“زمین کی سانس”

 

میں کان میں کام کرتا ہوں۔ زمین کے نیچے اندھیرا، شور، اور گرد کا راج ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہم زمین سے سونا، تانبا یا لوہا نکالتے ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ ہم اپنی سانسیں، اپنی ہڈیاں اور اپنے دن رات زمین کے حوالے کر دیتے ہیں۔ میں دھماکے کرتا ہوں، چٹانوں میں سوراخ کرتا ہوں، پھر بارود بھرتا ہوں، اور جیسے ہی زمین کانپتی ہے، ہم سب ایک پل کے لیے اپنی سانس روک لیتے ہیں۔ کیونکہ ہر دھماکے کے بعد پتہ نہیں اگلا لمحہ ہمارا ہوگا یا نہیں۔

میرا نام احمد ہے۔ پچھلے دس سال سے بلوچستان کے ایک سنسان علاقے میں ایک کان میں کام کر رہا ہوں۔ اسے لوگ “گہرا پیٹ” کہتے ہیں، کیونکہ یہ پہاڑ کے اندر اتنا نیچے تک جاتا ہے کہ لگتا ہے جیسے زمین نے ہمیں نگل لیا ہو۔ اوپر دھوپ میں سب کچھ جلتا ہے، نیچے اندھیرے میں ہم۔

ہم چھے آدمی ایک ٹیم میں ہیں۔ بلال، جو سب سے پرانا ہے، ہمیں سکھاتا ہے کہ پتھر کی آواز کو کیسے سنا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے، “زمین بھی بولتی ہے احمد، بس سننے والا چاہیے۔” راشد ہمیشہ ہنستا رہتا ہے، کہتا ہے ہم سب پاگل ہیں جو روز مر کر زندہ ہونے واپس آتے ہیں۔ مگر شاید وہی ہنسی ہمیں بچاتی ہے۔

نیچے کان میں وقت رک جاتا ہے۔ دن اور رات کا فرق مٹ جاتا ہے۔ مشینوں کی آواز، ہوا کے پائپوں کا شور، اور ہیلمٹ کی روشنی ہی ہماری دنیا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں، کیونکہ اگر ایک کی غلطی ہو جائے تو سب دب جاتے ہیں۔

اس دن بھی سب کچھ عام لگ رہا تھا۔ میں نے اپنا ہیلمٹ پہنا، لائٹ چیک کی، اور بلال کے ساتھ نچلی سرنگ کی طرف بڑھا۔ پسینے سے کپڑے چپک رہے تھے، ہوا بھاری تھی، مگر ہمیں عادت ہو گئی تھی۔ کان میں اترتے وقت ہمیشہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی اور دنیا میں جا رہے ہوں، جہاں ہر سانس ایک سودا ہے۔

ہمیں نئی سطح پر دھماکہ کرنا تھا۔ بلال نے ڈرل مشین پکڑی، میں نے بارود تیار کیا۔ دھول اڑ رہی تھی، آوازیں گونج رہی تھیں۔ پھر اچانک زمین ہلکی سی کانپی۔ میں نے چونک کر بلال کو دیکھا۔ وہ رک گیا۔

“احمد، محسوس کیا؟” اس نے دھیرے سے کہا۔

میں نے سر ہلایا۔ “ہوا میں کچھ بدلا ہے۔”

ہم دونوں خاموش ہو گئے۔ کان کی دیوار جیسے سانس لے رہی تھی۔ ایک لمحے کو لگا جیسے زمین کے اندر کچھ زندہ ہے جو ہمیں دیکھ رہی ہو۔ راشد نے ہنستے ہوئے آواز لگائی، “ڈر گئے کیا؟ یہ تو روز کا چکر ہے!”

ہم نے دوبارہ کام شروع کیا۔ لیکن دل کے کسی کونے میں ایک بےچینی جاگ اٹھی تھی۔ جیسے کسی نے ہمیں خبردار کیا ہو۔

دھماکہ معمول کے مطابق ہوا۔ شور، دھول، اور پھر خاموشی۔ مگر جب دھواں چھٹا، تو سامنے کی دیوار میں ایک عجیب سی دراڑ نظر آئی۔ بلال آگے بڑھا، ہاتھ لگایا، اور پھر ایک دم پیچھے ہٹ گیا۔

“یہ پتھر نہیں، احمد… یہ کچھ اور ہے۔”

