ایک خفیہ راز

 

 ایما اپنے دل کی کیفیت میں الجھن محسوس کر رہی تھی۔ وہ ٹاول سے چہرہ خشک کر رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر ایک کارڈ پر پڑی۔ کارڈ میں لکھی ہوئی شاعری نے اسے چونکا دیا:

“سنو! یہ دائمی سچ ہے
بہت دن سے یوں ہوتا ہے
کہ سپنوں کی حسیں وادی
ہماری آنکھ میں آ کر
کسی کو منتظر پاکر
وہیں سے لوٹ جاتی ہے
کئی دن سے ہماری سانس رک رک کے آتی ہے
دلِ بیتاب کی دھڑکن
فقط تم کو بلاتی ہے
ہماری سوچ کا درپن
تمہاری اور کھلتا ہے
ہمارے بس میں جو کچھ تھا
وہ اب بس میں نہیں لگتا
سبھی کچھ اب تمہارا ہے
اگر مانو یہی سچ ہے
مجھے تم سے محبت تھی!!
مجھے تم سے محبت ہے!!”

ایما نے کارڈ کا بغور جائزہ لیا لیکن کسی بھی طرف سے بھیجنے والے کا نام نہیں ملا۔ دل میں تجسس اور حیرت کے باوجود اس نے اسے نظر انداز کر دیا۔ حمنیٰ، جو ایما کی دوست تھی، نے فوراً سوال کیا، "ایما! یہ کیا ہے؟ یہ کارڈ کس نے بھیجا؟" ایما نے سنجیدگی سے جواب دیا، "پتہ نہیں، بس یوں ہی ملا۔"

حمنیٰ کے چہرے پر حیرت اور تجسس کی لہر دوڑ گئی۔ "تمہیں نہیں لگتا ہمیں جاننا چاہیے کہ اس محبت بھرے کارڈ کے پیچھے کون ہے؟" ایما نے مسکرا کر کہا، "وقت آنے پر سب سامنے آ جائے گا۔"

دوسری جانب بخاری پیلس میں خاندان کی زندگی اپنے مخصوص انداز میں رواں تھی۔ قدیم مشرقی روایات اور اخلاقی اقدار کو سینے سے لگائے ہوئے یہ خاندان، موجودہ دور کی ترقی اور جدیدیت کے باوجود اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے تھا۔ اس وقت خاندان کی سب سے بڑی بیٹی سمائرہ بخاری کی رخصتی کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ پورا خاندان خوشی اور ولولے میں مبتلا تھا۔ ہال میں محفل سجی ہوئی تھی، سب اپنے اپنے انداز میں خوش گپیوں میں مصروف تھے، اور اس دوران خاندان کے نوجوان افراز، زوہیب اور دیگر رشتہ دار اپنی مخصوص باتوں اور چٹکلوں سے محفل کو مزید دلچسپ بنا رہے تھے۔

رات کے وقت، بخاری پیلس کی عمارت میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ افراز بخاری اپنی عالیشان خواب گاہ میں تنہا تھا۔ ہاتھ میں تمباکو کا پائپ تھامے، اس کی نظریں میز پر رکھی ڈائری کی سطروں پر مرکوز تھیں۔ وقت کی ٹک ٹک سنتے ہوئے وہ گہری سوچ میں گم تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں میں نمی صاف کی اور دل سے سوچا، "بابا جانی! آپ کی ہر خواہش ہمارے لیے مقدّم ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور پورا کریں۔"

وہ وضو کر کے نماز میں خشوع و خضوع کے ساتھ جھک گیا اور دل میں سکون محسوس کیا۔ صبح کے وقت، ایما اور حمنیٰ اپنی معمول کی چہل قدمی کے لیے پارک میں پہنچیں۔ ایما کا ذہن ابھی بھی کارڈ کی پر اسرار کہانی پر مرکوز تھا۔ حمنیٰ نے سوال کیا، "ایما! وہ کارڈ دینے والا لڑکا یہاں نہیں ہوگا کیا؟" ایما نے مسکرا کر جواب دیا، "ہم دیکھیں گے، وقت آئے گا تو سب سامنے آئے گا۔"

ایما کا دل تجسس سے دھڑک رہا تھا، مگر وہ جانتی تھی کہ سب کچھ صبر اور حوصلے سے سامنے آئے گا۔ حمنیٰ بھی اس کے ساتھ تھی، مگر دونوں کے دل میں سوالات اور تجسس کی لہر برقرار تھی۔ ایما نے کارڈ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور سوچا کہ آخر وہ خوش نصیب شخص کون ہے جس نے اس کے دل تک رسائی حاصل کر لی ہے۔

بخاری پیلس میں فجر کی پہلی اذان کے ساتھ ہی زندگی کی حرارت واپس لوٹنے لگتی تھی۔ صبح ناشتے کے وقت میز پر سب موجود ہوتے اور رات کے عشائیے میں بھی سب کا ساتھ ہوتا۔ دوپہر کا کھانا خواتین کے علاوہ سب اپنی مرضی سے لیتے۔ صبح کا وقت بخاری پیلس میں خوشگوار ہلچل سے بھرا ہوتا، دادو جانی صبح کے ناشتہ کے بعد دعا پڑھتی، چچا جان ناشتہ کر کے آفس کے لیے روانہ ہو جاتے۔ ینگ جنریشن ناشتہ کر کے اپنی جاب یا یونیورسٹی کی تیاری مکمل کرتی، پھر بڑی ماما، ماما جان، مہ پارہ پھو اور ثناء بھابھی ناشتہ کرتیں۔

دادو جانی اس ہلچل کو دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھتی، پورا خاندان ساتھ بیٹھتا تو اس کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک مزید بڑھ جاتی۔

"السلام علیکم خواتین!"

افراز بخاری کی گمبھیر آواز پر سب متوجہ ہوئے اور سلام کا جواب دیا۔ دادو جانی نے پیشانی چوم کر اسے پیار کیا۔

"فاز! آج تمہاری صبح دیر سے ہوئی؟"
مہ پارہ پھو کی آواز میں فکر تھی۔
"رات ضروری کام کی وجہ سے دیر تک جاگا رہا۔"
"بیٹے! اتنی رات گئے تک مت جاگو، صحت متاثر ہوگی۔"
ماما جان کی نصیحت پر افراز محض سر ہلا کر اکتفا کرتا۔
"والدہ محترمہ! اگر آپ وقت پر شادی کر دیتیں تو شرٹس کے بٹن سلامت ہوتے۔"

اسی وقت مصطفٰی آیا اور مہ پارہ پھو نے خوشی سے نگاہوں سے اسے گھورا۔

"بھائی! آپ شرٹس کے ریسلنگ کر رہے ہیں؟"
مشی کے بھولے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے افراز نے بٹن وہاں موجود خواتین کے سامنے ٹوٹا ہوا دکھایا۔

"آج کافی لیٹ ہو گئے طیفی بیٹے؟"
بڑی ماما نے حیرانی سے سوال کیا اور چائے کا مگ بڑھایا۔
"اگر بیوی ہوتی تو وقت پر جگاتی، ناشتہ تیار رکھتی، مگر ماں کو بیٹے کی ضروریات کا خیال نہیں!"
افراز کے لبوں پر مدھم مسکراہٹ تھی، شادی نہ ہونے کا رونا بھی کچھ خوش طبعی کے ساتھ تھا۔

"صرف بیوی سے خدمتیں نہیں بلکہ بیوی کی ضروریات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، برخوردار!"
ارمان بخاری نے طنزیہ لہجے میں کہا اور افراز یکدم گھبرا گیا۔
"ماموں! آپ یہاں؟ سب خیریت؟"
"فاز! ابھی بھی وقت ہے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لو، تم نے ہسپتال میں اس نالائق کو نوکری دے کر غلطی تو نہیں کی۔"
"آپ میری قابلیت پر شک کر رہے ہیں؟"
افراز نے تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
"بیٹے! ایسا موقع فراہم ہی کیوں کرتے ہیں؟"
ماما جان نے ہنس کر بٹن ٹانک دیا۔

"چچا جان! یہ نالائق قابل رشک ذہانت کا مالک ہے، بس شادی کا رونا نہ روائے!"
افراز نے پر تبسم لہجے میں جواب دیا۔
"فاز بیٹے! ناشتہ تیار ہے، جلدی آ جاؤ۔"
"ماں بس چائے ہی کافی ہے، دوپہر کا کھانا سب کے ساتھ ہوگا۔"
"خالی چائے مناسب نہیں، سلائس بھی لینا ہوگا، جلدی آ جاؤ!"
بڑی ماما کی تاکید پر افراز اٹھ کھڑا ہوا۔ اخبار دیکھنے کے بعد دادو جانی نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ ارمان پر نظر ڈالی۔
"آج آفس نہیں گئے؟"
"فاز نے گھر رکنے کو کہا، کچھ ضروری بات کرنی تھی۔"
"خاص بات؟"
"معلوم نہیں، بعد میں پتا چلے گا۔"
ارمان نے اخبار کی جانب متوجہ ہو گئے۔

ڈاکٹر عنادل اپنے سیاہ سکارف کے ساتھ ہالے میں تھکن سے بوجھل چہرے کے ساتھ بیٹھا تھا، گہری سوچ میں غرق۔ گذشتہ دنوں ملنے والے کارڈ کے بارے میں فکر مند تھی۔ یہ سلسلہ کئی ماہ سے جاری تھا، شروع میں اس نے کوئی دھیان نہیں دیا، مگر بعد میں پریشانی کا سبب بن گیا۔

اس ہسپتال میں ایک سال کا تجربہ مکمل ہو چکا تھا، اور کارڈز کی اصلیت جاننا ابھی تک ممکن نہیں ہوا تھا۔ کسی نے اسکے بیگ میں کارڈ ڈال دیا، اور عنادل نے غیر ارادی طور پر اسے محسوس کیا۔

"کون ہو سکتا ہے؟"
دونوں ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتے ہوئے عنادل نے خود سے سوال کیا۔ اسی وقت دروازہ کھلا اور رابیل داخل ہوئی۔
"Anadil! Is everything ok?"
رابیل کی آواز پر عنادل کی سوچ ٹوٹ گئی۔
"بس جانے والی ہوں۔"
سر ہلا کر جواب دیا۔

