احمد کا خاندان عراق سے انگلینڈ منتقل ہوا تھا جب وہ ابھی چھوٹا لڑکا تھا۔ احمد اپنے گھر اور دوستوں کو سامرا میں بہت یاد کرتا تھا، لیکن اس کے والد نے اسے سمجھایا کہ اب وہاں رہنا محفوظ نہیں رہا اور بہتر ہوگا کہ وہ ایک ایسے ملک میں بڑے ہوں جہاں سب لوگ امن اور محبت کے ساتھ رہیں۔ احمد کے والد نے بتایا کہ انگلینڈ ایک ایسا ملک ہے جہاں لوگ مختلف نسلوں اور مذہب کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ خوشی اور تعاون سے رہتے ہیں۔
ابتدائی دنوں میں احمد کو نئے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کرنا مشکل لگ رہا تھا۔ لندن کی بلند و بالا عمارتیں، تاریخی مقامات اور عجائب گھر اسے حیران کر دیتے۔ احمد کو خاص طور پر لندن پلانٹیریم اور دریا ٹیمز بہت پسند آیا۔
جلد ہی احمد نے اپنے ہمسائے، ایک لڑکے جس کا نام جیک تھا، سے دوستی کر لی۔ پورے موسمِ گرما وہ دونوں پارک میں کھیلتے، چڑیا گھر جاتے اور جیک کی ماں کے ساتھ سیر کرتے۔ جیک احمد کے ساتھ اپنے کھلونے اور کارٹون شئیر کرتا اور اپنے پسندیدہ سپر ہیروز کے بارے میں بتاتا۔ وہ احمد کے صحن میں ایک کیمپ بھی بنا لیتے جہاں وہ بڑے لوگوں سے چھپتے۔
گرمیوں کا وقت بہت خوشگوار گزرا اور احمد لندن میں اپنے نئے گھر اور ماحول میں مطمئن ہو گیا، اگرچہ وہاں سورج کی روشنی اور گرمی سامرا جتنی نہیں تھی۔ اس کی انگلش بھی بہتر ہونے لگی، خاص طور پر جیک کی مدد سے، لیکن ابھی بھی کئی الفاظ ایسے تھے جو احمد سمجھ نہیں پاتا، اور وہ اکثر خود کو بیوقوف محسوس کرتا۔
جب ستمبر آیا اور درختوں کے پتے گرنے لگے، احمد کے والد نے بتایا کہ اب اسکول کا وقت آ گیا ہے۔ احمد سات سال کا تھا اور اسے مقامی پرائمری اسکول کی تیسری جماعت میں داخلہ لینا تھا — بالکل جیک کی کلاس کے برابر۔
احمد اسکول جانے کے خیال سے گھبرایا ہوا تھا، لیکن والدین نے اسے یقین دلایا کہ اسکول ایک دلچسپ جگہ ہے جہاں وہ نئے دوست بنائے گا اور نئی چیزیں سیکھے گا۔ صبح جب احمد اسکول کے لیے تیار ہوا اور جیک کے ساتھ گلی میں ملا، تو اس کا حوصلہ بڑھ گیا۔ جیک نے اسے اسکول کی باتیں بتائیں، کھیل کے میدان، پسندیدہ استاد، اور لڑکوں اور لڑکیوں کی باتیں۔ احمد نے پہلی بار 'کَسٹرڈ' کے بارے میں سنا اور سوچا کہ یہ بہت مزیدار ہوگا کیونکہ جیک اسے اتنا خوش نظر آ رہا تھا۔
لیکن کلاس میں احمد کو کچھ دقتیں پیش آئیں۔ استاد نے جیک کو آگے بیٹھنے کو کہا اور احمد کو باقی بچوں کے سامنے متعارف کرایا۔ ایک لڑکے نے اس کا مذاق اڑایا کہ وہ "گندی غیر ملکی" ہے، اور ایک اور بچے نے اس کی انگلش کے لہجے پر ہنسا۔ احمد کو بہت شرم آئی اور وہ دوست جیک کے قریب بیٹھنا چاہتا تھا لیکن کلاس کے آخر میں جا کر بیٹھا۔ ایک لڑکی اس کے قریب بیٹھ کر اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی اور کلاس کے دوران استاد سے کہہ کر جگہ بدلوا لی۔ احمد کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس نے کیا غلط کیا۔
بریک کے وقت، احمد باہر آیا اور تمام بچے اس کی جانب دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ ایک چھوٹے لڑکے نے کہا، "تمہارا نام لڑکیوں والا ہے!" احمد کچھ کہنا چاہتا تھا مگر شرم کے باعث خاموش رہا۔
تب جیک احمد کے پاس آیا اور سب بچوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "کیا تم سب نے مجھے سننا نہیں؟ اسکول مزے کا ہے، احمد بھی یہی سوچتا ہے!"
جیک نے سب کو یاد دلایا کہ سب مختلف ہیں اور یہی چیز ہمیں دلچسپ بناتی ہے۔ احمد نے سر اٹھایا اور مسکرا کر کہا، "بورنگ!" اور سب بچے ہنسنے لگے۔
اس کے بعد جیک نے کلاس میں استاد سے کہا کہ وہ سب بچوں کے مختلف ہونے کے بارے میں بات کریں اور بتایا کہ لوگ دنیا کے مختلف ممالک سے انگلینڈ آ کر نئی زندگی شروع کرتے ہیں، بالکل احمد کی طرح۔
استاد نے کہا کہ ہر شخص کی اپنی خاصیت اور منفرد پہچان بہت اہم ہے۔ احمد نے اپنے نوٹ بک میں دو نئے الفاظ لکھے: "Multicultural" اور "Friend"، اور وعدہ کیا کہ وہ ہمیشہ انہیں یاد رکھے گا۔
احمد نے محسوس کیا کہ ایک اچھا دوست ہونا اور دوسروں کا ساتھ دینا زندگی میں سب سے بڑی طاقت ہے، اور کہانی یہ ختم ہوئی کہ احمد نے نیا شہر، اسکول، دوست اور ثقافت قبول کر لی اور اپنی زندگی میں ایک نیا باب شروع کیا۔