میں نے لائٹ اس دراڑ کے اندر ڈالی۔ اندر کی چمک عام چٹانوں جیسی نہیں تھی۔ وہ سانس لے رہی تھی۔ ہلکی ہلکی حرکت۔ جیسے کوئی دھڑک رہا ہو۔

میں نے سرگوشی میں کہا، “یہ جگہ… پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، نا؟”

بلال نے آہستہ سے کہا، “یہ حصہ نقشے میں نہیں تھا۔”

پھر وہ دراڑ اچانک پھٹ گئی۔ ایک گرم جھونکا نکلا، اور ہمیں لگا جیسے ہوا میں چیخ گونج اٹھی ہو۔ راشد پیچھے لڑھک گیا۔ مشینیں بند ہو گئیں۔ سب کچھ جیسے ایک پل کے لیے تھم گیا۔

ہم نے باہر نکلنے کی کوشش کی، مگر کان کا راستہ بند ہو چکا تھا۔ پتھروں کا ڈھیر، دھواں، اور ایک عجیب سی گونج، جو ہماری اپنی آوازوں کو دبا رہی تھی۔

میں نے چیخ کر کہا، “کوئی ہے؟”

جواب میں ایک سرگوشی ملی۔ مگر وہ ہماری زبان میں نہیں تھی۔

بلال نے میری طرف دیکھا۔ “احمد… یہ کان خالی نہیں ہے۔”

اور تب ہمیں احساس ہوا، ہم اکیلے نہیں تھے۔ زمین کے نیچے کچھ ایسا جاگ چکا تھا جو ہزاروں سال سے خاموش تھا۔

میں نے اپنی لائٹ بند کر دی۔ اندھیرے میں بس وہی دھڑکن باقی رہ گئی تھی۔

وہ دن تھا جب “گہرا پیٹ” واقعی زندہ ہو گیا۔

کوئی مذاق نہیں تھا۔

یہ میرا پہلا تجربہ نہیں تھا۔ میں دس سال سے زیادہ عرصے سے زمین کے چہروں پر دھماکے کر رہا ہوں۔ اتنا وقت گزارنے کے بعد تم زمین کی سانسوں کو محسوس کرنا سیکھ جاتے ہو — جب وہ پرسکون ہو، جب وہ بےچین ہو، جب وہ خفا ہو۔ اُس صبح سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا۔ حد سے زیادہ معمول کے مطابق۔ وہ خاموشی جو تمہیں تب ہی محسوس ہوتی ہے جب بعد میں یاد کرنے کی کوشش کرو کہ آخر تم نے کون سا اشارہ نظرانداز کر دیا تھا۔

ہم زمین کی گہرائی میں تھے، تقریباً ایک ہزار میٹر نیچے۔ ہوا گرم تھی، نمی سے بھری ہوئی، اور ایک عجیب سی چپ تھی۔ میرا ساتھی، داؤد، مذاق کر رہا تھا کہ یہاں کی ہوا اتنی گاڑھی ہے کہ پی جا سکتی ہے۔ ہم سرنگ کے آخری حصے میں دھماکے کی تیاری کر رہے تھے۔ ڈرلنگ کا کام صاف ستھرا ہوا تھا۔ میں بارود کے چارج تیار کر رہا تھا جبکہ داؤد ہیلمٹ کو پنکھا بنا کر اپنے چہرے پر جھلک رہا تھا۔

وہ ہنستا ہوا بولا، “اگر ہم اس طرح نیچے جاتے رہے تو سیدھے چین نکل جائیں گے؟”

میں نے بغیر دیکھے جواب دیا، “پہلے جہنم ملے گا۔”

وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بولا، “کبھی سوچا ہم یہاں نیچے ہونے کے لیے بنے ہی نہیں ہیں؟”

میں نے سر اٹھا کر پوچھا، “روحانی لحاظ سے؟”

وہ بولا، “نہیں، حیاتیاتی طور پر۔ ہم انسان ہیں — ہمارے جسم، ہماری سانسیں، ہماری آنکھیں — سب زمین کی سطح کے لیے بنے ہیں، اندھیرے کے لیے نہیں۔”

میں نے پسینہ پونچھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “اپنے لیے بول، میں تو سمجھتا ہوں ہم کاکروچ ہیں۔ سب کچھ مٹ جائے گا مگر ہم زندہ رہیں گے۔”

وہ ہنسا، میں بھی ہنس پڑا۔ نیچے زمین کے اندر، بعض اوقات ہنسی ہی ہاتھوں کی کپکپی روکنے کا واحد طریقہ ہوتی ہے۔

