے پہلی بار بغیر کسی اندرونی ہلچل کے اُس کی آنکھوں میں دیکھا اور مسکرا کر کہا،
“نہیں، شاید میں نے بات کو زیادہ سنجیدہ لے لیا تھا۔”

وہ جملہ بہت سادہ تھا، مگر اُس میں ایک قبولیت تھی۔ الزام نہیں، توقع نہیں، بس حقیقت۔

اُس کے بعد باتیں عام سی رہیں۔ کام، شہر، موسم۔ کوئی غیر ضروری دلچسپی، کوئی متاثر کرنے کی کوشش نہیں۔ اور عجیب بات یہ تھی کہ یہی سادگی سب سے زیادہ حقیقی لگ رہی تھی۔

جب وہ لڑکا رخصت ہوا تو میری دوست کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر اُس نے آہستہ سے کہا،
“اگر یہ ملاقات پہلی بار ایسے ہوتی تو شاید مجھے کچھ بھی برا نہ لگتا۔”

میں نے جواب نہیں دیا۔ کچھ باتیں بس سر ہلا کر سمجھ لی جاتی ہیں۔

واپسی کے راستے اُس نے کہا،
“اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں خود کو لوگوں کے ردِعمل سے تول رہی تھی۔ اور یہ بہت تھکا دینے والا تھا۔”

اُس رات میں نے محسوس کیا کہ کہانی کا اصل اختتام کسی رومان یا ناکامی میں نہیں، بلکہ اُس لمحے میں تھا جب اُس نے خود کو آزاد کر لیا۔ آزادی اس بات سے کہ ہر نظر تعریف ہو، ہر خاموشی گستاخی نہ لگے۔

شاید کچھ لوگ ہماری زندگی میں اس لیے آتے ہیں کہ ہمیں یہ سکھا جائیں کہ ہم اتنے کمزور نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں، اور نہ ہی اتنے خاص کہ ہر کوئی ہمیں دیکھ کر بدل جائے۔

اور یہی کہانی کا اختتام تھا۔ کوئی ڈرامہ نہیں، کوئی وعدہ نہیں، بس ایک انسان جو اب خود کو بہتر طور پر سمجھنے لگا تھا۔

مگر زندگی کبھی بھی ایک جملے پر ختم نہیں ہوتی۔ کہانی کے صفحے بند ہو جائیں تو بھی اندر کہیں لفظ چلتے رہتے ہیں۔

کچھ عرصہ بعد میری دوست کی زندگی میں اور بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ نئے چہرے، نئی محفلیں، مگر اب اُس کا رویہ بدل چکا تھا۔ وہ اب گفتگو میں خاموشی سے زیادہ خوفزدہ نہیں ہوتی تھی۔ اگر کوئی اُس پر فوراً متوجہ نہ ہوتا تو وہ اسے اپنی کمی نہیں سمجھتی تھی۔ یہ تبدیلی آہستہ آہستہ آئی تھی، اس لیے شاید کسی اور کو نظر نہ آئی ہو، مگر میں اسے صاف محسوس کر سکتی تھی۔

ایک دن ہم پارک میں بیٹھے تھے۔ شام ڈھل رہی تھی، بچے کھیل رہے تھے، اور اردگرد زندگی اپنی رفتار سے چل رہی تھی۔ اُس نے اچانک کہا،
“تمہیں معلوم ہے، اب میں آئینے میں خود کو دیکھ کر یہ نہیں سوچتی کہ دوسرے مجھے کیسا دیکھیں گے۔ اب بس یہ سوچتی ہوں کہ میں خود کو کیسا محسوس کر رہی ہوں۔”

میں نے اُس کی طرف دیکھا۔ اُس کے چہرے پر سکون تھا، وہ سکون جو تعریف سے نہیں، قبولیت سے آتا ہے۔

اسی لمحے اُس کا فون بجا۔ کسی نے اُسے کافی کے لیے مدعو کیا تھا۔ اُس نے کال بند کی، مسکرائی اور کہا،
“میں جاؤں گی، مگر کسی امید کے ساتھ نہیں۔ بس ایک انسان کی طرح، کسی انسان سے ملنے۔”

یہ جملہ شاید سادہ تھا، مگر اُس کے پیچھے ایک لمبا سفر تھا۔ وہ سفر جو ایک چینی ریسٹورنٹ کی میز سے شروع ہوا تھا، جہاں ایک معمولی سا واقعہ اُس کے اندر چھپی کمزوری کو سامنے لے آیا تھا۔

شاید اُس لڑکے کو کبھی معلوم بھی نہ ہو کہ اُس کی بے ساختہ شائستگی کسی کے لیے آئینہ بن گئی۔ اور شاید یہی زندگی کا حسن ہے۔ ہم جانے بغیر کسی کے اندر تبدیلی کی وجہ بن جاتے ہیں۔

جب ہم پارک سے اٹھے تو آسمان پر ہلکی سی سرخی پھیل چکی تھی۔ میری دوست نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا،
“اب اگر کوئی مجھے نظر انداز بھی کر دے، تو مجھے لگتا ہے میں پھر بھی مکمل ہوں۔”

میں نے مسکرا کر دل ہی دل میں سوچا، کہانی اب بھی جاری ہے، مگر اب وہ خود اپنی کہانی کی ہیروئن ہے، کسی اور کی نظر کی محتاج نہیں۔

زندگی نے اُس کے اس جملے کے بعد بھی اپنا معمول نہیں بدلا، مگر اُس کے اندر کچھ مستقل طور پر بدل چکا تھا۔ اب وہ کسی دعوت میں دیر سے پہنچتی تو پریشان نہیں ہوتی تھی کہ سب کی نظریں اُس پر کیوں نہیں ٹھہریں۔ اگر کوئی اُس سے کم بات کرتا تو وہ اس خاموشی میں اپنے لیے کوئی توہین نہیں ڈھونڈتی تھی۔ وہ بس لمحے کو جی لیتی تھی، بغیر کسی حساب کے۔

کچھ مہینوں بعد اُس نے خود مجھ سے کہا،
“مجھے اب احساس ہوا ہے کہ میں لوگوں کی توجہ کو محبت سمجھ بیٹھی تھی۔”

یہ جملہ کہتے ہوئے اُس کی آواز میں نہ ندامت تھی، نہ افسوس، بس سمجھ بوجھ تھی۔ جیسے کسی نے آخرکار کسی مشکل لفظ کا مطلب جان لیا ہو۔

ایک دن ہم شاپنگ کے لیے گئے۔ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اُس نے ایک لباس پہنا، پھر اتار دیا۔ پہلے وہ ایسے لمحوں میں ہمیشہ مجھ سے پوچھتی تھی،
“کیسا لگ رہا ہے؟ سب دیکھیں گے نا؟”
مگر اس بار اُس نے بس اتنا کہا،
“یہ مجھے اچھا محسوس نہیں کرا رہا۔”

میں نے اُس لمحے سمجھا کہ تبدیلی مکمل ہو چکی ہے۔ جب انسان دوسروں کی آنکھوں سے نکل کر اپنی آنکھوں میں واپس آ جاتا ہے، تب ہی اصل سکون ملتا ہے۔

اسی دوران ایک اور دلچسپ بات ہوئی۔ وہی لڑکا، جو کبھی اُس کی ناراضی کی وجہ بنا تھا، اب کبھی کبھار مشترکہ دوستوں کے ذریعے ذکر میں آ جاتا۔ مگر اب اُس کے نام پر نہ دل تیز دھڑکتا تھا، نہ غرور جاگتا تھا۔ بس ایک عام سا خیال آتا، جیسے کسی پرانی کتاب کا ایک صفحہ۔

ایک شام اُس نے کہا،
“اگر وہ دوبارہ نہ بھی ملے تو مجھے کوئی کمی محسوس نہیں ہو گی۔ اور اگر مل گیا تو بھی میں خود کو ثابت کرنے کی کوشش نہیں کروں گی۔”

یہ وہ مقام تھا جہاں کہانی محبت یا ناکامی سے آگے نکل چکی تھی۔ اب یہ کہانی خودشناسی کی تھی۔

وقت کے ساتھ اُس نے اپنی توانائی اُن چیزوں میں لگانا شروع کر دی جنہیں وہ واقعی پسند کرتی تھی۔ مطالعہ، لمبی واکس، خاموش موسیقی۔ وہ اب اکیلے بیٹھنے سے نہیں گھبراتی تھی۔ بلکہ کبھی کبھی تو وہ اکیلے پن کو بھی ایک نعمت سمجھنے لگی تھی۔

ایک رات اُس نے مجھے میسج کیا،
“آج میں اکیلے کھانے باہر گئی تھی۔ کسی کو متاثر کرنے کے لیے نہیں، بس اپنے ساتھ وقت گزارنے۔”

میں نے مسکرا کر فون رکھ دیا۔ مجھے لگا کہ یہ کہانی اب کسی موڑ کی محتاج نہیں رہی۔ اس کا حسن اسی میں تھا کہ یہ آہستہ آہستہ مکمل ہو گئی تھی۔

اور شاید یہی سب سے خوبصورت انجام ہوتا ہے،
جب کوئی واقعہ ہمیں کسی اور تک نہیں، بلکہ خود اپنے قریب لے آئے۔

اُس رات کے بعد اُس کی باتوں میں ایک عجیب سی ٹھہراؤ آ گیا تھا۔ جیسے وہ خود سے لڑنا چھوڑ چکی ہو۔ اب وہ اپنی کامیابیوں کو خاموشی سے قبول کرتی، اور اپنی کمزوریوں پر شور نہیں مچاتی تھی۔ یہ تبدیلی نمایاں نہیں تھی، مگر گہری تھی۔

کچھ دن بعد ہم ایک پرانی دوست کی سالگرہ پر اکٹھے ہوئے۔ وہی شور، وہی قہقہے، وہی تصویریں۔ مگر میری دوست اس بار ہجوم کا مرکز بننے کی کوشش میں نہیں تھی۔ وہ ایک طرف کھڑی لوگوں کو دیکھ رہی تھی، بات سن رہی تھی، مسکرا رہی تھی۔ اور عجیب بات یہ تھی کہ لوگ خود بخود اُس کی طرف کھنچتے چلے آ رہے تھے۔

