ایک زمانے کی بات ہے، ایک غریب تاجر رہتا تھا جس کا نام رفیق تھا۔ وہ اپنی بیٹی حورین کے ساتھ فرانس کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ ایک دن رفیق کاروباری سفر پر نکلا اور حورین کو گھر پر چھوڑ گیا۔ راستے میں واپس آتے ہوئے اسے ایک گھنے اور تاریک جنگل سے گزرنا پڑا۔ سفر کی تھکن کے باعث وہ کہیں رُک کر سونا چاہتا تھا۔
اسی دوران، رفیق کو ایک جادوئی محل نظر آیا۔ اس نے دروازے پر دستک دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ رفیق اندر گیا اور دیکھا کہ محل بالکل خالی ہے۔ مگر ایک میز پر کھانے کے برتن سجے ہوئے تھے اور ایک بڑا، آرام دہ بستر بھی موجود تھا۔ کھانا کھانے کے بعد، وہ بستر میں لیٹ گیا اور گہری نیند سو گیا۔
اگلی صبح، رفیق تازہ دم ہو کر اٹھا، مگر محل میں ابھی بھی کوئی نظر نہیں آیا۔ محل کے باغ میں ایک خوبصورت گلاب کا پودا دیکھا۔ اس نے سوچا کہ حورین کو گھر آ کر یہ گلاب بہت پسند آئے گا۔ رفیق نے ایک سرخ گلاب توڑنے کی کوشش کی۔
اچانک، پودے سے ایک زوردار اور خوفناک آواز آئی۔ ایک بھیانک شکل والا جانور رفیق پر چھا گیا۔ وہ لمبا، خوفناک اور بالوں سے ڈھکا ہوا تھا، اور اس کے گرد ایک لمبا سرخ مخملی کیپ لپٹا ہوا تھا۔
‘تم میرے گھر آتے ہو اور میرے گلاب چرا لیتے ہو!’ جانور نے گرج کر کہا۔
رفیق ڈر کے مارے خاموش ہو گیا۔ اسی وقت، دور سے ایک چھوٹی آواز آئی: ‘ابا!’
یہ حورین تھی، جو اپنے والد کو تلاش کرنے نکلی تھی۔ وہ گھوڑے سے اتری اور باغ میں دوڑی۔ والد کے پاس پہنچ کر، وہ جانور کی طرف دیکھتی رہی۔
جانور نے دونوں کو دیکھا اور دھمکی دی: ‘تمہیں جانے دوں گا، مگر تمہاری بیٹی ہمیشہ میرے پاس رہے گی۔’
رفیق نے بیٹی کے لیے جانور سے التجا کی، مگر حورین نے اپنی محبت اور وفاداری سے وعدہ کیا کہ وہ محل میں رہے گی اگر اس کے والد کو جانے دیا جائے۔
جانور نے رفیق کو اپنے پنجوں میں اٹھایا اور باہر پھینک دیا۔ رفیق خوف کے مارے گاؤں کی طرف دوڑ گیا۔
شروع میں حورین محل میں رہنے سے خوفزدہ تھی۔ مگر جلد ہی اس نے جانور کے دل کی مہربانی دیکھی۔ وہ اس کی دیکھ بھال کرتا، اسے کھانا دیتا اور گرم رکھتا۔ جانور نے حورین سے محبت کر لی اور شادی کی پیشکش کی، مگر حورین نے اپنے والد کی یاد میں انکار کر دیا۔
جانور نے اسے ایک جادوئی آئینہ دکھایا: ‘آئینہ سے اپنے والد کو دیکھو۔’
آئینہ روشن ہوا اور حورین نے دیکھا کہ اس کا والد بیمار بستر پر پڑا ہے۔ حورین خوفزدہ ہو کر کہی: ‘جانور، براہ کرم مجھے میرے والد کے پاس جانے دو۔ وہ بیمار ہے۔’
جانور نے حورین کو جانے دیا تاکہ وہ خوش رہے۔ حورین کئی ہفتے اپنے والد کی دیکھ بھال کے لیے گھر گئی۔
ایک رات حورین نے خواب میں دیکھا کہ جانور بیمار ہے۔ اگلی صبح وہ فوراً محل لوٹی اور جانور کو وہیں بستر پر پایا۔ حورین روتی ہوئی کہی: ‘براہ کرم! مجھے مت چھوڑو! میں تم سے محبت کرتی ہوں!’
اتنی دیر میں، جانور اچانک ایک خوبصورت نوجوان شہزادے میں بدل گیا۔ وہ بولا: ‘میں پہلے ایک شہزادہ تھا، مگر ایک بھیانک جادو نے مجھے اس شکل میں بدل دیا۔ صرف حقیقی محبت ہی مجھے آزاد کر سکتی تھی۔ تم نے مجھے بچایا کیونکہ تم نے مجھے صرف جانور کے طور پر نہیں بلکہ میرے دل سے پسند کیا۔’
حورین اور شہزادہ شادی کے بندھن میں بندھے اور ہمیشہ خوش و خرم زندگی گزارنے لگے۔