شفٹ کے بیچ میں میں دھماکے کے تار لینے کے لیے گاڑی کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک وہ ہوا —

زمین نے ہلچل نہیں کی، بلکہ جیسے کروٹ لی ہو۔ ایک لمحے میں توازن بگڑ گیا۔ گھٹنوں نے جواب دے دیا اور میں دیوار سے جا لگا۔ چھت سے مٹی ایسے گری جیسے کسی نے آٹے کا چھلنی جھاڑ دی ہو۔ لائٹس ایک پل کے لیے جھپکیں، پھر ٹھہر گئیں۔ وینٹیلیشن کے پنکھوں کی گھن گرج تھوڑی دیر کے لیے بدلی — جیسے وہ سانس لینے میں مشکل محسوس کر رہے ہوں۔

داؤد کی آواز وائرلیس پر آئی، “یہ کیا تھا؟ تم نے محسوس کیا؟”

میں نے محسوس کیا تھا، مگر فوراً جواب نہیں دیا۔ انتظار کر رہا تھا — یہ جاننے کے لیے کہ کیا یہ محض ایک جھٹکا تھا یا کچھ اور۔ زمین کے نیچے چھوٹے موٹے ہلکے زلزلے عام ہوتے ہیں۔ کچھ محسوس ہوتے ہیں، کچھ نہیں۔ مگر یہ… کچھ مختلف تھا۔

میں نے کہا، “میں ریفیوج چیمبر جا رہا ہوں۔ فوراً پہنچو۔”

ریفیوج چیمبر یعنی وہ فولادی کمرے جن میں ہوا، پانی، اور خوراک کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ اگر سب کچھ بگڑ جائے، تو وہی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔ اور اُس دن، لگ رہا تھا سب کچھ واقعی بگڑنے والا ہے۔

میں چیمبر تک پہنچ گیا، مگر اُس سے پہلے ہی دوسرا جھٹکا آیا۔ اس بار زمین نے صرف ہلچل نہیں کی — وہ چیخی۔ دیواروں سے گڑگڑاہٹ کی آواز آئی، جیسے کوئی ڈوبتا جہاز ٹوٹ رہا ہو۔ کہیں دور پتھر چٹخنے کی آواز گونجی، جیسے ہڈیاں ٹوٹ رہی ہوں۔ میں نے دروازہ بند کیا، ہینڈل گھمایا، اور چیمبر کے اندر دباؤ بڑھتا محسوس کیا۔

محفوظ تھا۔ یا شاید صرف یہی سوچ کر خود کو مطمئن کر رہا تھا۔

میں بیٹھ گیا۔ خاموشی میں ساکت۔ پسینے میں بھیگا ہوا۔ اور پھر مجھے احساس ہوا —

یہ فولادی ڈبہ، جو زمین کے اندر ایک کلومیٹر نیچے دفن ہے… یہ سب کچھ یاد رکھتا ہے۔

دیوار پر خراش زدہ حروف۔ بنچ کے کنارے پر کھینچی گئی گنتی کی لکیریں۔ ایک کونے میں دل کا نشان اور نیچے ایک تاریخ: M + C, 2021۔
یہ سب اُن لوگوں کے نشانات تھے جو مجھ سے پہلے یہاں انتظار کر چکے تھے — یہ جانے بغیر کہ وہ کبھی دوبارہ زمین کی سطح دیکھ پائیں گے یا نہیں۔

ریفیوج چیمبر میں وقت عجیب سا برتاؤ کرتا ہے۔ یہ جگہ بہت چھوٹی تھی، شاید چار میٹر چوڑی۔ پھیکی دیواریں، ایک دھات کی بنچ، آکسیجن کے سلنڈر ترتیب سے رکھے ہوئے، جیسے اضافی تابوت۔ ایک مشین جو سی او ٹو صاف کرتی ہے، ہلکی سی سیٹی بجاتی، سانس لیتی۔ دیوار پر ایک دستی کتاب ٹنگی تھی، جس میں رنگین خاکے اور مسکراتے ہوئے کردار دکھائے گئے تھے، جیسے سب کچھ آسان ہو — جیسے کوئی انسان اپنی عقل کھوتے وقت بھی پرسکون رہ سکتا ہو۔
یہاں قدرتی روشنی کا نام و نشان نہیں تھا۔ ہوا خشک تھی، ری سائیکل شدہ، ہلکی دھات جیسی بو لیے ہوئے۔

شروع میں میں خود کو مصروف رکھتا رہا۔ کنٹرول روم سے ریڈیو پر رابطہ کیا، سپلائیز چیک کیں، آکسیجن سسٹم دیکھا۔ لیکن جیسے ہی رُکا، سوچنے لگا۔ اور یہ سوچنا خطرناک تھا۔
یہ سب یوں نہیں ہونا تھا۔

شاید وہی لمحہ تھا جب مجھے لگا کہ یہ کان بھی ایک زندہ شے ہے — صرف ایک کام کی جگہ نہیں، بلکہ ایک وجود، ایک یاد رکھنے والی روح، ایک منصف۔

یہ مجھے جانتی تھی۔
یہ جانتی تھی کہ ہر بار دھماکے سے پہلے میں آہستہ سے گالی دیتا ہوں۔
یہ جانتی تھی کہ میں بارود بھرتے وقت 80 کی دہائی کے بےوقوفانہ گانے گاتا ہوں تاکہ خوف چھپ جائے۔
یہ بھی جانتی تھی کہ پچھلے ہفتے میں نے اپنی بیٹی کی سالگرہ مس کر دی تھی۔
یہ جانتی تھی کہ میں نے ماں کو مہینے بھر سے فون نہیں کیا۔
اور سب سے بڑھ کر یہ جانتی تھی کہ میں تھک چکا ہوں۔

میں نے دیوار سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔ باہر زمین نے ہلکا سا انگڑائی لی۔ ایک نرم سا ارتعاش — جیسے پیٹ کی گڑگڑاہٹ۔

کان بھوکی تھی۔

میں یہاں پھنسانے کے لیے نہیں آیا تھا۔
مجھے اپنی شفٹ ختم کرنی تھی، بس پکڑ کر کیمپ واپس جانا تھا، مائیکروویو میں خراب سا پاستا گرم کر کے کھانا تھا، اور پرانے میچوں کی جھلکیاں دیکھتے ہوئے سو جانا تھا۔
یہی منصوبہ تھا۔

مگر اب میں اکیلا تھا۔
پسینے میں بھیگا ہوا، اپنے اوپر موجود لاکھوں ٹن چٹانوں کا وزن سوچتے ہوئے۔
داؤد کہاں تھا؟ کیا وہ کسی دوسرے چیمبر تک پہنچ گیا؟ یا مر گیا؟

میں نے گننا شروع کیا۔
سات آکسیجن سلنڈر۔
چودہ راشن پیک۔
تین پانی کے ڈبے۔
ایک ٹوائلٹ بالٹی۔
نہ کوئی کھڑکی۔
نہ کوئی گھڑی۔

اور ایک بڑھتا ہوا احساس کہ یہاں وقت مڑ رہا ہے۔
دس منٹ ایک گھنٹہ لگتے۔
ایک گھنٹہ، لمحہ بھر۔
واحد ناپنے والی چیز وہ سبز ایل ای ڈی تھی، جو بار بار چمکتی تھی:
SAFE - PRESSURISED - STABLE
(محفوظ - دباؤ درست - مستحکم)

مگر میں مستحکم نہیں تھا۔

میں نے خود سے بات کرنا شروع کی۔
پہلے اونچی آواز میں، پھر دل میں۔
یہ وہ عادت تھی جو میں نے پہلے سال سیکھی تھی — بات کرتے رہو، پاگل مت بنو۔
مگر اس بار کچھ کام نہیں آیا۔
خاموشی اتنی اونچی تھی کہ لگتا تھا دیواروں کے پار سے اندر گھس رہی ہے۔

میں ہنسا۔ واقعی ہنسا۔
وہ ہنسی جو بند کمرے میں بہت زیادہ سنائی دیتی ہے۔
“ابھی سے دماغ گیا؟” میں نے خود سے کہا، صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ آواز نکلتی ہے یا نہیں۔
آواز نکلی، مگر عجیب تھی — خالی، دبی ہوئی، جیسے کسی اور کی ہو۔

روشنی پھر سے جھپکی۔
صرف ایک پل کے لیے۔

میں نے دیوار کے ساتھ کمر ٹکائی، آنکھیں ٹھوس چیزوں پر جما دیں — دھات، بنچ، ایمرجنسی شیٹ۔
کچھ ٹھوس۔ کچھ اصلی۔

مگر کان کے اور ارادے تھے۔

ایک لرزش جوتوں کے تلوؤں سے گزری۔
مدھم سی۔ موسیقی جیسی۔ جیسے کسی نے چیلّو پر بہت نیچی تان چھیڑ دی ہو۔
پھر ایک اور۔
مزید قریب، مزید بھاری۔
میں نے اسے کانوں سے نہیں، سینے کے اندر محسوس کیا — جیسے وہ مجھے بجا رہی ہو۔

میں کھڑا ہو گیا۔ دل دھڑکنے لگا۔
یہ کوئی زلزلہ نہیں تھا۔
زمین نہیں ہل رہی تھی۔
آواز ہل رہی تھی۔

یہ ایسا لگا جیسے کان دوبارہ سانس لے رہی ہو۔
آہستہ۔ اندر۔ باہر۔
ہوا حرکت کر رہی تھی، مگر مشین سے نہیں — پتھروں کے اندر سے۔
ایک گرم سانس، جیسے زمین کی گہرائیوں سے کوئی اندر پھونک مار رہا ہو۔

میں نے ہاتھ دیوار پر رکھا۔
وہ دھڑکی۔
صرف ایک بار۔

میں اچھل کر پیچھے ہٹا۔ چھت کی درزوں سے مٹی جھڑنے لگی۔ ہنگامی روشنی میں وہ ذرے تیرنے لگے۔

اور پھر وہ آواز آئی — ٹھک!

ایک بار۔
تیز، واضح، سوچ سمجھ کر دی گئی۔

وہ دیوار کے باہر سے آئی تھی۔
ہوا کے وینٹ کے پاس سے۔

میں جم گیا۔

پھر دوبارہ — ٹھک!
پھر ایک اور۔
میں دروازے کے قریب گیا، کان لگا دیا۔

خاموشی۔

پھر — ٹھک، ٹھک، ٹھک۔
تین بار، ایک تال میں۔
جیسے کوئی دھات پر انگلیوں سے پیغام دے رہا ہو۔

میں نے ریڈیو اٹھایا۔
“کیا کوئی باہر ہے؟ یہ چیمبر فائیو ہے، کوئی سنے تو جواب دے!”

بس شور۔ خراشوں جیسا سٹیٹک۔

ٹھکنے بند ہو گئیں۔

میں دیر تک دروازے کو دیکھتا رہا۔ اتنی دیر کہ خاموشی خود مذاق لگنے لگی۔
جیسے چٹان ہنس رہی ہو۔

میں سو نہیں سکا۔
سوچ بھی نہیں سکا۔

ٹھکنے واپس نہیں آئیں، مگر اُن کا خیال آیا۔ اُن کی بازگشت دماغ میں گونجتی رہی۔
شاید ہوا کا اثر تھا۔
شاید کوئی اور باہر تھا — پھنس چکا، مرتا ہوا۔
یا شاید میں ہی باہر نہیں نکلا، اور یہ سب مرنے کے بعد کا عالم تھا — دھات کی دیواریں، باسی آکسیجن، اور وہ یقین کہ اب کچھ بھی معنی نہیں رکھتا۔

پتہ نہیں کتنا وقت گزرا، مگر اچانک وہ آواز پھر آئی۔
اس بار تیز۔
غصے میں۔

ٹھک، ٹھک، ٹھک۔

روشنی بدل گئی۔

اور پھر میں نے سنا — قدموں کی چاپ۔

نہ جوتوں کی۔ نہ دھات پر۔
بلکہ ننگے پاؤں کی چاپ — پتھر پر۔
سست۔ ناپ تول کر چلتے ہوئے۔
کان کے اندر سے، اُس بند گلی سے جو دروازے کے پار تھی۔

اُسی لمحے میں نے سوچنا چھوڑ دیا۔
نہ مزدور کی طرح۔ نہ انسان کی طرح۔
بلکہ زمین کا حصہ بن کر — جیسے جسم کے اندر ایک خلیہ ہوں، جس کے گرد باقی سب کچھ بڑھ چکا ہو۔

جیسے ایک کاکروچ۔

قدموں کی چاپ دروازے کے باہر رُکی۔

خاموشی۔
پھر — ٹھک، ٹھک، ٹھک۔

ایک آواز — دھیمی، پرسکون — جو گونجی نہیں، بلکہ سیدھی سینے میں اتری:

“تم بہت نیچے آ گئے ہو۔”

میں پیچھے ہٹا۔ دل زور سے دھڑکنے لگا۔
“کون ہے؟” میں نے پوچھا، حالانکہ جواب نہیں چاہتا تھا۔

“تمہیں یاد نہیں،” وہ بولی۔
“مگر کان یاد رکھتی ہے۔ وہ سب یاد رکھتی ہے جو تم نے دفن کیا۔”

ٹھک، ٹھک، ٹھک۔

میں نے آنکھیں جھپکائیں۔ رگڑ کر دوبارہ کھولیں۔

دروازہ غائب تھا۔

نہ ٹوٹا ہوا۔
نہ دبا ہوا۔
بس… غائب۔
اس کی جگہ ٹھوس چٹان تھی۔ کوئی درز نہیں، کوئی ہینڈل نہیں، کوئی راستہ نہیں۔

ٹھک، ٹھک، ٹھک۔

پتھریلی دیوار میں دراڑیں اُبھریں۔
اُن کے اندر حرکت تھی۔
چٹان کے اندر چہرے ابھرنے لگے۔
ہاتھ، انگلیاں، بازو — جیسے پتھروں میں دفن یادیں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

ایک چہرہ داؤد جیسا تھا۔
ایک میرے باپ جیسا۔
ایک… میرا اپنا۔

کان مجھے سب کچھ دکھا رہی تھی —
وہ سب کچھ جو میں نے چھپایا تھا۔
جھوٹ، غلطیاں، غفلتیں، وہ لمحے جب میں نے حفاظت چھوڑ کر آرام چنا۔
وہ دن جب ایک لڑکا زخمی ہوا اور میں نے مذاق بنا دیا۔
میری شرمندگیاں ان دیواروں میں کندہ تھیں — جیسے زمین نے میرے گناہوں کے نمونے محفوظ کر رکھے ہوں۔

اور اب وہ انہیں پڑھ رہی تھی۔

پھر وہی آواز آئی —

“باہر نکلنا چاہتے ہو؟”

میں نے کچھ نہیں کہا۔

وہ بولی —

“کھودو۔”

مجھے نہیں معلوم کہ میں وہاں کتنی دیر پھنسا رہا۔
شاید پانچ گھنٹے۔
شاید بیس۔
وقت ایک دھند بن چکا تھا۔
بس اتنا یاد ہے کہ جب ریفیوج چیمبر کا دروازہ آخرکار کھلا، تو ریسکیو ٹیم کے ہیلمٹ سے نکلنے والی روشنی نے میری آنکھیں چندھا دیں۔

انہوں نے کہا میں خوش قسمت ہوں۔
کہا کہ زمین کے نیچے ہونے والے جیو حادثے نے مین سرنگ کا راستہ بند کر دیا تھا، اور کچھ لوگ وقت پر پناہ گاہوں تک نہیں پہنچ پائے۔

جب میں سطح پر پہنچا تو پہلا سوال میرے منہ سے یہی نکلا:
"داؤد کہاں ہے؟"

انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
پھر کسی نے آہستہ سے کہا،
"ہمیں اس کا ہیلمٹ ملا ہے... باقی کچھ نہیں۔"

جیسے کان نے اسے پورا نگل لیا ہو۔

انتظامیہ نے رپورٹ میں لکھا:
“Displacement Event” — ایک قدرتی حرکت، زمین کا معمولی جھٹکا۔
انہوں نے کہا کہ شاید وہ بیس میٹر چٹانوں کے نیچے دب گیا ہو۔
بچاؤ کا کوئی امکان نہیں۔

میں نے کچھ نہیں کہا۔
بس سر ہلا دیا۔

انہوں نے “ٹھکنے” کا ذکر نہیں کیا۔
اور میں نے بھی نہیں۔

اب میں واپس ڈیوٹی پر ہوں۔
چند ہفتے گزر چکے ہیں۔
وہی چکر، وہی بارہ گھنٹے کی شفٹ، وہی شور، وہی دھول۔
بس عملے کی فہرست میں چند نام کم ہو گئے ہیں۔

میں پھر بارود بھرتا ہوں،
پھر چٹانوں کو سنتا ہوں،
پھر خاموشی کو تولتا ہوں۔

کبھی کبھی جب میں اکیلا کام کر رہا ہوتا ہوں —
سب مشینیں بند، سب آوازیں تھم چکی ہوتی ہیں —
میں خود کو خاموشی کے اندر سنتا ہوں۔

بس اس لیے...
کہ اگر کبھی وہ پھر سے ٹھک، ٹھک، ٹھک کرے —
تو میں جواب دے سکوں۔
ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی