شاہ میر ایک سادہ دل اور محنتی نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک خالص مسکراہٹ رہتی تھی، جیسے زندگی کے بوجھ کے باوجود وہ امید سے جینا جانتا ہو۔ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا جہاں زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرتے تھے۔ اس کا سب سے اچھا دوست فراز تھا — ذہین، باتونی، مگر تھوڑا چالاک۔ گاؤں کے بچے اسے "چالاک فراز" کے نام سے پکارتے تھے۔ فراز کے پاس ہمیشہ کوئی نہ کوئی ترکیب ہوتی کہ بغیر زیادہ محنت کے کچھ حاصل کیا جا سکے۔ شاہ میر اکثر کہتا، "دوست، محنت میں برکت ہے۔ شارٹ کٹ ہمیشہ نقصان دیتا ہے۔" اور فراز ہنس کر کہتا، "میرے بھائی، دنیا عقل سے چلتی ہے، صرف پسینہ بہانے سے نہیں۔" ایک دن گاؤں میں خبر پھیلی کہ قریب کے قصبے کے ایک زمیندار کے باغ میں بہت زیادہ پھل لگے ہیں — سیب، آڑو، اور انگور۔ لوگ کہتے تھے کہ اگر کوئی وہاں سے تھوڑے بہت پھل چُرا لائے، تو کوئی پکڑنے والا نہیں۔ فراز نے وہی رات شاہ میر کو جا پکڑا۔ "یار، ایک موقع ہے۔ کل رات میرے ساتھ چل، زمیندار کے باغ سے پھل لائیں گے۔" شاہ میر نے فوراً انکار کر دیا۔ "یہ چوری ہے، فراز۔ رزق محنت سے لینا چاہیے۔" فراز نے قہقہہ لگایا۔ "چوری؟ ارے بھائی، اگر ہم تھوڑا سا لیں گے تو زمین والے کو کیا نقصان؟ وہ تو ویسے بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ آؤ، تھوڑا مزہ لیتے ہیں۔" شاہ میر نے کچھ لمحے سوچا۔ اس کے دل میں خوف بھی تھا اور تجسس بھی۔ آخر وہ مان گیا۔ اگلی رات دونوں دریا کے کنارے پہنچے۔ باغ دوسری طرف تھا، اور درمیان میں پانی بہہ رہا تھا۔ فراز نے کہا، "مجھے تیرنا نہیں آتا، تجھے آتا ہے نا؟" شاہ میر نے سر ہلایا۔ "ہاں، میں تجھے کندھے پر بٹھا کر لے جا سکتا ہوں۔" فراز مسکرا کر بولا، "دوستی ہو تو ایسی!" شاہ میر نے فراز کو کندھے پر بٹھایا اور پانی میں اتر گیا۔ ٹھنڈا دریا بہہ رہا تھا، مگر شاہ میر مضبوط تھا۔ اس نے پورے حوصلے سے تیر کر دوسری طرف پہنچایا۔ باغ واقعی حیرت انگیز تھا۔ درختوں پر لال لال سیب، شاخوں سے لٹکے انگور، اور زمین پر پکے ہوئے آڑو۔ فراز فوراً بھاگا اور سیب توڑ کر کھانے لگا۔ شاہ میر نے چند پھل چنے اور چادر میں لپیٹ لیے۔ "بس اتنا ہی کافی ہے،" اس نے کہا۔ مگر فراز نہ رکا۔ "میں تو پورا تھیلا بھر لوں گا۔ یہ موقع بار بار نہیں ملتا!" شاہ میر نے کہا، "فراز، زیادہ لالچ نہ کرو، کوئی دیکھ لے گا۔" فراز ہنسا، "میں کھا چکا ہوں اب میں گا بھی لوں، میرا تو اصول ہے کہ کھانے کے بعد خوشی منانی چاہیے!" شاہ میر نے گھبرا کر کہا، "پاگل ہو گئے ہو؟ اگر آواز گئی تو زمیندار جاگ جائے گا۔ تھوڑا صبر کرو، ہم دریا پار کر لیں، پھر جتنا گانا ہے گا لینا۔" مگر فراز نے سنی ان سنی کر دی۔ وہ زور زور سے گانے لگا۔ اس کی آواز رات کی خاموشی میں گونج اٹھی۔ چند لمحوں بعد زمیندار دو نوکروں کے ساتھ باغ سے باہر نکلا۔ ہاتھ میں لاٹھی تھی۔ "کون ہے وہاں؟" وہ چلایا۔ فراز بھاگ گیا۔ شاہ میر ابھی پھل سمیٹ رہا تھا کہ لاٹھی اس کی پیٹھ پر آ لگی۔ وہ بمشکل اپنی جان بچا کر دریا کی طرف بھاگا۔ جب وہ پانی میں اترا تو اس کی سانس پھول چکی تھی۔ فراز کنارے پر کھڑا بولا، "جلدی آؤ، چلو واپس!" شاہ میر نے کچھ نہ کہا۔ اس نے فراز کو دوبارہ کندھے پر بٹھایا اور دریا میں اتر گیا۔ جب وہ درمیان میں پہنچے، تو شاہ میر نے تیرنا روک دیا۔ فراز نے چونک کر کہا، "کیا ہوا؟ آگے کیوں نہیں بڑھ رہے؟" شاہ میر بولا، "میرا ایک اصول ہے، کھانے کے بعد میں نہاتا ہوں۔" فراز نے گھبرا کر کہا، "پاگل ہو؟ پانی بہت گہرا ہے، مجھے تیرنا نہیں آتا!" شاہ میر مسکرا کر بولا، "مجھے بھی نہیں آتا کہ دوست کی بات کا جواب کیسے دیا جائے، مگر کبھی کبھی سبق سکھانا ضروری ہوتا ہے۔" یہ کہہ کر اس نے آہستہ آہستہ اپنے کندھے نیچے کیے۔ فراز پانی میں ڈبکیاں کھانے لگا۔ "بچا لو، شاہ میر، مجھے بچا لو!" وہ چلا رہا تھا۔ شاہ میر نے پوچھا، "کیا تمہیں احساس ہوا کہ تمہاری جلدبازی نے مجھے کتنی تکلیف دی؟" فراز نے روتے ہوئے کہا، "ہاں، میں غلط تھا، آئندہ کبھی ایسی حرکت نہیں کروں گا۔" شاہ میر نے اسے فوراً پکڑ لیا اور باہر نکال لیا۔ دونوں کنارے پر بیٹھ گئے، بھیگے، تھکے، اور چپ۔ کچھ دیر بعد فراز نے روتے ہوئے کہا، "میرے دوست، میں تمہارا مقروض ہوں۔ تم نے میرا جان بچائی اور میری آنکھیں بھی کھول دیں۔" شاہ میر نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "دوستی میں مقروضی نہیں ہوتی، مگر یاد رکھو — زندگی میں جیسا کرو گے، ویسا ہی پاؤ گے۔" فراز نے ہاتھ جوڑ کر وعدہ کیا کہ وہ اب کبھی چالاکی یا دھوکہ نہیں کرے گا۔ اگلے دن دونوں نے زمیندار سے معافی مانگی۔ زمیندار، جو عقل مند آدمی تھا، بولا: "غلطی مان لینا سب سے بڑی بہادری ہے۔ اگر تم دونوں کھیت میں کام کرو تو میں تمہیں روزانہ کے حساب سے مزدوری دوں گا۔" یوں فراز نے پہلی بار اپنے ہاتھوں سے محنت کی۔ شاہ میر نے اس کی طرف دیکھ کر کہا، "محنت کا مزہ دیکھو، یہ دل کو سکون دیتی ہے۔" فراز نے سر ہلایا، "اور دھوکے کا انجام ہمیشہ دکھ دیتا ہے۔ میں نے یہ سبق ہمیشہ کے لیے یاد کر لیا ہے۔" اس دن کے بعد دونوں گاؤں کے لیے مثال بن گئے۔ بچے ان کی کہانی سنتے اور کہتے: "یہ وہی دوست ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کو سچ سکھایا۔" زندگی آگے بڑھی۔ دونوں نے اپنی محنت سے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ اب ان کی کمائی میں برکت تھی کیونکہ نیت صاف تھی۔ کبھی کبھی شام کو وہی دریا کے کنارے بیٹھ کر پرانی باتیں یاد کرتے۔ فراز ہنستے ہوئے کہتا، "یار، اگر تم اُس دن مجھے پانی میں نہ ڈبوتے تو شاید میں آج بھی وہی چالاک آدمی ہوتا۔" شاہ میر کہتا، "کبھی کبھی سزا ہی سب سے بڑی رہنمائی ہوتی ہے۔" اور دونوں کے درمیان وہی پرانی ہنسی گونجتی — مگر اب وہ دوستی ایمان داری پر قائم تھی، چالاکی پر نہیں۔ آخر میں شاہ میر نے ایک بات کہی جو گاؤں بھر میں مشہور ہو گئی: "دوستی میں سب کچھ معاف ہو سکتا ہے، مگر دھوکہ نہیں۔" اور یوں ان دونوں کی کہانی ایک نصیحت بن گئی، جو ہر ماں اپنے بچوں کو سناتی — کہ زندگی میں سچائی اور دوستی سب سے بڑی دولت ہیں۔
