میں کان میں کام کرتا ہوں۔ زمین کے نیچے اندھیرا، شور، اور گرد کا راج ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہم زمین سے سونا، تانبا یا لوہا نکالتے ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ہم اپنی سانسیں، اپنی ہڈیاں اور اپنے دن رات زمین کے حوالے کر دیتے ہیں۔ میں دھماکے کرتا ہوں، چٹانوں میں سوراخ کرتا ہوں، پھر بارود بھرتا ہوں، اور جیسے ہی زمین کانپتی ہے، ہم سب ایک پل کے لیے اپنی سانس روک لیتے ہیں۔ کیونکہ ہر دھماکے کے بعد پتہ نہیں اگلا لمحہ ہمارا ہوگا یا نہیں۔
میرا نام احمد ہے۔ پچھلے دس سال سے بلوچستان کے ایک سنسان علاقے میں ایک کان میں کام کر رہا ہوں۔ اسے لوگ “گہرا پیٹ” کہتے ہیں، کیونکہ یہ پہاڑ کے اندر اتنا نیچے تک جاتا ہے کہ لگتا ہے جیسے زمین نے ہمیں نگل لیا ہو۔ اوپر دھوپ میں سب کچھ جلتا ہے، نیچے اندھیرے میں ہم۔
ہم چھے آدمی ایک ٹیم میں ہیں۔ بلال، جو سب سے پرانا ہے، ہمیں سکھاتا ہے کہ پتھر کی آواز کو کیسے سنا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے، “زمین بھی بولتی ہے احمد، بس سننے والا چاہیے۔” راشد ہمیشہ ہنستا رہتا ہے، کہتا ہے ہم سب پاگل ہیں جو روز مر کر زندہ ہونے واپس آتے ہیں۔ مگر شاید وہی ہنسی ہمیں بچاتی ہے۔
نیچے کان میں وقت رک جاتا ہے۔ دن اور رات کا فرق مٹ جاتا ہے۔ مشینوں کی آواز، ہوا کے پائپوں کا شور، اور ہیلمٹ کی روشنی ہی ہماری دنیا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں، کیونکہ اگر ایک کی غلطی ہو جائے تو سب دب جاتے ہیں۔
اس دن بھی سب کچھ عام لگ رہا تھا۔ میں نے اپنا ہیلمٹ پہنا، لائٹ چیک کی، اور بلال کے ساتھ نچلی سرنگ کی طرف بڑھا۔ پسینے سے کپڑے چپک رہے تھے، ہوا بھاری تھی، مگر ہمیں عادت ہو گئی تھی۔ کان میں اترتے وقت ہمیشہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی اور دنیا میں جا رہے ہوں، جہاں ہر سانس ایک سودا ہے۔
ہمیں نئی سطح پر دھماکہ کرنا تھا۔ بلال نے ڈرل مشین پکڑی، میں نے بارود تیار کیا۔ دھول اڑ رہی تھی، آوازیں گونج رہی تھیں۔ پھر اچانک زمین ہلکی سی کانپی۔ میں نے چونک کر بلال کو دیکھا۔ وہ رک گیا۔
“احمد، محسوس کیا؟” اس نے دھیرے سے کہا۔
میں نے سر ہلایا۔ “ہوا میں کچھ بدلا ہے۔”
ہم دونوں خاموش ہو گئے۔ کان کی دیوار جیسے سانس لے رہی تھی۔ ایک لمحے کو لگا جیسے زمین کے اندر کچھ زندہ ہے جو ہمیں دیکھ رہی ہو۔ راشد نے ہنستے ہوئے آواز لگائی، “ڈر گئے کیا؟ یہ تو روز کا چکر ہے!”
ہم نے دوبارہ کام شروع کیا۔ لیکن دل کے کسی کونے میں ایک بےچینی جاگ اٹھی تھی۔ جیسے کسی نے ہمیں خبردار کیا ہو۔
دھماکہ معمول کے مطابق ہوا۔ شور، دھول، اور پھر خاموشی۔ مگر جب دھواں چھٹا، تو سامنے کی دیوار میں ایک عجیب سی دراڑ نظر آئی۔ بلال آگے بڑھا، ہاتھ لگایا، اور پھر ایک دم پیچھے ہٹ گیا۔
“یہ پتھر نہیں، احمد… یہ کچھ اور ہے۔”
میں نے لائٹ اس دراڑ کے اندر ڈالی۔ اندر کی چمک عام چٹانوں جیسی نہیں تھی۔ وہ سانس لے رہی تھی۔ ہلکی ہلکی حرکت۔ جیسے کوئی دھڑک رہا ہو۔
میں نے سرگوشی میں کہا، “یہ جگہ… پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، نا؟”
بلال نے آہستہ سے کہا، “یہ حصہ نقشے میں نہیں تھا۔”
پھر وہ دراڑ اچانک پھٹ گئی۔ ایک گرم جھونکا نکلا، اور ہمیں لگا جیسے ہوا میں چیخ گونج اٹھی ہو۔ راشد پیچھے لڑھک گیا۔ مشینیں بند ہو گئیں۔ سب کچھ جیسے ایک پل کے لیے تھم گیا۔
ہم نے باہر نکلنے کی کوشش کی، مگر کان کا راستہ بند ہو چکا تھا۔ پتھروں کا ڈھیر، دھواں، اور ایک عجیب سی گونج، جو ہماری اپنی آوازوں کو دبا رہی تھی۔
میں نے چیخ کر کہا، “کوئی ہے؟”
جواب میں ایک سرگوشی ملی۔ مگر وہ ہماری زبان میں نہیں تھی۔
بلال نے میری طرف دیکھا۔ “احمد… یہ کان خالی نہیں ہے۔”
اور تب ہمیں احساس ہوا، ہم اکیلے نہیں تھے۔ زمین کے نیچے کچھ ایسا جاگ چکا تھا جو ہزاروں سال سے خاموش تھا۔
میں نے اپنی لائٹ بند کر دی۔ اندھیرے میں بس وہی دھڑکن باقی رہ گئی تھی۔
وہ دن تھا جب “گہرا پیٹ” واقعی زندہ ہو گیا۔
کوئی مذاق نہیں تھا۔
یہ میرا پہلا تجربہ نہیں تھا۔ میں دس سال سے زیادہ عرصے سے زمین کے چہروں پر دھماکے کر رہا ہوں۔ اتنا وقت گزارنے کے بعد تم زمین کی سانسوں کو محسوس کرنا سیکھ جاتے ہو — جب وہ پرسکون ہو، جب وہ بےچین ہو، جب وہ خفا ہو۔ اُس صبح سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا۔ حد سے زیادہ معمول کے مطابق۔ وہ خاموشی جو تمہیں تب ہی محسوس ہوتی ہے جب بعد میں یاد کرنے کی کوشش کرو کہ آخر تم نے کون سا اشارہ نظرانداز کر دیا تھا۔
ہم زمین کی گہرائی میں تھے، تقریباً ایک ہزار میٹر نیچے۔ ہوا گرم تھی، نمی سے بھری ہوئی، اور ایک عجیب سی چپ تھی۔ میرا ساتھی، داؤد، مذاق کر رہا تھا کہ یہاں کی ہوا اتنی گاڑھی ہے کہ پی جا سکتی ہے۔ ہم سرنگ کے آخری حصے میں دھماکے کی تیاری کر رہے تھے۔ ڈرلنگ کا کام صاف ستھرا ہوا تھا۔ میں بارود کے چارج تیار کر رہا تھا جبکہ داؤد ہیلمٹ کو پنکھا بنا کر اپنے چہرے پر جھلک رہا تھا۔
وہ ہنستا ہوا بولا، “اگر ہم اس طرح نیچے جاتے رہے تو سیدھے چین نکل جائیں گے؟”
میں نے بغیر دیکھے جواب دیا، “پہلے جہنم ملے گا۔”
وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بولا، “کبھی سوچا ہم یہاں نیچے ہونے کے لیے بنے ہی نہیں ہیں؟”
میں نے سر اٹھا کر پوچھا، “روحانی لحاظ سے؟”
وہ بولا، “نہیں، حیاتیاتی طور پر۔ ہم انسان ہیں — ہمارے جسم، ہماری سانسیں، ہماری آنکھیں — سب زمین کی سطح کے لیے بنے ہیں، اندھیرے کے لیے نہیں۔”
میں نے پسینہ پونچھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “اپنے لیے بول، میں تو سمجھتا ہوں ہم کاکروچ ہیں۔ سب کچھ مٹ جائے گا مگر ہم زندہ رہیں گے۔”
وہ ہنسا، میں بھی ہنس پڑا۔ نیچے زمین کے اندر، بعض اوقات ہنسی ہی ہاتھوں کی کپکپی روکنے کا واحد طریقہ ہوتی ہے۔
شفٹ کے بیچ میں میں دھماکے کے تار لینے کے لیے گاڑی کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک وہ ہوا —
زمین نے ہلچل نہیں کی، بلکہ جیسے کروٹ لی ہو۔ ایک لمحے میں توازن بگڑ گیا۔ گھٹنوں نے جواب دے دیا اور میں دیوار سے جا لگا۔ چھت سے مٹی ایسے گری جیسے کسی نے آٹے کا چھلنی جھاڑ دی ہو۔ لائٹس ایک پل کے لیے جھپکیں، پھر ٹھہر گئیں۔ وینٹیلیشن کے پنکھوں کی گھن گرج تھوڑی دیر کے لیے بدلی — جیسے وہ سانس لینے میں مشکل محسوس کر رہے ہوں۔
داؤد کی آواز وائرلیس پر آئی، “یہ کیا تھا؟ تم نے محسوس کیا؟”
میں نے محسوس کیا تھا، مگر فوراً جواب نہیں دیا۔ انتظار کر رہا تھا — یہ جاننے کے لیے کہ کیا یہ محض ایک جھٹکا تھا یا کچھ اور۔ زمین کے نیچے چھوٹے موٹے ہلکے زلزلے عام ہوتے ہیں۔ کچھ محسوس ہوتے ہیں، کچھ نہیں۔ مگر یہ… کچھ مختلف تھا۔
میں نے کہا، “میں ریفیوج چیمبر جا رہا ہوں۔ فوراً پہنچو۔”
ریفیوج چیمبر یعنی وہ فولادی کمرے جن میں ہوا، پانی، اور خوراک کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ اگر سب کچھ بگڑ جائے، تو وہی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔ اور اُس دن، لگ رہا تھا سب کچھ واقعی بگڑنے والا ہے۔
میں چیمبر تک پہنچ گیا، مگر اُس سے پہلے ہی دوسرا جھٹکا آیا۔ اس بار زمین نے صرف ہلچل نہیں کی — وہ چیخی۔ دیواروں سے گڑگڑاہٹ کی آواز آئی، جیسے کوئی ڈوبتا جہاز ٹوٹ رہا ہو۔ کہیں دور پتھر چٹخنے کی آواز گونجی، جیسے ہڈیاں ٹوٹ رہی ہوں۔ میں نے دروازہ بند کیا، ہینڈل گھمایا، اور چیمبر کے اندر دباؤ بڑھتا محسوس کیا۔
محفوظ تھا۔ یا شاید صرف یہی سوچ کر خود کو مطمئن کر رہا تھا۔
میں بیٹھ گیا۔ خاموشی میں ساکت۔ پسینے میں بھیگا ہوا۔ اور پھر مجھے احساس ہوا —
یہ فولادی ڈبہ، جو زمین کے اندر ایک کلومیٹر نیچے دفن ہے… یہ سب کچھ یاد رکھتا ہے۔
شاید وہی لمحہ تھا جب مجھے لگا کہ یہ کان بھی ایک زندہ شے ہے — صرف ایک کام کی جگہ نہیں، بلکہ ایک وجود، ایک یاد رکھنے والی روح، ایک منصف۔
میں نے دیوار سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔ باہر زمین نے ہلکا سا انگڑائی لی۔ ایک نرم سا ارتعاش — جیسے پیٹ کی گڑگڑاہٹ۔
کان بھوکی تھی۔
مگر میں مستحکم نہیں تھا۔
مگر کان کے اور ارادے تھے۔
میں اچھل کر پیچھے ہٹا۔ چھت کی درزوں سے مٹی جھڑنے لگی۔ ہنگامی روشنی میں وہ ذرے تیرنے لگے۔
اور پھر وہ آواز آئی — ٹھک!
میں جم گیا۔
خاموشی۔
بس شور۔ خراشوں جیسا سٹیٹک۔
ٹھکنے بند ہو گئیں۔
ٹھک، ٹھک، ٹھک۔
روشنی بدل گئی۔
اور پھر میں نے سنا — قدموں کی چاپ۔
جیسے ایک کاکروچ۔
قدموں کی چاپ دروازے کے باہر رُکی۔
ایک آواز — دھیمی، پرسکون — جو گونجی نہیں، بلکہ سیدھی سینے میں اتری:
“تم بہت نیچے آ گئے ہو۔”
ٹھک، ٹھک، ٹھک۔
میں نے آنکھیں جھپکائیں۔ رگڑ کر دوبارہ کھولیں۔
دروازہ غائب تھا۔
ٹھک، ٹھک، ٹھک۔
اور اب وہ انہیں پڑھ رہی تھی۔
پھر وہی آواز آئی —
“باہر نکلنا چاہتے ہو؟”
میں نے کچھ نہیں کہا۔
وہ بولی —
“کھودو۔”
جیسے کان نے اسے پورا نگل لیا ہو۔
