"اندھیری رات کا راز"

 

رات  کے سناٹے کو چیرتی ہوئی ایک کار سنسان بائی پاس پر تیزی سے رواں تھی۔ فضا میں ایک گہرا سکوت طاری تھا، جیسےرات پوری دنیا سو چکی ہو۔ آسمان پر بادلوں کا ہجوم اور کہیں کہیں بجلی کی چمک اس ویران جنگل کو لمحہ بھر کے لیے اجال دیتی، پھر اندھیرا دوبارہ چھا جاتا۔ کار میں حمزہ، اس کی بیوی سارہ، اور ان کا تین سالہ بیٹا عامر بیٹھے تھے۔ سارہ اور عامر سفر کی تھکن سے گہری نیند سوئے ہوئے تھے، جبکہ حمزہ پوری توجہ کے ساتھ گاڑی چلا رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ جلد از جلد اس سنسان علاقے سے نکل جائے۔ اس نے جلد بازی میں وہ راستہ منتخب کیا تھا جو گوگل میپ پر مختصر دکھایا گیا تھا، مگر اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ شاید یہ فیصلہ غلط تھا۔

یہ راستہ جنگل کے درمیان سے گزرتا تھا، اور علاقے کے لوگ اسے “خونی سڑک” کے نام سے جانتے تھے۔ کہانیوں کے مطابق، جو بھی رات کے وقت اس سڑک سے گزرا، وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکا۔ کئی حادثات ہو چکے تھے، کئی جانیں جا چکی تھیں، مگر حقیقت کوئی نہیں جانتا تھا۔ حمزہ کو ان باتوں کا علم نہیں تھا۔ اس کے لیے یہ بس ایک مختصر راستہ تھا۔ لیکن چند کلومیٹر سفر کے بعد ہی اسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی، مگر اس نے اپنی بیوی اور بچے کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

سفر کے دوران اچانک حمزہ نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک کار کھڑی ہے، جس کے قریب ایک آدمی کھڑا ہاتھ ہلا کر مدد مانگ رہا ہے۔ وہ آدمی سفید لباس میں تھا اور چہرے پر عجیب سنجیدگی تھی۔ حمزہ نے لمحہ بھر کو سوچا کہ گاڑی نہ روکے، مگر دل میں انسانیت جاگی۔ اس نے بریک لگائی اور گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی۔

آدمی قریب آیا۔ وہ خود کو عمر کہہ رہا تھا۔ نرم لہجے میں بولا، “بھائی صاحب، میری گاڑی خراب ہوگئی ہے، میری بیوی بھی ساتھ ہے، اگر ممکن ہو تو ہمیں شہر تک لفٹ دے دیں۔”

حمزہ نے کار کے اندر جھانکا، ایک عورت پیچھے کی سیٹ پر بیٹھی تھی — چہرے پر سکون، لباس سفید۔ سارہ جو اب جاگ چکی تھی، فوراً بولی، “انہیں ساتھ لے لیتے ہیں حمزہ، یہاں کوئی نہیں، خدا نہ کرے کچھ ہوجائے تو؟” حمزہ نے سر ہلایا۔

گاڑی میں معمولی سی جگہ بنائی گئی۔ سارہ پچھلی سیٹ پر چلی گئی، اپنے بیٹے کے ساتھ، اور نبیلہ، عمر کی بیوی، بھی وہیں بیٹھ گئی۔ حمزہ نے دعا پڑھی اور گاڑی دوبارہ آگے بڑھا دی۔

چند منٹ بعد ایک عجیب خوشبو گاڑی میں پھیلنے لگی — میٹھی مگر بےحد تیز، جیسے چنبیلی اور مٹی کی ملی جلی مہک ہو۔ حمزہ نے محسوس کیا کہ اس خوشبو سے اسے ہلکی سی چکر آ رہی ہے۔ اس نے آئینے میں دیکھا، عمر خاموشی سے باہر دیکھ رہا تھا، نبیلہ کی نظریں نیچے جھکی تھیں۔

راستہ جیسے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گھپ اندھیرے میں صرف گاڑی کی ہیڈ لائٹس سڑک کو روشن کر رہی تھیں۔ سارہ نے آہستہ آواز میں کہا، “یہ لوگ کچھ عجیب نہیں لگ رہے؟ اتنے خاموش کیوں ہیں؟” حمزہ نے جواب دیا، “ہو سکتا ہے ڈر گئے ہوں۔ ابھی طوفان آنے والا لگتا ہے۔” مگر خود اس کے دل میں بھی خوف سرسرانے لگا تھا۔

اچانک ہوا تیز ہوگئی۔ درخت ہلنے لگے، پتوں کی سرسراہٹ ایک خوفناک شور میں بدل گئی۔ آسمان پر بجلی چمکی اور زوردار گرج کے ساتھ بارش شروع ہوگئی۔ گاڑی کی ونڈ اسکرین پر پانی تیزی سے گر رہا تھا۔ حمزہ کی گرفت اسٹیئرنگ پر مزید مضبوط ہوگئی۔

“اتنی تیز آندھی میں گاڑی روک لو،” سارہ نے کہا۔

“نہیں، یہاں رکنا ٹھیک نہیں، درخت گر سکتے ہیں۔” حمزہ بولا۔ مگر اسی لمحے ایک بڑا درخت سڑک پر گر گیا، بالکل ان کے سامنے۔ حمزہ نے زور سے بریک لگائی۔ گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔ عامر جاگ گیا اور زور زور سے رونے لگا۔ سارہ نے بیٹے کو گود میں اٹھا لیا۔

حمزہ نے سانس بھرتے ہوئے آئینے میں دیکھا — عمر اور نبیلہ بدستور خاموش بیٹھے تھے۔ ان کے چہروں پر کوئی تاثر نہیں تھا، جیسے وہ کسی اور دنیا کے ہوں۔ “آپ ٹھیک ہیں؟” حمزہ نے پوچھا۔ عمر نے خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور بولا، “ڈر کیسا ڈر؟”

اس کی آواز میں ایک عجیب گونج تھی۔ گاڑی کے اندر سردی بڑھ گئی، جیسے کسی نے ایئرکنڈیشنر کی ہوا برف میں بدل دی ہو۔ سارہ کے ہاتھ کپکپانے لگے۔ “حمزہ، کچھ تو غلط ہے۔” اس نے آہستہ کہا۔ حمزہ کے گلے میں لفظ اٹک گئے۔ وہ جانتا تھا کہ سارہ درست کہہ رہی ہے، مگر اب وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔

حمزہ نے موبائل فون دیکھا — کوئی سگنل نہیں۔ میپ بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ وہ اس سڑک پر اکیلا تھا، جنگل میں، دو اجنبیوں کے ساتھ جو حد سے زیادہ پرسکون تھے۔

بارش تھم گئی، مگر دھند چھا گئی۔ سڑک غائب ہونے لگی۔ گاڑی کی رفتار کم کی گئی، مگر ایک موڑ پر حمزہ کو لگا جیسے کسی نے گاڑی کے بونٹ پر ہاتھ مارا ہو۔ اس نے فوراً بریک لگائی۔ باہر کچھ نہیں تھا۔ صرف دھند، اور درختوں کے درمیان سے جھانکتی زرد روشنی، جیسے کسی نے لالٹین جلائی ہو۔

“یہ کیا ہے؟” سارہ نے سہمے لہجے میں پوچھا۔

“شاید کوئی جھونپڑی ہے۔” حمزہ نے جواب دیا، مگر اس کے لہجے میں اعتماد نہیں تھا۔

عمر بولا، “وہ میرا گھر ہے۔ آپ چاہیں تو کچھ دیر آرام کر لیں۔”

حمزہ نے حیرت سے کہا، “آپ کا گھر؟ یہاں جنگل میں؟”

عمر نے محض مسکرا کر کہا، “ہم یہیں رہتے ہیں۔”

اس مسکراہٹ میں کچھ ایسا تھا کہ سارہ نے بیٹے کو زور سے گود میں بھینچ لیا۔

حمزہ نے ہمت کر کے انکار کرنا چاہا، “نہیں، ہم آگے نکل جاتے ہیں۔” مگر جیسے ہی اس نے گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کی، انجن بند ہوگیا۔ کئی بار کوشش کی، مگر گاڑی سٹارٹ نہ ہوئی۔

عمر نے دھیرے سے کہا، “کہا تو تھا رک جاؤ۔”

نبیلہ نے بھی سر اٹھایا — پہلی بار۔ اس کی آنکھوں میں ایک غیر انسانی چمک تھی۔ وہ دھیرے سے بولی، “باہر آؤ، تمہیں دکھاتے ہیں کہ خونی سڑک کا انجام کیا ہوتا ہے۔”

سارہ نے چیخنے کی کوشش کی مگر آواز حلق میں اٹک گئی۔ حمزہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر لاک خود بخود آن ہوگئے۔ عامر زور زور سے رونے لگا۔

گاڑی کے اندر ایک گھپ اندھیرا چھا گیا۔ باہر بجلی چمکی — ایک لمحے کے لیے حمزہ نے دیکھا کہ نبیلہ کا چہرہ انسان کا نہیں تھا۔ آنکھیں سیاہ خلا کی طرح خالی، اور ہونٹوں کے کنارے خون سے تر۔

گاڑی جھٹکوں سے ہلنے لگی، جیسے کوئی اسے زمین سے اوپر اٹھا رہا ہو۔ سارہ نے قرآن کی آیت پڑھی، “اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم...”

اچانک سب رک گیا۔

صبح کی روشنی کے ساتھ پولیس کی گاڑیاں بائی پاس پر پہنچیں۔ ایک سفید کار درخت کے نیچے پھنسی ہوئی ملی۔ اندر حمزہ، سارہ، اور ان کا بیٹا عامر موجود تھے — بےجان۔ مگر حیرت انگیز طور پر ان کے چہروں پر خوف کا کوئی نشان نہیں تھا، صرف سکون۔

پولیس کے اہلکاروں نے رپورٹ لکھی — حادثہ۔ مگر ایک بات سب کے ذہنوں میں رہی: اس رات بارش نہیں ہوئی تھی، اور سڑک پر کسی درخت کے گرنے کا کوئی نشان نہیں تھا۔

کچھ مقامی لوگوں نے کہا، “شاید وہی سفید لباس والے میاں بیوی تھے، جن کی کار پچھلے سال اسی سڑک پر حادثے میں تباہ ہوئی تھی۔ تب سے جو بھی انہیں لفٹ دیتا ہے، وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچتا۔”

اس کے بعد کسی نے رات کے وقت خونی سڑک پر سفر نہیں کیا۔ مگر کبھی کبھار، آدھی رات کے بعد، کوئی مسافر گزرتے ہوئے کہتا ہے — “ہم نے دیکھا تھا، ایک سفید کار کھڑی تھی، اور کوئی ہاتھ ہلا رہا تھا…”

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی