جنگل کے دو راز

 

 ٹھنڈی ہوا میرے چہرے سے ٹکرا رہی تھی جب میں پرانے بلوط کے درخت پر چڑھ رہا تھا۔ سردی نے درخت کی شاخوں کو سخت اور کھردرا بنا دیا تھا، اور ننگے پاؤں چھال کی چبھن محسوس ہو رہی تھی۔ ایک جھونکا آیا تو شاخ لرز اٹھی۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے تنا پکڑ لیا اور خود کو قریب کر لیا۔ پرانے درخت کے اندر کہیں سے ہلکی سی کھٹ پٹ سنائی دی — گویا لکڑی کے اندر کوئی زندگی سانس لے رہی ہو۔

یہ درخت باقی سب درختوں سے الگ تھا۔ سردی کے باوجود اس کے اندر ایک انوکھا جادو، ایک حرارت، موجود تھی۔ باقی درخت اپنی توانائی زمین کے اندر چھپا چکے تھے، مگر یہ اکیلا کھڑا تھا — مضبوط، ضدی اور زندہ۔

میں نے اوپر نظر ڈالی۔ چند شاخیں اور، اور میرا مقصد پورا۔ بھوک کی شدت سے معدہ چکرا رہا تھا، دو دن سے کچھ کھایا نہیں تھا۔ میں نے گہری سانس لی اور حرکت کی۔

ہوا کا ایک اور جھونکا آیا، مگر اس بار میں تیار تھا۔ آہستہ آہستہ، میں اوپر بڑھتا گیا۔ جتنا اوپر گیا، شاخیں پتلی ہوتی گئیں۔ ایک لمحہ ایسا آیا کہ شاخ پھسل گئی، میرا ہاتھ چھوٹنے لگا۔ میں نے پورا زور لگا کر تنے کو پکڑا، مگر ہوا نے دھکا دیا اور میں نیچے گرنے لگا۔

چند لمحوں کے لیے سب کچھ دھندلا گیا۔ جب آنکھ کھلی، میرا ہاتھ بری طرح زخمی تھا۔ درد ہڈیوں تک اتر گیا۔ مگر جنگل میں رکنے کی گنجائش نہیں تھی۔ میں نے دانت بھینچے، اور زمین سے اٹھنے کی کوشش کی۔

میرے اندر ایک اور طاقت بیدار ہوئی — وہ جادو جو میری ماں نے کبھی مجھے سکھایا تھا۔ میں نے ہاتھ زمین پر رکھا اور زمین کی ٹھنڈک کو محسوس کیا۔ درختوں کی جڑوں سے توانائی میرے جسم میں سرکنے لگی۔ میں نے آنکھیں بند کیں اور آہستہ سے کہا:

"جوڑ دو۔"

ایک روشنی سی پھیلی، اور درد کے ساتھ میرا بازو ٹھیک ہونے لگا۔ چیخ نکل گئی، مگر میں جانتا تھا — یہ قربانی ضروری تھی۔

درخت کے نیچے پڑی خشک شاخیں جل اٹھیں۔ میں نے سانس لی، اپنے بازو کو حرکت دی — بہتر تھا۔ میں نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ شاخوں میں پھنسا ہوا شکار نکالا — ایک چھوٹا سا خرگوش۔

“ماں کہتی تھی خطرہ مول نہ لینا…” میں نے بڑبڑایا، “لیکن وہ اکثر غلط بھی ہوتی تھی۔”

پھر اچانک، پیچھے سے ایک ہلکی سی غرّاہٹ سنائی دی۔ دل کی دھڑکن رک گئی۔ میں جانتا تھا، وہ قریب ہے۔

میں نے ساکت ہو کر سانس روک لی۔ درخت کے سائے میں چھپنے کی کوشش کی، مگر دیر ہو چکی تھی۔ جھاڑیوں میں حرکت ہوئی، اور ایک سیاہ سایہ ابھرا۔

میں بھاگا۔

درختوں کے درمیان، پتھروں پر پھسلتے ہوئے، میں نے قدم تیز کر دیے۔ جنگل میں بھاگنے کا ایک ہی قاعدہ ہے — سوچو نہیں، بس دوڑو۔

ایک جھاڑی کے پیچھے جا چھپا۔ پیچھے سے دھاڑ سنائی دی، مگر اب میں اپنی پناہ گاہ کے قریب تھا — وہ جگہ جسے میں “آشیاں” کہتا تھا۔

دو بڑے پتھروں کے بیچ ایک تنگ سا شگاف، اندر خشک زمین، دیواروں پر بیلیں، اور درمیان میں میرا چھوٹا سا الاؤ۔

میں نے لکڑیاں اکٹھی کیں، ہاتھ آگ پر رکھا اور سرگوشی کی:
“جلو…”

آگ بھڑک اٹھی۔ اس کی روشنی میں سایہ ظاہر ہوا۔ وہی مخلوق۔ اونچی، طاقتور، آنکھوں میں سرخ چمک۔ مگر میں ڈرا نہیں۔

میں نے آہستہ سے کہا، “تم جانتے ہو قاعدہ کیا ہے، سایہ۔ جو گھر دیر سے پہنچے، وہ کھانا بانٹے گا۔”

وہ غرایا، مگر پھر زمین پر ایک مردہ خرگوش پھینک دیا۔ میں نے وہ اٹھایا، اور آگ کے پاس بیٹھ کر گوشت بھوننے لگا۔

سایہ دروازے کے قریب جا بیٹھا، جیسے روٹھا ہوا ہو۔ میں ہنس پڑا۔ “اتنے سال ہو گئے، تم اب تک ضدی ہو۔”

اس نے سر جھکا لیا۔ میں نے ہاتھ بڑھایا اور اس کی گردن پر رکھا۔ وہ پرسکون ہوا، پھر آہستہ سے میرے قریب آ گیا۔

یہ ہمارا معاہدہ تھا — جینا اور جینے دینا۔

جنگل میں دو مخلوقیں تھیں، ایک انسان، ایک سایہ۔ دونوں تنہا، دونوں خطرناک، دونوں زندہ۔
ہم ایک دوسرے کے دشمن بھی تھے، اور بقاء کے ساتھی بھی۔

اور اسی طرح، جنگل کے بیچ، سرد رات کے سناٹے میں —
دو راز خاموشی سے سانس لیتے رہے

سردی کے سخت موسم میں ایک اونچے بلوط کے درخت پر میں دو تہائی حصے تک چڑھ چکا تھا۔ چھال میری جلد کو چھو کر چبھنے لگی تھی، اور ٹھنڈی ہوا میرے چہرے پر کوڑے کی طرح برس رہی تھی۔ درخت کے اندر کہیں بیٹلوں کی ہلکی سی کھڑکھڑاہٹ سنائی دے رہی تھی۔ پرانا درخت تھا — جاندار اور ضدی۔

درخت کے اندر اب بھی زندگی کی توانائی بہہ رہی تھی۔ باقی سب درختوں نے اپنا جادو زمین کے اندر سمیٹ لیا تھا، مگر یہ بوڑھا بلوط اب بھی لڑ رہا تھا — سردی کے مقابلے میں اپنی جڑوں کی طاقت سے۔

ہوا کی ایک تیز لہر نے درخت کو جھنجھوڑا۔ میں نے تنکے کی طرح خود کو شاخ کے ساتھ چمٹا لیا۔ ہوا جیسے کہہ رہی ہو: “یہ جگہ تمہاری نہیں۔”

میں نے دانت پیس کر کہا: “جو یہ کہتا ہے کہ درخت کی شاخ ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے، اس نے کبھی اوپر چڑھ کر شکار نہیں کیا۔”

میری نظریں اوپر اٹھیں — چار شاخیں اوپر، دو بائیں طرف۔ وہیں ایک گلہری چھپی تھی۔

میرا پیٹ خالی تھا۔ دو دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ سردی کے ساتھ بھوک بھی جسم کو کاٹ رہی تھی۔

میں نے اپنی انگلیوں سے چھال پکڑی، اور ایک ایک شاخ پر چڑھتا گیا۔

ہوا پھر زور سے چلی۔ میں نے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

اب بس ایک اور شاخ اوپر جانا تھا۔ میں نے ہاتھ بڑھایا — مگر اچانک شاخ ٹوٹ گئی۔

میں ہوا میں معلق رہ گیا۔ ایک ہاتھ درخت پر، دوسرا شاخ پر۔

ہوا نے میرے کپڑوں کو جھنڈے کی طرح پھڑپھڑایا اور جسم کو درخت سے دے مارا۔

میں نے پوری طاقت سے خود کو اوپر کھینچا۔ میری پنڈلی پر چھال نے جلد چیر دی، مگر میں رکنے والا نہیں تھا۔

آخر کار، میں نے اپنا ہاتھ درخت کے سوراخ تک پہنچایا۔

چھال کے اندر سے جادو کی ایک تیز کرن نکلی۔ میں نے دل میں نیت باندھی۔

“ٹوٹ جا۔”

میری انگلیوں نے نرم بال محسوس کیے۔ گلہری کی گردن ٹوٹ گئی۔ فوری موت۔ میں بہتر ہو رہا تھا۔

لیکن جیسے ہی میں نے شکار پکڑا، شاخ ٹوٹ گئی۔

میں نیچے گرا۔

درخت کی شاخوں نے میرا جسم نوچا۔ زمین پر گرتے ہی دائیں بازو سے ہڈی ٹوٹنے کی آواز آئی۔

میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ سانس لینا مشکل ہو گیا تھا۔

میری ماں کی آواز یاد آئی: “خوش قسمت ہو، جوان ہڈیاں جلد جڑ جاتی ہیں۔”

میں نے سر درخت کے تنے سے ٹکا دیا۔ “توڑنا آسان ہے، جوڑنا مشکل۔”

میں نے زمین سے جادو کھینچا، درخت سے، مٹی سے۔

گرمی تیزی سے بڑھی۔ درخت نے مزاحمت کی، مگر میں نے زیادہ زور لگایا۔

پھر اچانک دنیا بدل گئی۔

میں نے درخت کی جڑوں کو دیکھا — اس کی طاقت، اس کا جادو۔

میں نے اپنی نیت مرکوز کی۔

“جڑ جا۔”

اور ایک شاخ اوپر سے ٹوٹی۔ اسی لمحے میری بازو کی ہڈیاں اپنی جگہ واپس آ گئیں۔

میں نے چیخ ماری۔

درد ختم ہوا، مگر زمین پر جہاں میں بیٹھا تھا، وہاں مٹی جل کر سیاہ ہو گئی۔

میں نے بازو کو حرکت دی — ٹھیک تھا۔ میں مسکرایا۔ “یہ سب اس قابل تھا۔”

ماں کہا کرتی تھی کہ گلہریوں کو مت پکڑو، خطرہ ہے۔ مگر وہ بہت سی باتوں میں غلط تھی۔

اچانک پیچھے سے گھُرررررر کی آواز آئی۔

میرا جسم جم گیا۔

میں نے سانس روکی۔ کچھ بھاری، درندہ سا، قریب آ رہا تھا۔

میں نے سوچا بھاگنا ہی بہتر ہے۔

درختوں کے بیچ میں سے دوڑ لگا دی۔ ہوا میرے پیچھے، خوف میرے آگے۔

درندہ دہاڑا — جنگل لرز اٹھا۔ میں نے راستہ بدل کر ایک جھاڑی میں چھلانگ لگائی۔

پھر ایک دھڑام کی آواز آئی۔ وہ درندہ پیچھے آ گرا۔

میں نے موقع غنیمت جانا اور سیدھا اپنی پناہ گاہ کی طرف بھاگا — ایک پتھریلی دراڑ جہاں میں رہتا تھا۔

وہ جگہ میرا “گھر” تھی۔

میں نے گلہری کو نکالا، چھری سے اس کی کھال اتاری، اور لکڑیوں کے درمیان ہاتھ رکھا۔

“جل جا۔”

میری کمر کے داغ میں حرارت دوڑی۔ آگ بھڑک اٹھی۔

میں نے آگ کو بڑھایا، خود کو سکون دیا۔

لیکن ابھی میں نے سکون کا سانس لیا ہی تھا کہ غار کے دہانے پر سایہ نمودار ہوا۔

وہی درندہ۔

لمبا، طاقتور، چھ فٹ اونچے پنجے، اور آنکھوں میں لال روشنی۔

میں نے گہری سانس لی۔ “تمہیں اصول یاد ہیں۔”

وہ غرایا۔

میں نے کہا، “جو پہلے گھر پہنچتا ہے، کھانا اس کا۔”

وہ دھیرے سے پیچھے ہٹا اور اپنی گرفت میں ایک خرگوش دکھایا۔

میں نے مسکرا کر خرگوش لے لیا۔

ہم دونوں نے مل کر کھانا بانٹا — کیونکہ قانون ایک ہی تھا: "بانٹو یا مرو۔"

میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ وہ درندہ میرا دشمن نہیں تھا۔ وہ اس جنگل کی روح تھا۔

میں نے آہستہ سے کہا، “ہم دونوں ایک جیسے ہیں۔”

وہ خاموش ہو گیا، اور میں مسکرا دیا۔

رات کے آخری پہر میں، جب چاند درختوں کے بیچ چھن کر نیچے آتا ہے، جنگل کا ہر سایہ جیسے اپنی جگہ جم جاتا ہے۔ میں آگ کے قریب بیٹھا ہوا ہوں، راکھ کے اندر دبی چنگاریوں کو پھونک مار کر زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ سایہ میرے سامنے، چپ چاپ بیٹھا ہے۔ اُس کی سانسوں کی آواز ہلکی سی گونج بن کر گہرے جنگل میں گھل رہی ہے۔

ہم دونوں کے درمیان اب وہ خوف باقی نہیں رہا جو پہلے دن تھا۔ مگر خاموشی اب بھی موجود ہے — وہ خاموشی جو کبھی دوستوں کے درمیان بھی کہانی بن جاتی ہے۔

“ریحان،” سایہ نے پہلی بار بولنے کی کوشش کی۔ اُس کی آواز زمین کے اندر سے نکلتی کسی پرانی سرگوشی جیسی تھی۔

میں چونک گیا۔ “تم بول سکتے ہو؟”

وہ ہلکا سا سر ہلاتا ہے۔ “اب ہاں… تمہارے جادو نے میری آواز واپس دی ہے۔”

میرے اندر حیرت دوڑ گئی۔ “میں نے تو صرف زخم بھرے تھے…”

“زخموں سے زیادہ تم نے میرا سکوت توڑا ہے،” وہ بولا۔ “میں کبھی انسان تھا۔”

یہ جملہ ہوا کی طرح میرے چہرے سے ٹکرایا۔ میں نے اسے غور سے دیکھا — اُس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، مگر وہ چمک درد سے بھری ہوئی۔

“انسان؟ کیسے؟” میں نے سوال کیا۔

“جنگل کے جادو نے مجھے بدل دیا،” اُس نے کہا۔ “میں درختوں کا محافظ تھا۔ انسانوں نے یہاں آگ لگائی، جڑیں کاٹیں، اور میں نے ان کے خلاف جادو استعمال کیا۔ مگر اس جادو نے میری روح بدل دی — میں انسان سے سایہ بن گیا۔”

میں خاموش رہا۔ جنگل کی رات جیسے اس کی باتوں کو سن رہی تھی۔

“اب تم کیوں یہاں ہو؟” میں نے پوچھا۔

“کیونکہ تمہارا جادو بھی وہی ہے، ریحان۔” اُس نے میری آنکھوں میں دیکھا۔ “اگر تم نے اسے قابو نہ کیا تو تم بھی ایک دن سایہ بن جاؤ گے۔”

میرے دل میں خوف اُٹھا۔ وہ بات سچ کہہ رہا تھا۔ میری ماں نے ہمیشہ کہا تھا:
“قدرت کا تحفہ لینے والا اگر شکر گزار نہ ہو، تو وہ تحفہ قید بن جاتا ہے۔”

میں نے آگ کے شعلے میں ہاتھ ڈالا — حرارت محسوس ہوئی مگر جلی نہیں۔ جادو میرے خون میں بیدار تھا۔

“میں انسان رہنا چاہتا ہوں،” میں نے آہستہ سے کہا۔

سایہ نے سر جھکایا۔ “تو پھر کل صبح تمہیں خاموش دریا تک جانا ہوگا۔ وہاں تمہیں فیصلہ کرنا ہو گا — طاقت یا سکون۔”

“اور اگر میں نہ گیا؟”

“تو جنگل خود تمہیں بلا لے گا،” وہ بولا۔

ہوا نے درختوں کی ٹہنیاں ہلائیں۔ شعلے رقص کرنے لگے۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا — بادلوں کے پیچھے چاند چھپ گیا تھا۔

اگلی صبح، میں نے اپنا چھوٹا سا تھیلا اٹھایا۔ اندر چند خشک جڑیں، ایک پتھر، اور ماں کی دی ہوئی چاندی کی انگوٹھی۔ سایہ میرے ساتھ چلنے لگا۔

ہم درختوں کے درمیان خاموشی سے آگے بڑھتے گئے۔ سورج کی روشنی زمین پر ہلکی چادر کی طرح پھیل رہی تھی۔ ہر قدم پر پتوں کی سرسراہٹ، اور کہیں کہیں چھوٹے جانوروں کی آوازیں۔

“یہ دریا کہاں ہے؟” میں نے پوچھا۔

“وہ جگہ جہاں پانی بولتا ہے،” سایہ نے کہا۔ “لیکن یاد رکھنا — جو کچھ وہ کہے، اُس کا جواب مت دینا۔”

میں نے حیرت سے دیکھا، “پانی سے بات نہ کروں؟ کیوں؟”

“کیونکہ اگر تم نے اُس کے سوال کا جواب دیا، تو وہ تمہیں اپنے اندر کھینچ لے گا۔”

ہم چلتے گئے، اور چند گھنٹوں بعد، درختوں کے بیچ ایک چمکتا ہوا نیلا دریا سامنے آیا۔ اس کا پانی بالکل ساکت تھا، جیسے وقت رک گیا ہو۔

میں قریب گیا، گھٹنے کے بل بیٹھا۔ پانی میں اپنی پرچھائی دیکھی — مگر وہ میں نہیں تھا۔
میرے چہرے پر سایہ جیسی آنکھیں، اور ہونٹوں پر ایک اجنبی مسکراہٹ۔

پانی میں ایک آواز گونجی:
“ریحان… تم کون ہو؟”

میرا دل زور سے دھڑکا۔ میں نے یاد کیا، “جو کچھ وہ کہے، جواب مت دینا۔”

میں خاموش رہا۔

آواز پھر آئی، “ریحان، تم انسان نہیں رہے…”

پانی ہلکا سا لرزنے لگا۔ میری پرچھائی ہلکی سی مسکرائی — مگر وہ میں نہیں تھا۔

سایہ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “پیچھے ہٹ جاؤ، ابھی نہیں، ابھی نہیں…”

میں پیچھے ہٹا۔ پانی نے ایک لمحے کے لیے چھینٹے اڑائے، پھر سب کچھ ساکت ہو گیا۔

میں نے سانس لی۔ “یہ کیا تھا؟”

سایہ نے کہا، “یہ تمہارا امتحان تھا۔ اگر تم بول دیتے، تو جنگل تمہیں اپنے اندر جذب کر لیتا۔ تم جیت گئے ہو — ابھی کے لیے۔”

میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بادل چھٹ گئے تھے۔ روشنی ہلکی سی سنہری ہو گئی تھی۔

“اب کیا؟” میں نے پوچھا۔

سایہ مسکرایا، پہلی بار دل سے۔ “اب تم میرے بعد والے محافظ ہو، ریحان۔ جنگل تمہارا ہو گیا ہے۔”

میں نے زمین کو چھوا۔ درختوں نے سرسراہٹ سے میرا نام لیا۔

ریحان۔ محافظ۔ انسان۔

اور یوں، جنگل نے اپنا نیا راز چُنا۔

ایک تبصرہ شائع کریں (0)
جدید تر اس سے پرانی