میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا،
“خدا، کیا تم سن رہے ہو؟ آج مجھے ہمت دے کہ میں سچ بول سکوں۔ اور اگر ممکن ہو تو سورج بھی لوٹا دو۔”
لیکن بادل برس پڑے۔ ہوا میں مٹی کی خوشبو گھل گئی، نمی نے سانسوں کو بھاری کر دیا۔ میں جانتا تھا مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا، لیکن وہ ضد کرتی رہی، اور میں انکار نہ کر سکا۔
میں نے چھتری کھولنے کی کوشش کی، مگر تیز ہوا نے جھٹکے سے اسے چھین کر جھولے کی طرف پھینک دیا۔ بچے چیخنے لگے اور درخت کے نیچے بھاگ گئے۔
بس وہ نہیں بھاگی۔ وہ آہستہ سے چلی، چہرے پر بارش کی بوندیں، آنکھوں میں حیرت۔ چھتری کی ٹوٹی ہوئی ڈنڈی کی طرف اشارہ کیا اور بولی، “ٹوٹ گئی۔”
میں نے دیکھا، واقعی چھتری زمین پر گری تھی۔ اس کا ڈھانچا مڑ گیا تھا، کپڑا بھیگ چکا تھا، اور بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ ایسے دیکھ رہی تھی جیسے پہلی بار سمجھ رہی ہو کہ کچھ چیزیں واپس ٹھیک نہیں ہوتیں۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولی، “ٹپ ٹپ، ٹپ ٹپ۔”
وہ چیزوں کو ان کے نام سے نہیں پکارتی، بس آوازوں سے۔ پرندوں کو بھی وہ “چوں چوں” کہتی ہے۔
ہم دونوں بھیگتے ہوئے آہستہ آہستہ گیٹ سے باہر نکلے۔
میں نے کہا، “چلو گھر چلیں۔”
وہ بولی، “کھیلیں گے؟”
میں نے کہا، “نہیں، آج نہیں۔ بارش ہے۔”
ہم چرچ کے پاس سے گزرے۔ پرانے اینٹوں والے اس چرچ کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ کبھی یہ روشنی کا مینار لگتا تھا، اب جیسے خاموش دعاؤں کا گھر ہو۔
پھر ہم سوئمنگ پول کے پاس سے گزرے۔ پانی کی سطح پر بارش کی بوندیں چھوٹے چھوٹے دائرے بنا رہی تھیں۔ وہ رُکی، لوہے کی جالی میں سے ہاتھ ڈال کر بولی، “تھوڑا نہائیں؟”
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، “نہیں، چلو۔”
وہ بار بار کہتی رہی، “تھوڑا سا!”
میں نے نظریں چرا لیں۔ میرے دل میں کچھ بھاری سا اتر گیا۔
ایک بلی اچانک ہمارے سامنے سے بھاگی۔ کالے رنگ کی، بڑی سبز آنکھوں والی۔
وہ خوش ہو کر بولی، “میاؤ!”
بلی چھلانگ لگا کر دیوار پار کر گئی۔
وہ ہنسنے لگی، بولی، “تیز گئی!”
میں چپ رہا۔ یاد آیا کہ وہ اور اس کی سہیلی پچھلے سال پارک میں ایک بلی کے پیچھے بھاگے تھے۔ پھر دونوں نے خشک پتے اکٹھے کر کے ہوا میں اڑائے تھے۔ ان کے قہقہے آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔
میں نے اس کی چھوٹی انگلی پکڑی۔ بارش اب کچھ نرم ہو چکی تھی۔ وہ پھر بولی، “ہم کھیلیں گے نا؟”
میں نے ہلکی آواز میں کہا، “نہیں، آج نہیں۔”
ہم آگے بڑھے۔ ایک گھر کے سامنے سفید کنول کے پھول کھلے تھے۔ وہ رُک گئی۔
پھولوں کو دیکھ کر بولی، “دیکھو، جیسے اس کے تھے!”
میں نے چہرہ موڑ لیا۔ کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
اس کے دوست کا چہرہ میرے ذہن میں آیا۔ وہ جو پانی کے نیچے خاموش ہو گیا تھا۔ وہ جسے خدا کے پاس واپس جانا پڑا۔
میں نے تب ساری رات دعا کی تھی۔ سوچا تھا شاید خدا سن لے۔
لیکن صبح سورج نہیں نکلا۔
وہ میری طرف دیکھ رہی تھی۔ آنکھوں میں سوال، چہرے پر معصوم سکون۔
میں کچھ کہنا چاہتا تھا، سچ بتانا چاہتا تھا، مگر الفاظ گلے میں اٹک گئے۔
میں نے صرف کہا، “چلو گھر چلیں۔”
وہ چلتی گئی، پانی کے چھینٹوں سے کھیلتی ہوئی۔ بارش رکنے لگی تھی۔ اس کی ہنسی جیسے سورج کی پہلی کرن ہو۔
گھر پہنچ کر ہم نے بھیگے کپڑے بدلے۔ میں نے چاہا کہ بارش میرے اندر کے دکھ بھی بہا لے جائے، مگر دل پر جیسے مٹی جم گئی تھی۔
وہ دروازے پر رُکی، اب بھی باہر دیکھ رہی تھی۔
میں نے سوچا، شاید اب وقت آ گیا ہے سب بتانے کا۔ مگر زبان چپ رہی۔
میں نے بس آہستہ سے کہا، “کل بتاؤں گی۔”
وہ ہنسی۔ ہاتھ آسمان کی طرف بڑھایا، بوندیں اپنی ہتھیلی پر سمیٹنے لگی۔
میں نے مسکرا کر کہا، “ٹپ ٹپ۔”
اس نے بھی کہا، “ٹپ ٹپ!”
اور ہنس دی۔
سورج ابھی نہیں نکلا تھا —
مگر وہ تھی،
ابھی میرے پاس،
ابھی زندہ،
ابھی روشنی۔