Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

"عہدِ محبت"

 


رات کا اندھیرا جنگل پر چھایا ہوا تھا۔ سرد ہوا درختوں کے پتوں کے درمیان سے گزرتی، ہر حرکت کو سنجیدگی سے جھلکاتی تھی۔ جنگل کے کنارے ایک چھوٹی سی لڑکی، عائشہ نور، آہستہ قدموں سے چل رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور دل میں ایک اندھیرا جو کبھی ختم نہ ہونے والا لگتا تھا۔ قبیلے کے لوگ اسے کمزور سمجھتے تھے، اسے دھتکارا کرتے تھے، اور اس کے ہر قدم پر طنز کرتے تھے۔ والدین کے کھو جانے کے بعد اس کے لیے زندگی سخت اور بے رحم ہو گئی تھی۔

زمرد، اس کا اندرونی وولف، اکثر اس کے کان میں سرگوشی کرتا:
"تم کمزور نہیں، عائشہ۔ تمہاری رگوں میں وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو چیر دے گی۔ تم ہی چاندنی کی ملکہ ہو۔"

عائشہ ان الفاظ کو دل سے قبول نہیں کرتی تھی، لیکن ایک چھپی ہوئی امید ہمیشہ اس کے دل میں موجود تھی۔ اس نے اپنے آپ سے کہا، "کاش میں واقعی اتنی طاقتور ہو جاؤں کہ سب میرے وجود کو دیکھ سکیں۔"

ایک رات جب وہ جنگل کے ایک سنسان مقام پر بیٹھی تھی، اچانک کچھ دشمن بھیڑیوں نے اسے گھیر لیا۔ وہ خوفزدہ ہو گئی، ہر عضلہ کانپ رہا تھا، اور دل کی دھڑکن تیز تھی۔ بھاگنے کی کوشش میں قدم زمین پر جم گئے۔ دشمن قریب آنے ہی والے تھے کہ اچانک ایک دھاڑ سنائی دی۔ زمین کانپی، ہوا لرز گئی، اور ایک جوان مرد نمودار ہوا۔ ریحان شاہ، مستقبل کا الفا کنگ، دشمنوں پر ٹوٹ پڑا اور لمحوں میں سب کو بھگا دیا۔

ریحان کی آنکھوں میں غرور تھا، لیکن جب اس نے عائشہ کو زخمی اور خوفزدہ دیکھا، اس کے دل میں ہمدردی جاگ اُٹھی۔
"تم جیسی کمزور لڑکی جنگل میں اکیلی کیوں آئی؟" اس نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

عائشہ نے آنسو چھپاتے ہوئے جواب دیا، "کمزور وہ نہیں جو سب کمزور سمجھیں، کمزور وہ ہے جو اپنے دل کی سچائی کو نہ پہچانے۔"

ریحان لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا، جسے وہ لفظوں میں بیان نہ کر سکا۔

وقت گزرتا گیا اور عائشہ کی زندگی میں مشکلات اور بڑھنے لگیں۔ قبیلے کے لوگ اسے نظرانداز کرتے رہے، لیکن ہر ملاقات میں ریحان اور عائشہ کے دل قریب ہوتے گئے۔ کشمکش، بحث، اور چھوٹی چھوٹی کشیدگیوں نے ان کے تعلق کو مضبوط کیا۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے پرکشش تھے، لیکن غرور اور خوف نے ان کے دل کی بات کو روک رکھا تھا۔

اسی دوران ایک پرانی پیشگوئی سامنے آئی۔ کہا گیا کہ "چاندنی کی ملکہ" وہ لڑکی ہوگی جو نہ صرف اپنے قبیلے بلکہ پوری بھیڑیائی دنیا کی تقدیر بدل دے گی۔ سب کو شک تھا کہ یہ لڑکی کون ہے، لیکن جلد ہی معلوم ہوا کہ نشانیوں کے مطابق وہ لڑکی عائشہ نور ہی تھی۔

ریحان کے دل میں تذبذب بڑھ گیا۔ ایک طرف اس کا غرور کہ اسے اپنی طاقتور اور فیصلہ کن حیثیت برقرار رکھنی ہے، دوسری طرف دل کی دھڑکن کہ وہ عائشہ کو اپنے قریب پانا چاہتا ہے۔ عائشہ کے لیے بھی یہ لمحے امتحان کے تھے۔ کامران خان، ایک طاقتور اور خطرناک دشمن، قبیلے پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ عائشہ کو ختم کر کے اس کی طاقت اپنے قبضے میں لے لے۔

وقت کی رفتار تیز ہو گئی۔ جنگ کے دن قریب آ گئے۔ قبیلے میں خوف اور بے چینی کی فضاء پھیل گئی۔ عائشہ نے اپنے اندر چھپی طاقت کو پہچاننا شروع کیا۔ اس نے زمرد کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، "اب وقت آ گیا ہے، میں اپنے اندر کے خوف کو نہیں چھوڑ سکتی۔ مجھے اپنی تقدیر قبول کرنی ہوگی۔"

ریحان نے اسے اپنی آنکھوں میں دیکھا اور دل ہی دل میں سوچا کہ یہ لڑکی واقعی غیر معمولی ہے۔ اس نے اسے کہا، "تم صرف ایک لڑکی نہیں، تم وہ روشنی ہو جو سب کو دکھا دے گی کہ اصل طاقت دل کی سچائی میں ہے۔"

فیصلہ کن رات آئی۔ دشمنوں نے قبیلے پر حملہ کیا۔ ہر طرف آگ، خون اور چیخ و پکار تھی۔ عائشہ زخمی ہو گئی لیکن اسی لمحے اس کے اندر چھپی ہوئی طاقت بیدار ہو گئی۔ اس کی آنکھیں چمکنے لگیں، اور اس کے جسم سے ایک روشنی پھوٹی جس نے دشمنوں کو بھسم کر دیا۔ ریحان نے پہلی بار اس کی اصل طاقت دیکھی۔ غرور کا قلعہ ٹوٹ گیا، اور دل کی نرم روشنی نے اسے جکڑ لیا۔

عائشہ کی قیادت میں قبیلے نے دشمن کو شکست دی۔ کامران خان کا منصوبہ ناکام ہوا اور وہ بھاگنے پر مجبور ہوا۔ قبیلے نے پہلی بار عائشہ کی قابلیت اور شجاعت کو تسلیم کیا۔ وہ کمزور لڑکی نہیں رہی تھی، بلکہ اب وہ سب کے لیے روشنی اور امید کی علامت تھی۔

اس جنگ کے بعد، جب رات کا سکون واپس آیا، ریحان نے عائشہ کے ہاتھ کو تھاما اور کہا، "تم صرف میرا مقدر نہیں، تم میری ملکہ ہو۔"
عائشہ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ گئے۔ وہ جان گئی تھی کہ ہر درد اور ہر غم نے اسے اس مقام تک پہنچایا ہے۔

محبت کے ساتھ ساتھ دونوں نے قبیلے کی ترقی اور حفاظت کے لیے کام کیا۔ ریحان نے غرور کو دل کی نرمی میں بدل دیا، اور عائشہ نے اپنی طاقت کو صحیح معنوں میں سمجھا۔ ان کا رشتہ نہ صرف محبت کا تھا بلکہ اعتماد، قربانی اور تقدیر کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔

چند مہینوں بعد قبیلے میں خوشی کی فضا چھا گئی۔ سب نے عائشہ اور ریحان کی کامیابیوں کو سراہا۔ بچوں نے عائشہ کی کہانی سن کر حوصلہ حاصل کیا اور جوان لڑکیاں اور لڑکے اپنی تقدیر بدلنے کے لیے حوصلہ مند ہوئے۔ عائشہ اور ریحان نے سب کے دل جیت لیے، نہ صرف اپنے قبیلے میں بلکہ دشمنوں میں بھی احترام پیدا کر دیا۔

چاندنی رات میں جب دونوں آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے، چاند کی روشنی ان کے چہروں پر پڑ رہی تھی، ریحان نے کہا، "یہ چاند ہماری کہانی کا گواہ ہے۔"
عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا، "یہ روشنی ہمیشہ ہمیں یاد دلاتی رہے گی کہ محبت اور دل کی سچائی سب سے بڑی طاقت ہے۔"

یوں عائشہ نور، جو کبھی کمزور اور نظر انداز سمجھی جاتی تھی، نے قبیلے کی تقدیر بدل دی اور اپنے اندر چھپی طاقت اور محبت کو پہچان کر سب کے لیے امید بن گئی۔ ریحان شاہ کے ساتھ اس کا رشتہ ثابت ہو گیا کہ حقیقی طاقت غرور میں نہیں، دل کی سچائی اور محبت میں ہوتی ہے۔

آخر میں، قبیلے نے امن قائم کیا، دشمن ناکام ہوئے، اور چاندنی رات میں ہر طرف روشنی پھیل گئی۔ عائشہ اور ریحان کی کہانی صرف محبت کی نہیں بلکہ ہمت، قربانی، اور تقدیر کے ساتھ جڑ جانے کی داستان بن گئی۔ ان دونوں نے نہ صرف اپنی تقدیر کو پہچانا بلکہ سب کے لیے مثال قائم کی کہ ہر اندھیرا ایک دن چاندنی میں بدل سکتا ہے۔

Post a Comment for ""عہدِ محبت""