میں بیالیس برس کا ہوں۔ میری بیوی اڑتیس سال کی ہے۔ جب ہم پہلی بار ایک دوسرے کو جاننے لگے تو اُس نے بہت سادگی سے بتایا تھا کہ اُسے بچپن سے نیند میں چلنے اور بولنے کی بیماری ہے۔ اُس نے کہا تھا کہ یہ مسئلہ کبھی بہت شدید تھا مگر وقت کے ساتھ کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔ میں نے اُس کی بات پر یقین کیا، اور آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اُس نے جان بوجھ کر کوئی بات نہیں چھپائی تھی۔ شاید وہ برسوں اکیلی رہی تھی، اس لیے اُسے اندازہ ہی نہیں رہا کہ یہ مسئلہ اب بھی کس حد تک زندہ ہے۔
شروع میں یہ سب عجیب مگر بے ضرر لگتا تھا۔ نیند میں بڑبڑانا، ہلکی ہنسی، بے معنی جملے۔ پہلی رات جب ایسا ہوا تو اُس نے کروٹ بدلی، آنکھیں بند تھیں، اور پورے یقین سے کہا کہ “موسم بتانے والا اصل میں جام بنانے والا ہوتا ہے۔” پھر فوراً گہری نیند میں چلی گئی۔ میں ہنس پڑا تھا۔ اُس وقت مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ ہنسی آہستہ آہستہ خوف میں بدل جائے گی۔
کچھ ہی ہفتوں بعد منظر بدلنے لگا۔ میں رات کے کسی پہر آنکھ کھولتا تو اُسے اپنے پاس لیٹے دیکھتا، آنکھیں پوری کھلی، پلکیں تک نہیں جھپک رہیں، اور وہ چھت کو ایسے گھور رہی ہوتی جیسے وہاں کچھ لکھا ہو۔ ایک رات میں جاگا تو وہ آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے بال بار بار سنوار رہی تھی۔ میں نے اُس کا نام پکارا تو اُس نے آہستہ آہستہ گردن موڑی، بال برش کرنا جاری رکھا، اور مجھے ایسے دیکھا جیسے میں کوئی اجنبی ہوں۔ اُس نظر میں کوئی جذبہ نہیں تھا، نہ پہچان، نہ حیرت۔ بس خالی پن۔ اُس لمحے پہلی بار مجھے واقعی ڈر لگا۔
وہ نیند میں گھر کے اندر یوں گھومتی ہے جیسے کسی مقصد کے تحت۔ دروازے کھولنا، تالے کھولنا، چیزیں ادھر سے اُدھر رکھ دینا۔ کئی بار میں نے اُسے دروازے میں کھڑے دیکھا ہے، بس خلا میں گھورتی ہوئی۔ جب میں اُسے نرمی سے بستر کی طرف لے جانا چاہتا ہوں تو اُس کا جسم اکڑ جاتا ہے، وہ ہاتھ چھڑا لیتی ہے، جیسے کوئی اُسے مجبور کر رہا ہو اور وہ ماننا نہ چاہتی ہو۔
اصل مسئلہ میرے بچے ہیں۔ میری پہلی شادی سے میرے دو بچے ہیں جو میرے پاس آ کر رہتے ہیں۔ اب وہ رات گزارنے سے کتراتے ہیں۔ خاص طور پر میری بارہ سالہ بیٹی۔ ایک رات وہ کسی آواز سے جاگ گئی۔ اُس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو دیکھا کہ میری بیوی راہداری میں کھڑی آئینے پر بار بار اپنا سر مار رہی ہے۔ میری بیٹی چیخ پڑی۔ اُس رات کے بعد اُس کے دل میں یہ خوف بیٹھ گیا کہ یہ سب ڈرامہ ہے، کہ وہ جان بوجھ کر کچھ خوفناک کرنے والی ہے۔ میں جتنا سمجھاتا ہوں، اُس کا ڈر کم نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس میری چار سالہ چھوٹی بیٹی اس سب سے مسحور ہے۔ اُسے یہ سب کسی جادوئی دنیا جیسا لگتا ہے۔ ایک صبح میں جاگا تو بیوی بستر پر نہیں تھی۔ میں گھبرا گیا، پورا گھر چھان مارا کہ کہیں بچے ڈر نہ جائیں۔ آخرکار میں نے دیکھا کہ وہ نیچے باتھ ٹب میں بیٹھی سو رہی ہے، اور میری چھوٹی بیٹی اُس پر سر رکھ کر سوئی ہوئی ہے۔ بعد میں بیوی کو کچھ یاد نہیں تھا۔ میری بیٹی نے بڑے فخر سے بتایا کہ وہ رات کو اُسے چلتے ہوئے دیکھ کر اُس کے پیچھے پیچھے گئی، گھر میں گھومتی رہی، اور جب وہ باتھ ٹب میں بیٹھی تو وہ بھی اندر چلی گئی اور سو گئی۔
میں نے سختی سے اُسے سمجھایا کہ آئندہ اگر کبھی بھی وہ ایسا منظر دیکھے تو فوراً مجھے جگائے۔ مگر کچھ دن بعد پھر ایسا ہی ہوا۔ اُس نے مجھے اس لیے نہیں جگایا کہ اُس وقت میری بیوی باتیں کر رہی تھی، اور اُسے لگا کہ وہ جاگ رہی ہیں۔
اُس دن کے بعد میرا دل بچوں کے یہاں آنے پر کانپنے لگا۔ جب وہ میرے پاس ہوتے ہیں تو میں سوتا نہیں۔ بس لیٹا رہتا ہوں، کان لگائے، کسی آہٹ کے انتظار میں۔ میری بیوی کوشش کرتی ہے، میں یہ بات مانتا ہوں۔ وہ خود اس حال پر شرمندہ ہے۔ اُس نے کبھی کبھی اپنی کلائی بستر سے باندھ لی تاکہ کمرے سے نہ نکل سکے۔ کبھی یہ طریقہ کام کر جاتا ہے، کبھی وہ خود کو آزاد کر لیتی ہے۔ ہم نے دروازہ بند کر کے چابی چھپا دی، مگر وہ کسی نہ کسی طرح چابی ڈھونڈ لیتی ہے۔ یہ سب ناقابلِ یقین لگتا ہے۔
ان سب مسائل کے علاوہ ہماری زندگی اچھی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے لیے اچھے ہیں۔ میں اُس سے محبت کرتا ہوں۔ میں واقعی چاہتا ہوں کہ کوئی حل ہو، کہ میں اُس کی مدد کر سکوں۔ مگر سچ یہ ہے کہ میں خود کو بے بس محسوس کرتا ہوں۔ یہ سب میرے جذبات پر اثر ڈال رہا ہے۔ محبت ہے، مگر خوف بھی ہے۔
جب اُس نے اپنے بچپن کے واقعات بتانے شروع کیے تو میرا دل بیٹھنے لگا۔ اُس نے بتایا کہ ایک بار اُس نے نیند میں اپنی چھوٹی بہن کو بستر سے اٹھایا، گھر سے باہر لے گئی، اور گھاس پر چھوڑ آئی۔ اُسے نہ یہ یاد تھا کہ وہ کہاں گئی، نہ یہ کہ بہن کہاں رہ گئی۔ یہ سن کر میرے ذہن میں اپنی چار سالہ بیٹی کا چہرہ آ گیا، جو خوشی خوشی اُس کے پیچھے چلتی ہے۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اگر وہ بچی اُس کے ساتھ باہر نکل جائے تو؟ اگر وہ کہیں اور لے جائے؟ یہ سوچ ہی مجھے اندر سے توڑ دیتی ہے۔
سب سے خوفناک بات اُس کی یادداشت کا مکمل مٹ جانا ہے۔ صبح وہ بالکل خود ہوتی ہے۔ نرم، مہربان، ذمہ دار۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں دو مختلف لوگوں کے ساتھ رہ رہا ہوں، اور ایک ایسا ہے جس کا کوئی اندازہ نہیں۔
وہ ڈاکٹروں کے پاس جاتی رہی ہے۔ بچپن سے لے کر آج تک۔ نیورولوجسٹ، ماہرِ نفسیات، نیند کے کلینک۔ اُس کے سر میں ایک پرانا زخم ہے، ایک گڑھا سا، مگر ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کا تعلق نہیں۔ کئی دوائیں دی گئیں، کچھ نے وقتی فائدہ دیا، کچھ نے بالکل نہیں۔ ایک دوا بہت مؤثر تھی مگر اُس کے گردوں پر برا اثر ڈال رہی تھی، اس لیے بند کرنی پڑی۔
اُس نے بتایا کہ نیند میں چلنے سے پہلے اُسے بہت حقیقی ڈراؤنے خواب آتے تھے، جیسے وہ لاشوں کے درمیان جاگ رہی ہو۔ ڈاکٹر نے اسے نائٹ ٹیررز کہا۔ کبھی وہ الارم لگاتی ہے، اور نیند میں ہی بند کر دیتی ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
لوگ آسانی سے مشورے دیتے ہیں۔ ڈاکٹر بدلو، علاج بدلو۔ مگر یہ مسئلہ اُس کی پوری زندگی پر پھیلا ہوا ہے۔ سینکڑوں ڈاکٹر، برسوں کی کوششیں۔ اگر اتنے سالوں میں کوئی مکمل حل نہیں ملا تو میں کیسے یقین کر لوں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا؟
میں اپنی بیوی سے محبت کرتا ہوں۔ وہ واقعی ایک اچھی انسان ہے۔ مگر میں تھکا ہوا ہوں۔ اور سچ کہوں تو ڈرا ہوا بھی۔ کبھی کبھی وہ نیند میں ایسی باتیں کہتی ہے جو روح تک ہلا دیتی ہیں۔ ایک بار اُس نے کہا، “اپنی آنکھیں نکال لو۔” وہ آواز، وہ لہجہ، وہ خالی نظر… یہ سب میرے ساتھ رہتا ہے۔
میں نہیں جانتا کہ اس سب کا انجام کیا ہے۔ میں بس یہ جانتا ہوں کہ محبت کے ساتھ ساتھ خوف بھی اب میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اور شاید یہی سب سے مشکل حقیقت ہے۔
میں نے اُس رات پہلی بار اپنے آپ سے سچ بولا کہ یہ مسئلہ صرف نیند کا نہیں رہا۔ یہ اب ہماری پوری زندگی میں سرایت کر چکا تھا۔ میں بستر پر لیٹا اُس کی سانسوں کی آواز سنتا رہا، یہ جاننے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ واقعی سو رہی ہے یا بس ایک اور روپ میں داخل ہونے والی ہے۔ عجیب بات یہ تھی کہ نیند میں اُس کی سانسیں بالکل عام ہوتیں، جیسے ایک پُرسکون انسان کی، مگر مجھے معلوم تھا کہ اسی خاموشی کے اندر ایک طوفان چھپا ہوا ہے۔
کبھی کبھی مجھے اُس پر ترس آتا تھا۔ میں اُسے سوتے ہوئے دیکھتا تو دل چاہتا کہ اُسے جگا کر کہوں، “تم ٹھیک ہو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔” مگر میں جانتا تھا کہ یہ صرف میری تسلی ہوتی، حقیقت نہیں۔ وہ خود بھی اس سے نفرت کرتی تھی۔ صبح جب میں اُسے پچھلی رات کے کسی واقعے کے بارے میں بتاتا تو اُس کے چہرے کا رنگ بدل جاتا۔ آنکھوں میں شرمندگی، خوف، اور ایک عجیب سی ٹوٹ پھوٹ آ جاتی۔ وہ بار بار کہتی، “مجھے یقین نہیں آتا میں ایسا کر سکتی ہوں۔ اگر میں واقعی خطرناک ہوں تو؟”
یہ سوال میرے دل میں بھی گونجتا تھا، مگر میں کبھی زبان پر نہیں لایا۔ میں اُس کے سامنے مضبوط بننے کی کوشش کرتا، مگر اندر سے میرا اعتماد ریزہ ریزہ ہو رہا تھا۔
ایک رات، جب بچے ہمارے پاس نہیں تھے، اُس کی حالت کچھ زیادہ ہی عجیب تھی۔ وہ بستر سے اٹھی، آہستہ آہستہ کمرے کے دروازے تک گئی، پھر رک گئی۔ اُس نے دیوار پر ہاتھ رکھا جیسے کچھ تلاش کر رہی ہو۔ میں نے ہمت کر کے اُس کے قریب جا کر آہستہ سے کہا، “چلو واپس سوتے ہیں۔” اُس نے اچانک میرا ہاتھ جھٹک دیا۔ اُس کی گرفت مضبوط تھی، غیر معمولی طور پر مضبوط۔ اُس لمحے مجھے احساس ہوا کہ نیند میں اُس کے جسم کی طاقت بدل جاتی ہے، جیسے دماغ کے کسی اور حصے نے کنٹرول سنبھال لیا ہو۔
میں پیچھے ہٹ گیا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ کچھ لمحے دیوار کو گھورتی رہی، پھر بغیر کچھ کہے نیچے کی طرف چل پڑی۔ میں اُس کے پیچھے پیچھے گیا، ہر قدم پر یہ سوچتے ہوئے کہ اگر وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی تو میں کیا کروں گا؟ کیا میں اُسے روک پاؤں گا؟ یا بس دیکھتا رہ جاؤں گا؟
وہ اس بار باہر نہیں گئی۔ وہ کچن میں گئی، ایک کرسی کھینچی، اس پر بیٹھ گئی، اور میز پر انگلیوں سے ایک ہی نقش بار بار بنانے لگی۔ اُس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ میں نے غور سے سنا تو وہ کسی بچے کا نام لے رہی تھی۔ وہ نام میری چھوٹی بیٹی کا تھا۔
میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ میں نے اُس لمحے فیصلہ کیا کہ اب یہ صرف میرا اور اُس کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ بچوں کی حفاظت کا سوال تھا۔ اگلے دن میں نے بچوں کی ماں سے بات کی۔ میں نے پوری سچائی نہیں بتائی، مگر اتنا ضرور کہا کہ حالات کچھ عرصے کے لیے ٹھیک نہیں ہیں۔ فون بند کرنے کے بعد میں دیر تک خالی دیوار کو دیکھتا رہا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں ایک ناکام باپ ہوں، جو اپنے بچوں کو اپنے ہی گھر سے دور کر رہا ہے۔
میری بیوی کو جب پتا چلا تو وہ خاموش ہو گئی۔ اُس نے کوئی بحث نہیں کی، کوئی الزام نہیں لگایا۔ بس ایک جملہ کہا، “میں سمجھتی ہوں۔” مگر اُس جملے میں جو ٹوٹا ہوا پن تھا، وہ مجھے اندر تک چیر گیا۔ اُس رات اُس نے خود ہی صوفے پر سونے کا فیصلہ کیا۔ میں جانتا تھا کہ وہ خود کو سزا دے رہی ہے۔
دن گزرتے گئے۔ میں نے خود کو مسلسل چوکنا رکھا۔ دروازوں پر اضافی تالے، کھڑکیوں پر سلاخیں، باہر کے دروازے پر الارم۔ ہمارا گھر آہستہ آہستہ کسی قلعے جیسا بنتا جا رہا تھا، مگر یہ قلعہ باہر کے دشمن سے نہیں، اندر کے خوف سے بنایا گیا تھا۔
کبھی کبھی میں سوچتا کہ اگر میں اُس سے الگ ہو جاؤں تو شاید سب آسان ہو جائے۔ مگر پھر اُس کی دن کی شکل یاد آتی۔ وہ عورت جو بچوں کے لیے کھانا بناتی ہے، جو ہنستی ہے، جو میری بات سنتی ہے، جو میرا ہاتھ تھام کر کہتی ہے کہ وہ اکیلی نہیں رہنا چاہتی۔ میں کیسے اُس انسان کو چھوڑ دوں جس نے خود کبھی یہ بیماری نہیں چُنی؟
مگر رات آتے ہی سب بدل جاتا۔ اندھیرا ہوتے ہی میرا دل بھاری ہو جاتا۔ میں جانتا تھا کہ ایک اور جنگ شروع ہونے والی ہے، ایسی جنگ جس میں کوئی جیتتا نہیں، صرف تھکتا ہے۔
اور شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ میں آہستہ آہستہ اُس سے ڈرنے لگا تھا۔ اُس عورت سے، جس سے میں محبت کرتا تھا۔ اور یہ احساس، یہ خوف، میرے لیے کسی بھی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔
ایک دن میں نے محسوس کیا کہ میرا جسم اب تھکن کا عادی ہو چکا ہے۔ آنکھیں جلتی تھیں، سر بھاری رہتا تھا، مگر نیند آنے کا تصور بھی خوف سے بھر جاتا تھا۔ میں نے خود کو آئینے میں دیکھا تو مجھے اپنا چہرہ اجنبی لگا۔ جیسے میں بھی آہستہ آہستہ کسی اور میں بدل رہا ہوں۔ ایک ایسا انسان جو ہر آہٹ پر چونک جاتا ہے، ہر خاموشی میں خطرہ تلاش کرتا ہے۔
اُس رات میں نے فیصلہ کیا کہ میں جاگتا رہوں گا۔ میں نے کافی بنائی، صوفے پر بیٹھ گیا، اور گھڑی کو گھورتا رہا۔ بارہ بجے، ایک بجے، دو بجے۔ سب کچھ خاموش تھا۔ میں نے خود کو یہ کہہ کر مطمئن کرنا چاہا کہ شاید آج کی رات مختلف ہو۔ شاید آج کچھ نہیں ہو گا۔
پھر اچانک وہ اُٹھی۔
بغیر کسی آواز کے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے۔ اُس کے قدم ہلکے تھے، مگر میرے دل پر ہر قدم بھاری پڑ رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی بچوں کے کمروں کی طرف بڑھی۔ میں فوراً کھڑا ہو گیا۔ میرے پاؤں جیسے فرش سے چپک گئے ہوں، مگر میں نے خود کو گھسیٹا، اُس کے پیچھے گیا۔
وہ دروازے کے سامنے رک گئی۔ ہاتھ آہستہ سے دروازے کے ہینڈل پر رکھا۔ اُس لمحے میرا سانس رک گیا۔ میں نے ہمت جمع کی اور دھیمی آواز میں اُس کا نام لیا۔ اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس ہاتھ ہینڈل پر ہی رکھا رہا، جیسے سوچ رہی ہو۔
پھر وہ مُڑی۔ اُس کی آنکھیں کھلی تھیں، مگر مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھے دیکھ نہیں رہی۔ اُس نے سر تھوڑا سا جھکایا اور بہت آہستہ سے کہا، “وہ یہاں نہیں ہے۔”
میرے بدن میں کپکپی دوڑ گئی۔ میں نے پوچھنا چاہا، “کون؟” مگر آواز گلے میں ہی پھنس گئی۔ وہ میرے پاس سے گزری، سیڑھیوں کی طرف چل دی۔ میں نے اُس کا راستہ روکا، مگر اُس نے مجھے ایسے دھکا دیا جیسے میں کوئی چیز ہوں، انسان نہیں۔ اُس طاقت نے مجھے پیچھے دیوار سے ٹکرا دیا۔
وہ نیچے گئی، باہر کے دروازے تک پہنچی۔ میں دوڑ کر اُس کے سامنے آ گیا، دونوں ہاتھ دروازے پر رکھ دیے۔ اُس لمحے پہلی بار اُس کے چہرے پر کوئی تاثر آیا۔ غصہ نہیں، خوف نہیں، بس ایک عجیب سی بے چینی۔ اُس نے سرگوشی میں کہا، “راستہ بند مت کرو۔”
میرے دل میں ایک ہی خیال تھا: اگر آج وہ باہر گئی تو شاید واپس نہ آئے۔ یا شاید واپس آئے، مگر کچھ ایسا کر کے جسے میں کبھی معاف نہ کر سکوں۔
میں نے دروازہ نہیں چھوڑا۔ ہم چند لمحے یوں ہی کھڑے رہے۔ پھر اچانک اُس کا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔ وہ زمین پر بیٹھ گئی، آنکھیں بند ہو گئیں، جیسے کسی نے سوئچ آف کر دیا ہو۔ میں نے اُسے اٹھا کر صوفے پر لٹایا۔ اُس کی سانسیں ہموار تھیں۔ وہ سو رہی تھی۔
صبح جب وہ جاگی تو میں نے اُس کی آنکھوں میں ایک نیا خوف دیکھا۔ شاید وہ میرے چہرے سے سب سمجھ گئی تھی۔ اُس نے آہستہ سے پوچھا، “میں نے کچھ کیا؟”
میں نے جھوٹ بولا۔ میں نے کہا، “نہیں، بس تم کچن تک گئی تھیں۔” میں اُس کے اندر مزید خوف نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ مگر اس جھوٹ نے میرے اندر کچھ توڑ دیا۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ میں خود بھی اس بیماری کا حصہ بنتا جا رہا ہوں۔
کچھ دن بعد میری بڑی بیٹی نے مجھ سے صاف کہہ دیا کہ وہ یہاں رات نہیں گزارے گی۔ اُس نے کہا، “ابو، میں ڈرتی ہوں۔” اُس ایک جملے نے میرے دل کو چیر دیا۔ میں نے اُسے گلے لگایا، مگر اندر سے خود کو معاف نہیں کر سکا۔
میری بیوی نے یہ سنا تو اُس نے خود ہی ایک بیگ پیک کر لیا۔ اُس نے کہا کہ وہ کچھ وقت اپنی بہن کے پاس رہے گی۔ میں نے اُسے روکا نہیں۔ شاید میں خود بھی یہی چاہتا تھا، مگر یہ ماننے کی ہمت نہیں تھی۔
جب وہ گھر سے گئی تو گھر خالی نہیں ہوا، بلکہ اور زیادہ بھاری ہو گیا۔ راتیں خاموش تھیں، مگر وہ خاموشی سکون والی نہیں تھی۔ مجھے ہر سایہ اُس کی یاد دلاتا۔ ہر دروازہ، ہر آئینہ۔
میں نے سوچا تھا کہ اُس کے جانے کے بعد مجھے راحت ملے گی۔ مگر سچ یہ تھا کہ میں نے اُس کے ساتھ اپنا خوف تو بھیج دیا تھا، مگر اپنی محبت نہیں۔ میں ہر رات یہی سوچتا رہا کہ وہ اکیلی کیسی ہو گی۔ اگر اُسے وہاں بھی کچھ ہو گیا تو؟
اور تب مجھے ایک اور سچ کا سامنا کرنا پڑا۔ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ میں اُس سے ڈرتا تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ میں اُس کے بغیر بھی خود کو مکمل محسوس نہیں کرتا تھا۔ میں ایک ایسی جنگ لڑ رہا تھا جس میں ہر فیصلہ کسی نہ کسی کو زخمی کر دیتا تھا۔
مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا ہو گا۔ شاید ہم کوئی راستہ نکال لیں، شاید نہیں۔ مگر ایک بات طے تھی: یہ کہانی صرف نیند میں چلنے کی نہیں تھی۔ یہ کہانی خوف، محبت، ذمہ داری اور اُس حد کی تھی جہاں انسان خود سے پوچھتا ہے کہ وہ کتنا سہہ سکتا ہے، اور کس قیمت پر۔

Post a Comment for "خاموش قدموں کی بازگشت"