ایک لڑکی نے اُس سے کہا،
“تم آج بہت پُرسکون لگ رہی ہو۔”

وہ مسکرا کر بولی،
“کیونکہ آج مجھے کچھ ثابت نہیں کرنا۔”

یہ جملہ شاید اُس کی زندگی کا خلاصہ بن چکا تھا۔

تقریب کے دوران کسی نے اُس لڑکے کا ذکر چھیڑا۔ کسی نے ہنستے ہوئے کہا،
“ویسے وہ چینی ریسٹورنٹ والا لڑکا بھی آیا ہے۔”

میں نے اُس کی طرف دیکھا۔ اُس کے چہرے پر نہ حیرت تھی، نہ بے چینی۔ بس ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور گزر گئی۔

کچھ دیر بعد وہ لڑکا واقعی سامنے آ گیا۔ اس بار وہ خود بات کرنے آیا۔ عام سی گفتگو، عام سا لہجہ۔ اُس نے کہا،
“تم کافی بدل گئی ہو۔”

میری دوست نے بغیر کسی توقف کے جواب دیا،
“شاید میں خود کو سمجھنے لگی ہوں۔”

وہ لمحہ نہ رومانوی تھا، نہ جذباتی، مگر بہت سچا تھا۔ جیسے دو لوگ ایک دوسرے کو اُس مقام پر دیکھ رہے ہوں جہاں کوئی دکھاوا نہیں۔

جب ہم واپسی کے لیے نکلے تو میری دوست نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے کچھ سوچ رہی ہو۔ پھر آہستہ سے بولی،
“کبھی کبھی انسان کو کسی کے دل میں جگہ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس اپنے اندر جگہ بنانا کافی ہوتا ہے۔”

میں نے اُس کی بات پر سر ہلایا۔ مجھے لگا کہ کہانی اب آخری سانس لے رہی ہے، مگر ایک مطمئن سانس۔ کیونکہ یہ کہانی کسی انجام کی محتاج نہیں تھی۔ یہ زندگی میں گھل چکی تھی، ایک خاموش سبق کی طرح، جو لفظوں سے زیادہ رویوں میں نظر آتا ہے۔

اور شاید یہی اس کہانی کا سب سے مضبوط اختتام تھا۔

وہ رات بھی گزر گئی، جیسے باقی سب راتیں گزر جاتی ہیں۔ کوئی خاص واقعہ نہیں ہوا، کوئی وعدہ نہیں کیا گیا، اور کوئی نیا خواب بھی نہیں بُنا گیا۔ مگر جب ہم رخصت ہو رہے تھے تو میری دوست کے قدموں میں عجیب سا اعتماد تھا، وہ اعتماد جو کسی کی توجہ سے نہیں، بلکہ خود کی پہچان سے آتا ہے۔

چند دن بعد میں نے اُسے ایک کیفے میں اکیلے بیٹھے دیکھا۔ سامنے کافی کا کپ تھا، ہاتھ میں کتاب، اور چہرے پر وہی پُرسکون سی خاموشی۔ وہ اب انتظار نہیں کرتی تھی کہ کوئی آئے اور اُس کی دنیا بدل دے۔ وہ خود اپنی دنیا میں موجود تھی، اور یہی اُس کی سب سے بڑی طاقت بن چکی تھی۔

اُس لڑکے کا ذکر آہستہ آہستہ ہماری باتوں سے نکل گیا۔ نہ اس لیے کہ وہ غیر اہم تھا، بلکہ اس لیے کہ اُس کا کام پورا ہو چکا تھا۔ وہ کسی رشتے کا آغاز نہیں تھا، بلکہ ایک سمجھ کا ذریعہ تھا۔

ایک دن اُس نے خود کہا،
“اب اگر کوئی میری زندگی میں آئے گا تو وہ اضافی ہوگا، ضرورت نہیں۔”

یہ جملہ سن کر مجھے لگا کہ کہانی واقعی ختم ہو گئی ہے۔ کیونکہ جب انسان خود کو مکمل مان لے، تو پھر کسی انجام کی تلاش باقی نہیں رہتی۔

یہ کہانی محبت کی نہیں تھی، نہ ہی کسی ناکام رشتے کی۔ یہ کہانی اُس لمحے کی تھی جب ایک انسان نے خود کو دوسروں کی نظروں سے آزاد کر لیا۔ اور یہی آزادی اس کہانی کا اصل انجام تھی۔

کچھ لوگ ہماری زندگی میں صرف ایک منظر ہوتے ہیں، پورا سفر نہیں۔ وہ آتے ہیں، خاموشی سے ہمیں کچھ سکھاتے ہیں، اور پھر یادوں میں بھی شور نہیں مچاتے۔

اور وہ لڑکی…
وہ اب خود کے ساتھ خوش تھی۔
کہانی وہیں ختم ہو گئی۔

Post a Comment for ""خاموشی میں خودی""