رابیل قریب آ کر نشست سنبھالنے لگی۔
"ڈیوٹی کے اوقات ختم ہو گئے، تم یہاں؟ سب خیریت؟"
عنادل نے محض مسکرایا۔
"ان محترمہ کی پریشانی کی وجہ میں ہوں۔"
"حمنیٰ! تم یہاں کیسے؟"
حمنیٰ نے داخل ہوتے ہی سب سے پوچھا، "بابا، انکل، آنٹی سب خیریت؟"
عنادل نے اسے دیکھ کر جواب دیا، "سب خیریت سے ہیں، تم خاص مشن پر ہو تو یہاں آ گئی؟"
رابیل نے دلچسپی سے حمنیٰ کو دیکھا۔
"ہیلو ڈاکٹر رابیل! ہاؤ آر یو؟"
"فائن، تھینک یو!"
دونوں نے ہاتھ ملایا۔
"کیا خاص مشن ہے؟"
"ہرگز نہیں!"
رابیل نے خفت زدہ ہنسی سے کہا۔

عنادل نے مسکرا کر کہا، "اب گھر چلتی ہوں۔"
حمنیٰ نے سر جھکایا اور پیچھے پیچھے چل دی۔ ہر چہرے کا بغور جائزہ لیتی۔

رات کے وقت، ڈنر کے بعد دونوں عشاء کی نماز کے لیے کھڑی ہوئیں۔ حمنیٰ نماز مکمل کر کے بیٹھی تھی، خشوع کے ساتھ رب کی بارگاہ میں دعائیں کر رہی تھی۔
"کس کو اتنی دیر تک نم آنکھوں سے دعا دی؟"
عنادل نے صوفے پر آ کر پوچھا۔
"کچھ نہیں..."
"جعل ڈاکٹر! پاگل نہیں، میں تمہاری بہن ہوں، تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں۔"
حمنیٰ فوراً صوفے پر بیٹھی اور اسکا رخ اپنے سامنے کیا۔
"مس حمنیٰ، آپ میری بہن ہیں، لیکن ہرگز میری رگ رگ سے واقف نہیں۔"
"ادھر دیکھو!"
"کیا مسئلہ ہے؟"
"کچھ چھپا رہی ہو، ناں؟"
عنادل نے سر ہلایا۔
"مجھے پہلے ہی پتا تھا!"
حمنیٰ نے دھپ رسید کر کے کہا، "دال میں کچھ کالا ضرور ہے، اور کوئی عشق کا روگ لگا ہوا!"
عنادل نے تحمل سے اس کی بکواس سنی اور گلدان اچھال دیا۔
"آئیندہ یہ بکواس نہ کر، ورنہ سر پھوٹ جائے گا!"
حمنیٰ نے سائیڈ میں ہو کر بچایا۔
"مجھے کیوں کاٹنے کی کوشش؟"
عنادل نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
"تم بچپن سے مینٹل ہو، مگر آج ثابت کر دیا۔"

حمنیٰ نے اگلے دن یونیورسٹی جانے کی بات کی، عنادل نے انکار کیا۔
"نیلی آنکھیں بیوفا ہوتی ہیں، لوگ سچ کہتے ہیں۔"
"پھر تم میری آنکھیں بیچ میں لے آؤ!"
عنادل نے کشن پھینک کر مذاق کیا۔
"اگر تمہاری کشمیری رنگت نہ ہوتی، میں تمہیں بہن ماننے سے انکار کر دیتی!"
حمنیٰ نے چیخ کر کہا، "بچاؤ، بچاؤ!"
نوشابہ نے آ کر دونوں کو سنبھالا۔
"یہ بچی تمہارے خیال سے زیادہ ہوشیار ہے، بس شادی کے نام سے چڑتی ہے۔"

حمنیٰ نے سب کو یاد دلایا، "میں سگی اولاد ہوں!"
"ہاں، تم سگی اولاد ہو، لیکن ہمیشہ زیادہ خیال رکھا ہے۔" نوشابہ نے کہا۔

ہال میں کئی نفوس کے موجود ہونے کے باوجود خاموشی غالب تھی۔ مقبول بخاری اور ارمان بخاری کی نگاہیں افراز بخاری پر جمی تھیں۔ تیمور بخاری کچھ حیران اور پریشان نظر آ رہے تھے، وہ افراز کے اس فیصلے کی وجہ سمجھ نہیں پا رہے تھے۔

"فاز! تمہارا یہ فیصلہ محض جذباتیت کا نتیجہ ہے۔"
چچا جان نے آخر کار سکوت توڑا۔

"چچا جان! ہم جذباتی ہو کر فیصلہ نہیں کرتے۔"
افراز نے احتجاج کیا۔

"فاز! ہم تمہاری خواہش کا احترام نہیں کر سکتے۔"
دادو جانی کا لہجہ قطعی تھا۔

"فاز! تمہارے اس اچانک فیصلے کی وجہ جان سکتا ہوں؟"
یہ سوال افراز کے ذہن میں گھوم رہا تھا، لبوں پر آ گیا۔

"تیمور! اس بزنس کو سنبھالنا اب تمہاری ذمہ داری ہے۔"
افراز نے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات رکھی۔

"ہم سبھی نے اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔ تمہارا جو مقام دیا گیا ہے، میں اس پر قابض نہیں ہونا چاہتا۔"

"تیمور! درحقیقت ہم تمہارے مقام پر قابض ہیں۔"
افراز نے سمجھانے کی کوشش کی۔

"ہم اس فیصلے میں تمہاری حوصلہ افزائی نہیں کریں گے۔"
چچا جان نے حتمی لہجے میں کہا۔

"بالکل! آپ کے فیصلے کی تائید کرتا ہوں۔"
"چچا جان! آپ لوگ سمجھیں، ہمارا ضمیر یہ قطعاً گوارا نہیں کر رہا۔"
دونوں کی ضد نے افراز کو الجھا دیا۔

"افراز! ہمارے مرحوم شوہر نے تمہیں بھیک نہیں دی، بلکہ تمہارا حق دیا تھا۔"
مقبول بخاری کا با رعب لہجہ سب کو جھنجھا گیا۔

"دادو جانی! ایک مرتبہ ٹھنڈے ذہن سے ہماری بات سمجھیں۔"
افراز نے عاجزی سے کہا۔

"ٹھنڈے ذہن نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت افراز کو ہے، مقبول بخاری کو نہیں!"
مقبول بخاری نرم گو شفیق خاتون تھیں، لیکن انہیں یہ بات پسند نہیں آئی کہ افراز بخاری انکے مرحوم شوہر کی ذمہ داری سے ہاتھ جھاڑ دے۔

"دادو جانی! ہم حقیقت سے واقف ہو گئے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں۔ ہم نے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے۔"
افراز نے حقیقت کا انکشاف کیا۔

"کیا مطلب؟"
تیمور بخاری نے چونک کر دیکھا۔

"ہمارا بخاری پیلس کے مالکان سے خون کا رشتہ نہیں!"
ایک لمحے کے لیے سب کے دل مضبوط ہوئے۔ مقبول بخاری کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔

تیمور نے سب کی جانب دیکھا اور پھر نگاہ افراز پر جمائی۔
"اولا، مجھے فرق نہیں پڑتا۔ دوم، یقین نہیں اور سوم، دادو جانی نے اتنی اہم ذمہ داری دیتے ہوئے یقیناً تمہیں اس قابل جانا ہوگا۔ تم نہ صرف قابل بھروسہ بلکہ محبت اور عزت کے بھی قابل ہو۔"
ارمان بخاری نے بے ساختہ اپنے بیٹے کی پشت تھپتھپائی۔

"فاز بیٹے! ہم نے ان رشتوں کو خون جگر سے سینچا ہے۔ تمہیں والد کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داریوں کو انجام تک پہنچانا ہے، دادو جانی کے اعتماد کا احترام کرنا ہے اور سب سے اہم، ان رشتوں کا احترام برقرار رکھنا ہے۔"
مقبول کا دلدوز لہجہ افراز کے دل میں اتر گیا۔

"دادو جانی! ہم آپ کو ہارتا کبھی نہیں دیکھ سکتے۔"
افراز نے تڑپ کر قدموں میں دو زانو بیٹھ کر کہا۔

"کیوں اپنی ذمہ داریوں سے جی چرا رہے ہو؟ تم نے کسی کا حق نہیں مارا، جو مقام اور مرتبہ تمہیں حاصل ہے وہ تمہارا حق ہے۔"
"میں ایسا فرض کر بھی لوں کہ بخاری پیلس کے مالکان سے تمہارا خون کا رشتہ نہیں، پھر بھی میرے دل میں بڑے بھائی کی محبت میں فرق نہیں آیا۔"
تیمور بخاری قالین پر دو زانو بیٹھ گئے، محبت کے اظہار پر افراز کی آنکھوں میں آنسو نمایاں ہوئے۔

"فاز بیٹے! وعدہ کرو، آئندہ یہ حقیقت ہمارے درمیان نہ لاؤ گے۔ ہم رشتوں میں محبت کے قائل ہیں۔"
مقبول بخاری نے دلگیر لہجے میں وعدہ چاہا، اور افراز کو وعدہ کرنا پڑا۔

"یاد رکھنا، وعدہ خلافی سخت گناہ ہے۔"
چچا جان نے تنبیہ کی، افراز مسکراتے ہوئے وعدہ پورا کرنے پر رضا مند ہوا۔

"تیمور بخاری! وعدہ کرو، یہ حقیقت بھائیوں کے درمیان دیوار نہ بنے۔"
"دادو جانی! آپ بالکل بے فکر رہیں، بھائی ہونا ایک اعزاز ہے اور یہ رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا۔"
تیمور نے ہلکے لہجے میں کہا۔ دادو جانی نے دونوں کو باہوں میں لے لیا۔

"دادو جانی جلد اس کی شادی کروائیں، تاکہ مستقبل میں سمدھی کا رشتہ قائم ہو سکے۔"
تیمور کے کہنے پر چچا جان خوش دلی سے قہقہہ لگائے اور جھینپ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

"برادر محترم! کل آفس وقت سے پہنچے گا، پینڈنگ میٹنگز آپ کی منتظر ہیں۔"
تیمور نے ہانک لگائی اور سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔

"هَذَا بَصَائِر لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَة لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ"
"یہ لوگوں کے لیے بصیرت اور ہدایت ہے اور یقین کرنے والوں کے لیے رحمت ہے۔"

عنادل نے حال ہی میں ترجمے کے ساتھ تلاوت کی، پھر قرآن پاک کو احترام سے شیلف میں رکھا اور کچن کی جانب رخ کیا۔ دو کپ چائے بنا کر ٹرے سجائی، بسکٹ اور چپس رکھ کر لاؤنچ میں آ گئی۔

"السلام علیکم بابا! صبح بخیر۔"
نہایت پرجوش لہجے میں سلام کر کے ٹرے میز پر رکھی اور صوفے پر بیٹھ گئی۔
"وعلیکم السلام! صبح بخیر۔"
ابراہیم احمد نے سلام کا جواب دیا۔ سفید لباس میں، سر پر چنری، چپس کھا رہی تھی۔ چپس اس کے لیے اتنی پسندیدہ تھیں کہ آدھی رات کو بھی کھانے کو تیار ہو جاتی۔

"کیا ہوا بابا؟"
ابراہیم احمد نے محبت بھری نگاہ سے پوچھا، "میری بیٹی کتنی بڑی ہو گئی ہے۔"
عنادل کے شرارت بھرے انداز پر لب مسکرائے۔
"نہیں! بیٹی بڑی ہو رہی ہے، اس لیے شادی کی فکر ہے۔"
"بابا پلیز! موڈ خراب نہ کریں۔"
چائے کا کپ ہاتھ میں تھما کر عنادل وہاں سے چلی گئی۔ ابراہیم احمد نے گہری سانس لی اور چائے پینے لگے، کئی ماہ سے اسے شادی کے لیے راضی کرنے کی کوشش جاری تھی، لیکن ہر بار عنادل خوبصورتی سے موضوع بدل دیتی۔

آج اتوار کی وجہ سے بخاری پیلس میں رونق تھی۔ سمائرہ کی رخصتی قریب تھی اور تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ اتوار کو بخاری پیلس کے مکین اکثر لنچ ساتھ کرتے۔

"سمائرہ! دونوں ڈریس کی فٹنگ دیکھ لو، کچھ کمی بیشی ہو پوری جا سکے۔"
مہ پارہ نے ہینگر بڑھائے۔
"پھو! یہ کلر پسند نہیں!"
"اب کچھ نہیں ہو سکتا، اسی پر گزارہ کرو۔"
"پھو!"
مہ پارہ کی بات سن کر اس کا منھ حیرت سے کھلا رہ گیا۔

"خواتین! جلدی سے کھانے کی میز پر پہنچیں، لذیذ لوازمات منتظر ہیں۔"
انشِراح نے ہال میں آ کر ہانک لگائی۔ آج دادو جانی نے دوپہر کے کھانے میں خاص اہتمام کیا تھا۔

انشِراح کا رخ مشعل کی جانب گیا، "مشعل! مشعل!"
کمرے کی حالت دیکھ کر وہ حیران ہوئی۔
"وہاٹ ہیپنڈ؟"
مشعل نے سرسری نگاہ سے دیکھا، "اتنی تیاری کس لیے؟"
"انشِراح! میرے ڈریسس خراب ہو جائیں گے۔"
"اسے سمیٹ کر واردڈ روب میں رکھو، پھر مسئلہ کیا؟"
مشعل نے اکٹھرے لہجے میں کہا، "تمہارا ذہنی توازن صحیح ہے یا نہیں؟"
انشِراح نے ہنستے ہوئے کہا، "لوگ خوشی میں پاگل ہو جاتے ہیں۔"

"کچھ کہا تم نے؟"
"نہیں، ویسے خوشی کی وجہ؟"
مشعل نے بتایا، "آج فاز ہمارے ساتھ لنچ کریں گے۔"
انشِراح حیران، "واہ بھئی کیا بات ہے؟"

"افراز بخاری اور کسی لڑکی کے ساتھ لنچ پر؟ یہ ناقابل یقین ہے!"
"کاش! افراز کے ساتھ جا سکتی۔"
"انشاءاللہ! یہ کاش ہمیشہ کاش ہی رہے۔"

مشعل کے یاس بھرے لہجے پر انشِراح دھیرے سے بڑبڑائی، پرفیومز چیک کر رہی تھی۔
"افراز بخاری اسی گھر میں رہتے ہیں اور اکثر لنچ پر موجود ہوتے ہیں، پھر آج تیاری کی وجہ؟"
"آج پورے ایک ماہ بعد لنچ پر ہوں گے۔"
مشعل نے سر ہلایا، "غیر محرم کے سامنے یوں سجنا کنواری لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا۔"
انشِراح نے شانے پر پڑے بال بگاڑ دیے، "یہ بدتمیزی ہے؟"
"یہ بد تمیزی نہیں بلکہ افراز بخاری کا کہنا ہے، زلفیں لپیٹ کر دوپٹہ ڈال کر آ جاؤ، لنچ ٹائم ہو گیا ہے۔"

مشعل دانت پیس کر بے بسی سے دیکھتی رہی۔ انشِراح اپنے بھائی کی لاڈلی تھی، قدرے شوخ مزاج ہونے کی وجہ سے بخاری پیلس کے مکین اسے پسند کرتے تھے۔ افراز کی شاندار شخصیت نے مشعل کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا اور وہ سب کچھ بھول کر محبت میں ڈوبی ہوئی تھی۔

دوپہر کا وقت بخاری پیلس میں خاصی ہلچل والا تھا۔ سبھی افراد کھانے کی میز کے اردگرد جمع تھے۔ افراز بخاری بھی وہاں موجود تھے، اور سب کی نظریں ان پر جمی تھیں۔

"فاز! آج لنچ ہمارے ساتھ کرو گے، ہے نا؟"
مہ پارہ پھو نے مسکراتے ہوئے کہا۔

"جی، پھو! آج لنچ آپ سب کے ساتھ ہوں گا۔"
افراز نے سنجیدگی سے جواب دیا، لیکن ان کے لبوں پر ہلکی سی مسکان تھی۔

انشِراح نے مشعل کی جانب دیکھا، جو سفید لباس میں سنوری کھڑی تھی، اور شرمندگی سے سر ہلا رہی تھی۔

"غیر محرم کے سامنے یوں سجنا کنواری لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا، مشعل!"
انشِراح نے سر ہلایا اور مشعل کے بال بگاڑ دیے۔

"یہ بد تمیزی نہیں، بلکہ افراز بخاری کا حکم ہے۔ اپنے بال لپیٹو، دوپٹہ ڈال کر آ جاؤ، لنچ کا وقت ہو گیا ہے۔"
مشعل نے دانت پیس کر بے بسی سے دیکھا، لیکن انشِراح کی بات پر مجبور ہو کر تیاری کرنے لگی۔

لاؤنچ میں افراز بخاری اور بخاری پیلس کے دیگر مکین موجود تھے۔ دادو جانی نے کھانے کی خاص تیاری کی تھی۔ سبھی افراد خوشی خوشی باتیں کر رہے تھے، اور ہال میں خوشگوار ماحول قائم تھا۔

"فاز! آج لنچ پر سب کے ساتھ بیٹھ کر کھائیں گے، تمہاری شرکت ہمیں خوشی دے گی۔"
مقبول بخاری نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔

"دادو جانی! آج میں سب کے ساتھ ہوں، اور دوپہر کے کھانے سے لطف اندوز ہوں گا۔"
افراز نے دل سے کہا، اور سب نے ان کی طرف مسکرا کر دیکھا۔

کھانے کے دوران ہلکی پھلکی باتیں اور قہقہے گونج رہے تھے۔ مشعل نے افراز کی جانب بار بار نگاہ ڈالی، اور دل میں سوچا کہ یہ شخصیت واقعی دل کو بہکانے والی ہے۔

"مشعل! تم کچھ کہ رہی ہو یا بس خاموش رہو گی؟"
انشِراح نے مسکرا کر پوچھا، اور مشعل شرماتے ہوئے سر ہلایا۔

افراز نے ہنس کر کہا، "لنچ کے بعد تھوڑی چائے اور بسکٹ بھی ہوں گے، سب لطف اٹھائیں۔"

دادو جانی کی خوشی کے لیے یہ لمحے بے حد خاص تھے۔ سبھی مکین ایک ساتھ بیٹھ کر نہ صرف کھانے کا لطف لے رہے تھے بلکہ ایک دوسرے کی صحبت میں خوشی محسوس کر رہے تھے۔

کھانے کے بعد افراز بخاری اور مشعل نے صوفے پر بیٹھ کر باتیں کیں۔

"مشعل! تمہیں بخاری پیلس کے ماحول میں خوشی محسوس ہو رہی ہے؟"
افراز نے سنجیدگی سے پوچھا۔

"جی، افراز! یہاں سب بہت اچھے ہیں، اور میں سب کے ساتھ خوش ہوں۔"
مشعل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

"بس! یہی اہم ہے۔ خوشی سب سے پہلے دل میں ہونی چاہیے، باقی سب خود بخود آتا ہے۔"
افراز کی باتوں میں مٹھاس تھی، جو مشعل کے دل کو چھو گئی۔

یہ دن بخاری پیلس کے مکینوں کے لیے یادگار بن گیا۔ افراز اور مشعل کے درمیان رفاقت کی ایک نئی خوشگوار کہانی شروع ہوئی، اور سب کے چہروں پر مسکان واضح تھی۔

بخاری پیلس میں شادی کی تیاریوں کا سلسلہ زور و شور سے جاری تھا۔ سمائرہ کی رخصتی قریب آ رہی تھی، اور سبھی مکین اس موقع کے لیے بے حد پرجوش تھے۔ ہال میں چراغ جلائے گئے، پھولوں سے سجاوٹ کی گئی، اور کھانے پینے کی تیاری بھی خاص انداز میں کی جا رہی تھی۔

"سمائرہ! دیکھو، تمہارا لباس بلکل درست ہے یا کسی قسم کی کمی بیشی باقی تو نہیں؟"
مہ پارہ پھو نے محبت بھرے انداز میں ہدایت دی۔

"پھو! یہ رنگ مجھے پسند نہیں۔"
سمائرہ نے ہلکی ناراضگی سے جواب دیا۔

"اب کچھ نہیں ہو سکتا، اسی پر گزارہ کرو۔"
مہ پارہ پھو نے مسکرا کر کہا۔

انشِراح ہال میں آ کر سب کو کھانے کی میز پر بلانے لگی۔
"خواتین! جلدی سے کھانے کی میز پر پہنچیں، انواع و اقسام کے لذیذ کھانے آپ کے منتظر ہیں۔"

سبھی ہال کی طرف بڑھنے لگے۔ افراز بخاری بھی وہاں پہنچ چکے تھے، اور سب کی نظریں ان پر جم گئی تھیں۔

لنچ کے دوران بخاری پیلس میں خوشی اور ہلچل کا ماحول تھا۔ افراز بخاری نے سب کے ساتھ لطف اندوزی کرتے ہوئے گفتگو کی۔

"فاز! آج تم ہمارے ساتھ کھا کر مزہ لو۔"
مقبول بخاری نے محبت سے کہا۔

"جی، دادو جانی! آج سب کے ساتھ ہوں، اور کھانے کا لطف اٹھاؤں گا۔"
افراز نے دل سے کہا، اور سب نے ان کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا۔

مشعل اپنی جگہ پر شرمندگی سے بیٹھی تھی، لیکن اس کے دل میں افراز کے لیے ایک خاص کشش بڑھتی جا رہی تھی۔

انشِراح نے اسے دیکھ کر کہا، "مشعل! غیر محرم کے سامنے یوں سجنا زیب نہیں دیتا، بس سنبھل کر رہو۔"

"یہ بد تمیزی نہیں، بلکہ افراز بخاری کی ہدایت ہے۔"
مشعل نے سر ہلایا اور شرماتے ہوئے تیاری مکمل کی۔

کھانے کے بعد افراز بخاری اور مشعل صوفے پر بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے۔

"مشعل! تمہیں بخاری پیلس کا ماحول کیسا لگ رہا ہے؟"
افراز نے سنجیدگی سے پوچھا۔

"جی، افراز! سب بہت اچھے ہیں اور میں سب کے ساتھ خوش ہوں۔"
مشعل نے مسکرا کر جواب دیا۔

"یہی سب سے اہم ہے۔ خوشی دل میں ہونی چاہیے، باقی سب خود بخود آ جائے گا۔"
افراز کی باتوں میں ایک مٹھاس تھی، جو مشعل کے دل کو چھو گئی۔

دوسرے دن بخاری پیلس میں شادی کی تقریبات کی تیاریوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔ سب مکین اپنے اپنے حصے میں سرگرم تھے۔ دادو جانی ہال میں پھولوں کی سجاوٹ دیکھ کر خوش ہو رہی تھیں، اور ان کی مسکان سب پر اثر ڈال رہی تھی۔

"سب کچھ تیار ہے، اور سب خوش ہیں۔ یہی لمحے یادگار ہوتے ہیں۔"
دادو جانی نے محبت سے کہا۔

افراز بخاری نے سب کی طرف دیکھ کر دل میں سوچا کہ یہ پیلس واقعی ان کے خاندان کی عظمت اور محبت کی علامت ہے۔ اور مشعل کے دل میں بھی افراز کے لیے جذبات بڑھتے جا رہے تھے، لیکن وہ ابھی تک اپنے احساسات کو ظاہر کرنے سے محتاط تھی۔

بخاری پیلس کی شادی کی تقریبات نے پورے ماحول کو جشن کی خوشبو سے بھر دیا تھا۔ ہال میں رنگ برنگی روشنی، پھولوں کی خوشبو اور خوشی سے جگمگاتے چہروں نے ہر کسی کا دل خوش کر دیا تھا۔

سمائرہ کی رخصتی قریب آ رہی تھی، اور اس کے لیے ہر چیز خاص انداز میں تیار کی گئی تھی۔ افراز بخاری سبھی کے ساتھ بیٹھ کر خوشی کے لمحات میں شریک ہو رہے تھے، اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ کسی خزانے سے کم نہ تھی۔

"سب تیار ہیں؟" دادو جانی نے ہال میں دیکھ کر خوشی سے کہا۔

"جی دادو جانی! سب حاضر ہیں۔" سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا۔

لنچ کے وقت افراز بخاری اور مشعل صوفے پر بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ ہلکی پھلکی باتیں کر رہے تھے۔ مشعل اپنے دل میں ایک عجیب سی خوشی محسوس کر رہی تھی، اور افراز بھی ان کے ساتھ وقت گزار کر خوش تھے۔

"مشعل! تمہیں بخاری پیلس کی تقریبات کیسا لگ رہا ہے؟" افراز نے نرمی سے پوچھا۔

"جی افراز! سب بہت اچھے ہیں اور میں سب کے ساتھ خوش ہوں۔" مشعل نے شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔

"یہی سب سے اہم ہے۔ خوشی دل میں ہونی چاہیے، باقی سب خود بخود آ جائے گا۔" افراز کی باتوں میں مٹھاس تھی جو مشعل کے دل کو چھو گئی۔

اس دوران ہال میں دادو جانی اور ماما جان ہر کسی کے ساتھ مل کر تقریبات کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔ ہر چھوٹا بڑا لمحہ ان کی توجہ میں تھا۔

"یہ لمحے یادگار ہوتے ہیں، اور یہ خوشیاں سب کے چہرے پر تبسم لے آتی ہیں۔" دادو جانی نے محبت سے کہا۔

"افراز! تم واقعی بہت ذمہ دار اور خوش اخلاق ہو۔" ماما جان نے کہا اور اسے پیار سے گلے لگا لیا۔

شام کے وقت بخاری پیلس کی بالکونی میں سبھی اکٹھے ہو گئے۔ شام کی روشنی میں ہال اور باغ کا منظر خواب نما لگ رہا تھا۔ افراز اور مشعل نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر خاموشی سے لمحے کا لطف اٹھایا۔

"تم واقعی بہت خوبصورت لگ رہی ہو مشعل۔" افراز نے نرم لہجے میں کہا۔

مشعل نے ہلکی شرمندگی سے آنکھیں جھکائیں، اور دل میں خوشی کا احساس بڑھ گیا۔

"افراز! آپ بھی بہت اچھے لگ رہے ہیں۔" مشعل نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔

اس شام بخاری پیلس میں خوشیوں کا ماحول ہر کسی کے دل کو مسرور کر رہا تھا۔ دادو جانی، ماما جان، اور سبھی اہل خانہ نے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور خلوص کے لمحات گزارے۔ افراز اور مشعل کے درمیان بڑھتی قربت نے اس لمحے کو اور بھی خاص بنا دیا تھا۔

سب جانتے تھے کہ یہ دن ہمیشہ یاد رہنے والے ہیں، اور بخاری پیلس میں محبت، خلوص اور خوشیوں کا یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا۔

شادی کی تقریبات کے تیاری کے دن بخاری پیلس میں خوشیوں کی رونق سے بھرے ہوئے تھے۔ ہر کمرے، ہال اور باغ کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ رنگ برنگے پھول، روشن لائٹس اور خوشبو سے معطر راستے سبھی کے چہروں پر مسکراہٹ لے آئے تھے۔

افراز بخاری اور مشعل اکثر اوقات ایک ساتھ لمحات گزار رہے تھے، اور اس دوران دونوں کے درمیان ایک نرم تعلق بنتا گیا۔ مشعل کی شرارتیں اور افراز کی نرمی دونوں کے دلوں میں خوشی کا سبب بنی۔

"افراز! واقعی آج کا دن بہت خاص ہے۔" مشعل نے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے کہا۔

"ہاں مشعل! اور یہ خوشی سب کے ساتھ بانٹنا اور بھی خاص بنا دیتا ہے۔" افراز نے جواب دیا۔

دادو جانی، ماما جان اور مہ پارہ پھو ہر کسی کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔ ہر لمحہ ان کی محبت اور خلوص سے بھرا ہوا تھا۔

"یہ لمحے واقعی یادگار ہیں، اور ہمیں انہیں دل سے محسوس کرنا چاہیے۔" دادو جانی نے مسکرا کر کہا۔

"بالکل دادو جانی! محبت اور خلوص ہی تو اصل خوشی ہیں۔" ماما جان نے بات کو مکمل کیا۔

شادی کے دن بخاری پیلس کے ہال میں ہر طرف رونق تھی۔ افراز اور مشعل دونوں تیار ہو کر ہال میں پہنچے۔ افراز نے مشعل کی جانب دیکھ کر کہا، "تم واقعی بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔"

مشعل نے ہلکی شرمندگی کے ساتھ آنکھیں جھکائیں اور دل میں خوشی محسوس کی۔

"آپ بھی بہت اچھے لگ رہے ہیں افراز!" مشعل نے مسکرا کر جواب دیا۔

تقریبات کے دوران دادو جانی اور ماما جان سب کے ساتھ خوشی مناتے رہے۔ افراز اور مشعل کے درمیان بڑھتی قربت نے اس دن کو اور بھی یادگار بنا دیا۔

آخرکار، شادی کی رسمی تقریبات مکمل ہوئیں اور افراز اور مشعل کو سب کی دعاؤں کے ساتھ خوشیوں بھرا مستقبل ملا۔ بخاری پیلس میں محبت، خلوص اور خاندان کی خوشیوں کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہا۔

شادی کے بعد بخاری پیلس میں خوشیوں کا سماں لگا رہا۔ ہر طرف مسکراہٹیں، ہنسی اور محبت کے لمحات نظر آ رہے تھے۔ افراز اور مشعل ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار کر اپنی نئی زندگی کی بنیاد رکھ رہے تھے۔

"افراز! آج سب خوش ہیں اور ہم سب کے لیے یہ لمحے یادگار ہیں۔" مشعل نے دل سے کہا۔

"ہاں مشعل! تمہارے ساتھ ہر دن ایک نیا خوشی کا آغاز ہے۔" افراز نے محبت بھری نظر سے جواب دیا۔

دادو جانی اور ماما جان سب کی دیکھ بھال میں مصروف تھے، لیکن ان کے چہروں پر سکون اور خوشی کا عکس صاف نظر آ رہا تھا۔

"یہ خاندان واقعی ایک خوبصورت لمحے میں ہے۔" دادو جانی نے کہا۔

"محبت اور خلوص ہی اصل خوشی ہیں۔" ماما جان نے دل سے بات مکمل کی۔

افراز اور مشعل نے اپنے نئے گھر کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشی محسوس کی۔ سب مل کر کھانا کھاتے، ہنستے، اور ایک دوسرے کی باتیں سنتے۔ ہر دن نئے خواب، نئی امیدیں اور محبت کے لمحات لاتا۔

"ہمیشہ کے لیے ساتھ رہیں گے، افراز۔" مشعل نے دل سے کہا۔

"ہاں مشعل! یہ وعدہ ہمیشہ کے لیے ہے۔" افراز نے مسکرا کر جواب دیا۔

یوں بخاری پیلس میں خاندان کی محبت، افراز اور مشعل کی خوشیوں، دادو جانی کی دعاؤں اور سب کے خلوص کے ساتھ زندگی ایک خوشگوار راستے پر آگے بڑھتی رہی۔ ہر دن محبت، خلوص اور خاندانی رشتوں کی قدر کے ساتھ گزرتا، اور بخاری پیلس کی رونق ہمیشہ قائم رہی۔

اختتام۔


ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی