احمد بنچ پر بیٹھا ہوا سامان کی بیلٹ کو گھور رہا تھا۔ وہ تھکا ہوا تھا، اور اس ٹھنڈے موسم کا عادی بھی نہیں تھا۔ اپنے ملک کے شہر لودھراں میں تو درجہ حرارت پینتیس کے قریب رہتا تھا، مگر یہاں "ایلون" کے ہوائی اڈے پر ٹھنڈی ہوا چہرے کو کاٹ رہی تھی۔
احمد کے چہرے پر ناگواری صاف جھلک رہی تھی۔ وہ یہاں آنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کا دل پاکستان ہی میں اپنے دوستوں کے ساتھ رہنے کو کرتا تھا، مگر والد کی نئی نوکری کے باعث انہیں ایک دوسرے ملک آ کر نیا آغاز کرنا پڑا۔
ابھی وہ اپنا بیگ تلاش کر رہا تھا کہ اسے اچانک احساس ہوا کوئی اسے گھور رہا ہے۔ پلٹ کر دیکھا تو ایک لڑکا کھڑا تھا، عمر میں بالکل احمد جتنا۔ وہ اس کے سر پر بندھی پگڑی کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ احمد کو ناگواری محسوس ہوئی۔ غصے میں آ کر اس نے تیزی سے ایک بیگ کھینچ لیا جو کچھ کچھ اس کے بیگ جیسا لگ رہا تھا۔ بس یہی سوچ تھی کہ جلدی نکل جائے — سب کی نظریں اس پر جم چکی تھیں۔
گاڑی میں بیٹھ کر احمد نے شیشے سے باہر جھانکا۔ سڑکیں صاف ستھری تھیں، عمارتیں اونچی اور خوبصورت، ان کے اوپر سنہری مجسمے چمک رہے تھے۔ آسمان پر ہلکی بارش کی تہہ تھی اور فضا میں ٹھنڈک گھلی ہوئی تھی۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ لوگ دکانوں کے باہر بیٹھے کافی پی رہے تھے، باتیں کر رہے تھے، اور سب کچھ ایک ترتیب سے چل رہا تھا۔
احمد نے سوچا، "یہ ملک بہت مختلف ہے۔ یہاں کوئی ہارن نہیں بجاتا، گاڑیاں آرام سے اپنی لائنوں میں چلتی ہیں۔ یہ ہمارے لودھراں جیسا نہیں!"
کچھ دیر بعد گاڑی ایک عجیب سی دھاتی عمارت کے سامنے سے گزری جہاں بہت سے لوگ تصویریں کھینچ رہے تھے۔ احمد کے ذہن میں آیا، "یہ شاید یہاں کا کوئی مشہور مقام ہے، جیسے ہمارے ہاں بادشاہی مسجد یا مینارِ پاکستان۔"
جب ایک سائیکل سوار سڑک پار کر رہا تھا تو ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔ سائیکل والے نے ہاتھ ہلا کر شکریہ ادا کیا۔ احمد حیرت سے مسکرا دیا — "یہ تو بہت عجیب ملک ہے، یہاں گاڑیاں انسانوں کے لیے رکتی ہیں!"
گھر پہنچ کر والد نے کہا، "اب تمہیں جلدی سونا چاہیے، صبح اسکول جانا ہے۔"
احمد خاموشی سے اپنے کمرے میں گیا۔ کمرہ بہت بڑا اور خوبصورت تھا، کھڑکیاں اونچی، اور چھت اتنی بلند کہ جیسے آسمان سے باتیں کرتی ہو۔ مگر دل اداس تھا۔ اس نے اپنے تکیے میں منہ چھپا کر رونا شروع کر دیا۔
اگلی صبح جب آنکھ کھلی تو اسے احساس ہوا کہ یہ خواب نہیں تھا — وہ واقعی ایک نئے ملک میں ہے۔ کھڑکی سے باہر دیکھا، سڑک پر چند لوگ چل رہے تھے، خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اسے اپنے وطن کی رونقیں یاد آنے لگیں، مسجدوں کی آوازیں، رکشوں کا شور، دوستوں کی ہنسی۔
احمد نے سوچا کہ شاید تصاویر دیکھ کر دل کو تسلی ملے۔ اس نے بیگ کھولا، مگر جیسے ہی زپ کھولی، ایک چھوٹا سا کی چین نظر آیا — ایک دھاتی ٹاور کی شکل میں۔ بیگ کے اندر سونے کی طرح چمکتی اشیاء رکھی تھیں: تاج محل کی ایک چھوٹی یادگار، ایک چھوٹا سا ماڈل مسجد کا، اور کئی ایسی چیزیں جو اس کے ملک کی یاد دلا رہی تھیں۔ احمد چونک گیا، "یہ میرا بیگ نہیں!"
اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ "اب ابو کو کیا بتاؤں کہ غلط بیگ اٹھا لیا ہے؟"
احمد نے سسکتے ہوئے کہا، "ابو، کل ایئرپورٹ پر ایک لڑکا مجھے دیکھ رہا تھا... میں ڈر گیا تھا۔ اور میں نے غلط بیگ اٹھا لیا!"
ناشتہ ختم کرتے ہی احمد کا موڈ کچھ بہتر ہو گیا۔ اس نے امی کو الوداع کہا اور ابو کے ساتھ اسکول کے لیے روانہ ہو گیا۔
جب اسکول کے گیٹ پر پہنچے، تو احمد نے دیکھا کہ سب بچے صاف ستھرے یونیفارم میں ہیں، سب فرانسیسی بول رہے ہیں، اور کسی کے سر پر پگڑی نہیں۔ دل پھر سے دھڑکنے لگا۔
ابو نے نرمی سے کہا، "چلو اندر دیکھ لیتے ہیں، صرف دیکھنے میں کیا حرج ہے؟" ان کی مسکراہٹ نے احمد کے دل کو تسلی دی۔
کوریڈور میں چلتے ہوئے احمد نے دیواروں پر اسی دھاتی ٹاور کی تصویریں دیکھیں — وہی جو کی چین پر بنا تھا۔ وہ سوچنے لگا، "یہ عمارت ضرور یہاں کی پہچان ہے۔"
اسی وقت اس نے دیکھا، ایک لڑکا کونے میں بیٹھا رو رہا ہے۔ احمد نے غور کیا — یہ تو وہی لڑکا تھا جو کل ایئرپورٹ پر اسے دیکھ رہا تھا!
احمد نے ابو کا بازو پکڑا، "ابو، وہی لڑکا ہے!"
ابو نے نرمی سے کہا، "بیٹا، اس سے بات کرو۔ شاید وہ تمہارا نیا دوست بن جائے۔"
لڑکے نے سر اٹھایا، "تھوڑا بہت۔ میرا نام لُک ہے۔"
احمد نے پوچھا، "تم اداس کیوں ہو؟"
لُک نے آہستہ سے کہا، "میں ابھی بھارت سے آیا ہوں، چھٹیاں وہیں گزاریں۔ میرا بیگ ایئرپورٹ پر گم ہو گیا، جس میں وہ سب چیزیں تھیں جو میں اپنے اسکول والوں کو دکھانا چاہتا تھا۔"
احمد چونکا، "شاید وہ بیگ میرے پاس ہے! میں غلطی سے تمہارا بیگ لے آیا۔"
لُک حیران ہو گیا، "تو تم وہ لڑکے ہو جو بیلٹ سے میرا بیگ اٹھا کر چلے گئے تھے؟"
احمد ہنس پڑا، "ہاں، وہ میں ہی ہوں!"
دونوں نے ٹوٹی پھوٹی انگلش میں بات چیت شروع کی۔ کچھ ہی دیر میں وہ ہنسنے لگے، جیسے پرانے دوست ہوں۔
اسی دن لُک نے احمد کو اسکول دکھایا، نئے دوستوں سے ملوایا، اور اسے بتایا کہ وہ دھاتی عمارت "ایلن ٹاور" کہلاتی ہے — وہی جو سب تصویروں میں تھی۔
رات کو بستر پر لیٹتے ہوئے احمد کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ کل اسے کلاس میں اپنے ملک کے بارے میں بولنا تھا، اور اب وہ فخر سے یہ کر سکتا تھا۔
اگلی صبح احمد بہت جلدی جاگ گیا۔ باہر دھند چھائی ہوئی تھی اور کھڑکی کے شیشے پر بوندیں چمک رہی تھیں۔ مگر اس کے دل میں عجیب سی گرمی تھی۔ آج اسکول میں سب کے سامنے بولنے کا دن تھا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر خود سے کہنے لگا، "میں احمد ہوں، میں پاکستان سے آیا ہوں، اور آج میں اپنے دوستوں کو اپنا ملک دکھاؤں گا۔"
ناشتہ کرتے ہوئے امی نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، "اللہ تمہیں کامیاب کرے بیٹا، یاد رکھنا، اپنے دیس کے بارے میں فخر سے بات کرنا۔" احمد نے سر ہلایا، اور ابو کے ساتھ اسکول روانہ ہو گیا۔
اسکول کے دروازے پر لُک پہلے ہی کھڑا تھا، اس کے چہرے پر خوشی تھی۔ وہ دوڑتا ہوا آیا اور بولا، "احمد! میں نے اپنے ٹیچر سے بات کی ہے، ہم دونوں آج کلاس کے سامنے پریزنٹیشن دیں گے — تم اپنے ملک کے بارے میں بتاؤ گے، اور میں وہ سب چیزیں دکھاؤں گا جو تمہارے بیگ میں تھیں!"
یہ سن کر احمد کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ دونوں نے مل کر کمرہ جماعت میں سب کچھ ترتیب سے رکھا — تاج محل کا ماڈل، مسجد کی چھوٹی سی تصویر، اور روایتی چمکدار چوڑیاں جو لُک نے بھارت سے خریدی تھیں۔
جب کلاس شروع ہوئی تو ٹیچر نے کہا، "آج ہمارے پاس دو مہمان ہیں — احمد، جو ابھی پاکستان سے آیا ہے، اور لُک، جو وہاں سے چھٹیاں گزار کر لوٹا ہے۔ یہ دونوں ہمیں اپنے تجربات بتائیں گے۔"
کلاس کے بچے تالیاں بجانے لگے۔ ٹیچر نے بھی مسکرا کر کہا، "احمد، تم نے ہمیں بہت کچھ سکھایا۔ نئے ملک میں ڈرنا نہیں چاہیے، بلکہ اپنے دل کے دروازے کھولنے چاہییں۔"
احمد ہنسا، "ہاں، بالکل۔ ہم دکھائیں گے کہ فرق ہونے کے باوجود ہم سب انسان ایک جیسے ہیں۔"
دونوں نے اگلے چند دنوں میں اسکول کا سب سے خوبصورت پراجیکٹ تیار کیا۔ انہوں نے پاکستان اور فرانس کے رنگ، کھانے، اور روایات ایک بڑے چارٹ پر بنائے۔ احمد نے سبز رنگ میں اپنے وطن کا جھنڈا بنایا، اور لُک نے نیلا اور سفید اپنے ملک کے لیے۔ درمیان میں دونوں نے ایک چھوٹا سا پل بنایا — جو دو ملکوں کے درمیان دوستی کی علامت تھا۔
پراجیکٹ والے دن جب وہ دونوں اس پل کے پاس کھڑے تھے، تو ساری کلاس نے تالیاں بجائیں۔ احمد کے دل میں خوشی کے ساتھ ایک اطمینان بھی تھا۔ اب وہ خود کو اکیلا محسوس نہیں کرتا تھا۔
امی نے مسکرا کر کہا، "بیٹا، یہی تو اصل علم ہے۔"
ارمان رات بھر سو نہ سکا۔ قلعے کی چوری کی خبر اس کے ذہن میں گونجتی رہی۔ وہ سوچتا رہا کہ آخر کوئی اتنی ہمت کیسے کر سکتا ہے کہ اتنے محفوظ قلعے میں داخل ہو جائے؟ اور پھر وہ خزانہ، جو صدیوں سے افسانوں میں تھا، کیا واقعی موجود تھا؟ یا صرف کہانیوں کی بات تھی؟
صبح ہوئی تو گاؤں کے لوگ اسی بات پر بحث کر رہے تھے۔ سب کی زبان پر ایک ہی سوال تھا — “چور کون تھا؟” ارمان کے باپ نے کہا کہ یہ کوئی عام چوری نہیں لگتی، کیونکہ اگر وہ خزانہ واقعی دیو زاروک کی غار میں چھپا تھا، تو اسے چھونا بھی آسان نہیں ہو سکتا تھا۔
ارمان نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ دور پہاڑوں کی سمت رالوک قلعے کی پرانی دیواریں دھند میں چھپی ہوئی تھیں۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا احساس تھا، جیسے کوئی اسے بلا رہا ہو۔
دو دن بعد اسکول میں بھی سب اسی خبر پر بات کر رہے تھے۔ ارمان کی سب سے اچھی دوست، مایا، بولی: “میری نانی کہتی ہیں کہ زاروک کا سایہ آج بھی قلعے کی دیواروں کے نیچے موجود ہے۔ جو بھی اس خزانے کے قریب جاتا ہے، وہ لاپتہ ہو جاتا ہے۔”
اگلی رات چاند آدھا تھا۔ قلعے کے گرد خاموشی تھی۔ ارمان اور مایا نے جنگل کے راستے سے قلعے تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ درختوں کے پیچھے سے قلعے کی محرابیں چاندنی میں کسی پرانے خواب کی طرح چمک رہی تھیں۔
جب وہ غار کے دہانے تک پہنچے، تو اندر سے ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ ارمان نے ٹارچ جلائی۔ دیواروں پر پرانی تحریریں کندہ تھیں، اور کہیں کہیں جلنے کی نشانیاں۔ مایا نے کانپتے ہوئے کہا، “یہ وہی جگہ ہے جہاں زاروک نے آخری بار سانس لی تھی۔”
اچانک، ایک پتھر کھسکا، اور ان کے قدموں کے نیچے زمین ہلکی سی دھنس گئی۔ ایک چھپا ہوا راستہ کھل گیا، نیچے اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ ارمان نے بغیر سوچے نیچے قدم رکھا۔
مایا چیخ اٹھی۔ ارمان پیچھے ہٹا مگر صندوق کا ڈھکن خود بخود کھل گیا۔ اندر کوئی سونا یا جواہر نہیں تھا، بلکہ ایک چمکتا ہوا پتھر تھا جو سانس لیتا محسوس ہوتا تھا۔
اچانک غار کی فضا میں وہی سایہ نمودار ہوا — دھواں سا، مگر آنکھوں میں آگ جیسی چمک۔ آواز گونجی، “جو میرا دل چھوئے گا، اسے میری تقدیر پوری کرنی ہوگی۔”
ارمان نے سر جھکا کر کہا، “میں وعدہ کرتا ہوں۔”
چمکتا پتھر اس کے ہاتھوں میں مدھم روشنی دینے لگا۔ مایا نے دیکھا کہ دیو کا سایہ آہستہ آہستہ تحلیل ہو رہا ہے، جیسے صدیوں کی نیند پوری کر کے وہ اب آزاد ہو رہا ہو۔
صبح جب وہ واپس گاؤں پہنچے، تو قلعے کی چوری کی خبر بدل چکی تھی۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق خزانہ واپس مل گیا تھا، مگر کسی کو پتہ نہیں چلا کہ کیسے۔
ارمان نے وہ چمکتا پتھر مٹی میں دفن کر دیا، بالکل اسی جگہ جہاں سے ان کا سفر شروع ہوا تھا۔
مایا نے مسکرا کر کہا، “کبھی کبھی سب سے بڑا خزانہ وہ نہیں ہوتا جو سونا چاندی میں ہو، بلکہ وہ جو انسان کے دل کو بدل دے۔”
